ڈاکٹر انور سجاد کا مشہور افسانہ گائے رفیق حسین کے گوری ہو گوری کی طرح جانوروں کی نفسیات اور ممتا کے لا زوال جذبے کو موضوع بناتا ہے تاہم گوری ہو گوری صرف ممتا کے جذبے کی تفسیر ہے جب کہ گائے معاشرتی اور معاشی تناظر میں اپنی معنویت باور کراتا ہے۔انسانی تمدن بالخصوص انسان کی فلاحتی زندگی میں چوپایوں اور انسان کے تعلق کی ایک طویل تاریخ ہے۔چوپایے انسان کے معاشی معاون اور اس کی سرگرمیوں میں شریک رہے ہیں۔ٹیکنالوجی کی ایجاد سے پہلے انسان کی بیشتر اقتصادی سرگرمیوں کا انحصار جانوروں پر ہوتا تھا۔اس طویل قربت کے سبب انسان اور جانور کے مابین انسیت کا رشتہ استوار ہونا فطری تھا اور اس کی متعدد مثالیں موجود ہیں۔لیکن آگے چل کر انسان کی اقتصادی ضرورت اور مادی ہوس نے احساس اور محبت سے زیادہ اس رشتے کی افادی جہت کو اہمیت دی۔یوں جانور انسان کے لیے ہم رکاب و ہم شریک سے زیادہ ایک شے تصور کیے جانے لگے اور شے کی قدر کا تعین اس کی مارکیٹ ویلیو کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔چناں چہ مذکورہ افسانے کا آغاز ہی ان الفاظ سے ہوتا ہے:
ایک روز انھوں نے فیصلہ کیا تھا کہ اب گائے کو بوچڑ خانے میں دے ہی دیا جائے۔
اب اس کا دھیلا نہیں ملنا۔
ان میں سے ایک نے کہا تھا۔
ان مٹھی بھر ہڈیوں کو کون خریدے گا؟
ایک طرف گائے کی سابقہ خدمات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اس کی جسمانی صحت کی بنیاد پر اسے ایک ناکارہ شے قرار دیا جا رہا ہے تودوسری طرف نکّے کی گائے سے وابستگی ایک غیر افادی تعلق کو بیان کر رہی ہے۔تاہم نکّے کا کردار اپنے نام کی طرح بے اختیار ہے چناں چہ اس کی ضد کے باوجود گائے کو فروخت کرنے کا فیصلہ کر لیا جاتا ہے۔اب مشکل مرحلہ گائے کو ٹرک پر سوار کرانا ہے۔یہاں اس افسانے کی دوسری جہت نمایاں ہوتی ہے۔جب ہر ایک حربہ ناکام ہو جاتا ہے تو انسان کی استحصال پسند طبیعت ممتا کے جذبے کو بہ طور ہتھیار استعمال کرتی ہے۔گائے کے بچھڑے کو پہلے ٹرک میں سوار کر لیا جاتا ہے۔اب گائے نکّے کی محبت اور اپنے خوف کو نظر انداز کرتے ہوئے بہ آسانی ٹرک میں سوار ہو جاتی ہے۔اس طرح افسانے کا یہ المیہ انجام انسانی رویّوں کے ساتھ حیوانی جبلتوں کا اظہاریہ بن جاتا ہے۔
(یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 3 – ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی)
(یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 2 – ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی )
(یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 1- ڈاکٹراورنگ زیب نیازی )
صدیق عالم کا افسانہ کتا گاڑی جدید شہری معاشرت کے خلاف ایک مزاحمتی بیانیہ تشکیل دیتا ہے۔افسانے کی درج ذیل سطور انسان پسندی کے خلاف مزاحمت کا واضح اعلان ہیں؛
اب ساری چیزوں پر انسان کی اجارہ داری بن کر رہ گئی ہے۔وہ جانوروں،پیڑ پودوں،پانی اور ہوا کا مالک بن بیٹھا ہے۔اسے یہ ملکیت کس نے دی؟کبھی کبھی میں سوچتا ہوں،ہم کیسے ان چیزوں کے دعوے دار ہو گئے۔ہم سب لُٹیرے ہیں جنھوں نے خدا کی زمین پر زبردستی قبضہ کر لیا ہے۔اس کا الگ الگ حصہ لگا لیا ہے۔
افسانے کا مرکزی کردار رامنجن پلّے ایک بوڑھا ضعیف شخص ہے جو روزانہ صبح سویرے ساحل سمندر پر سیر کے لیے جاتا ہے۔وہ ساحل پر موجود آوارہ کتوں سے اس لیے محبت کرتا ہے کہ اس کی نظر میں یہ کتے ماحول کے محافط ہیں۔یہ ساحل پر آنے والے انسانوں کی چھوڑی ہوئی گندگی کو صاف کرنے میں خاکروب کا کام کرتے ہیں۔اس کا کہنا ہے:”جس دن یہ کتے اور کوے نہ ہوں گے۔سارا شہر غلاطت کا ڈھیر بن جائے گا،سڑاند دائمی طور پر ہوا میں بس جائے گی اور ہم میں سے ہر کوئی اپنی ناک سے پریشان دکھائی دے گا“۔لیکن سرکاری انتظامیہ کو شہر کی تفریح گاہ پر یہ کتے ناگوار گزرتے ہیں۔وہ ان آوارہ کتوں کو ایک کتا گاڑی میں ڈال کر دور لے جانا چاہتے ہیں۔رامنجن پلے ایک کمزور سی مزاحمت کرتا ہے۔ اس کی مزاحمت درحقیقت ماحولیاتی تحفظ اور بقا کے لیے ہے۔وہ چوری چھپے کتا گاڑی کے تالے توڑ کر ان کتوں کو آزاد کر دیتا ہے۔پکڑے جانے پر اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن وہ اپنے ارادے سے باز نہیں آتا اور اس کی مزاحمت جاری رہتی ہے۔وہ آوارہ کتوں کو اپنے گھر لے آتا ہے اور ان کے گلے میں پٹے ڈال کر ان کی ملکیت کا دعوے دار ہو جاتا ہے۔گلے میں پٹاہونے کی وجہ سے کتے لا وارث نہیں رہتے چناں چہ قانون کے مطابق اب انتظامیہ کتوں کو پکڑ نہیں سکتی۔وہ انھیں ساحل سمندر پر چھوڑتے ہو ئے کہتا ہے:”یہ دنیا تم لوگوں کے سبب ایک خوبصورت جگہ ہے“۔رامانجن پلے انسان ہونے کے باوجود جانوروں کے حقوق کے لیے انسان کے بجائے جانوروں کا ساتھ دے کر انسانی سماج میں ماحولیاتی بیداری کی ایک عمدہ مثال قائم کرتا ہے۔صدیق عالم کا افسانہ اچھا خاصا چیروا ان بنیادی قوانین فطرت کی صراحت کرتا ہے جن کے تحت فطرت کا نظام ازل سے جاری و ساری ہے۔جب تک فطرت کے قانون سے تجاوز نہیں کیا جاتا،فطرت کا توازن قائم رہتا ہے۔جیسے ہی کوئی مخلوق اپنی حد سے تجاوز کرتی ہے،فطرت کی غضب ناکی کا شکار ہو جاتی ہے۔فطرت کی دنیا میں ایک دوسرے سے تعاون،باہمی احترام اور ایک دوسرے پر انحصار کا اصول بقا کی ضمانت دیتا ہے۔افسانے میں جنگل سے آنے والا سؤر قصبے میں داخل ہوتے وقت درختوں کے جھنڈ اور ان کے اندر گلہریوں،چڑیوں اور حشرات الارض کو دیکھ کر سوچتا ہے:”ہر جگہ ایک ہی سی دنیا چل رہی ہے۔۔۔۔قدرت نے ہر چیز کو پیدا کرتے وقت اس بات کا خصوصی خیال رکھا ہے کہ اس کے زندہ رہنے کے لیے ایک دوسری چیز پیدا کی جائے۔اس نے انسان کے لیے مجھے پیدا کیا اور میرے لیے کیڑے مکوڑے اور ان حشرات الارض کے لیے انسان۔گویا چکر جاری ہے“۔یہ ایک بدیہی سائنسی حقیقت ہے کہ انسان اپنی امتیازی صفات،تمام تر طاقت،دماغی صلاحیت اور عقلی استدلال کے باوجود فنا کی زد پر ہے۔زندگی میں دوسری مخلوقات پر تصرف اور اجارہ رکھنے والے انسان کا خوبصورت جسم موت کے بعد کیڑے مکوڑوں کی خوراک بنتا ہے۔مذکورہ افسانے کی شعریات سماجی اور اخلاقی مسلمات کے بر عکس ماحولیاتی صداقتوں پر اصرار کرتی ہے۔لطف کی بات یہ ہے کہ انسان کی کمتری کی بات جانوروں میں بھی حقیر اور نجس تصور کیے جانے والے(مشرقی معاشروں میں)سؤر کی زبان سے کہی گئی ہے۔افسانے میں مختلف طبقات سے وابستہ انسانوں کے علاوہ کدم،کرنچ کے پیڑوں،سؤر، گائے، بکریوں، گلہریوں، گرگٹ،حشرات الارض،انسانی دنیا سے بے دخل کیے گئے کوڑھیوں،چڑیلوں اور دیگر مخلوقات کا ذکر باور کراتا ہے کہ فطرت کی دنیا میں تمام مخلوقات آپس میں جڑی ہوئی ہیں۔ایک گنوار دیہاتی لڈو چیروا پہاڑی جنگل سے ایک انسانی قصبے میں داخل ہوتا ہے۔اس کے پاس ایک سؤر ہے،جسے وہ فروخت کرنا چاہتا ہے۔وہ دونوں بھوک سے نڈھال ہیں۔سؤر کنویں سے پانی پینے کے بعد گھاس چرنے لگتا ہے۔تب لڈو چیروا سوچتا ہے:”کاش میں بھی سؤر ہوتا اور مجھے بھی اپنی بھوک مٹانے کے لیے اتنی احتیاط سے کام نہ لینا پڑتا“۔جس کنویں سے کوڑھی پانی پیتا ہے،اس کنویں کا پانی پینے کی وجہ سے اس کی ناک پچک جاتی ہے۔وہ سؤر بیچنے میں تو ناکام رہتا ہے لیکن انسانی دنیا سے پچکی ناک کا تحفہ لے کر واپس جاتا ہے۔اس کے لیے فطرت کی دنیا سے نکل کر انسان کی مصنوعی دنیا میں قدم رکھنے کا نتیجہ ناکامی اور کمتری کی صورت میں نکلتا ہے۔افسانے کے اختتامی حصے میں الفانسو ہیمبرم کے یہ الفاظ کہ”روحیں ہمارے پہاڑوں کی حفاظت کرتی ہیں۔کوئی ان کا قانون نہ توڑے ورنہ اس کا حشر بھی لڈو چیرو ا کی طرح ہو گا“ جدید انسانی دنیا میں فطرت اور ماحولیات کا استغاثہ ہیں۔
سید محمد اشرف کے ہاں غیر بشری کہانیاں دُہری معنویت کی حامل ہوتی ہیں۔وہ انسانی دنیا اور حیوانی دنیا اور انسانی جبلتوں اور حیوانی جبلتوں کے مابین مماثلت و اشتراک کی بنیاد پر بیانیہ تشکیل دیتے ہیں۔جنگلی حیاتیات اور حیوانی نفسیات کے تناظر میں یہ بیانیہ ایک طرف غیر انسانی دنیا کی مکمل نمائندگی کرتا ہے اور دوسری طرف انسانی سماج کی بعض خصوصیات اور حرکیات کی علامت بن جاتا ہے۔ان افسانوں کا انفراد یہ ہے کہ انھیں حیوانی زندگی کا سادہ بیانیہ بھی کہا جا سکتا ہے اور انسانی سماج کی علامت بھی۔ان کے افسانے چکر میں ایسا ہی ایک متوازی سماج دکھائی دیتا ہے۔ہرنوں کے اس سماج کے اصول،ضابطے،قوانین اور حرکیات حیرت انگیز حد تک انسانی سماج سے مماثلت رکھتی ہیں۔طاقت اور اقتدار کے حصول کے لیے جنگ اور جنس مخالف کی کشش انسانی سماج کی قدیم ترین اور مستقل قدریں ہیں۔یہی کچھ اس افسانے میں ہرنوں کے ہاں نظر آتا ہے۔غول کا سردار اپنی جوانی اور طاقت کے گھمنڈ میں بوڑھے سردار کو قتل کر کے منصبِ سرداری پر قابض ہو جاتا ہے۔اس طرح وہ من پسند ماداؤں کو بھی اپنی جانب راغب کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔وہ جس وقت بوڑھے سردار پر حملہ کرتا ہے اور اسے قتل کرتا ہے،اس معرکے کو ایک بچہ(ہرن)کالو بہ غور دیکھ رہا ہوتا ہے۔ کچھ عرصہ بعد کالو جوان ہو کر اس بوڑھے سردار پر کو قتل کرکے سرداری پر قبضہ کر لیتا ہے۔اس وقت ایک اور بچہ اس جنگ کو غور سے دیکھ رہا ہوتا ہے۔جوان ہرن کا بوڑھے سردار پر حملہ کرنا،بچے کا دیکھنا،سردار کے سینگ کا ٹوٹنا اور شکست کے بعد نہر میں کود جانے جیسے واقعات کو زمانی تبدیلی کے ساتھ من وعن دہرایا گیا ہے۔واقعات کی یہ تکرار قوانین فطرت کے دائروی چکر کی طرف اشارہ کرتی ہے۔یہ چکر انسانی سماج میں وقت کے دائروی چکر کی علامت بھی ہے۔تاہم افسانے کا لوکیل،کہانی،مناظر اور واقعات ایک الگ متوازی دنیا(جنگل کی دنیا) کو پیش کرتے ہیں۔سید اشرف کا فسانہ گدھ دو خرگوشوں کی آپسی لڑائی کی کہانی ہے اور وجہ ء نزاع ایک دوسرے کی مادہ کو چھیڑنا یعنی انسانی سماج میں باہمی رقابت کے چند اسباب میں سے ایک قدیم سبب ہے۔دو خرگوشوں کے مابین جنگ درحقیقت انا کی جنگ ہے جس کا فائدہ ایک تیسرا فریق گدھ اُٹھاتا ہے۔آغازِ لڑائی کا یہ منظر دیکھیے:
دونوں کو پچھلے موسموں کے دھندلے دھندلے اسی قسم کے واقعات یاد آگئے تو دونوں نے بیک وقت یہ سوچا کہ یہ اگلا تو بہت دنوں سے اسی تلاش میں تھا کہ میری مادہ کو تکلیف دے اور مجھے بے عزت کرے تو بس یہ خیال آنا تھا کہ دونوں کے ریشمی رونگٹے غصے سے کھڑے ہو گئے۔چھوٹی چھوٹی دُمیں تیزی سے ہلنے لگیں اور باچھوں سے نکیلے دانت باہر نکل پڑے اور وہ دونوں ایک دوسرے پر جھپٹ پڑے۔ (یہ بھی پڑھیں سید محمد اشرف کا افسانہ روگ – نثار انجم )
لڑائی کا آغاز گزشتہ واقعات کی یاد سے ہو تا ہے۔ایک بزرگ پرندہ یہ منظر دیکھ رہا ہے مگر وہ مداخلت کی سکت نہیں رکھتا۔وہ سوچتا ہے کہ کسی ایک نے بھی یہ خیال نہیں کیا کہ اس نے بھی تو دوسرے کی مادہ کو چھیڑا تھا۔بزرگ پرندے کا کردار کسی سماجی دانشور کی علامت ہے جو سوچتا ہے،واقعات اور ان کے اسباب کو نشان زد کرتا ہے لیکن عملی طور پر بے بس ہے۔وہ صرف ایک درخت کے کیڑے ختم کر سکتا ہے جو درخت کو چاٹ جاتے ہیں جب کہ یہ کیڑے دنیابھر کے جنگلوں میں پھیلے ہیں۔وہ چیخنا چاہتا ہے،سب کو بتانا چاہتا ہے لیکن جنگل کی ہاؤ ہو میں اس کی آواز کسی تک نہیں پہنچ پاتی۔گدھ ان حالات کا پورا فائدہ اُٹھاتا ہے اور اپنا کام کر جاتا ہے۔جدید استعماری تناظر میں یہ افسانہ عالمی سیاسی صورت حال کی عکاسی کرتا ہے۔ترجیحاََتیسری دنیا کے ممالک کی بالخصوص پاکستان اور ہندوستان کی۔
احمد جاوید کا افسانہ چوہے مذکورہ بالا صورت حال کو علامتی پیرایے میں پیش کرتا ہے۔یہاں چوہوں کا ذاتی کردار معدوم ہو کر انسانی کردار کی علامت بن جاتا ہے۔ایک لیبارٹری میں دانستہ کچھ چوہوں کو بھوک میں مبتلا کرنا،انھیں خوشنما پنجروں میں رکھنا،عارضی طور پر اچھی خوراک دینا اور مقاصد کی بر آوری کے بعد ناکارہ سمجھ کر ختم کر دینا،نئے سرمایہ داری نظام کے استعماری حربوں کی تشریح ہے۔سلام بن رزاق کاا فسانہ ندی،ندی کی محدود فطرتی دنیا کو ایک وسیع تاریخی تناظر میں وحدت انسانی کی طبقاتی اور جغرافیائی تقسیم کی علامت بناتا ہے۔وسیع ندی چھوٹے چھوٹے ٹاپوؤں میں تبدیل ہو چکی ہے۔ہر ایک مینڈک اپنے ٹاپو کا مختار کُل بن بیٹھا ہے۔انھیں متحد رکھنے کے لیے عمر رسیدہ مگر مچھ کی تما تدبیریں رائیگاں جاتی ہیں۔وہ رب سے دعا کرتا ہے:
اے بحر و بر کا مالک!اے خشکی کو تری اور تری کو خشکی میں بدلنے والے!زمانہ بیت گیا،یہ ندی سوکھتی جا رہی ہے اور ہم کہ جنھیں ایک ہی ندی کا باسی کہلانا تھا؛الگ الگ ٹاپوؤں میں بٹ گئے ہیں۔اے قطرے سے دریا بہانے والے اور ندیوں کو سمندر سے ملانے والے ہمارے رب!ہماری اس سوکھی ندی میں کسی صورت باڑھ کا سامان پیدا کر تا کہ ہم جو ان چھوٹے چھوٹے ٹاپوؤں میں تقسیم ہو گئے ہیں،پھر اسی ندی میں گھل مل جائیں اور اس کے وسیع دامن میں جذب ہو کر اس کا ایک حصہ بن جائیں۔
یہ بوڑھا مگرمچھ دعا ختم کرنے کے بعد کچھ دیر تک آنکھیں موندے آمین کی صدا کا منتظر رہتا ہے لیکن کوئی آواز نہ پا کر جب آنکھیں کھول کر دیکھتا ہے تو تو اس کے آس پاس کے ٹاپو خالی پڑے ہوتے ہیں اور تمام مینڈک ندی کے گدلے پانی میں ڈبکی لگا کر غائب ہو چکے ہوتے ہیں۔انتظار حسین کے افسانے آخری آدمی اور زرد کتا مابعدالطبیعیاتی تناظر میں انسانی صفات کی ترجمانی کرتے ہیں۔یہ علامتی /تجریدی افسانے ہیں جن میں جانور بہ طور کردار آتے ہیں تاہم یہ جانوروں کی نہیں انسان کی ذہنی اور نفسی دنیا کی کہانیاں ہیں۔اسی طرح نیر مسعود کا کلاسک افسانہ طاؤس چمن کی مینا میں پرندوں کی ایک الگ دنیا آباد دکھائی دیتی ہے۔افسانے کا مرکزی کردار مینا ہے جس کا بولنا ایک انتہائی گھمیر صورت حال کو جنم دیتا ہے لیکن نشان خاطر رہے کہ مینا پرندے کی اپنی نہیں،انسان کی سکھائی ہوئی زبان بولتی ہے۔
اردو افسانے کی ماحولیاتی شعریات کا تیسرا نمایاں زاویہ سائنسی ہے۔یہ جذبہ،جبلت اور تخیل سے زیادہ ٹھوس حقائق کو اہمیت دیتا ہے۔یہ زمین کی موجودہ صورت حال کو مرکز بناتا ہے اور ان مسائل اور محرکات کو نشان زد کرتا ہے جن کے باعث کرہ ء ارض کی بقا کو خطرات لاحق ہیں۔قدرتی آفات کی صورت میں فطرت اپنے غصے اور غضب ناکی کا مظاہرہ ازل سے کرتی آئی ہے لیکن موجودہ مصائب اور بحران کا سبب انسان کی غلبہ پسندی اور تسخیر فطرت کا جذبہ ہے جس کا اظہار ماحول دشمن ٹیکنالوجی کے بے دریغ اور بے مہار استعمال کی صورت میں ہوا ہے۔دنیا میں ٹیکنالوجی کے استعمال کی تاریخ زیادہ پرانی نہیں ہے۔گزشتہ صدی کے اوائل تک بعض سائنسی ایجادات کے باوجود کرہ ء ارض کا ماحولیاتی توازن بگاڑ کا شکار نہیں ہوا تھا۔بعد ازاں سرمائے کی ہوس نے انسان کے دل میں فطرت پر مکمل تصرف ایسی خواہش کو جنم دیا جس کا لامحالہ نتیجہ زمین پر موجود فطرتی وسائل کی کمی اور بعض دوسری مخلوقات کی معدومیت اور خود انسان کی بقا کو لاحق خطرے کی صوررت میں سامنے آیا ہے۔معروف سائنسدان اسٹیفن ہاکنگ کا یہ کہنا کہ اگلے چند سو سال میں زمین کا درجہ ء حرارت اس حد تک بڑھ جائے گا کہ یہ زمین انسان کے لیے ناقبل رہائش ہو جائے گی درحقیقت انسان کی اپنی پیدا کردہ صورت حال ہے۔خوش قسمتی سے اپنے طویل ارتقائی سفر میں انسان نے فطرت کے مہربان رُخ کا مشاہدہ زیادہ کیا ہے۔فطرت کی غضب ناکی کو دیوتاؤں کی ناراضی،عذاب یا ماورائی قوتوں سے وابستہ کر کے اس نے مذہب کی گود میں پناہ لے لی اور مطمئن ہو گیا۔اس کا اطمینان کسی حد تک درست بھی تھا کہ قدیم انسان فطرت کے قوانین میں مخل ہونے کی صلاحیت بہت کم رکھتا تھا۔قدرتی آفات جن سے انسان کو گاہے گاہے واسطہ پڑتا تھا،وہ انسانی اعمال کا نتیجہ نہیں تھیں۔چناں چہ انسان میں اس حوالے سے احساس گناہ بھی نہیں تھا جب کہ جدید انسان کو فطرت کی جس غضب ناکی کا سامنا ہے، اس میں انسان کا اپنا کردار زیادہ ہے۔جدید انسان کے سامنے فطرت کے غضب ناک آرکی ٹائپ کی دو نمایاں صورتیں ہیں۔”ایک وہ جس کا نقش انسان کے لاشعور میں طوفانوں،سیلابوں،زلزلوں سے آنے والی تباہی کے نتیجے میں بیٹھا۔دوسرا وہ ہے جو فطرت اور آدمی کے تعلق میں بگاڑ کا پیدا کردہ ہے۔پہلا آرکی ٹائپ نسبتاََ سادہ ہے اور اس کی تہ میں مہیب فطرت کے مقابل اپنی بے بسی اور ضرب پذیری کا صدیوں کا تجربہ موجود ہے جب کہ دوسرا آرکی ٹائپ پیچیدہ ہے“۔(۶۱)اردو میں پہلے آرکی ٹائپ کی مثال دیوندر ستھیارتھی کا افسانہ ستلج پھر بپھرا ہے۔یہ افسانہ ایک طرف ضعیف الاعتقادی،توہم پرستی اور قدامت پسندی اور جدت کا تقابل پیش کرتا ہے تو دوسری طرف زمین بُردگی کے قدیم ماحولیاتی مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔سیلابی صورت حال میں دریاؤں کا رُخ بدلنا اور انسانی آبادیوں کا نابود ہونا ایک قدیم انسانی تجربہ ہے۔فطرت اپنی روش پر چلتی ہے لیکن فطرت کی ظالمانہ قوت کو کسی عذاب سے منسوب کرنا انسان کی ضعیف الاعتقادی کا نتیجہ ہے۔ستلج کی بپھری لہروں کی شکل میں خطرہ گاؤں والوں کے سر تک آپہنچا تھا مگر”بڑے بوڑھے کہہ رہے تھے،بس پیرکے آنے کی دیر ہے،اسے دیکھتے ہی ستلج شرافت سے پیچھے ہٹ جائے گا“۔نئی نسل کے نمائندہ سکھی چند اور نیر جا توہمات پر یقین نہیں رکھتے لیکن گاؤں والوں کو پختہ یقین ہے کہ پیر کی دعا سے دریا کا پانی اُتر جائے گا۔افسانے کا اختتام مضحکہ خیز منظر پر ہوتا ہے۔پیر بابا دریا کے کنارے کھڑا ہو کر دعا مانگ رہا ہوتا ہے کہ کنارہ گرتا ہے اور دریا کی لہریں پیر کو بھی ساتھ بہا کر لے جاتی ہیں۔اس افسانے میں فطرت کی غضب ناکی اور نامہربانی کو توہمات سے روکنے کی کوشش کی جاتی ہے جب کہ ملک راج آنند کے افسانے منگل کی کہانی میں گاؤں کے قدامت پسند لوگ انسان کی پیدا کردہ صورت حال کو روکنے کے لیے بھی توہمات کا سہارا لیتے ہیں۔یہاں ماحولیاتی استعمار ان کے اعتقاد کے مرکز میں،انھی کے اعتقاد سے ضرب لگاتا ہے اور اسے توڑنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔یہ افسانہ ڈیم کی تعمیر سے انسانی آبادیوں کی بے دخلی و نقل مکانی اور مقامی اکالوجی کو پہنچنے والے نقصان کو مرکز بحث بناتا ہے۔جدید معاشرت میں ڈیموں کی تعمیر انسانی زندگی اور ماحولیات پر دو متضاد اثرات مرتب کرتی ہے۔ایک طرف یہ زرعی انقلاب اور اقتصادی خوش حالی کی ضمانت دیتی ہے تو دوسری طرف انسانوں،جانوروں اور دیگر زندہ نامیوں کی ہجرت کی صورت میں ماحولیاتی نظام میں بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔جدید دنیا میں اب توانائی کے متبادل ذرائع کو فوقیت دی جا رہی ہے تا کہ ڈیموں پر انحصار کم کیا جا سکے۔دنیا بھر کے ماحول پسند جمہوری دانشور ڈیموں کی تعمیر کو انسان اور ماحول دونوں کے لیے ضرر رساں قرار دیتے ہیں۔ہندوستان میں ڈیموں کی تعمیر کے خلاف ارون دھتی رائے کی آواز ایک بھرپور مزاحمت ہے۔ہندوستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں ڈیمز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں ۰۰۶۳ بڑے ڈیم تعمیر کیے جا چکے ہیں اور مزید کئی کی تعمیر جاری ہے۔ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ ڈیم غیر جمہوری ہوتے ہیں یہ حکومت کے ارتکاز کا ذریعہ ہیں۔حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ کس کو کتنا پانی دینا ہے اور کہاں پر کیا کاشت کرنا ہے؟یہ پانی،زمین اور آب پاشی کو غریب کسان سے چھین کر امیر کو تحفتاََ دینے کے مترادف ہے نیز ماحولیاتی اعتبار سے یہ زمین کے ضیاع،سیم و تھور،سیلاب اور مختلف وبائی امراض کا باعث بھی بنتے ہیں۔ارون دھتی رائے کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیموں کو جدید تہذیب کی یادگار کہا جا سکتا ہے نہ ہی یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ انسان نے فطرت پر غلبہ پا لیا ہے۔یادگاروں کی عمر محدود نہیں ہوتی لیکن ڈیموں کی عمر فطرت کی مرہون منت ہوتی ہے۔جب فطرت ڈیم کی تہ کو گارے سے بھر دیتی ہے تو یہ بے کار ہو جاتے ہیں لہٰذا ترقی یافتہ دنیا خود اس سے جان چھڑا رہی ہے اور ترقیاتی امداد کے نام پر پرانے ہتھیاروں،فرسودہ جہازوں،ممنوعہ کیڑے مار ادویات اور کوڑا کرکٹ کی طرح اس روایت کو بھی تیسری دنیا کی طرف منتقل کیا جارہا ہے۔(۷۱)منگل کی کہانی ڈیموں کی تعمیر کے خلاف سادہ مزاحمت کی کہانی ہے۔گاؤں کے لوگ ڈیم کے مادی ثمرات یا نقصانات سے بے خبر ہیں۔وہ جھیل(ڈیم)کی تعمیر کو اپنی روایتی زندگی اور مقامی حیاتیات میں مداخلت تصور کرتے ہیں،اس لیے مخالفت پر کمر بستہ ہیں۔یہ سادہ لوح قدامت پسند دیہاتی کاملی دیوی سے دعا کرتے ہیں اور انھیں یقین ہے کہ معجزہ ہو جائے گا لیکن معجزہ نہیں ہوتا۔وہ اپنی محدود سوچ اور استعداد کے مطابق کرین کو روکنے،مزدوروں کو بہکانے اور انجینئر کو قتل کرنے کا سوچتے ہیں کہ اس طرح جھیل کا کام ہمیشہ کے لیے رُک جائے گا مگر کام جاری رہتا ہے۔انتظامیہ انھیں گاؤں چھوڑنے پر مجبور کرتی لیکن وہ آمادہ نہیں ہوتے۔آخر کار انتظامیہ کے ساتھ ساز باز کے بعد گاؤں ہی کا ایک چرب زبان نوجوان بالی محض الفاظ کے سہارے انھیں گاؤں چھوڑنے پر آمادہ کر لیتا ہے۔وہ چند الفاظ کے ذریعے انھیں قائل کرلیتا ہے کہ کاملی دیوی نے گاؤں پر ہمیشہ مسرتوں کی بارش کی ہے اور اب وہ جھیل کے پانی میں بجلی بن کر پورے علاقے پر رحمت کرے گی۔اس طرح شہری ذہانت اور زبان کی طاقت اعتقاد کے پختہ حصار کو توڑنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔ڈپٹی کمشنر سے کہے گئے بالی کے یہ الفاظ بہت معنی خیز ہیں:
ابھی پورا ہندوستان محض ایک گاؤں ہے۔آپ شہری زبان میں گفتگو کرتے ہیں جب کہ گاؤں والے صرف گاؤں کی زبان سمجھتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مابعد جدید افسانہ اور محمد حامد سراج – ڈاکٹر شہناز رحمٰن )
بالی کے یہ الفاظ زبان کے نوآبادیاتی ثقافتی تصور کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔استعمار کے نزدیک زبان صرف ابلاغ اور جذبات کی ترسیل کا ذریعہ نہیں ہوتی؛وہ اسے کسی سماج کی کلید سمجھتا ہے جس کی مدد سے اعتقادات اور مسلمات کے قفل کو کھولا جا سکتا ہے۔منگل کی کہانی میں ماحولیاتی استعمار نے سیاسی استعمار ہی کی طرح اپنے مطلوبہ مقصد کے حصول کے لیے زبان کی طاقت کو ایک ہتھیار کے طور پر برتا اور کامیاب رہا۔
فطرت کے ساتھ انسان کا رویّہ ہمیشہ سے استعماری رہا ہے۔انسان نے اپنے طویل تمدنی سفر میں جس قدر بھی فتوحات حاصل کی ہیں۔ان کا بالواسطہ یا بلا وسطہ تعلق فطرت کی تسخیر سے رہا ہے۔کامیابی کے اس سفر میں انسان کی اب تک کی سب سے خطر ناک جیت ذرّے کو چیر کر اس کے مرکزے(Neucleus)کی دریافت یعنی ایٹم بم کی ایجاد ہے جس کا اولین مظاہرہ ۶۴۹۱ء میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی کے مقام پر ہوا۔یہ انسانی تاریخ کا سب سے ہولناک واقعہ ہے جس کی یاد سے بنی نوع انسان رہتی دنیا تک پیچھا نہیں چھڑا پائے گی۔اس سانحے پر تخلیقی رد عمل کا ظہار دنیا بھر کے ادب میں ہوا مگر حیرانی کی بات ہے کہ ہیرو شیما اور ناگا ساکی کا سانحہ ہو یا چرنوبل ایٹمی ری ایکٹر کی تباہی، تمام اعداد و شمار انسان اور انسانی املاک کے نقصانات کو ترجیح دیتے ہیں۔کہیں پر یہ لکھا ہوا نہیں ملتا کہ ہیرو شیما میں انسانوں کے ساتھ اتنے جانور اور پرندے ہلاک ہوئے یا یوکرائن میں اتنی بڑی تعداد میں تتلیاں ہمیشہ کے لیے موت کے گھاٹ اُتر گئیں۔
اردو میں ہیرو شیما اور ناگا ساکی سانحے کے اثرات کو سب سے پہلے سعادت حسن منٹو کے ہاں چچا سام کے نام خط(پانچویں خط)میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد لکھے گئے افسانوں میں احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ہیرو شیما سے پہلے،ہیرو شیما کے بعد،حجاب امتیاز علی کا پاگل خانہ اور محمد سلیم الرحمان کا افسانہ راکھ جنگ کی تباہ کاریوں اور ایٹمی تابکاری کے انسانی دنیا پر مرتب ہونے والے مضر اثرات کو نہایت درد مندی سے بیان کرتے ہیں۔تاہم راکھ کی چند ایک سطروں کے سوا ان کہانیوں میں فطرت کے دُکھ کا اظہار بہت کم ہوا ہے۔۸۹۹۱ء میں بھارت اور پاکستان کی طرف سے یکے بعد دیگرے کئی ایٹمی دھماکوں سے اردو دنیا میں ماحولیاتی بیداری کی ایک نئی کروٹ نے جنم لیا۔اس حوالے سے سب سے پُر اثر افسانہ انتظار حسین نے مور نامہ کے عنوان سے تخلیق کیا۔یہ رپورتاژ نما افسانہ خطے کی اکالوجی اور مقامی حیاتیاتی مظاہر پر ایٹمی تابکاری کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔افسانے کا لوکیل راجھستان کا علاقہ ہے جہاں بھارت نے ایٹمی دھماکوں کا تجربہ کیا۔یہ صحرائی خطہ موروں کا مسکن ہے۔افسانے کا آغاز اس خبر سے ہوتا ہے کہ ایٹمی دھماکوں کے بعد راجھستان کے مور”حواس باختہ ہو کر فضا میں تتر بتر ہو گئے“۔یہ پریشان کن خبر افسانہ نگار کو ماضی میں لے جاتی ہے۔وہ ماضی کے اس شہر کو یاد کرتا ہے جب یہ علاقہ انسان کی دست بُرد اور اس کی ہوس ناکیوں سے محفوط تھا:”کیا ترشا ترشایا گلابی گلابی شہر تھا۔اس شہر میں میں نے دوپہر میں قدم رکھا تھا۔ان اوقات میں تو کسی وجود کا حساس نہیں ہوا تھا لیکن جب دن ڈھلے میں نے اس دُلھن ایسے سجے سجائے ریسٹ ہاؤس میں اپنے کمرے کی کھڑکی کھول کر باہر جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ سامنے پھیلے ہوئے صحن میں،فوارے کے ارد گرد چبوترے، پھر منڈیروں پر مور ہی مور۔کتنے سکون کے ساتھ اور کتنی خاموشی سے اپنی نیلی چمکیلی لمبی دُموں کے ساتھ چہل قدمی کر رہے تھے“۔راجھستان میں ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے یہاں کے قدیم باسی موروں پر ٹوٹنے والی قیامت کے تناظر میں مصنف کُرہ ء ارض کو عالمی سطح پر درپیش ماحولیاتی خطرات کا ادراک کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں آبی آلودگی کی ایک اور تصویر اُبھرتی ہے:”سمندر کے شفاف پانی میں گھلتا ہوا،گاڑھا گاڑھا پٹرول،پانی کی رنگت بدلتی جا رہی ہے۔پٹرول کی آلودگی سے کچھ سیاہی مائل نظر آرہا ہے اور اُجاڑ ساحل،یہ ایک اکیلی مرغابی اس آلودہ پانی میں نہائی ہوئی ساکت بیٹھی حیرت سے سمندر کو تک رہی ہے۔جو پانی کل تک اس کے لیے امرت کا درجہ رکھتا تھا،آج زہر بن گیا ہے“۔افسانہ نگار کے نزدیک یہ مرغابی ہمارے عہد کی علامت ہے۔آج انسان اپنے زعم میں دوسرے انسان اور فطرت کے ساتھ جو سلوک کر رہا ہے۔مرغابی اس کی کہانی سنا رہی ہے۔انتظار حسین انڈیا اور پاکستان کی باہمی کشمکش،جنگی جنون اور مہلک ہتھیاروں تک رسائی کو ہندی اساطیر سے جوڑتے ہیں۔یہاں وہ ارجن اور اشوتھا ما کی کہانی کو دہراتے ہیں۔اپنے باپ درونا چاریہ کے منع کرنے کے باوجود اشوتھا ما خطرناک ہتھیار برہم استر چلا دیتا ہے۔جواب میں ارجن بھی اپنا برہم استر چلاتا ہے تاکہ اشو تھا ما کے ہتھیار کا توڑ کیا جا سکے۔ویاس رشی دونوں کو اس خطر ناک عمل سے منع کرتے ہیں۔اشو تھاما اپنا ہتھیار واپس لینے سے انکار کر دیتا ہے جس پر سری کرشن اسے تین ہزار برس تک بنوں میں مارا مارا پھرنے کی بد دعا دیتے ہیں۔اس کہانی میں اور انڈیا،پاکستان کی چپقلش میں حیران کن حد تک مماثلت ہے۔سوائے اس کے کہ دونوں طرف اس ادراک کے باوجود کہ ”یدھ مہنگا سودا ہے“،کوئی اپنا ”برہم استر“واپس لینے کو تیار نہیں۔یہاں ”برہم استر“ایٹم بم کی علامت بن جاتا ہے مگر سوال صرف ہندوستان،پاکستان کا،صرف ایٹم بم کا یا اس کی وجہ سے ہونے والی تباہی کا نہیں؛پورے کرہ ء ارض کا ہے۔جدید انسان کے پاس متعدد”برہم استر“ ہیں جن سے وہ نہ صرف اپنے ہم جنسوں بلکہ کرہ ء ارض پر موجود تمام مخلوقات کو نابود کرنے کے درپے ہے۔انتظار حسین کا کہنا ہے:
آدمی کے ہاتھوں ساری دنیا کی ہوا میں زہر گھل چکا ہے۔چڑیاں اور تتلیاں ظالم آدمی کے ہاتھ کو نہیں پکڑ سکتیں کہ ہوا میں زہر مت گھولو اور اللہ کی زمین پر زندگی کو اجیرن مت بناؤ۔وہاں تو مقدور اتنا ہی ہے کہ کوئلیں ناخوش ہو کر کوکنا بند کر دیں۔چڑیاں اور تتلیاں اس مسموم فضا سے بیزار ہو کر خو کشی کر لیں۔ایک حساس تتلی اور ایک چہکتی چڑیا انسان کے ظلم و جہل کا ایسے تو کوئی جواب دے نہیں سکتی،ا سکے پاس تو کوئی Deterrent نہیں ہے۔(۸۱)
انتظار حسین کا مور نامہ سرحد پار کی صورٹ حال کو پیش کرتا ہے جب کہ مسعود اشعر کا فسانہ پیاسی دھرتی کا آخری سُر سرحد کے اِس طرف(پاکستانی چولستان)کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں ایٹمی تاب کاری نے زمین سے نمو کی صلاحیت چھین کر مقامی زندگی اور ماحولیات کو زندگی کی ضمانت یعنی پانی سے محروم کر دیا ہے۔ یہ صحرائے چولستان میں سفر کرنے والے ایک فوٹو گرافر کی کہانی ہے جو ریت کے نیچے سے پھوٹنے والی چیخ کی تصویر بنانا چاہتا ہے۔یہ چیخ دھرتی کا آخری سُر ہے جو اب دھرتی کے لیے صور اسرافیل بنتی جا رہی ہے۔فوٹو گرافر کو یہ چیخ مقامی لوگوں،مقامی پودوں اور مقامی جانوروں کی شکل میں ہر جگہ ”دکھائی“دیتی ہے۔وہ اب سے دو سال پہلے ایٹمی دھماکوں کے وقت اپنے شہر کے حالات کو یاد کرتا ہے جب لوگ خوشیاں منا رہے تھے اور مٹھائیاں بانٹ رہے تھے کہ ہم نے بدلہ لے لیا ہے۔”اور اب صرف دو برس بعد میں وہ سوکھی زبانیں دیکھ رہا ہوں جو پیا س سے سفید چونا ہو گئی ہیں،موٹی ہو کر لٹک گئی ہیں منھ سے باہر۔میں انسانوں اور جانوروں کی وہ قطاریں دیکھ رہا ہوں جو ایک ایک بوند کی تلاش میں سر جھکائے چلی جا رہی ہیں۔سر پر تانبا آسمان اور پیروں کے نیچے انگارہ ریت۔گرمی کی شدت سے جھلس رہے ہیں ان کے بدن۔یہ تو ایسی جگہ ہے جہاں انسان کو بھی پسینہ نہیں آتا۔ہوا اتنی سوکھی ہے یہاں لوگ اپنے مردے دو چار پتھر لگا کر کھلے آسمان کے نیچے چھوڑ دیتے ہیں۔ہوا میں نمی نہیں ہے کہ لاش گلے سڑے۔وہ صرف سوکھ جاتی ہے۔کھال چمڑا بن کر ہڈیوں کے ساتھ چمٹ جاتی ہے۔میں دیکھ رہا ہوں ادھر اُدھر بکھرے مردہ جانوروں کے پنجر۔یہاں مردہ جانور ہیں مگر انھیں کھانے والا کوئی گدھ نہیں ہے کہ گدھ گوشت کھاتے ہیں چمڑا نہیں“۔ایٹمی دھماکوں کے بعد صحراکی اس ہولناکی میں ممکنہ ایٹمی جنگ کے بعد کی تصویر بھی بہ آسانی دیکھی جاسکتی ہے۔مسعود اشعر کے اس افسانے کا آغاز اور اختتام ایک بنگالی نظم پر ہوتا ہے۔یہ نظم بے بس اور لاچار زمین کا نوحہ ہے۔اختتامی حصے میں افسانے کا متکلم مہا بھارت کے دو کرداروں بھیشم پتامہ اور دھرت راشٹر کی پتنی گاندھری کو یاد کرتا ہے جنھوں نے کبھی جنگ نہ کرنے کا عہد کیا تھا اور آخری دم تک اس عہد کو نبھایا۔بھیشم پتامہ پانڈوؤں کا سوتیلا بھائی تھا۔وہ جنگ میں شریک ہو سکتا تھا لیکن اس نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وہ راج پاٹ سے واسطہ نہیں رکھے گا۔ وہ زندگی بھر اس وعدے پر قائم رہا جب کہ ”گاندھری نے اپنی تارہ سی آنکھوں پر ہمیشہ کے لیے پٹی باندھ لی تھی“۔کیا عہد موجود کا غلبہ پسند انسان کرہ ئارض کی بقا کے لیے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھ سکے گا؟شاید کبھی نہیں۔
منشا یاد کا فسانہ پولی تھین بہ ظاہر ایک معمولی لیکن زمین کے لیے انتہائی مہلک اور گھمبیر ماحول دشمن مسئلے کو اُجاگر کرتا ہے۔یہ گاؤں کے ایک سانسی لڑکے کی کہانی ہے جو حیران کن طور پر پولی تھین کھانے کا عادی ہے۔اس کی ماں گلیوں میں سے پولی تھین چُن چُن کر غائب کرتی رہتی ہے تا کہ اس کا بیتا محفوظ رہے۔یہاں ماں زمین کی قائم مقام ہے جو پولی تھین جیسی خطرناک چیز کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے تاکہ انسان اس کے نقصانات سے بچا رہے۔پولی تھین زمین پر زندگی کے لیے موت کا پیغام ہے مگر سانسی لڑکے کی طرح انسان کی بھوک مرتی ہے نہ ہی وہ پولی تھین سے باز آتا ہے۔پولی تھین روز مرہ استعمال کی ایک معمولی چیز ہے جس کے نقصان کا اندازہ انسان بالخصوص تیسری دنیا کے پسماندہ انسان کو تا حال نہیں ہو سکا۔یہ جس مواد سے تیار ہوتا ہے اسے تلف کرنا ممکن نہیں۔اسے صرف زمین کے اندر چھپایا جا سکتا ہے۔یہ زمین کے اندر جا کر اس کے مسام بند کر دیتا ہے جس سے نہ صرف زمین کی زرخیزی متاثر ہوتی ہے بلکہ زیر زمین پانی کی سطح بھی نیچے چلی جاتی ہے۔جدید سائنسی تحقیقات انکشاف کر رہی ہیں کہ پولی تھین کو مکمل طور پر تلف کرنے کے لیے پانچ ہزار سال کا عرصہ درکار ہے اور ہنوز دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی ایسی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں کر سکے جو اس زمین دشمن شے سے نجات دلا سکے۔
پولی تھین کھانے والا افسانے کا مرکزی کردار لڑکا کالو بیک وقت قدیم اور جدید انسان کی نمائندگی کرتا ہے۔گاؤں میں ایک قدیم شہر کے کھنڈرات کی دریافت اور جدید طرز زندگی پر ایک نئے شہر کی تعمیر کے ضمنی واقعے کی معنویت بھی اسی تناظر میں قائم ہوتی ہے۔کالو ایک بے زبان اور تہذیب و شعور سے عاری وحشی انسان ہے جو مسلسل پولی تھین کھاتا رہتا ہے مگر اس کی بھوک ختم نہیں ہوتی کیوں کہ”بھوک کا مرض جب نسل در نسل کرانک ہو جاتا(ہے)اور آدمی کے خمیر میں شامل ہو جاتا ہے تو شکلیں بدل بدل کر انوکھے طریقے سے اپنا اظہار کرتا ہے“۔چناں چہ جدید انسان کی بھوک کی نوعیت مختلف ہے۔تمام تر فطرتی وسائل پر قابض ہونے اور انھیں ہڑپ کر جانے کے باوجود کالو کی طرح اس کی بھوک ختم ہونے میں نہیں آرہی۔متکلم کی ممانی نے جو الفاظ کالو کے بارے میں کہے وہ جدید انسان پر بھی صادق آتے ہیں:”یہ آدمی تھوڑی ہے۔اللہ نے عجیب مخلوق پیدا کی ہے۔مجھے تو یہ آدمی کی جون میں راکشس نظر آتا ہے جو اس گاؤں کی ہر چیز کو کھا جائے گا۔اس کا پیٹ دیکھ رہے ہو پورا دوزخ ہے“۔کالو کا تعلق قدیم سانسی نسل سے ہے،ان لوگوں کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ کتے،بلیاں،سانپ اور ہر وہ شے کھاتے ہیں،جسے کھانا مہذب دنیا میں معیوب سمجھا جاتا ہے۔قدیم سانسیوں کا وحشی پن اور جدید انسان کی وحشت اس نکتے پر ایک ہو جاتے ہیں کہ اگر سانسی ممنوع اشیا کھاتے تھے یا کالو پولی تھین کھاتا ہے تو جدید انسان بھی کرہ ء ارض کی ہر شے پر اپنا تصرف جائز تصور کرتا ہے،خواہ وہ اس کے لیے ممنوع ہو یا اس کی بھوک اور ضرورت سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
آصف فرخی کا افسانہ سمندر کی چوری مستقبل کی ماحولیاتی صورت حال کو ایک خواب کی صورت میں بیان کرتا ہے۔افسانے کا آغاز ایک ناقابل یقین منظر سے ہوتا ہے:
جہاں دوسری طرف سمندر ہوا کرتا تھا،دور تک پھیلا ہوا نیلا سفید سمندر،وہاں سب خالی پڑا تھا۔سمندر کی جگہ بڑا سا گڑھا تھا اور چٹیل زمین جس پر جھاڑیاں تھیں نہ گاڑی کے ٹائروں کے نشان بلکہ سطح جگہ جگہ سے تڑخ کر ٹوٹی ہوئی تھی،جس طرح بہت دیر تک پانی میں بھیگے رہنے کے بعد مٹی کی سی حالت ہوجاتی ہے۔
شروع میں مصروف زندگی کے عادی، شہر کے باسی اس انہونی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوپاتے کہ سمندر چوری ہو چکا ہے۔فی الواقع ان کے لیے یہ بات ناقابل یقین اور مضحکہ خیز تھی کہ سمندر بھی چوری یا غائب ہو سکتا ہے یا شاید انھیں سمندر کی اہمیت کا اندازہ ہی نہیں تھا،ان نعائم فطرت کی طرح جن کی ناگزیریت کا احساس ان کی غیر موجودگی میں ہوتا ہے۔درحقیقت یہ سمندر محض پانی کا ایک ذخیرہ نہیں تھا،یہ شہر کی شناخت تھا اور شہر والوں کی معاشی، سماجی،مذہبی،علمی اور تفریحی سرگرمیوں کا مرکز بھی۔آہستہ آہستہ جب سمندر کی چوری کا واقعہ یقین میں بدل گیا تو مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگ وہاں جمع ہونے لگے اور اس کی چوری پر اپنی اپنی توجیہات پیش کرنے لگے۔کسی کے خیال میں ”تیل کے Spill کی وجہ سے ایسا ہوا،Ecological Disaster یا پھر جنگ کا اثر…Neuclear Holocaust…“ایک ریٹائرد بیو روکریٹ کا خیال تھا کہ یہ لینڈ مافیا کی کارستانی ہے”لینڈ گریبنگ یہاں ایک باقاعدہ مافیا بن گئی ہے۔اس کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔سیاست اور دولت اس کی مدد کرتی ہیں۔زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ا سٹیٹ بھی اس زبردستی پر یقین رکھتا ہے۔اسٹیٹ خود مافیا میں تبدیل ہونے لگتا ہے اور پھر دوسروں سے بڑھ کر استحصال،ری سورسز کو ہڑپ۔۔۔“۔وہاں ایک ماحول پسند نوجوان بھی موجود تھا جو اس ماحولیاتی نقصان پر اپنے دُکھ کا اظہار کرتا ہے۔اس کے مطابق”یہ ماحول کا قتل ہے۔یہاں میگروو کے ذخیرے ختم ہو جائیں گے۔۔۔ساری وائلڈ لائف۔۔۔بہت نازک سا ماحولیاتی توازن ہے ان کے اور انسانوں کے درمیان۔ایک تباہ ہو گا تو دوسرا زندہ اور برقرار نہیں رہ سکے گا۔“مختلف کرداروں کی زبان سے ادا کیے گئے یہ جملے آبی آلودگی کے مختلف اسباب اور مضرات کی نشان دہی کرتے ہیں۔مشترکہ طور پر یہ فیصلہ ہوتا ہے کہ سمندر کی چوری کی ایف آئی آر درج کرائی جائے مگر مشکل یہ درپیش تھی کہ ایف آئی آر کس کے خلاف کٹوائی جائے؟کیونکہ ماحول کا سب سے بڑا دشمن،ماحولیاتی آلودگی کا سب سے بڑا ذمہ دار خود انسان ہے۔موجودہ ماحولیاتی بحران خود انسان کا پیدا کردہ ہے جس کا شاید اسے پوری طرح ادراک بھی نہیں ہے۔سمندری آلودگی کے اسباب (انسان کے پیدا کردہ)کو زیر مطالعہ افسانے کے درج ذیل پیرا گراف میں دیکھا جا سکتا ہے:
پانی گدلا ہے اور ریت پر کوڑا بکھرا ہوا ہے۔جوس کے خالی ڈبے۔پلاسٹک کی تھیلیاں،موسمبی کے چھلکے،پیکٹ جو استعمال کے بعد چر مرا کر پھینک دیے گئے ہیں اور پیچھے ہٹتی لہروں کے سامنے بے تحاشا لوگ اتنی سی جگہ میں بھرے ہوئے اور پھر بھی تفریح کے موڈ میں۔ان کی آوازیں لہرو ں کے شور کے اوپر سے گونجتی اور ٹکراتی ہوئیں۔پھر ان کے سامنے دیوار،عمارت کا ادھ بنا ڈھانچہ جس نے سمندر کو جیسے دونوں ہاتھوں سے بھینچ لیا ہو،سکیڑ لیا ہو،گدلے پانی کے اوپر تیل کے کالے چکتّے جو پانی کے بہاؤ کے ساتھ پیچھے ہٹنے کے بجائے وہیں جمے کھڑے ہیں۔مری ہوئی مچھلیوں کی سڑی ہوئی بد بو جو دھیرے دھیرے بڑھتی جا رہی ہے۔یہاں تک کہ اتنی دبیز اور تیز ہو جاتی ہے کہ سانس رُکنے لگتا ہے۔سانس میں جیسے کوئی چیز پھنس رہی ہے اور قے کو روکتے ہوئے آپ وہاں سے مڑ کر واپس جانے لگتے ہیں،سمندر سے مخالف سمت میں۔
صاف شفاف،کشادہ اور زندگی سے بھرپور سمندر کی اس حالت کے ذمہ داروں کے خلاف ایف آئی آر نہیں کٹوائی جا سکتی (بنے ہیں اہل ہوس منصف بھی،مدعی بھی/کسے وکیل کریں،کس سے منصفی چاہیں؟)نہ ہی کوئی اپنی ذمہ داری لینے کو تیار ہوتا ہے۔شہر کے لوگ رفتہ رفتہ سمندر کو بھول جاتے ہیں۔افسانے کا اختتام شہر کی ممکنہ تصویر پر ہوتا ہے۔جہاں سمندر تھا،وہاں صحرا اُگ آتا ہے اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے جال میں پھنسا ایک اور شہر اپنی تباہی کا منتظر ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ اوّل] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
حسن منظر کا افسانہ زمین کا نوحہ ۱۸۹۱ء میں شائع ہونے والی ان کی کتاب رہائی میں شامل پہلا افسانہ ہے۔ماحولیاتی بحران کا یہ پُر اثر اظہاریہ بیک وقت ایٹمی تاب کاری،فضائی و آبی آلودگی،کیڑے مار ادویات،کھانے کو محفوظ کرنے والے کیمیاوی اجزا،سائنسی تجربات اور ٹیکنالوجی کے بے دریغ استعمال جیسے ماحول دشمن انسانی اعمال کو ہدف تنقید بناتا ہے۔افسانے کا آغاز اخبارات میں ضرورت رشتہ کے اشتہارات کے ذکر سے ہوتا ہے۔ان اشتہاروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اشتہارات صرف لڑکیوں کو تلاش کرتے ہیں۔حیرانی کی بات یہ کہ ان اشتہاروں میں اب ذات پات، نسل، رنگ، خاندان، حسن،دولت کی شرط نظر نہیں آتی۔شادی کے خواہش مندوں کو صرف ایک عورت کی تلاش ہے اور وجہ اس انہونی کی یہ ہے کہ دنیا سے عورت کی جنس معدوم ہو رہی ہے۔عوت نسل انسانی کے تسلسل اور بقا کی ضامن ہے۔عورت کی معدومیت کا مطلب نوعِ انسانی کی معدومیت ہے۔لیکن نوبت بہ ایں جا رسید کہ دنیا میں عورتوں کی تعداد صرف پانچ دس رہ گئی ہے۔ایک طرف انسان خلا میں جانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خلا میں جا کر بھی عورت کے بغیر اپنی نوع کو کیسے بچا پائے گا؟ چناں چہ ایک ”انسان بچاؤ عالمی ادارہ“قائم کیا جاتا ہے۔جو سر توڑ کوشش کے بعد ایک تولیدی دوا تو ایجاد کر لیتا ہے مگر اس کے استعمال کے لیے عورت دستیاب نہیں ہے۔اس ادارے کو ایک پہاڑی گاؤں سے ایک خط موصول ہوتا ہے جس میں اطلاع دی جاتی کہ یہاں پہاڑوں پر ایک عمر رسیدہ شخص اپنی بیوی کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔انسان بچاؤ عالمی ادارہ کے اہلکار وہاں پہنچ جاتے ہیں اور اس شخص کو ہر طرح سے قائل کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی پر اس دوا کے استعمال کی اجازت دے تاکہ معدوم ہوتی بنی نوع انسان کو بچایا جا سکے مگر وہ شخص انکار کر دیتا ہے۔عالمی ادارے کے نمائندگان کو دیا گیا اس کا جواب فطرت اور ماحول کی قیمت اپنی دنیا تعمیر کرنے والے غلبہ پسند جدید انسان کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ محسوس ہوتا ہے۔وہ کہتا ہے:
آپ کو کب سے بنی نوع انسان کی فکر لاحق ہو گئی؟آپ نے کب میری دنیا کی پرواہ کی تھی جسے میں چاہتا تھاآپ اسی کے حال پر چھوڑ دیں،ہر طرح کی گندگی سے پاک۔لیکن آپ نے اسے دھوئیں،تابکاری،تابکار راکھ اور اپنے تجربات سے راکھ کر کے رکھ دیا۔میرا اسکول،میرا گاؤں،میرے دونوں لڑکے سب کہاں ہیں؟سب آپ کی نذر ہو گئے۔جتنے کی آپ کو ضرورت نہیں تھی،اس سے زیادہ کی آپ کو ہوس تھی۔آپ نے سمندروں اور پہاڑوں تک کو نہیں چھوڑا،ان میں دشمن کی حرکات کو سونگھ لینے والے آلات ایٹمی نصب کیے۔کیوں میں اپنی بیوی یا خود کو انسان کی بقا کے لیے استعمال ہونے دوں؟اور یوں بھی دیکھا جائے تو انسان کی بقا کی آپ کو کب فکر رہی ہے؟
اسے قائل کرنے کی ہر کوشش ناکام ہو جاتی ہے حتٰی کہ اس کی بیوی(دنیا کی آخری چند عورتوں میں سے ایک)انتقال کر جاتی ہے۔وہ اپنی بیوی کو ان الفاظ کے ساتھ زمین میں دفن کر دیتا ہے:
پیاری زمین تو ابھی تک اچھی ہے۔ابھی تک کتنی خوبصورت ہے۔اتنی خوبصورت کہ میں اپنی سب سے خوبصورت متاع جسے میں نے تیرے ان دشمنوں کے حوالے نہیں کیا،آج تیرے حوالے کرنے کو تیار ہوں۔
افسانے کے یہ اختتامی الفاظ انسان کے لیے ایک عالمگیر پیغام اور تنبیہ ہیں۔اگر انسان نے اپنے ماحول دشمن اعمال و افعال پر نظر ثانی نہ کی،زمین کو درپیش مسائل کا ادراک نہ کیا اور ان کے تدارک کے لیے بر وقت مناسب اقدامات نہ اُٹھائے تو عین ممکن ہے کہ یہ زمین اور بیشتر مخلوقات موجود رہیں گی مگر انسان کی”داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں“۔
حوالہ جات
15۔کرسٹوفر مینز،محولہ بالا5،ص63
16۔ڈاکٹر ناصر عباس نیر،ماحولیاتی تنقید:انتظار حسین کے افسانوں کے تناظر میں مطبوعہ ششماہی لوح،اسلام آباد: جنوری تا جون 2018،ص 279
17۔ارون دھتی رائے،لا محدود انصاف کا الجبرا(مترجم:شفیق الرحمٰن میاں)،لاہور:وین گارڈ بکس،2009،ص66
18۔انتظار حسین،میرے اور کہانی کے بیچ مشمولہ زمین کا نوحہ(مرتبہ:ضمیر نیازی)،کراچی:شہر زاد،2001(طبع دوم)،ص 252
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

