ابتدا سے لے کر اب تک اردو افسانے کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ اردومختصر افسانے نے بے شمار رنگ بدلے ۔سجاد حیدر یلدرم ،نیاز فتحپوری ،مجنوں گورکھپوری کی رومانیت پسندی کے بعد پریم چند کے ذریعہ قائم ہونے والی روایت نے اردو افسانے کو ارتقا کے منازل سے گزارااور اردو افسانے کے منظر نامے پر کرشن چند ،منٹو،بیدی،عصمت اور احمد ندیم قاسمی وغیرہ جیسے فنکاروں کا ظہور ہوا جن کی تحریروں کے فیض سے اردو افسانے کو عروج حاصل ہوا۔جب تقسیم ہند کے المیہ نے دونوں ملکوں کے ادیبوں کو منتشر کر دیا تواسی کشمکش اور افرا تفری نے کچھ عرصے کے بعد جدیدیت کو ایک غالب رجحان کی شکل میں فروغ دیا ۔لیکن جلد ہی جدید افسانوں کے ابہام اور خشک بیانیے سے قاری اکتا نے لگا اور ایک قسم کا خلا پیدا ہو گیا ۔
۱۹۸۰ کے بعد جو نسل سامنے آئی اس نے ترقی پسندی اور جدیدیت کے مثبت پہلووں سے استفادہ کر کے افسانہ نگاری کی ایک صحت مند روایت قائم کی اور جدید دور کے مسائل کو زیادہ سے زیادہ جذب کرنے کی کوشش کی ۔مثلاًسائنس اور ٹکنالوجی کی پیدا کی ہوئی سہولیات کے مضر اثرات ،انٹر نیٹ کی پھیلائی ہوئی افراتفری ،دہشت گردی ،فرقہ پرستی ،مذہبی انتہا پسندی جیسے عام موضوعات کو افسانے کے قالب میں ڈھال کر موثر پیرائے میں پیش کیا۔جس میں افسانہ نگار کے غم و غصہ کے اظہار کے بجائے سچویشن کی زیریں لہریں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں،جس میں کہانی پن ،کردار،اور قابل فہم زبان و بیان کے ساتھ ساتھ نقطہ نظر بھی موجود ہے۔اردو افسانے کی تنقید میں ’’مابعد جدید افسانہ ‘‘کا ذکر بڑی شدت سے کیا جارہا ہے ،اس سلسلے میں’’ ادب کا بدلتا منظر نامہ‘‘(مرتب گوپی چند نارنگ ) میںشامل سید محمد اشرف،شوکت حیات ،طارق چھتاری کے مضامین قابل ذکر ہیں۔دلچسپ بات یہ کہ یہ مضامین خود تخلیق کاروں کے بیان پر مشتمل ہیں لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے مابعد جدید افسانے کی بحث کو سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ:۔
کیا جو افسانے جدیدیت کے بعد لکھے گئے وہی در اصل ما بعد جدید ہیں؟
یا پھر مابعد جدید افسانے کے کچھ فنی اور لسانی خصوصیات ہیں ؟
جدیدت کے بعد لکھنے والوں میں باعتبار موضوع او ر مواد وہ افسانہ نگار کون کون ہیں جن کی تحریریں مابعد جدید اصطلاح پر پوری اترتی ہیں؟ (یہ بھی پڑھیں میر واہ کی مضطرب راتوں کا اسرار – ڈاکٹر شہناز رحمن)
مابعد جدیدافسانوں پر گفتگو کرتے ہوئے سب سے پہلے اس غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی کہ جدیدیت کے بعد لکھا جانے والا ہر افسانہ مابعد جدید ہے ،بلکہ جن افسانوں میں اسلوبیاتی سطح پر زبان سلجھی ہوئی ہو،قاری اور متن کے مابین افہام و تفہیم کا سلسلہ ہو،نہ کہ محض مہملیت کا احساس ،افسانہ میں کہانی پن کے عنصر کی بازیافت پر اصرار اور افسانہ کی اپنی فکری بساط ہو، کسی بھی نظریہ کی پابندی اور جبر سے آزاد ہو۔اور جہاں تک موادکی بات ہے تو افسانہ میں موجودہ مسائل اور پیچیدگیوں ،مقامی رسوم واقدارکوزیر بحث لانے کی کوشش کی گئی ہو۔ شوکت حیات کے لفظوں میں ما بعد جدید افسانہ کی تعریف ملاحظہ ہو۔
’’مابعد جدید افسانہ وہ تخلیقی صنف ہے جس میں بیک وقت فکر ،استدلال ،لاشعور، تحت الشعور ،شعور ،ڈلبریشن ،واردات ،تکنیک ،ہیئت ،اسلوب ،ادراک ،وژن رچے بسے اور گھلے ملے ہوتے ہیں ۔غالباً اسی لیے تمام تخلیقی اصناف میں اس صنف کا آج کی زندگی اور لا زوال زندگی کے تناظر میں بیش قیمت رول اورا ہمیت تسلیم کرناپڑتی ہے۔‘‘۱؎
مابعد جدید افسانہ کی خصوصیات پر یوں تو بہت سی تحریریں موجود ہیں مگر تجزیاتی انداز میں افسانوں پر پورے اصولوں کے ساتھ اس طرز کی تحریریں بمشکل ہی ملتی ہیںجس طرح جدید افسانوں کے علٰحیدہ علٰحیدہ تجزیے ’’نیا اردو افسانہ :انتخاب ،تجزیے اور مباحث(مرتب :گوپی چند نارنگ)میں جمع کیے گئے تھے۔طارق چھتاری نے اپنے مضمون میں بڑی حد تک اس کمی کو پر کرنے کی کوشش کی ہے ،انھوں نے ترقی پسند اور جدید افسانے کا تجزیہ کر کے ان کی فنی خصوصیات کا جائزہ لیتے ہوئے مابعد جدید افسانہ کی داخلی صورت کو سمجھنے اور اس کی شناخت متعین کرنے کی کوشش کی ہے اس ضمن میں وہ ساجد رشید کے افسانہ ’’ ملزم ‘‘سے اقتباس نقل کر کے چند لفظوں کے ذریعے پیش کی گئی مکمل جزئیات نگاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مابعد جدید افسانے کے تفہیم کی ایک صورت یہ بتائی کہ:۔
’’مابعد جدید افسانے میں موجودگی سے زیادہ غیاب کی اہمیت ہے کیوں کہ غیاب ہی وہ خلا ہے جسے پر کرتے وقت قاری فتح کا احساس کرتا ہے اور کہانی میں پوری طرحinvolveہو جاتا ہے ۔‘‘۲؎
مندرجہ بالا مباحث کی روشنی میں ہم عصر افسانے کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ مابعد جدید افسانے کی نکھری ہوئی صورت ساجد رشید،انور خاں،علی امام نقوی ،نیر مسعود،سلام بن رزاق،شموئل احمد ،شوکت حیات،طارق چھتاری، عبدالصمد، مظہر الزماں خاں،وغیرہ کے یہاں موجود ہیں شموئل احمد کے افسانے القمبوس کی گردن،’’ بہرام کا گھر وغیرہ کو موضوع ،کہانی پن ،اور جزئیات کے اعتبار سے ما بعد جدید کے نمائندہ افسانوں میں شمار کیا جا سکتا ہے ۔شموئل احمد کے افسانوں میں بیانیہ کی واپسی کے ساتھ ساتھ موجودہ سیاسی نظام کی پراگندگی،معاشرتی زندگی کے تضاد اور ناہمواریوں کو دیکھا جا سکتا ہے،ان کی بعض کہانیا ں جنسی موضوعات پر بھی ہیں جن میں انسانی طبیعت کی پیچیدگی کے اہم گوشوں کو اجاگر کیا گیا ہے ۔ اس ضمن میں افسانہ’’برف میں آگ ‘‘سے ایک اقتباس ملاحظہ ہوـ:۔
’’سلیمان کو اپنی بیوی کسی جزدان میں لپیٹے کسی صحیفے کی طرح لگتی تھی ،جسے ہاتھ لگاتے وقت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے ۔اس کی شادی کو دس سال ہو گئے تھے لیکن اب بھی وہ سلیمان سے بہت کھلی نہیں تھی۔‘‘۳؎
افسانے سے مقتبس ابتدائی سطریں قاری کو تجسس میں ڈال دیتی ہیں کہ آخر کیا وجہ تھی کہ دس سال کا طویل عرصہ ایک ساتھ گزارنے کے بعد بھی سلیما ن اور اس کی بیوی کے مابین بے تکلفی نہیں ہوئی تھی۔اس افسانہ میں کہانی پن ، پلاٹ کی تعمیر و ترتیب ،تاثراتی ارتکاز،وحدت زمان ومکان اور کرداروں کی پیشکش کے اعتبار سے افسانے کی صنفی خصوصییتیں بحال ہوتی نظر آتی ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں شہناز رحمن کا ’’نیرنگ جنوں‘‘ – پروفیسرقدوس جاوید)
اسی طرح طارق چھتاری نے’’ شیشے کی کرچیں‘’’گلوب ‘‘میں جدید افسانوں کے اسٹائل کواپنا کر ایک نئے انداز میں کہانی پیش کی ہے ۔انھوں نے اپنی کتاب میں لکھاہے کہ جدید افسانہ نگاروں نے سوالیہ نشان ،کامہ ،فل اسٹاپ وغیرہ کے ذریعہ ان کہی باتوں کو واضح کرنے کی کوشش کی ۔چنانچہ ان کے افسانوں میں بھی جملوں کو ادھورا چھوڑ دینے ،اشاروں اور علامتوں کے ذریعہ بات کہنے کا عمل دخل موجود ہے ۔جس کی وضاحت کے لیے شافع قدوائی نے ’’طارق چھتاری کے افسانوں میں ثقافتی عر صہ کی تشکیل ‘‘کے عنوان سے مضمون رقم کیا ہے ۔مذکورہ بالا ناموں میں اور بھی اضافے کیے جاسکتے ہیں جن کے افسانوں کے تعبیر و تجزیہ کا سلسلہ جاری ہے۔لیکن بعض افسانہ نگار ایسے بھی ہیں جو افسانے کی ہیئت میں سنجیدگی سے تجربے کر رہے ہیں اور گراں قدرتخلیقات سے ادب کے ذخیرے میں اضافہ کر رہے ہیں لیکن ابھی تک نقادوں کی توجہ ان کی طرف نہیں گئی کیوں کہ صارفیت کے اس دور میں تنقید بھی ذاتی تعلق کا شکار ہونے لگی ہے اور نقاد جذباتی لگاو کی خاطر غیر واجب قرض چکانے کی طرف گامزن ہے ۔بہر حال محمد حامد سراج اردو فکشن کا ایک ایسا نام ہے جن کے تین افسانوی مجموعے (وقت کی فصیل ،برائے فروخت ،چوب دار )شائع ہو کر قارئین میں مقبول ہو چکے ہیں۔محمد حامد سراج نے ۹۰ کی دہائی سے لکھنا شروع کیا ان کے افسانوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سارے واقعات اور کردار ارد گرد کی زندگیوں سے مستعار لے کر اپنے تخلیقی ذہن سے انھیں افسانے کی زبان دے دی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں سماجی عوامل سے آنکھیں چار کرنے کے ساتھ فرد کی تنہائی اور اس کے درد کا بیان بھی موجود ہے جومابعد جدید افسانہ کی بنیادی شناختوں میں سے ایک ہے ۔ان کے افسانہ کے موضوعات میں عالمی سطح پر پھیلی ہوئی بد امنی ،بے چینی ،انتشار ،جارحیت ،الیکٹرانک میڈیا کایلغار ،گلوبلائزیشن اور سائنسی معلومات وغیرہ غالب پہلوہیں۔خالد قیوم تنولی نے اپنے مضمون ’’محمدحامد سراج:درد کا ہمدرد قصہ گو ‘‘میں ان کے موضوعات کے دائرہ کار کوبڑے ہی اختصار و جامعیت کے ساتھ بیان کر نے کی کوشش کی ہے ۔اقتباس ملاحظہ ہو۔
’’محمد حامد سراج کے فنی محاسن ان کی تصنیفات میں جا بجا دکھائی دیتے ہیں اور ہر ایک پر جدا جدا مضمون لکھا جا سکتا ہے ۔یہ خوبیاں ہیں :ذو لسانیت کی مدد سے تخلیقی اثر آفرینی ،کرداروں کی خانگی اور سماجی زیست کا پر اثر نقشہ ،دیہی اور شہری معاشرت کے تضادات ،ذہنی اور کرداری حرکیات کا اظہار ،چرند پرند ،نباتات ،جمادات اور حیوانوں کی بے زبانی کو زبان دینا،تصوف روحانیت اور سائنسی موضوعات کے درمیان سے نہایت مشاقی سے گزرنے کا وطیرہ ،داستانوی تحیر ،عالم سیاسات پر موثر طنز ،لطیف جنسی نفسیات کی گتھیوں کو سلجھانا،اسلوبیاتی ارتقا سے واقفیت اور ساتھ ساتھ اردو افسانے کو رومانویت کے جمال سے مالا مال کرنا ،دیانت دارانہ دلچسپی سے کیے گئے مطالعے کے بعد قاری ان محاسن سے لاعلم نہیں رہ سکتا۔ ‘‘۴؎ (یہ بھی پڑھیں شوکت صدیقی کے ناول ــــــــ’’کمین گاہ ‘‘کا فنی جائزہ – ڈاکٹر شہناز رحمن )
خالد قیوم کے اس رائے کی صداقت کا اندازہ افسانہ ’’زمین زاد ‘‘کے مطالعہ سے ہوتا ہے ،یہ افسانہ مصنف کے سائنسی اور مذہبی شعور کا نادر نمونہ پیش کرتا ہے۔اس ا فسانہ میں میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ سائنسدانوں نے اگر چہ سیاروں تک کو مسخر کر لیا مگرزمین کے علاوہ کہیں سکون رنگا رنگی اور زندگی کی رمق موجود نہیں ہے۔اسے مندرجہ ذیل اقتباس کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے جب افسانے کے کردارباہم گفتگو کے دوران زمین کی مختلف خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
’’وہی کرہ ارض اچھا تھا۔۔۔ہوا ،پانی ،بادل ،انسان ،جانور ،محبتیں ،نفرتیں،جھگڑے ،خوشیاں ،رونقیں میلے بہاریں ۔۔۔یہ جو اس بسیط و عریض کائنات میں اربوں کہکشائیں بکھری ہیں ہم ان کو اپنی مختصر عمر کے ساتھ ستر سال کے پیمانے میں نہیں کھوج سکتے ۔۔۔ناممکن ۔۔ہمیں بس زمین پر ہی رہنا چاہیے ۔۵؎
اسی طرح افسانہ’’ گلوبل ولیج ‘‘ جدید سائنس اور ٹکنالوجی کے غلط استعمال پرایک لطیف طنز ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو خیر کے کاموں کے لیے بروئے کار لانے کے بجائے تباہی و بربادی کے لیے استعمال کر رہا ہے ۔اس مسئلہ کوافسانہ نگار نے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر گرائے گئے بم سے پیدا ہونے والی افراتفری کے پس منظر میں پیش کیا ہے ۔ایک ماں اپنے بچے کی بہتر پرورش وپرداخت اس امید پر کرتی ہے کہ وہ بڑا ہو کر قوت بینائی کی نعمت سے محروم افراد کے لیے مشعل راہ ثابت ہو گا ۔مگر سن بلوغت کو پہنچنے کے بعد جب وہ دنیا کو شعور کی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو پوری دنیا ویران نظر آتی ہے لہٰذا وہ گرم سلائیاں آنکھوں میں پھیر لینے پر مجبور ہو جاتا ہے ۔افسانے کا اختتام مایوس کن صورت حال پر ہوتا ہے ۔چند سطریں ملاحظہ ہوں:۔
زمین پر بڑے بڑے ہولناک گڑھے اس بات کا ثبوت تھے کہ پورا کرہ ارض ایٹمی جنگ کی لپیٹ میں رہا ہے ۔اسے کہیں کسی آبادی کا نشان نہ ملا ۔ہولناک سناٹا تھا۔وہ سوچتا رہا یہ کیا ہے ۔۔؟خوف کے رتھ پر سوار جب اس نے پورے کرہ ارض کا چکر مکمل کر لیا تو سوچنے لگا ۔۔۔
یہ سب وہ ہے جو ہمارے آباو اجداد نے ہمارے لیے کاشت کیا ۔
اسے بس ایک جگہ ایسی مخلوق نظر آئی جسے انسان نہیں کہا جاسکتا تھاوہ تھور اور کانٹے دار جھاڑیاں کھا رہے تھے ۔
وہ ان کے پاس پہنچا اور پوچھا۔
تم کون لوگ ہو۔۔۔؟
ہم اس کرہ ارض پر بسنے والی انسانی مخلوق کی آخری باقیات میں سے ہیں اور وہ کاٹ اور کھا رہے ہیں جو ہمارے آ باو اجداد نے کاشت کیا۔
وہ الٹے پاوں ہانپتا کانپتاسفر کی صعوبتیں جھیلتا بستی میں پہنچا۔بستی کے لوگ اکٹھے ہو گئے ۔
کوئی خبر ۔۔؟ان کے بے نور چہروں پر سوال تنے تھے ۔
خبر ہے ۔۔۔!
کیا۔۔۔؟
میں نے اپنی آنکھوں میں گرم سلائی پھیر لی۔۔۔۔!‘‘۶؎
حامد سراج کے افسانے تجریدیت اور ابہام کی فیشن زدگی سے پاک ہیں اس لیے ادب کے سنجیدہ قارئین نے ان کی تحریروں کا پر تپاک خیر مقدم کرتے ہوئے مثبت رائیں دی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانے "صریر ” "فنون "، "تسطیر "، "حریم ادب "، "جدیدادب "، "ادبیات "، "بادبان "، "آئندہ "، "سمبل "، "تجدید نو "، "روشنائی ” اور دیگر متعدد جرائد میں شائع ہوئے۔ اس کے علاوہ ہندوستان سے شائع ہونے والے ادبی رسائل "شعرو حکمت ” (مدیر ۔ڈاکٹر مغنی تبسم) اور "شاعر ” (مدیر ۔افتخار امام صدیقی) وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں آخری سواریاں:ایک مطالعہ – ڈاکٹر شہناز رحمن)
حامد سراج کے افسانوں میں کردار نگاری سے زیادہ سچویشن کی طرف توجہ ملتی ہے ۔اگر عمیق نظری سے مابعد جدید افسانوں کا جائزہ لیا جائے تو بیشتر افسانے ایسے ملیں گے جن میں کرداروں کے اعمال سے زیادہ گرد وپیش کے احوال کا تجزیہ ملتا ہے ،لیکن اس عہد کے دوسرے افسانہ نگاروں اور حامد سراج کے افسانوں کی اس یکسانیت کو تقلید یا بھیڑ چال کا نام نہیں دے سکتے بلکہ وقت اور حالات کے تقاضوں نے اس طرح کی ادب پاروں کو فروغ دیا ہے ۔لیکن ایسا نہیں کہ ان تقاضوں کے سامنے افسانہ مکالمہ سے عاری ہو کر قاری کے لیے چیستاں بن جائے ۔جیسا کہ حامدسراج کے افسانے ’’گھڑی ،سمت اور سوئیاں ‘‘کے مطالعے اور تجزیے سے سمجھاجا سکتا ہے ۔اس افسانے میں وقت کے نشیب و فراز اور سرعت کو واضح کرنے کے لیے افسانہ نگار نے چیزوں (گھڑی کی سوئیاں،سائیکل اور گاڑی کے پہییے ،سونے اور جاگنے کے اوقات متعینہ )کو الٹا چلتے ہوئے دکھایا ہے۔ اس سچویشن کو گرفت میں لینے کے لیے آزاد تلازمہ کا سہارا لیا ہے اور افسانے کا راوی واحد حاضر ہے جس کے نمونے اردو افسانے میں بہت کم ملتے ہیں کیوں کہ واحد غائب اور متکلم کے مقابلے حاضر کے صیغہ میں لکھنا اور اس کو بخوبی نبھا لینا مشکل امر ہے۔حامد سراج ترقی پسندوں اور جدیدیوں کی طرح موضوع و مواد یا فارم و تکنیک میں سے کسی ایک کی برتری قبول نہیں کرتے بلکہ بقد ر ضرورت دونوں کے اتحاد سے افسانے کا تانا بانا تیار کرتے ہیں ۔جس کی بہترین مثال’’ گھڑی، سمت اور سوئیاں‘‘میں پیش کردہ موضوع اور برتی گئی تکنیک سے ملتی ہے ۔ ایک فرد کے ذاتی مشاہدہ کے ذریعہ موجودہ معاشرے کی لا مرکزیت کی تصویر قاری کے سامنے پیش کی گئی ہے جس میں اشکال کی گنجائش نہیں ،چیزوں کا الٹا چلنا اگر چہ سامنے کا استعارہ ہے کہ ہر چیز کا بنا بنایا تصور بے معنی ہو رہا ہے ۔مگر اس استعارہ میں سطحی عمومیت نہیں ہے بلکہ موقع محل کی مناسبت نے استعارہ اور واقعہ کو ہم آہنگ کر کے با معنی بنا دیا ہے ۔
حامد سراج چونکہ کرداروں کی تعمیر پر اتنی توجہ صرف نہیں کرتے اسی لیے بعض افسانوں میں کچھ لغزشیں سرزد ہو گئیں ہیں ،کرداروں کی شخصیت ،ان کے علم و فضل ،سماجی و خاندانی پس منظر کے مطابق مکالمے اداکراناکردار نگاری کی بنیادی شرط ہے ۔لیکن بعض جگہوں پر حامد سراج وفور جذبات میں اس اصول سے تجاوز کر گئے ہیں مثال کے طور پر افسانہ ’’عادت ہی بنا لی ہے ‘‘کا واحد متکلم راوی پاکستان کا شہری ہے اور تلاش معاش کے لیے کویت کی گلیوں میں در بدر پھر رہا ہے ۔کسی دوکان سے پاکستانی موسیقی کی آواز راوی کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ،چنانچہ کیسیٹ کی خرید وفروخت کے دوران لبنانی لڑکی فاطمہ کے جاذب نظر چہرے اور شہد آمیز باتوں سے راوی اس کااسیر ہو جاتا ہے ۔ان دونوں کے درمیان ہونے والے مکالمے میں راوی کا فصیح اللسان ہونا عقل کی منطق پر پورا اترتا ہے کیوں کہ اس کا تعلق اہل زبان کی سرزمین پاکستان سے ہے ۔لیکن فاطمہ کے بیان پر مصنف کے اسلوب کی پر چھائیں صاف نظر آتی ہے کیوں کہ چند سطر پہلے راوی نے اس بات سے باخبر کیا تھا کہ فاطمہ اردو ٹھیک طرح نہیں بول سکتی تھی ۔اور کچھ دیر بعد اس انداز گفتگو کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے:۔
’’یہ ہمیشہ تمہیں میری یاد دلاتا رہے گا ۔یہ میں نے بڑی محنت اور محبت سے تمہارے لیے ریکارڈ کی ہیں ۔مجھے خبر نہیں محبت کیا ہوتی ہے لیکن اجنبی تمہیں میں نے اپنے دل کے قریب محسوس کیا ہے ۔اگر رات گئے اچانک آنکھ کھلنے پر کسی کی یاد بے ساختہ کا نام محبت ہے تو میں کہہ سکتی ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے ۔اگر روشنیوں کے شہر میں انسانوں کے درمیان گزرتے ہوئے اچانک چونک چونک جانے کا نام محبت ہے تو مجھے تم سے محبت ہے ۔اجنبی کسی کی یاد میں آنکھیں موتی پرونے لگیںاور ہتھیلیاں سلگنے لگیں تو اسے کیا کہتے ہیں ۔میں نے تمہیں ہر لمحہ محسوس کیا ہے ۔شاید اجنبی تم اپنے پاکستان جاکر مجھے بھول جاو ۔۔۔۔وہ شدت جذبات میں سب کچھ کہہ گئی۔۔‘‘۷؎
مندرجہ بالااقتباس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے ایسی صاف و شفاف زبان ایک اہل زبان ہی ادا کر سکتا ہے ۔اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس افسانے میں تکذیب بیان کا عنصر موجود ہے ۔لیکن صورت حال کی نزاکت سے راوی کی سحر بیانی قاری کو اس طرح گرفت میں لی لیتی ہے کہ اس خامی کا اندازہ نہیں ہو پاتا۔ اس کے علاوہ دوسرے افسانوں میں بھی زبان اور سچویشن پر حامد سراج کی مضبوط گرفت کو دیکھا جا سکتا ہے ،جو قاری کی توجہ کشید کرنے کے ساتھ ساتھ تاثر کو بھی دوبالا کر دیتا ہے۔جیسا کہ وارث علوی نے اپنے ایک مضمون میں افسانے میں صورت حال کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے لکھا ہے کہـ:۔
’’تاثر زبان کے زور پر نہیں بلکہ صورت حال کے بیان کے ذریعہ پیدا ہوتا ہے اور زبان صورت حال کے المیہ اور طربیہ طنزیہ اور مزاحیہ،ہولناک اور مضحکہ خیز پہلووں کی جب گرفت کرتی ہے تو بڑے نشیب وفراز سے گزرتی ہے آہنگ کا زیر وبم پیدا ہوتا ہے اور حقیقت نگاری کی صلابت ،Irony کی کاٹ افسردہ نغمگی اورالمناک ظرافت کا فشار زبان کو ایک تخیلی تجربہ میں بدل دیتا ہے ۔‘‘ ۸؎
بیانیہ اور description پر حامد سراج کی مضبوط گرفت کا ااندازہ ان کے افسانے ’’لرزیدہ لمحوں کا تاوان‘ ‘ ’’ برائے فروخت ‘‘ ’’شور بہت کر تا تھا ‘‘اور ’’اندر ‘‘کے مطالعہ سے سامنے آتا ہے۔افسانہ ’’اندر ‘‘کے مرکزی کردار کی وہمی کیفیت خالدہ حسین کے افسانے ’’ہزار پایہ کے کردار سے ملتی جلتی نظر آتی ہے ۔لیکن اس کردار کے میں زمانے کے اتار چڑھائو کو سمجھنے اور طنز کرنے کی صلاحیت بہت مضبوط ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ زبان و بیا ن اور حالات کی نزاکت کے موافق مکالموں نے اس افسانہ کو کامیاب بنانے میں تعاون کیا ہے ۔اگر مصنف نے ذرا بھی کوتاہی کی ہوتی تو ایسا محسوس ہونے لگتا ہے کہ اس نے اپنے تلخ جذبات کے اظہار کے ایک کردار وضع کر لیا ہے اور غیر ضروری طور پر مداخلت کر رہا ہے ۔لیکن یہ افسانہ اس طرح کی تمام خامیوں سے مبرا ہے ۔جب مرکزی کردار ’’وہ ‘‘ کی بیوی اپنے شوہر کو نفسیاتی مریض سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس لے جاتی ہے اس وقت جو حکیمانہ باتیں کرتا ہے اس میں بلا کا طنز اور کڑواہٹ ہوتی ہے :
’’ڈاکٹر۔۔ گھنٹی دینے کی غلطی نہ کرنا ترپن سال سے تم لوگ گھنٹیاں تو دے رہے ہو ۔۔اور کیا ہی کیا ہے تم لوگوں نے ۔۔؟میری بات سن میں پاگل نہیں ہوں میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ،مجھ سے مت ڈر ۔۔ڈاکٹر نے سیٹ سے اٹھنے کی کوشش کی تو اس نے گرج کر کہا ۔۔غلام زادے بیٹھ جائو ۔۔ڈاکٹر سہم کر بیٹھ گیا ۔
دیکھو ڈاکٹر ۔۔تو کلو نیل عہد کی باقیا ت میں سے ہے ۔بیٹھ اور میری بات غور سے سن ۔۔تو جانتا ہے میں نے یہ نسخہ کیوں پھاڑا ہے ۔اس لیے یہ انگریزی میں لکھا گیا تھا ۔۔۔۔تم نسخہ اردو زبا ن میں لکھو ۔اسے سرکاری زبان کا درجہ ملے نہ ملے ،ہمیں اس سے محبت کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا ۔ڈاکٹر نے دوبارہ کاغذ قلم سنبھالا اور نسخہ لکھا ۔
دیکھ ڈاکٹر ۔۔۔ایسی دوا مت لکھنا جس میں نیند کا اثر ہو ۔۔
ہم ترپن سال سے سو رہے ہیں نصف صدی ۔۔پوری نصف صدی ۔۔اب صدی کی تکمیل کی طرف سفر جاری ہے ہم سے اور نہیں سویا جاتا ،ہم جاگنا چاہتے ۔(اندر ۔ص: ۱۵۳)
اسی طرح برائے فروخت میں موجودہ دور میں ادبی تخلیقات کی بے وقعتی اور ذاتی مفاد کے مضمرات پر گہرا طنز کیا گیا ہے ۔ ان افسانوں میں صورت حال اور واقعہ ایک دوسرے کے لازم ملزوم معلوم ہوتے ہیں ،ما بعد جدید افسانے میں کہانی پن کی واپسی کے بڑے چر چے ہوئے مگر اس کا انداز ابتدائی دور کے افسانوں کی طرح کہانی کے آغاز،نقطہ عروج اور اختتام والی تکنیک کو نہیں برتا گیا ہے بلکہ سابقہ مفروضات سے گریز کر کے قاری کے ذوق مطالعہ اور توقعات کے مطابق کہانی پن کو دوبارہ واپس لایا گیا ۔لہٰذا نئی نسل کے جدت طبع کا ہی نتیجہ ہے کہ حامد سراج کے ہر افسانے میں سچویشن کی تبدیلی سے ایک نئی کہانی وجود میں آجاتی ہے جیسا کہ ’’عادت ہی بنا لی ہے ‘‘میں افسانے کا بنیادی محرک بے روزگاری ہے لیکن چندسطروں کے بعد دوسرا مسئلہ سامنے آجاتا ہے ،قاری کے ذہن میں بنیادی نقطے کے ساتھ فاطمہ کا واحد متکلم راوی سے جدا ہو جانا افسانے کے غالب پہلو کی صورت میں نقش ہو جاتا ہے ۔
اسی لیے شمس الرحمٰن فاروقی نے افسانے کے فنی خدوخال میں تبدیلی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ :۔
’’آج کا فن کار جدیدیوں کے مقابلے بعض چیزوں پر زیادہ زور دیتا ہے بعض چیزوں پر کم ۔۔۔جن چیزوں میں آج کا فن کار جدید یوں سے ذرا مختلف معلوم ہوتا ہے ان میں ایک تو یہ ہے کہ جدید یوں کو تجربے کا شوق زیادہ تھا اور اسی اعتبار سے ابہام کو وہ لوگ بالارادہ بھی اختیا ر کر لیتے تھے ۔آج کا فن کار تجربے کی طرف اتنا راغب نہیں ہے اور ابہا م کو وہ ارادی طور پر اختیا ر نہیں کرتا ۔اگر چہ ترقی پسندوں جیسی وضاحت اور دو اور چار والی منطق کو بھی مسترد کرتا ہے ۔‘‘۹؎
حامد سراج کے افسانوں میں زبان وبیان کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ ان کے افسانے کا راوی داخلی جذبات کی عکاسی کرتے ہوئے اپنی مدعا کو استعاروں کے اوٹ میں رکھتا ہے جس سے قاری کے اندر ارتعاش ،جنبش اور زندگی جینے کی تمنا جاگ اٹھتی ہے ۔اور زندگی سے درد مندی کا رویہ صاف واضح ہو جاتا ہے ۔یعنی یہ کہ انسانی ہمدردی ان کے افسانے کا خاصہ ہیں۔ان کے اسلوب کی دوسری خصوصیت جگہ جگہ ضرب الامثال یا مشہور جملوں کا استعمال،کرداروں کی زبان سے کسی شاعر کی نظم یا کسی شعر کا کوئی ٹکڑا،بعض جگہوں پر آیات قرانی اور مذہبی قصوں کے حوالے وغیرہ ملتے ہیں ۔مثلا ً افسانہ ’’زمین زاد‘‘ کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مصنف نے قرآن کریم کی آیت کریمہ’’لقد خلقنا الانسان فی احسن تقویم ‘‘(ہم نے انسان کو بہترین زمانے میں پیدا کیا ) سے متائثر ہو یہ افسانہ تحریر کیا ہے ۔افسانہ میں ایک جگہ اس جملے کابھی ذکر ہے ۔جس کا ذکر عہد نامہ عتیق کے مقد س کتابوں میں ہوتا رہا ہے :
’’واقعی انسان اس کائنا ت کی بہترین Creationہے‘‘ (زمین زاد۔ص :۸۷)
اس افسانے میں سائنسدانوں کے فیصلے سے ایک جوڑے کو مریخ کے سفر پر بھیجا جاتا ہے تاکہ وہاں کے حا ل احوال اور زندگی بسر کرنے کے امکانا ت کی جستجو کر کے باخبر کریں ۔مریخ پر پہنچنے کے بعد انھیں اس با ت کا ادراک ہوتا ہے کہ :
’’ انہیں یقین ہو گیا کہ کوئی ایک ہستی ہے جس نے کرہ ارض پر بلا تفریق ،رنگ و نسل و مذہب انسانوں سے لے کر چرند ،پرند ،حیوان حشرات الارض بلکہ ہر ذی روح کی زندگی جینے کا پورا پورا سامان کیا ۔زمین سب کے لیے ۔۔۔سورج ،چاند ،ستارے ،پانی ،ہوا ۔۔۔اور بارشوں پر سب کا برابر حق ۔۔۔سب بلا معاوضہ مستفیض ہوتے ہیں ۔وہ واقعی رب العالمین ہے ۔۔(زمین زاد ۔ص ۸۸)
اس ضمن میں’’ گلوبل ولیج ‘‘ ’’نقش گر‘‘ ’’مرصع آئینے ‘‘ ’’لوٹایا ہوا سوال ‘‘ قابل ذکر ہیں۔افسانہ نگار کی ایک خوبی یہ ہے کہ افسانہ نگاری کی روایت کو جذب کرنے اور ہر نسل کے بہترین تجربوں سے کسب فیض اٹھانے کی کوشش کی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ڈنگ ،اوریگان،وغیرہ کے کردار اپنے زمینی ،تہذیبی اور ثقافتی جڑوں سے ذہنی اورجذباتی طور پر وابستہ نظرآتے ہیں۔
مابعد جدید افسانہ نگارکی ایک خصوصیت یہ بھی ہے وہ افسانے کی تاریخ ،روایت و تسلسل سے شعوری یا لاشعوری طور پر وابستہ رہنا چاہتا ہے چنانچہ حامد سراج کے یہاں بھی یہ کوشش موجود ہے ۔لیکن اس سفر میں ان کا قلم لغزش کا شکار نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کا کوئی افسانہ کسی مخصوص نظریہ کا تابع ہوتا ہے بلکہ نہایت ہی فنکاری سے وہ افسانے کی رومان انگیز فضا کو اپنے قابو میں کر لیتے ہیں جس کے ڈانڈے عہد حاضر کے اتفاقات سے آملتے ہیں۔ ’’اکتوبر کے آخری دن‘‘’’نصف مکمل‘‘وغیرہ قابل ذکر افسانے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں انجانی تشنگی -ڈاکٹر شہناز رحمن)
خلاصہ بحث یہ کہ موجودہ عہد کے افسانوں کا مطالعہ و تجزیہ کرتے ہوئے کچھ خامیوں کے باوجود مثبت نتائج سامنے آتے ہیں جس کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ افسانہ نگا ر تمام نظریاتی بندشوں کو توڑ کر کھلی فضا میں طبع آزمائی کر رہا ہے ۔ جس میں حامد سراج ایک اہم نام ہے جن کے افسانے احساس کی شدت ،بیان کی سادگی و ندرت اورتجربات و مشاہدات کی گہرائی و گیرائی کے منفرد نمونے ہیں ۔اور کائنات کے اس وسیع و عریض طلسم کدے کی ہر معمولی و حیرت افزا سچائی کو افسانہ کی ہیئت میں ڈھال کر شاہکار بناے کا ہنر انھیں خوب آتا ہے ۔’’میا‘‘(اگر چہ یہ خاکہ ہے مگر انداز افسانوی ہے )اس کی بہترین مثال ہے ۔ان کا تخلیقی عمل سماجی، سیاسی ،نفسیاتی اور سائنسی غرض کہ ہر سطح پر روشن ہے مگر وہ کسی بھی پہلو کو اپنا ازم نہیں بناتے اور یہ کشادگی افسا نے کے لیے یقیناً خوشگوار ہے۔
حواشی وحوالے
۱؎ما بعد جدید افسانہ ،شوکت حیات،مشمولہ ادب کا بدلتا منظر نامہ مرتب گوپی چند نارنگ،اردو اکادمی دہلی ۲۰۱۱،ص۳۲۱۔
۲؎ص،۳۲۹
۔ایضاً
۳؎ اردو کی نفسیاتی کہانیاں،شموئل احمد،ارم پبلشنگ ہاوس،دہلی ۲۰۱۵،ص:۱۵۹
۴؎مجموعہ حامد سراج ،ص:۱۰
۵؎مجموعہ حامد سراج ،سنگ میل پبلیکیشنز لاہور ،۲۰۱۳،ص:۸۸
۶؎ص:۶۴۔ایضاً
۷؎مجموعہ برائے فروخت ،محمد حامد سراج ،ص:۲۰
۸؎ بت خانہ چین۔وارث علوی ،ص:۱۳۹
۹؎جدیدیت آج کے تناظر میں،شمس الر حمٰن فاروقی ،شب خون ،ص۱۷۶
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

