ضلع بجنور کی زرخیز سر زمین میں اردو شعروادب کی فصل کئی صدیوں سے سر سبز و شاداب ہے ۔ ضلع بجنور میں اردو کو دیگر ریاستوں اور شہروں کی طرح نوابوں ،حکمرانوں کی سرپرستی میں پلنے اور بڑھنے کا موقع نہیں ملا ۔بلکہ یہاں صحیح معنوں میں یہ عوام کی زبان بنی۔ اردو کو ضلع بجنور کے ان لوگوں نے ترقی کی منازل پر پہنچایا جو خود مفلوک الحال تھے اوران کے سامنے پیٹ بھرنا اور زندگی کو گزارنا ایک مسئلہ تھا۔ زیادہ تر ایسے لوگوں نے ہجرت کی اور نصرت پائی۔
کوئی زبان ہو یا تحریک جب تک اس کو سبھی طبقوں کا تعاون نہیں ملتا وہ کامیابی اور ترقی نہیں پا سکتی۔ اسی طرح ضلع بجنور میں اردو کی ترقی میں بھی سبھی طبقوں کا تعاون اور کرداررہا ہے۔ ہر شخص کاپہلامکتب ماںکی گود ہوتی ہے۔ ضلع بجنور کے تمام ادیبوں اور شاعروں کی ہم جب سوانح حیات کا مطالعہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ان کی پرورش کے ساتھ ادبی وشعری صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں ماؤں نے اپنے فرائض بخوبی انجام دیے ہیں۔اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ضلع بجنور کی تعلیم وتربیت معیاری درجہ کی تھی۔دنیا کے شعروادب میں خواتین کاحصہ مردوں کے مقابلے میں کم ہے، لیکن ضلع بجنورمیں بالغ نظر ادیباؤں اورشاعرات کا فقدان نہیں ہے۔
شاعری، افسانہ،ناول،ترجمہ، تحقیق،صحافت، اسکرپٹ وغیرہ یعنی نثراور نظم دونوں میں ضلع بجنور کی خواتین نے اپنی صلاحیتوں کے پرچم لہرائے ہیں اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ نذرسجاد، صدیقہ بیگم، قرۃالعین حیدر، نجمہ عزیز، ڈاکٹرعابدہ سمیع، عائشہ خواجہ ، پروفیسر ثریاحسین، ڈاکٹر شمع افروز زیدی، ڈاکٹرفرزانہ خلیل، شہناز کنول، عطیہ قاضی، ڈاکٹر شبانہ نذیر، عذرا جمال، ذہین گل، پنہاں انصاری، شافعہ شاد، تسنیم احسن، صائمہ فہیم، عظیمہ نشاط، ڈاکٹر سیدہ سبطین، ڈاکٹر شیریں گل، تاج سلطانہ، پروفیسر خورشیدہ حمرہ، نسرین حامد، نینی کاظمی، ڈاکٹر ماجدہ اسد، سیدہ معراج، ممتاز جہاں،ناہید ،صابرہ نکہت وغیرہ ضلع بجنور کی خواتین کے وہ نام ہیں جنھوں نے اردو کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
دنیاکی کسی بھی زبان میں ایسی مثال نہیں ملتی جہاں نو سگی بہنوں میں پانچ سگی بہنیں شاعری کرتی، ہوںان کے باقاعدہ مجموعۂ کلام بھی ہوںاور اپنے ملک سے باہر جاکربھی ان کے کلام نے دادوتحسین حاصل کی ہو۔دنیا کے ادب میں یہ ریکارڈ بھی ضلع بجنور کی بیٹیوں کے نام ہے۔ بس اندراج باقی ہے۔بجنور ضلع کے نگینہ شہر کے محلہ سرائے میر ساکن التجا زیدی کی پانچ بیٹیاں شاعری کررہی ہیں۔جن کے نام ادب کے جانکاروں کے درمیان تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔بھوپال میں ڈپٹی کلکٹر کے عہدے سے ریٹائر شمیم زہرہ، منیر زہرہ، ’’ڈاکٹرمینا نقوی‘‘ ( اغوان پور،مرادآباد) نزہت زہرہ (پاکستان) نصرت مہدی (بھوپال)،علینا عترت رضوی (نوئیڈا) اردوشاعری کر رہی ہیں۔جن کا کلام سوشل، پرنٹ، الیکٹرانک میڈیامیں خوب پڑھنے کو ملتا ہے اورمشاعروں کے اسٹیج سے سننے کو ملتاہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو اور ضلع بجنور کا تاریخی پس منظر – عشرت جاوید )
شمیم زہرہ سب بہنوں میں سب سے بڑی ہیں،نگینہ سے ابتدائی تعلیم حاصل کر کے انھوں نے ڈبل ایم ،اے اورپی ایس سی مدھیہ پردیش سے کیااورمدھیہ پردیش حکومت میںاعلیٰ عہدوں پر فائز رہیں۔مضامین،ریڈیوٹاک،ٹیلی ویژن پرٹاک بحث ومباحثہ میں شرکت کی اور شاعری کے ساتھ ادبی خدمت کرتی رہی۔شمیم زہرہ کی پسندیدہ صنف نظم ہے دوسری بہن نیرزہرہ ہیں۔جو روہیل کھنڈ کی معروف ادبی شخصیت ہیں۔مینا نقوی کے نام سے ادب میں ان کی پہچان ہے سائبان، بادبان، دردپت جھڑکا،کرچیاں دردکی، جاگتی آنکھیں وغیرہ تخلیقات ڈاکٹرمینانقوی کی ہیں۔جنھیں کئی اکادمیوں کے ذریعے اعزازسے سرفراز کیاجاچکاہے۔تیسری بہن نزہت زہرہ کی بھی ابتدائی تعلیم نگینہ ضلع بجنورسے ہوئی۔اس کے بعدشادی ہوکر پاکستان کراچی میں مقیم ہیں۔ہندوستان میں بچپن سے ہی مختلف رسائل وجرائدمیں اپنے مضامین اورکلام سے انھوں نے اپنی پہچان بنانی شروع کردی تھی۔آکاش وانی نجیب آبادسے ان کا کلام، کہانی اور بات چیت اسی عمرسے نشر ہونے لگے تھے شادی کے بعد رحجان مذہبی ہو گیا اورانھوں نے کراچی سے ایم اے ان اسلامک اسٹڈیزکیا۔ نزہت زہرہ آج پاکستان کی بہترین مقرر،قابلِ احترام ذاکرہ،شاعرہ اورادیبہ ہیں ۔چوتھی بہن علینا عترت رضوی ان دنوں مشاعروں اور سوشل میڈیا پر خوب سرگرم ہیں۔ــ’’ سورج تم جاؤ‘‘نام سے علینا عترت رضوی کا شعری مجموعہ حال ہی میں منظر عام پرآیا اور اردو اکادمی سے ایوارڈ بھی حاصل کرلیابقول جمیل جوہری علیگ علینا ہندوستان کی پروین شاکر ہیں شمیم زہرہ اور نزہت زہرہ کا کلام مختلف رسائل وجرائد اور کتابوں میں محفوظ ہے۔ پانچویں بہن ڈاکٹرنصرت مہدی بھوپال کے ساہتیہ اکاڈمی کی ڈپٹی ڈائریکٹر، اردواکاڈمی مدھیہ پردیش کی سکریٹری اورقومی کونسل برائے فروغ اردوزبان نئی دہلی کی منتظمہ کمیٹی کی رکن ہیں۔
ڈاکٹر نصرت مہدی کی پیدائش1965 میں نگینہ میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم نگینہ میں اورمزید تعلیم بھوپال سے حاصل کرکے نصرت مہدی نے کلاس دوئم افسر کے طور پر مدھیہ پردیش حکومت کی ملازمت شروع کی ۔نصرت مہدی کے مضمون ،شاعری ،ڈرامہ ،اسکرپٹ اردو، ہندی ، انگریزی رسائل اور جرائد میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔ وہ عالمی اور کل ہند مشاعروں ،سمیناروں، اردو کانفرنسوں میں اکثر شرکت کرتی ہیں ۔ سایہ سایہ دھوپ، آبلہ پا، میں بھی تو ہوں ، گھر آنے کوہے ،نصرت مہدی کے شعری مجموعے ہیں ۔
خاتونِ اودھ لکھنئو ، نشور ایوارڈ کانپور، امر شہید اشفاق اللہ خاں ایوارڈ، مظہر سعید خاں ایوارڈ ، بھارت رتن مدر ٹریسہ گولڈ میڈل ایوارڈ اب تک مل چکے ہیں ۔ ایشکروفٹ یونیورسٹی لندن نے انھیں ’’ڈاکٹر آف لٹریچر‘‘ ایوارڈ کی ہے ۔ اردو کی ترقی و ترویج کے لئے ذاتی طور پر مصروف رہنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ڈرامہ نگار ، اسکرپٹ رائٹر ، کہانی کار اور مقالہ نگار نصرت مہدی نے امریکہ، خلجی ممالک اورپاکستان وغیرہ بہت سے ملکوں میں مشاعرہ اور سمیناروں میں شرکت کرتی ہیں۔
خواتین دبستانِ ضلع بجنور کی یہ چند مثالیں ہیں مکمل تفصیل کے لئے ایک لمبی تحقیق کی ضرورت ہے ۔
رابطہ:09412326875
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

