Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

آخری سواریاں:ایک مطالعہ – ڈاکٹر شہناز رحمن

by adbimiras دسمبر 14, 2020
by adbimiras دسمبر 14, 2020 0 comment

اکیسویں صدی کی پہلی دہائی میں شمس الرحمن فاروقی کے ناول ’’کئی چاند تھے سر آسماں‘‘کی اشاعت کے بعد ادبی حلقوں میں تہلکہ مچ گیاتھا۔بعض لوگو ں نے اپنی علمیت کے زعم میں اسے ناول تسلیم کرنے سے انکار کر دیا لیکن اس ناول کی ادبیت ،عہد وسطی میں ہند اسلامی تہذیب کی عکاسی، معاشرتی مرقع کشی ،زبان کے برتاؤ ،زمان و مکان پر مضبوط گرفت اور دوسری فنی نزاکتوں نے سنجیدہ قارئین کے ایک بڑے حلقہ کو اپنی طرف متوجہ کر لیا ۔اپنی مقبولیت کی وجہ سے یہ ناول رفتہ رفتہ فکشن نگاروں کے لیے ایک بڑا چیلنج ثابت ہوا اور بیشتر لکھنے والوں نے اس طرز کو اختیار کرنے کی کوشش کی۔ قرۃ العین حیدر کے بعدشمس الرحمن فاروقی پہلے ناول نگار ہیں جنھوں نے قدیم تاریخ و تہذیب کو بڑی فنکاری سے ناول کے بیانیہ میں شامل کیا ۔ سید محمد اشرف نے اپنے ناول ’’آخری سواریاں ‘‘میں اسی طرز کو برتنے کی کوشش کی ہے اور جزئیات و واقعات میں’کئی چاند تھے سر آسماں ‘‘کی طرح تہذیبی و ثقافتی رنگ بھرنے کی کوشش کی ہے لیکن تاریخی واقعات کو فکشن کے بیانیہ میں شامل کرنا اور ان واقعات کو اپنے عہد کے تناظر میں دیکھنا ایک مشکل عمل ہے ۔یوں تو اکیسویں صدی میں شائع ہونے والے ناولوں میں سید محمد اشرف کا ناول ’’آخری سواریاں ‘‘اپنے موضوع اور پیشکش کی وجہ سے ممتاز و منفرد اہمیت کا حامل ہے ۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ مصنف نے ناول میں جس نکتہ کو مر کزی خیال کا درجہ دیا ہے. وہ کس حد تک ناول کے دیگر واقعات کے ذریعہ ابھر کر سامنے آیا ہے یعنی یہ کہ اس مضمون میں ناول کے عنوان سے اس کے موضوع اور تھیم کے معنوی ربط اور فنی مضمرات پر بحث کی جائے گی ۔ (یہ بھی پڑھیں اردو کے چند اہم ناولوں کا اساطیری پہلو – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی )

اس ناول کی انفرادیت کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اس میں نئی صدی کے نئے منظرنامے،انٹر نیٹ ،سائنسی ترقیاں ، اور انسانی زندگی کو متاثر کرنے والے عناصر کا عمل دخل نہیں ہے۔جب کہ پچھلے تین چار برس میںلکھے گئے ناول یکساں طور پر عہد جدید کی نت نئی ایجادات،الکٹرانک میڈیا کے منفی اثرات ،ٹوٹتے بکھرتے رشتوں کے احوال پر مبنی نظر آتے ہیں۔یہ حقیقت بھی ہے کہ مصنف اپنے ارد گر درونما ہونے والے حادثات اور تلخ حقائق سے نظریں نہیں چرا سکتا اس لیے اکیسویں صدی کے ناولوں میں سنسنی خیز اور تحیر زا واقعات کی کثرت ہے ۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس صدی کا ناول صحافتی بیانیہ سے قریب ترنظر آنے لگا۔ سید محمد اشرف کے اس ناول کے واقعات،کرداروں کے احوال اور ان کی ترجیحات اکیسویں صدی کے مظاہر سے قدرے مختلف ہیںاور بیانیہ بھی تہہ دار ہے ۔ تاہم اس میں چند عناصر ایسے ہیں جو ناول کی ساخت سے ہم آہنگ نہیں ہوسکے ہیں ۔ناول کی ابتدائی چند سطروں سے واضح ہو جاتا ہے کہ اس کے واقعات کا سرا ماضی کی دھندلکوں میں پیوست ہے اور واحد متکلم انتہائی حساس طبیعت ، غیر معمولی ذہانت اور اپنے خاندانی و تہذیبی ورثہ کی بازیافت میں دلچسپی رکھتا ہے ۔اس ناول کی انفرادیت کا اولین نکتہ یہ ہے کہ نئی نسل کا ایک فرد اپنے عہد کی چمک دمک اور ترقیات کی طرف مائل ہونے کے بجائے اپنے آبائو اجداد کے نقوش کی بازیافت میں دلچسپی لے رہا ہے ۔جب کہ اس عہد کے دوسرے ناولوں میں نئی نسل کے ہاتھوں تہذیبی ا ور اخلاقی اقدار کی فراموشی ایک بڑے المیہ کے طور پر ابھر کر سامنے آتی ہے ۔

عام طور پر ناول میں کردار کے بجائے واقعات کا غلبہ ہوتا ہے لیکن اس ناو ل میں ہر واقعہ واحد متکلم کی غیر معمولی فکر اور صلاحیت کا زائیدہ ہے ۔اس لیے واحد متکلم ناول کے ہر منظر پر حاوی رہتا ہے سوائے اختتام کے اس حصے میں جہاں روز نامچہ کے حوالے سے تیمور کا ذکر آتا ہے ۔راوی شعور کی ابتدائی منزل میں ہی چیزوں کو ایک انوکھے زاویے سے دیکھنے اور پرکھنے کی کوشش کرتا ہے ۔اپنی منشاء کے مطابق نہ ہونے کی صورت میں انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے ۔شعور میں پختگی آنے کے بعد اس کی زندگی میں ایک عجیب کشمکش شروع ہو جاتی ہے ۔یہ کشمکش اور بے چینی اس کے دادا کے روز نامچہ نما سفر نامے کے مطالعے سے پیدا ہوتی ہے ۔وہ طالب علمی کے زمانے کی چھٹیاں اپنے ہم عمروں کے ساتھ کھیل کود میں ضائع کرنے کے بجائے تنہائی میں روزنامچہ پڑھ کر گزارتا ہے ،اس کے بعد اس پر عجیب کیفیت طاری ہوجاتی ہے ،بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے ۔اس کے والدین اپنے نو عمر بیٹے کی حالت زار سے مغموم و پریشان ہو کر کہتے:۔

’’تم اس کتاب کے پیچھے کیوں پڑگئے ہو بیٹا ۔یہ تمہیں ہر سال دکھ دیتی ہے ۔تم جب جب  اسے پڑھتے ہو ایک انجان سوچ میں ڈوب کر نڈھال ہو جاتے ہو اور پھر تمہیں بخار آجاتا ہے ۔‘‘

میں نے جواب دیا۔’’ دادا ابا اگر زندہ ہوتے تو شاید کچھ رازوں سے پردہ ہٹ جاتا اور مجھے چین آجاتا ۔‘‘

والد نے شانے پر ہاتھ رکھا اور کہا :’’اس میں کوئی راز نہیں ۔بس ایک سفر کی کہا نی ہے اور کچھ اوہام ہیں ۔سب سے بڑا وہم خود انسان کا ذہن ہوتا ہے بیٹا ۔‘‘

’’پھر اس بٹوے اور اس میں رکھی اس شئے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ۔بتا ئیے کیا کہیں گے ؟‘‘مجھے خود محسوس ہوا جیسے میرا لہجہ جنونی ہو رہا تھا ۔

وہ بھی وہم کا کارخانہ ہے ۔معوذتین کا بلا ناغہ ورد کیا کرو ۔‘‘۱؎

ناول کے ابتدا میں ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ وہ روز نامچہ محض روزنامچہ ہی نہیں بلکہ ایک پراسرار دستاویز ہے جس کے پڑھنے کے بعد اس کی حالت اتنی ابتر ہو جاتی ہے کہ اسے اس مخصوص خاندانی برتن میں پانی دم کر کے پلایاجاتاہے جس کے متعلق یہ روایت ہے کہ اگر اس میں پانی ڈال کر مخصوص آیات پڑھ کر مریض کو پلا یا جائے تو وہ شفایاب ہو جاتا ہے ۔اس مسودہ اوربٹوہ سے اسے اتنا جذباتی لگائو ہوتا ہے کہ والد کی وفات کے بعد وہ ان دو اشیاء کو اپنے قبضے میں کر لیتا ہے اور شادی کے بعد جب اپنی بیوی کے سپر د کرتا ہے تو وہ بھی ان کی پر اسراریت سے وحشت زدہ نظر آنے لگتی ہے۔ وہ اس سفر نامے کے متعلق تفصیلی معلومات کی خواہش ظاہر کرتی ہے تو واحد متکلم کہتا ہے کہ ترتیب وار بتانا میرے لیے ناممکن ہے ۔ (یہ بھی پڑھیں کچھ مرگ انبوہ کے بارے میں — مشرّف عالم ذوقی)

واحد متکلم اپنی بیوی کے اصرار پربچپن کے واقعات بیان کرتا ہے ۔قصہ کو آگے بڑھانے کے لیے مصنف نے ایک مستحسن طریقہ اختیار کیا ہے لیکن اس واقعہ میں واحد متکلم اپنی بیوی سے نہیں بلکہ بلا واسطہ قاری سے مخاطب نظر آتا ہے ۔کیوں کہ ۸۱ صفحات پر مبسوط عہد طفلی کے واقعات میں کہیں کوئی مخاطب سامنے نہیں آتا ۔اس میں نہ تو کہیں اس مسودہ کا ذکرہے اور نہ ہی کسی وسوسہ کا گزر ۔اس کے علاوہ چھوٹے میاں (واحد متکلم )کی دیکھ بھال کے لیے مامور کی گئی خادمہ جمو (جمیلہ)اس پورے واقعہ میں اہم کردار کی حیثیت سے سامنے آتی ہے ۔جس سے واحد متکلم کو’’  لگاوٹ ‘‘ہوجاتی ہے ،وہ اس کے جسم کی ہر حصے میں ایک دھڑکتا ہوا دل محسوس کرتا ہے اور جموبھی بات بات پر فرط محبت سے چھوٹے میاں کے رخسار و پیشانی کو بوسہ لے لیتی ہے ۔ہر لمحہ سائے کی طرح اس کے ساتھ رہتی ہے لیکن ایک دن اچانک اس کے والدین اسے لینے آجاتے ہیں اور اس کی شادی ادھیڑ عمر کے ایک آدمی سے ہو جاتی ہے ۔اس طرح وہ ناول کے پلاٹ سے ہمیشہ کے لیے غائب ہو جاتی ہے۔ ناول کے بعض بیانا ت سے اندازہ ہوتا ہے کہ جمو کی جدائی راوی کی زندگی میں ایک خلا پیدا کر دیتی ہے۔ اس کی زندگی سے رخصت ہونے والی پہلی سواری جو کبھی واپس نہیں آئی اور بالآخر آخری سواری ثابت ہوئی وہ ریل گاڑی تھی جس میں سوار ہو کر جمو کو اس کے سسرال رخصت کیا گیا تھا۔جمو کی رخصتی کے وقت واحد متکلم کی ماں کہتی ہے :۔

’’اب اس پٹری پر یہ ریل واپس نہیں آئے گی ۔‘‘۲؎

پھرناول کے آخر میں جب و احد متکلم کہتا ہے کہ :

’’میں رخصت ہونے والی سواریوں سے ڈر جاتا ہوں ۔بچپن سے اب تک جتنی سواریاں رخصت ہوئیں،پھر واپس نہیں آئیں ۔‘‘۳؎

راوی کے اس بیان سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اس کے لاشعور میں رخصت ہوتی ہوئی جمو کی سواری کا خیال سرایت کر چکا ہے اور اسی پرانے واقعہ سے وہ زندگی بھر سہما ہوا رہتا ہے کہ کہیں چیزیں اس کے تصرف سے باہر نہ نکل جائیں ۔لیکن یہ تمام باتیں مصنف نے اشارتاً بھی کہیں درج نہیں کی ہیں۔ البتہ بین السطور میں پرانے واقعہ کی جھلک نظر آجاتی ہے ۔وہ کبھی جمو کی کمی کا اظہار نہیں کرتا اور نہ ہی اس کا خیال اپنے ذہن میں آنے دیتا ہے ۔اس لیے یہ واقعہ ناول کے دوسرے واقعات سے بظاہر مربوط نظر نہیں آتا ۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس حصے کو حذف کر دیا جائے تو ناول کے پلاٹ پر کوئی ضرب نہیں آ ئے گی جب کہ اس ناول کا سب سے دلچسپ حصہ یہی معلوم ہوتا ہے۔

متکلم کے عہد طفلی کے فکر انگیز واقعات کچھ لمحہ کے لیے قاری کو بے یقینی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں ۔سات سال کے ایک بچے کا ہر معا ملہ میں متجسس ہونا اور ایک مناسب نتیجہ نکالنے کی کوشش کرنا مبالغہ آمیز بات محسوس ہوتی ہے ۔ جمو کی بعض باتوں پر اپنی تو ہین محسوس کرنا،ایک جگہ اعمال نامہ کے اقسام پر بحث کرنا ،جمو کی شادی سے متعلق باتوں پر افسردہ ہو جانااور عین اس کی شادی کے دن ایک پرانے وعدے کے مطابق اس کے مہندی لگے ہاتھوں کو دیکھنے کی حسرت ،خواہش پوری نہ ہونے پر بیزاری کے عالم میں ندی پر جاکر یخ بستہ ہواؤں کے تھپیڑوں سے مقابلہ آرائی اور نکاح کے وقت ہیجانی کیفیت طاری ہونا،جمو کے گرم ہاتھوں کے لمس کو محسو س کرنا وغیرہ میں ایسے واردات قلبی اور جذبات کی عکاسی کی گئی ہے جن کی توقع ایک سات یا دس سال کے بچے سے بمشکل ہی کی جاسکتی ہے ۔جمو کی رخصتی کے وقت چھوٹے میاں کے رد عمل میں مبالغہ کی آمیزش صاف نظر آتی ہے وہ خودکو بے بس محسوس کرتے ہوئے ندی پر چلا جاتا ہے اور مچھلیوں کے ساتھ ندی کی تہہ میں جانے کی خواہش کرتے ہوئے جمو کے ساتھ گزارے ہوئے ان لمحات کو یاد کرنے لگتا ہے ۔

’’ایک آواز تھی جو ہمہ وقت میرے کانوں میں آتی تھی وہ کس کی آواز تھی ۔وہ کہاں کھو گئی ۔میرے برف جیسے پیروں میں گرمی کی لہریں کہاں سے آتی تھیں ؟

ایک گرم اور نرم بانہہ میری گردن کے نیچے آتی ہے اور تکیہ بن جاتی ہے ۔دوسرا ہاتھ مجھے اپنے سینے سے لپٹا کر میرے بالوں میں کنگھی کرتا ہے ۔‘‘

’’وہیں ندی کے کنارے ایک اونچی سی جگہ پر گھاس جمی ہوئی تھی ۔میں وہیں لیٹ گیا ۔گھاس میں جگہ جگہ لمبے لمبے تنکے تھے ۔میں ایک ایک تنکا توڑ کر منھ میں رکھتا ،چباتا اور اتنی دیر تک چباتا کہ وہ سبز پانی بن کر میرے ہونٹوں کے کونوں سے نکلنے لگتا ۔ہرے رنگ کے لعاب نے سفید قمیص پر سبز پری کی شکل کے دھبے بنا دیئے تھے ۔مجھے والد صاحب یاد آئے انھیں اس موقعے کی کوئی نہ کوئی دعا ضرور معلوم ہوگی ۔‘‘

’’میں نے زرد سورج کو ندی میں اترتے دیکھا اور سوچاکہ پہلے آواز کھوئی تھی کہ چہرہ ۔میں نے بہت کوشش کی لیکن مجھے چہرہ نہیں یاد آیا ۔پھر ندی میں آکر جھانکنے لگا ۔اب وہاں میرا عکس نہیں تھا ۔چہرہ

سایہ کیسے بن گیا؟اچھا! سورج ڈوب گیا ۔میں واپس گھر جاتا ہوں ۔وہاں رخصت کی تیاری ہو رہی ہوگی ۔‘‘۴؎

رخصتی کے وقت واحد متکلم جس کرب کی کیفیت میں مبتلا دکھایا گیا ہے اس کی عمر کو پیش نظر رکھ کر غور کیا جائے تو حقیقت سے ماوراء بات لگتی ہے لیکن وسط اور اختتام تک پہنچتے پہنچتے ابتدا میں پیدا ہونے والی بے یقینی ختم ہو جاتی ہے ۔اس کیفیت کو ختم کرنے میں زبان و بیان کا بڑا اہم رول ہے ۔ وہ اس طرح کہ بچہ جو واقعہ بیان کر رہا ہے وہ ادھیڑ عمر کا ہو چکا ہے اور اپنے بچپن کے احساسات جو اس وقت اس کی فہم کی گرفت میں نہیں آسکے تھے انھیں اب سمجھ چکا ہے۔ مصنف نے بعد کے واقعات میں بھی واحد متکلم کے حوالے سے ایسے احوال و کوائف کا ذکر کیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ کرشماتی چیزیں اس کے ساتھ وابستہ تھیں اسی لیے وہ بچپن میں بھی دوسرے بچوں کے مقابلے زیادہ ذہین و فطین تھا ۔

بچپن کا واقعہ ختم ہونے کے بعد واقعہ پھر سے اپنے اصل محور پر آجاتا ہے ۔جہاںدل بہلا نے کی غرض سے اس کی اہلیہ اپنی بالکونی سے فورٹ ولیم کالج ، غالب کی رہائش اور غالب کے ایک شعر کے متعلق سوال کرتی ہے۔اس ناول کے مطالعہ سے جو تاثرات ابھرتے ہیں ان میں ایک تاثر یہ بھی ہے کہ موجودہ عہد میں اردو زبان و ادب کی بے وقعتی ،اردو شعراء و مصنفین کی ناقدری اور ادبی ذخیرہ کے عدم تحفظ پر کچھ سنجیدہ افراد غمگین و افسردہ ہیں۔جیسا کہ اس واقعہ میں پنشن کے سلسلے میں غالب کی ناکامی پر افسوس کرتے ہو ئے راوی کی اہلیہ کہتی ہے :۔

’’اس زمانہ میں بھی اس زبان کی ناقدری کا یہی عالم تھا ؟‘‘میرا چہرہ دیکھتے ہوئے پوچھا ۔

’’نہیں ۔وہ زمانہ زبان کی قدر دانی کے عروج کا زمانہ تھا ۔پنشن کے معا ملے میں ناکامی کے اسباب دوسرے تھے ۔وہ زبان و تہذیب کی ناقدری نہیں ،شخصی ناقدری کے شاکی تھے ۔‘‘۵؎

اس مکالمہ سے صاف واضح ہوتا ہے کہ اردو زبان وادب کی جوقدر اور اہمیت غالب کے زمانے میں تھی اب نہیں رہی ۔اسی طرح اس گنگا جمنی تہذیب کابکھراؤ اور زوال ہو رہا ہے جس کے امین و مداح بہادر شاہ ظفر اور واجد علی شاہ جیسے بادشاہ اور امراء ہوا کرتے تھے ۔

چونکہ ناول کی ابتدا میں ہی راوی نے کہہ دیا تھا کہ واقعات کو ترتیب سے سنانا میرے لیے نا ممکن ہے شاید اسی لیے پور اناول چند چھوٹے چھوٹے واقعات کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے اور ہر واقعہ سے ایک الگ تاثر قائم ہوتا ہے ۔ایک جگہ راوی کو اپنی بیوی کے سوال پر والد صاحب کا خیال آجاتا ہے ۔اس کے بیانات سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا اپنے والد سے بڑا پر تکلف تعلق تھا۔ وہ ان کی ڈانٹ پھٹکار سے سہما ہوا رہتا تھا ۔ جب کہ وہ بڑے رحمدل اورنرم طبیعت کے مالک تھے۔ جس کی دلیل اس واقعہ سے ملتی ہے جب واحد متکلم ایک پیاسی چڑیا کو پانی پلانے کی ترکیبیں کر رہا ہوتا ہے تو وہ بھی اس میں شامل ہو جاتے ہیں۔اس کے علاوہ نہایت مذہبی ذہن کا ہونے کے باوجود ہندوئوں سے ان کے تعلقا ت وسیع تھے اور ہندو بھی ان کے مشورے پرمطمئن ہو کر عمل کرتے تھے ۔ایک بار جب قحط کے زمانے میں نماز استسقاء کے لیے قصبے کے لوگوں کو انھوں نے مدعو کیا تو ہندوؤں نے بھی بڑی تعداد میںمع اپنے جانوروں کے شرکت کی ۔اتفاق سے وہ  جنم اشٹمی کا دن تھا اس لیے انھوں نے یہ محسوس کیا کہ ان کے تہوار کے اہتمام کے لیے بارش کی دعا کی جارہی ہے ۔اسی طرح کے واقعات کے ذریعہ مصنف نے اس عہد کے سماجی رشتوں ،اتحاد و اتفاق ،بھائی چارہ ،موسمی تہواروں اورہندو عقائد کی بنیاد پر ہونے والی رسومات میں مسلمانو ں کی شرکت ،عرس ،میلے اور قوالی کے دلدادہ افراد کا ذکر کے اس عہد کے ہندو مسلم مشترک کلچر کی عمدہ مثالیں پیش کی ہیں ۔راوی نے ایک رات ہونے والی لوٹ مارکا واقعہ بیان کرکے اسی تہذیب کی پامالی اور امید و یقین کے ختم ہو جانے کی طرف اشارہ کرنے کی کوشش کی ہے یعنی جن افراد سے اعتماد کا رشتہ قائم ہوا کرتا تھا وہی لوگ چند چھوٹی چیزوں کی خاطر لٹیروں کا بھیس بدل کر ضرر پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سید محمد اشرف نے اس ناول میں فنی سطح پر کچھ نئے تجربات کرنے کی کوشش کی ہے جسے مابعد جدید رجحان سے وابستہ کیا جا سکتا ہے ۔متن پر متن تیار کرنے کے لیے مابعد جدید تنقید میں بین المتونیت کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے اس کا تجربہ اردو افسانے میں بہت پہلے سے کیا جارہا ہے ۔ انتظار حسین نے بڑے پیمانے پرمذہبی قصے ،کہانیوں اور حکایتوں سے خیال اخذ کرکے کئی کامیاب افسانے لکھے یا اسلوب کی سطح پر داستانوی انداز بیا ن اختیار کر کے ایک نئے انداز کی ابتدا کی ۔اس کے علاوہ سریندر پرکاش ،بلراج مینرا ،شفق اور سلام بن رزاق نے ماقبل کے متون پر نیا متن تیار کر کے اردو افسانے میں تنوع پیدا کیا۔سید محمد اشرف نے بھی ماقبل کے متون کو اپنے ناول کا حصہ بنایا ہے ۔انھوں نے کرداروں کے ذریعہ مکالماتی انداز میں اردو کے کئی مشہور افسانوں کے تھیم مثلاً لکیر (طارق چھتاری )طاؤس چمن کی مینا (نیر مسعود ) چوتھی کا جوڑا (عصمت چغتائی )نظارہ درمیاں ہے (قرۃ العین حیدر )گنبد کے کبوتر (شوکت حیات )کا ذکر کرکے ناول کے موضوع اور صورتحال سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی ہے ۔واحدمتکلم اپنی بیوی کو یہ افسانے اس زمانے میں سنا چکا ہے جب وہ کہانیاں لکھا کرتا تھا ۔بظاہر تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کی بیوی ان کہانیوں کا ذکر کر کے اپنے شوہر کی توجہ پھر سے لکھنے پڑھنے کی طرف مبذول کرانا چاہ رہی ہے ۔لیکن بین السطور میں مصنف کا منشاء ان کہانیوں کی تھیم سے اپنے ناول کی تھیم کو تقویت پہنچانے کا ہے ۔مذکورہ بالا افسانوں میں زمانے کے تبدیل ہوجانے کا کرب ،مادیت کا غلبہ ،اقتدا رکی ہوس میں مذہب اور شناخت کی تبدیلی ،متوسط طبقے کی معاشی کشمکش اور ان کا استحصال ،محبت اور چاہت میں سودے بازی اور اپنے مذہب و مسلک سے بے بہرہ ہونے پر طنز کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ مصنف نے موجودہ عہد میں ادب کی کم مائیگی ،آرٹ کی بے وقعتی،فن کاروں کے سماجی وقار میں کمی اور خاص طور پر اردو زبان لکھنے اور بولنے والوں کی قلت کا شکوہ کیا ہے ۔کہانیاں دہراتے  ہوئے اس کی بیوی کہتی ہے کہ :۔

’’آپ کہانیاں لکھتے تھے تو گھر میں بہت عافیت رہتی تھی ۔اب جب دیکھو آپ کہیں بیٹھے سوچ رہے ہیں ۔گھر کے کسی گوشے میں بیٹھے ہیں تو گھنٹوں وہیں بیٹھے ہیں ۔گھر میں عجیب نحوست طاری رہتی ہے ۔آپ کچھ لکھتے کیوں نہیں ؟‘‘

’’پڑھنے والے بہت کم ہو گئے ہیں ۔‘‘میں کچھ دیر کے بعد بولا ۔۶؎

اس جملے سے صاف ظاہر ہے کہ راوی موجودہ عہد کے قارئین سے شاکی ہے ۔اور پھر آگے اس کی شکایتوں کی ایک فہرست ہے ۔

’’جس طرح آپ نے اشارہ کیا اس طرح بہت دن سے کسی کو داہنی طرف سے بائیں طرف لکھتے نہیں دیکھا ۔‘‘

’’ہر دن سوچتا ہوں لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہر روز ایک اور چیز گم ہو جاتی ہے ،‘‘     ۷؎

’’انھوں نے گلو گیر آواز میں بتایا کہ کل خاں صاحب دنیا سے رخصت ہو گئے

’’کمال ہے اخبار میں خبر نظر نہیں آئی ‘‘

کلچر کے مظاہر کی اسی ناقدری کا رونا تو استاد ولایت خاں صاحب بھی روتے تھے ۔جب ان سے پدم بھوشن نہ لینے کی وجہ دریافت کی تو فرمایا کہ استاد باسط خاں صاحب نے پچاس سال طبلہ بجایا نا بینا ہوئے کسی نے پوچھا تک نہیں ۔صادق علی خاں جیسا استاد بین بجاتا بجاتا گمنامی کی غار میں دفن ہو گیا کسی نے سوچا تک نہیں تو ایسے سماج سے انعا م کیوں لوں ۔‘‘۸؎

ان تمام بیانا ت سے ناول کے تھیم کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ہر لمحہ ر اوی کا سر بزانو بیٹھنا محض روز نامچہ اور بٹوہ کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اپنے تہذیبی و ثقافتی سرمایہ کی گم شدگی پر بھی اسے افسوس ہے ۔واحد متکلم کے تمام تر اعمال و حرکات سے اتنا تو اندازہ ہو چکا ہے کہ وہ معمولی سے معمولی شے کو نہایت ہی گہرائی سے دیکھنے کا عادی ہے ۔اسی لیے شاعروں ،ادیبوں اور فن کاروں پر بے توجہی ،نئے زمانے کے بے ہنگم شب و روز اور بے جا مشغولیات پر انعام و اکرام سے نوازنے کا عمل اسے ایک ہولناک معمہ محسوس ہوتاہے۔اس کیفیت کے فطری ہونے میں کوئی شک نہیں ۔لیکن ایک جگہ انہیں ہولناک کیفیات اور بٹوہ کی پر اسراریت کی وجہ سے اس پر مالی خولیا کی کیفیت طاری ہوجا نے کا ذکر غیر فطری لگتاہے۔ اور اسی طرح کھانوں کے مختلف انواع کا ذکر بھی غیر ضروری اور الگ سے لائی ہوئی چیز معلوم ہوتی ہے ۔ان انواع و اقسام کے بیان کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ شعوری طور پر مصنف یہ بتانا چاہتا ہے کہ گزشتہ عہد میں یہ پکوان ہوا کرتے تھے لیکن موجودہ عہد کے انسان نے تن آسانی کے سبب ان نعمتوں سے خود کو محروم رکھ رہا ہے ۔

ناول کے آخر میں بہادر شاہ ظفر کی اسیری اور رنگون لے جا نے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بہت عمدہ جزئیات نگاری کی گئی ہے سارا منظر قاری کے سامنے ایک تصویر کی صورت میں آجاتا ہے ۔اس واقعہ میں زرہ بکتر سپاہی ،گزرتی ہوئی سواری کو دیکھنے کے لیے چھپ کر بیٹھے ہوئے لوگوں کی کیفیت ،لکڑی کے تخت پر کھلے آسمان کے نیچے بیٹھے ہوئے بے تاج بادشاہ کے مضمحل چہرے کی بہترین تصویر کشی کی گئی ہے ۔لیکن بار بار یادداشتوں اور ماضی کے واقعات بیان کرنے اور ہر واقعہ آپ بیتی کی شکل میں سامنے آنے کی وجہ سے اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ وہ راوی کے بیانات ہیں یا روز نامچہ کے مصنف(راوی کے جد امجد ) یا احوال بتانے والے کے( راوی کے دادا جان )۔ اس طرح بیانیہ میں ایک کشمکش پیدا ہونے لگتی ہے ۔

روز نامچہ میں’’احوال سفر سمرقند ‘‘کے عنوان کے تحت بیان کردہ واقعہ میں صوفیانہ رنگ کی آمیزش ہے ۔تصوف کے مطالعہ سے اس کی معنویت کو زیادہ بہتر طور پر سمجھا جا سکتا ہے ۔اس سفر نامہ میں اشارتاً وجود ،ہستی اور فنا سے متعلق نکات موجود ہیں ۔ناول کے آخر میں پس نوشت کے ضمن میں کچھ جملے درج ہیں۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو:۔

’’نیم پختہ سڑک پر اڑتی ہوئی دھول میں سواریوں کا ہجوم ہو کہ نیم تاریک یخ دھند میں چلتا ہوا کاروانِ غم گساراں یا اپنی ذات کے بیابان میں دلوں کو پتھرا دینے والی باد سموم ۔یہ سب دھوکے ہیں ،فریب ہیں ،سراب ہیں کہ سب سے بڑا وہم تو ہم خود ہیں ۔‘‘۹؎

واحد متکلم پر بے خودی کی کیفیت طاری ہونے کے وجوہات بھی اسی میں پوشیدہ ہیں ۔ماضی کے نادیدہ حالات و واردات کو اپنے اندر محسوس کر نے اورغیر مرئی اشیاء کو مجسم دیکھنے کی کیفیت کو بظاہر تو نفسیاتی الجھن سے وابستہ کیا جا سکتا ہے لیکن اس کے پس پردہ معنوی جہتوں کی رسائی کے لیے تصوف کی طرف رجوع کیا جائے تو تعبیر کے مزید امکانات روشن ہو سکتے ہیں ۔ناول میں ایسی کوئی علامت استعمال نہیں کی گئی ہے جو اتنی مبہم و پیچیدہ ہوکہ قاری گرفت میں نہ آسکے ۔یہاں تک کہ جس راز کی وجہ سے ناول کی پوری فضا پر تجسس تھی آخر تک پہنچتے وہ بھی بے نقاب ہو جاتا ہے۔روزنامچہ اور بٹوے کی پر اسرار روداد جب سامنے آتی ہے تو واحد متکلم پر طاری ہونے والی کیفیت میں مبالغہ نظر آنے لگتا ہے۔

ابتدا میں ہی یہ بات کہی گئی تھی کہ ’’کئی چاند تھے سر آسماں ‘‘کی کی مقبولیت سے اس عہد کے فکشن نگار مر عوب ہیں یا پھرایک ہی عہد میں ذہنی تربیت ہو نے کی وجہ سے ان کی تحریروں میں تہذیبی جواہر پاروں کے نقوش کو خصوصی جگہ ملی ۔ سید محمد اشرف نے بھی اس ناول میں تاریخی واقعات کا تخلیقی اظہار کیا ہے ۔بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے واقعہ سے ۱۸۵۷ ء کا پورا منظر ذہن میں عودکر آجا تا ہے۔مصنف نے اس تاریخی واقعہ کو علامت کے طور پر استعمال کر کے فنکاری کا ثبوت دیا ہے ۔بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری علامت ہے ایک عہد اور اس عہد کی تہذیبی نشانیاں ختم ہونے اور پرانی قدروں کے پامال ہونے کا ۔ جس کا اظہار واحد متکلم نے بار بار کیا ہے ۔ اقتباس ملاحظہ ہو:۔

’’لکڑی کا تختہ تو ہر موت کا مقدر ہے لیکن کچھ تہذیبیں زندگی میں ہی ایسی بے آسرا ہو جاتی ہیں کی ان کا زندہ وجود لکڑی کے کمزور تختے پر بیٹھا نا ہموار راستے پر غیر یقینی منزل کی طرف گھسٹتا رہتا ہے۔۱۰؎

مندرجہ با لا سطروں سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے ذہن میں بہادر شاہ ظفر کی اسیری کا منظر برقرار ہے جو اتنا کرب ناک تھاکہ وہ اسے بھلا نہیں سکا ۔ بالکل آخری حصے میں لکڑی کے تختے پر ایک خمیدہ شخص کی سواری ،سفید ریش بزرگ ،پوجا کے لیے جانے والی عورتوں سے عبیر گلال اور گیندے کے پھول سجی تھالیوں کو چھین لینا ،پر شاد لوٹ لینا ،عبیر اور پھولوں کو پیروں تلے روندنا ،جبراً عورتوں کو سواری میں بٹھا لینا ایسے مناظر ہیں جس سے بے حسی اور قدروں کے پاش پاش ہونے کا المیہ سامنے آتا ہے ۔ اس کے علاوہ بے شمار اشیاء جو کسی بھی ملک و قوم کی شناخت اور تہذیب کا نمونہ ہوسکتی ہیںوہ سب کی سب بے ترتیب سواریوں میں لدی ہوئی گرتی پڑتی گزر رہی ہیں ۔اقتباس ملاحظہ ہو :۔

’’دیکھئے!وہ دیکھئے سامنے والی سواری میں ٹوٹی ہوئی محرابیں اور کنگورے لدے ہیں ۔ان کے پیچھے والی سواری میں کٹاؤ دار اور نقشین دریچے ہیں ۔مینار اور گنبدوں کی سواری پیچھے آرہی ہے اور یہ جو سامنے سے سواری گذر رہی ہے اس میں سنگھاردان ،سرمہ دانی ،خاص دان، پان دان اور عطر دانوں کا انبار ہے ۔اس کے ٹھیک پیچھے والی سواری میں عماموں ،کلف دار ٹوپیوں ،خرقوں ،جُبّوں اور عباؤں کے گٹھر لدے ہیں ۔ان کے پیچھے طوطوں اور میناؤں کے پنجروں کی سواریاں ہیں ۔۔۔۔۔۔اف!دیکھو یہ جو بالکل ہمارے پاس سے سواری گذری ،اس میں مثنویوں ،قصیدوں،مرثیوں ،رباعیوں ،بارہ ماسوں ،قصوں ،کتھاؤں اور داستانوں کے دفتر کے دفترکتنے پھوہڑ انداز میں لاد رکھے ہیں۔خطاطی کے بیش قیمت نمونے قدم قدم پر زمین پہ گرتے جارہے ہیں۔‘‘۱۱؎

ان تمام بیانات میں کوئی پیچیدگی نہیں صاف واضح ہے کہ راوی کے ذہن و دل میں یہ خوف سرایت کر چکا ہے کہ جس طرح ہمیشہ اس سے چیزیں چھین لی گئی ہیں کہیں یہ ادبی و تہذیبی سرمایہ بھی ضائع نہ ہوجائے ۔ بعض چیزیں تو راوی کے ذہن میں بچپن سے محفوظ ہیں اور بعض تصویریں ایسی ہیں جولا شعور میں موجود ہیں اور جب اپنی شکلیں باہر نکالتی ہیں تو اس پر ہذیانی کیفیت طاری ہو جاتی ہے ۔

خلاصہ بحث یہ ہے کہ ’’ آخری سواریاں ‘‘ایک وسیع کینوس کا ناول ہے ۔جس میں موضوع ،اسلوب ،اور زبان و بیان کی سطح پر ایک نیا تجربہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس میں شعوری طور پر تحیر یا تجسس پیدا نہیں کیا گیا ہے بلکہ کراروں کے محسوسات کی عکاسی نے ایک مبہم سی فضا تخلیق کر دی ہے جس کی تفہیم کے لیے مزید مطالعہ اور تعبیر کی ضرورت ہے  ۔ اگرچہ بعض معاملا ت اور واقعات میں سابقہ ناولوں کی جھلک اس میں موجود ہے لیکن اس کے باوجو د اس ناول کی ایک خود مکتفی دنیا ہے جو سابقہ ناولوں سے جدا گانہ ہے۔

 

حواشی۔

۱۔       آخری سواریاں ،سید محمد اشرف ،عرشیہ پبلیکیشنز ،۲۰۱۶ ،ص: ۱۱

۲۔      ایضاً ،ص:۹۴

۳۔      ایضاً،ص:۲۰۹

۴۔      ایضاً،ص:۹۴

۵۔      ایضاً،ص: ۹۵

۶۔      ایضاً،ص:۱۵۲

۷۔      ایضاً ،ص:۱۵۳

۸۔      ایضاً ،ص:۱۵۵

۹۔       ایضاََ، ص۱۸۹

۱۰۔ٍ     ایضاً،ص:۲۰۲

۱۱۔      ایضاً،ص:۲۰۷

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasناولناول تنقید
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مذبوحی – فیصل ہاشمی
اگلی پوسٹ
انتظار حسین کی کالم نگاری – ڈاکٹرابرار احمد

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں