Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسینصابی مواد

اردو کے چند اہم ناولوں کا اساطیری پہلو – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی

by adbimiras نومبر 18, 2020
by adbimiras نومبر 18, 2020 0 comment

اردو فکشن میں اساطیری فضا اور اساطیری اسلوب کی بہتات ہے۔تخلیق کار بات کو موثر ،جامع اور کفایت لفظی کے لیے اس اسلوب کا سہارا لیتا ہے ۔اس اسلوب کی تفہیم کے لیے تخلیق کار کے ذریعہ پیش کردہ ان رموز و علائم کی اصل تک پہنچنا لازمی ہے اگر قاری ان تک پہنچنے میں ناکام رہتا ہے تو یہ  قاری کی عدم نا رسائی کا مسئلہ ہے تخلیق کار کا نہیں۔تخلیق کار تو تلمیحات کے سہارے تخلیقی فضا ہموار کرتا ہے اور اسے مختلف حوالوں سے دیکھنے اوردکھانے کی کوشش کرتا ہے اب اگر قاری کی رسائی وہاں تک ہو جاتی ہے جہاں تخلیق کار لینا جانا چاہتا ہے تو وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگیا ،یہی کامیابی کسی ناول کے کامیاب ہونے کی دلیل بھیہے۔اس مقالہ میں صرف بیدی،صلاح الدین پرویز،مظہر الزماں خاں،غضنفر،شموئل احمد، خالد جاوید اور رحمن عباس کے صرف ایک ناول کی روشنی میں اساطیری اسلوب اور اس کے عناصر کو تلاش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

اردو فکشن میں بیدی کا فن اپنے نقطہ عروج پر نظر آتا ہے۔بیدی نے اپنی زندگی کے تجربات و مشاہدات سے جس قدر شعور حاصل کیا،اسی کی روشنی میں اپنی بات کہی اور حالات و واقعات کو اسی انداز سے پیش بھی کیا کہ کسی ایک کا تجربہ یا مشاہدہ نہ رہ کر پورے سماج اور معاشرے کا تجربہ اور مشاہدہ بن گیا۔اسی لئے یہ بات بھی کہی جاتی ہے کہ بیدی کا فن تجربے اور مشاہدے کے زیر اثر گہرے فکر و شعور کا فن ہے۔ان کا فن انسانی زندگی، اس کے متعلقات، اور سماج و معاشرے کے مابین صالح قدروں اور رشتوں کی تلاش و جستجو کا فن ہے۔ان کے فن میں عصری زندگی، عصری حسیت، موضوع کی صداقت، ندرت بیان، فکر و فلسفہ، بصیرت و آگہی، جذبہ و احساس کی شدت، عالمانہ طرز تخیل، جزئیات نگاری، مصوری، آپ بیتی اور اساطیری عناصر سبھی کچھ تلاش کر سکتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مولانا آزاد کا تصوّرِ تعلیم – ڈاکٹر صفدر امام قادری )

اس ناول کا مرکزی کردار رانو ہے جس کے ارد گرد پورے ناول کا تانا بانا بُنا گیا ہے۔یہ کہانی صرف رانو کی ہی نہیں بلکہ اس پورے ہندوستانی سماج کی ہے جہاں اس طرح کے مظالم کئے جاتے ہیں رانو، تلوکا،منگل، جنداں، بڑی، چنو، جاترن، مہربان داس، گھنشیام، حضور سنگھ، باوا ہری داس کے علاوہ ترشول،دھرم شالہ، نصیبن والی جگہ،بھیرو، کرشن، کالی، شیو، پاروتی، ڈبو اور بوڑی کے ذریعہ سماج اور معاشرے کی حقیقت کا خلاقانہ تجزیہ کیا ہے اور ہر ایک کے مابین رشتے کو واضح کر کے اس کے امکانی پہلوؤں کا احاطہ کیا ہے۔وہیں اس ناول میں ’ترشول‘ ’میلی چادر‘’جاترن‘’دھرم شالہ‘’خانقاہ والا کنواں‘’دیوی ماں‘’شیو اور پاروتی کی تصویر‘’رادھے کرشن کی تصویر‘’راکھشش‘’بھیروں‘ اور وشنو دیوی کے ذریعہ اساطیری فضا قائم کرنے اور اس کے در پردہ مخفی اسرار و رموز کو آشکار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں کامیابی بھی ملی ہے۔جاترن کا بھائی در اصل وہ ترشول ہے، تحفظ کا وہ وسیلہ ہے جو کبھی دیوی کے ہاتھ میں تھا تو دیوی نے اس سے بھیرو نامی راکھشش کا سر کاٹ کر اپنی حفاظت کی تھی۔لیکن جب یہ ترشول جاترن کے ہاتھ میں نہیں تھا،اس کے ساتھ نہیں تھا تو جاترن راہو کیتو مہربان داس گھنشیام نامی راکھششوں کے چنگل میں گرفتار ہوگئی اس پس منظر میں بیدی کے یہ جملے اپنی مزید معنویت آشکار کرتے ہیں:

’’شاید اسی لئے اس دن کا سورج غصے میں لال اپنے رتھ کے گھوڑوں کو ادھر چھانٹا، ادھر چابک،اُدھر چھانٹا  اِدھر چابک لگا ہوا سامنے خانقاہ والے کنوئیں کے پاس، فارم کی کپاس کے پیچھے کہیں گم ہو گیا تھا اور اوپر آسمان پر دوج کے نازک سے چاند کو نچڑنے پیلا ہونے کے لئے چھوڑ گیا تھا۔‘‘6؎

مذکورہ بالا اقتباس میں معصوم جاترن کی آبرو ریزی کا منظر بھی پو شیدہ ہے اور اس منظر کا رد عمل بھی ہے۔رد عمل کا اظہار ’ادھر چھانٹا ادھر چابک،ادھر چھانٹا ادھر چابک‘ کے الفاظ اس جبر و تشدد کا اظہاریہ ہیںجس میں جاترن گرفتار ہے اور اس پیچ و تاب کا بھی جو اس گرفتاری کے باعث فطرت کے نظام میں پیدا ہوا ہے۔’سورج کی لالی اور چاند کا پیلا پن‘ چودھری اور جاترن کی صورت حال کا غماز بھی ہے۔اس کے علاوہ مرد اور عورت کے اس رشتے سے بھی مطابقت  رکھتا ہے جو مصنف نے ’سورج اور چاند‘ کے وسیلے سے ان دونوں کے مابین قائم کیا ہے۔

1960کے بعدجن تخلیق کاروں نے جدیدیت کے رجحان کے تحت اپنے تخلیقی سفر کا آغاز کیا ان میں صلاح الدین پرویز کا نام اہمیت کا حامل ہے۔انھوں نے اپنا تخلیقی سفر نظموں سے شروع کیا۔جس میں انھوں نے جدیدیت کے علامتی  استعاراتی اور تلمیحی طرز اظہار کے ساتھ ہندو دیو مالا اور اسلامی اساطیر کی پیش کش کے ذریعہ اپنے معاصر شعرا کے مابین سب سے الگ اپنی شناخت قائم کی.انھوں نے اپنی نظموں کے ذریعہ ہندوستان کی رنگا رنگا تہذیب و ثقافت  اور مشترکہ وراثت کا خوبصورت نقشہ کھینچا ہے۔صنف ناول میں اب تک ان کے چھ ناول منظر عام پر آچکے ہیں۔مگریہاں صرف ان کے پہلے ناول ’نمرتا‘ (1980)کے اسطوری پہلو کو تلاش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔

صلاح الدین پرویز جیسا صاحب اسطور اور داستانوی رنگ و آہنگ کا حامل تخلیق کاراور ’نمرتا‘ جیسی تخلیق کاجنم آسان نہیں۔ ان کا یہ ناول مروجہ روایتی موضوعات و اسالیب سے ہٹ کر ہے۔یہ ناول اگرچہ اسّی کے دہے میں لکھا گیا ہے لیکن اس میں جدیدیت کا عنصر غالب ہے۔اس کی توضیح و تشریح اور کما حقہ‘ تعبیر و تشریح وہی نقاد کر سکتا ہے جو ہندو دیومالا اور اسلامی اساطیر کے تمام تر پہلوؤں اور اس کی جزئیات سے پوری واقفیت رکھتاہو۔ ہما شما قاری کی ذہنی و فکری نا رسائی کے بس کی بات نہیں۔ پھر بھی جتنا پڑھ کے سمجھ سکا اس کی روشنی میں یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اردو فکشن میں یہ نیا اور اچھوتا تجربہ ہے۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت  دونوں رجحانوں کے تحت لکھنے والے فکشن تخلیق کاروں کے یہاں یہ طرز تحریر میرے خیال میں نا پید ہے۔ہندو دیومالا اور اسلامی اساطیر کی جو فضا انتظار حسین کے یہاں پائی جاتی ہے اس کی تفہیم میں بہت زیادہ دشواری پیش نہیں آتی لیکن صلاح الدین پرویز کے یہاں اس کی تہہ داری کو بآسانی سمجھا نہیں جاسکتا۔ ان کی تخلیق کو بیک وقت ناول بھی کہہ سکتے ہیں اور ہزاروں برسوں پر محیط تاریخ بھی۔ کیونکہ اس میں انسان کے صدیوں پرانے طرز فکر اور طرز عمل کے ساتھ اسے  عصری حسیت  سے جوڑ کر آج کے انسان کو آئینہ دکھانے کا کام کیا  گیاہے۔ یہ ہندوستانی تہذیب و تمدن کی صدیوں پرانی روایت بھی ہے جس میں ہندو دیو مالا کے ذریعے ہندوؤں کے مذہبی افکار و نظریات کی عکاسی بھی ہے۔اس کے علاوہ صوفی سنتوں کے ذریعہ حقیقت کا اظہار کیا ہے۔لیکن سلیم احمد کے لفظوں میں’’در حقیقت ہندو دیو مالا ما بعد الطبعیاتی حقائق (Metaphical Realities)کا تمثیلی اظہار ہے۔وشنو اور پاروتی، وشنو اور نمرتا،نیل کنٹھ اور نمرتا،دیوی دیوتا یہ سب ما بعد الطبعیاتی حقائق کی تمثیلی صورتیں ہیں اور اس کے پیچھے جو حقیقت  پوشیدہ ہے،وہ یہ کہ کائنات میں اور اس عالم کثرت میں جب حقیقت اپنا اظہار کرنا چاہتی ہے تو ایک زوج یا جوڑا پیدا کرتی ہے۔ ایک ثنویت پیدا کرتی ہے اوراس پہلی ثنویت کا نام اسلامی روایت میں آدم و حوا ہے،ہندو روایت میں پُرش اور پراکِرتی ہے اور چینی روایت میں ینگ اور یانگ ہے۔‘ (ص:36،تنقیدی اسمبلاژ،حقانی القاسمی) اس ناول میں نیل کنٹھ اور نمرتا ایک جوڑے کی شکل میں پیش کئے گئے ہیں۔جس میں نمرتا کی کئی شکلیں نمودار ہوتی ہیں۔کہیں نمرتا ماں ہے کہیں بہن،کہیں بہو ہے تو کہیں بیٹی۔ان تمام صورتوں کو ناول کے پہلے ادھیائے سے نویں ادھیائے تک میں پیش کیا گیا ہے۔یہ ناول در اصل نیل کنٹھ جو شیو ہے، ہندو مت کی تری مورتی کا آخری جز ہے اور بھگوان کی جبروتی اور قہاری صفات سے متصف ہے اور یوم آخرت کا مالک ہے۔لیکن شیو مت کے پیرو کار صرف شیو کو حقیقت ارفع کی صورت گردانتے ہیں جس نے براہما کو تخلیق کیا۔اسے گناہوں سے پاکیزگی بخشنے والا اور معصیت سے نجات دلانے والا تصور کیا جاتا ہے۔ نمرتا جو پاروتی ہے یہ ہندو دیو مالا کی ایک دیوی ہے جو شیو جی کی شکتی کا نسوانی مظہر ہے۔اس طرح  اس میں شروع سے آخر تک نیل کنٹھ اور پاروتی کے عشق اور وصال کی داستان رقم کی گئی ہے۔لیکن نمرتا اور نیل کنٹھ کے در پردہ انسانی تخلیق اور انسانی رشتوں کی معنویت کو اجاگر کرنے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ مصنف نے ویدانت سے سائنس اور وجودی فلسفے تک کا ذہنی سفر بھی کیا ہے اور اپنے قاری کو بھی کرایا ہے۔

صلاح الدین پرویز کے ناول ایسے ہیں جن کی تشریح و تعبیر آسان نہیں ہے۔ اس کی توضیح کے لیے پہلے ان تمام ہندوستانی روایتوں کو جاننا اور سمجھنا ہوگا جس کی جڑیں ہندو دیو مالا اور اساطیر میں پیوست ہیں۔اس لیے یہاں وہی باتیں پیش کی گئی ہیں جو سرسری طور پر سمجھ میں آئی ہیں۔لیکن اس ناول کو پڑھتے ہوئے یہ نہیں طے ہوسکا کہ اسے اردو اسکرپٹ میں ہندی کا ناول کہا جائے یا اسے نثری اور منظوم داستان۔ کہانی ہے یا ہندو مذہب پر مبنی ایک مذہبی گرنتھ۔ البتہ مصنف نے چونکہ ناول کہا ہے اس لیے اسے ناول کہنا ہی مناسب ہے۔لیکن لسانی اعتبار سے دیکھیں تو یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ناول کے مروجہ فارم سے بالکل مختلف ہے۔آخر اس کے اظہار کا یہ کون سا اسلوب ہے جس میں علامتیں بھی ہیں۔تشبیہات و استعارات بھی ہیں۔ہندو دیو مالا بھی ہے۔جہاں تک پڑھتے ہوئے میری سمجھ میں آیا تو اس کی روشنی میں کہہ سکتا ہوں کہ یہ ایسا علامتی اور تخلیقی اسلوب ہے جو صلاح الدین پرویز سے شروع ہوا اور انھیں پر تقریباًختم بھی ہو گیا۔کیونکہ اس کا اسلوب ایسا ہے جسے زمان ومکان کے حدودو قیود میں قید نہیں کیا جا سکتا ہے یہ اس سے ما وراء ہے۔اسی اسلوب میں انھوں نے ہزاروں سال پرانی تہذیب انسانی کے عروج و زوال کی داستان رقم کی ہے وہ بھی صرف دو کرداروں نیل کنٹھ اور نمرتا کے ذریعہ۔یہاں ذیل میں چند اقتباس پیش کئے جارہے ہیں تاکہ ناول کے اساطیری،علامتی،استعاراتی،شعری،نثری اور ہندی آمیز اسالیب کی نوعیت کا اندازہ ہوسکے:

’’نیل کنٹھ نے کئی ضروری پاتروں کو اپنی آنکھوں سے پڑھنے کی کوشش کی:مٹی کا ہاتھی،آلنگوں کی ماترائیں،شامیانہ، لڑکیاں،لڑکے،بھنگ،سدرۃ المنتہیٰ اور دبنگ کپڑے۔۔۔۔۔اس نے دیکھا: رنگ منچ دھرتی کے بییچوں بیچ سجا ہوا ہے۔لڑکے دبنگ وستر پہنے شامیانہ تان رہے ہیں۔۔۔۔منچ کے ایک کونے سے لڑکیاں نکلتی ہیں اور دوسرے کونے سے ہاتھی۔۔۔لڑکے ایک دوسرے کو آنکھ مارتے ہیں،اور پھر آلنگوں کی ماترائیں،پاجاموں کے نیفوں اور رومالوں میں اڑس کر،شامیانہ تان دیتے ہیں۔۔۔پھر مٹی کا ہاتھی سونڈ سے ٹپ ٹپ پانی برساتا ہے،سبھی لڑکیاں اپنی اپنی چولیوں سے اپنے اپنے سدرۃ المنتہیٰ نکال کر خلائوں میں ٹانگ دیتی ہیں اور پھر ان کی شاخو ں سے لپٹ جاتی ہیں۔‘‘47؎

’’پاربتی کے سانسوں کی بے نام تھکن/اور شریانوں کا اشتعال/کس نے سونگھا/شِو نے مدن کو راکھ لیا

سوکھی دھرتی کی خواہش/پیاسی آنکھوں کی خاموشی/خواہشیں:جنگیں/ جنگیں:خواہشیں/ ایک اتیت/ ورتمان کے سینے سے لپٹا ہانپ رہا ہے/ شِو کی روحانی مصیبت/ پاربتی کے خون کی گرمی/ گنگا جمنا/ اور مَدن کی زندہ چِتا/ ایک دھرا تل زنجیروں میں جکڑا ہوا/ اوم       اوم/ ہری اوم/ اوم

سبکار رہا ہے۔‘‘49؎

اَستومَا سَد گَمے

تمسَو ما جِیو تِر گمے

مِرتیو رمااَمرِتَم گَمے

نہیں۔۔۔!میں ایسے نہیں پڑھوں گا یہ دعا نمرتا۔۔۔کہ میں نے سیکھ لی ہے ایک پنکتی،اتنے بہت سارے پلوں،دنوں،راتوں اور برسوں کے بعد۔۔۔کہ میں دیکھ رہا ہوں تمہیں نیل کنٹھ کے ساتھ ساتھ نیچے دھرتی پر جہاں آکاش پھیلا ہوا ہے۔۔۔اور اڑ رہا ہوں میں کہیں بادلوں میں۔۔۔اورتم۔۔۔تم سو گئی ہو،ہمیشہ جاگتے رہنے کے لیے۔۔۔اور میں جاگ رہا ہوں کہ کبھی سو گیا تھا میں۔53؎

آخر میں محمود ہاشمی کے لفظوں میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ صلاح الدین پرویز کی یہ تخلیق اپنے لسانی ڈھانچے اور اسلوب و آہنگ میں اس عہد کی تمام تخلیقات اور تخلیقی رویوں سے منفرد ہے۔یہ ناول ہے یا کتھا کہانی،یا رزمیہ،نثری شاعری ہے یا افسانہ یا ایسی بے ہیئت تخلیق جو نثر اور نظم کے فرق کو مٹاتی ہے؟ یا اظہار کا کوئی ایسا نیا اسلوب ہے جو انتہائی غیر معمولی ہے؟ یہ تمام سوالات ایسے ہیں جن پر غور کرنے کی ذمہ داری اس عہد کے ذہین و فطین ناقدوں کی ہے۔

غضنفر کا پہلا ناول پانی‘ ہے ۔جس میں جدیدیت کے عناصر کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔ اس ناول کا موضوع انسانی وجود کی بقا جو پانی کے بغیر ناممکن ہے اور عرفان ذات جو جدیدیوں کا اصل موضوع تھا اس کو پیش کرنے میں جن اسالیب کا سہارا لیا گیا ہے ،وہ بہت زیادہ کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔پانی ایک آفاقی موضوع تھا جس کو بہت موثر انداز میں پیش کیا جا سکتا تھا ۔لیکن ناول میں غیر ضروری جزئیات نگاری اور منظر کشی نے ناول کی روح کو مجروح کر دیا ہے۔میرے خیال میں ناول کے کامیاب نہ ہونے کے پیچھے کئی اسباب ہیں۔پہلا سبب تو یہ ہے کہ اس میں داستانوی طرز اسلوب اپنانے کی زبردستی کوشش کی گئی ہے۔دوسرا یہ کہ اس میں بہت زیادہ شاعرانہ اسلوب اختیار کیا گیا ہے جو ناول کی خوبی کے بجائے اس کی خامی تصور کی جائے گی۔تیسرا یہ کہ جگہ جگہ مقفیٰ و مسجع زبان اور اسلوب کا استعمال کیا گیا ہے۔جس کے نتیجے میں ربط و تسلسل جو ناول کا بنیادی عنصر ہے ختم ہو گیا ہے۔چوتھا یہ کہ داستانوں میں انجام بیشتر طربیہ ہوتا ہے لیکن اس میں انجام المیہ ہے اور داستانوں جیسا اختتام نہیں ہے۔یعنی بے نظیر شروع سے آخر تک پیاسا ہی رہتا ہے۔داستانی ہیرو کی طرح وہ تالاب،جھیل،سمندر،آب زمزم،کوثروتسنیم، شیر ساگر اور آب حیواں کسی پر فتحیاب نہیں ہوتا۔ پانچواں یہ کہ بے نظیر کو فلمی انداز میںلمحے بھر میں جوان بنا دیا گیا۔ ابھی وہ ماں کے پاس دودھ پی رہا تھا کہ اچانک اتنا توانا اور تندرست ہو گیا کہ وہ نہ نگوں سے مقابلہ کرنے لگا۔یہ باتیں داستان میں اچھی لگتی ہیں، ناول میں نہیں۔کیونکہ ناول زندگی کا عکاس ہوتا ہے۔لیکن اس میں زندگی کی عکاسی غیر فطری انداز میں ہوتی ہے جو ناول کی خوبی تصور نہیں کی جا سکتی۔اس سے ناول کی فضا اور اس کی روح مکدر ہو جاتی ہے۔اس کے علاوہ زبان و بیان کی تبدیلی جگہ جگہ دیکھی جا سکتی ہے۔یہ بیانیہ میں بھی ہے اور مکالمہ میں بھی۔بے نظیر کے خواب دیکھنے اور خواب سے باہر نکلنے کے بعد دونوں جگہوں کی زبان میں فرق ہے۔ساتھ ہی شاعرانہ زبان صرف گفتگو کی حد تک نہیں بلکہ راوی کے بیانیہ میں بھی شامل ہے۔جس کا واقعہ سے بہت زیادہ سروکار نہیں ہے۔’’دیکھنا منظر امرت پان کا‘‘اس حصے میں ہندی زبان اور مکالموں کا استعمال بہت زیادہ کیا گیا ہے۔مکٹ دھاری دیوتا سے بے نظیر کی ہندی میں گفتگو کے ذریعہ اساطیری فضا قائم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

مظہر الزماں خاں نے اپنا تخلیقی سفر جس عہد میں شروع کیا وہ دراصل جدید یوں کا عہد تھا جس میں بات صاف آسان اور سادہ زبان میں کہنے کے بجائے پر پیچ اور دورازکار تشبیہات واستعارے اور علامتوں میں کہی جاتی تھی .اس ناول کی ابتدا اور انتہا کے درمیان مختلف علامتی موضوعات مثلا ایک منظر، جنئن،زمین پرٹھہری ہوئی رات،کچلی ہوئی شناخت،دھند اور بستی،اگلے موسم کا انتظار،پنبئہ ابر میں شمر کی آنکھ، دھوپ کے پرندے،زوال آمدہ زمین پر آخری دستک بجو کا،پتھر میں بیج،کوچ ایک اداس دوپہر کی کہانی،دنیا، چھوڑا ہوا گھر،واچ مین،عجائب خانہ،کتا گاڑی،چوتھی دنیا،اونگھ،آخری کھیل،جنگ عنوان ہے اس کا،مشک نامہ،اکیلا سائبان،کوّے،رات ایک حقیقت تھی دن ایک خواب ہے،دن زمین اور آخری زمین وغیرہ کے ذریعے کہانی کو اجمال اور تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔اس میں کہانیاں انسانی تاریخ کی بھی علامت ہیں اور وہ تجربے بھی ہیں جن کے سہارے انسان اپنی زندگی بسر کرتا رہا ہے اور کرتا رہے گا۔اس ناول میں ہابیل اور قابیل کا ذکر کر کے ناول نگار نے صنعت تلمیح سے بھی کام لیا ہے۔ ہابیل و قابیل کے تاریخی واقعہ کو مصنف نے پہلی لاش،پہلا قتل،پہلی چیخ،پہلا ماتم،پہلا کندھا،پہلی زمین وغیرہ سے تعبیر کیا ہے اور اسے رمزوکنایہ اور علامتوں کے پیرایہ میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی اُس کا لے کوے کا بھی تذکرہ ہے جس نے قابیل کو لاش دفن کرنے کا طریقہ بتایا تھا اور اس کو دیکھ کر قابیل نے ہابیل کو دفن کیا تھا۔ اس واقعہ کو قرآن مجید میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں حاشیائی ادب میں ’فائر ایریا‘ کا مقام- ڈاکٹر سلمان فیصل)

مابعد جدید فکشن نگاروں میں شموئل احمد نے اپنے موضوع ،اسلوب اور تکنیک کی بنیاد پر اپنے ہم عصروں ایک اہم مقام حاصل کیا۔اسلوبیاتی سطح پر شموئل احمد کے ناولوں کی سب سے اہم خصوصیت اس کی زبردست  Readability ہے۔ان کا پہلا ناول ’ندی‘ ہے ۔اس ناول میں ازدواجی زندگی میں مرد اور عورت کے تعلقات ،زندگی میں شوخی اور چنچل پن، آزادی سے زندگی گزارنے کے طور طریقے میں عورت کے لطیف جنسی جذبات و احساسات کی عدم تکمیلیت، مرد کے روبوٹنگ سسٹم ،میکانکی طرز عمل اور اصول و ضوابط کی پابندیوں سے انحراف ،فطرت سے ہم آغوش ہونے کی خواہش میں ناکامی،ظاہری و باطنی تصادم ،روایتی اور غیر روایتی صورتحال سے پیدا ہونے والی ذہنی و نفسیاتی الجھنوں کو جن اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ناول کی کمیت اور کیفیت کو بیان کرنے کے لیے ناول نگار اساطیری اسلوب کا بھی سہارا لیتا ہے تاکہ کم سے کم لفظوں میں زیادہ سے زیادہ بات کہی جا سکے۔شموئل نے بھی اساطیری اسلوب کا سہارا لیا  اور کہانی ایک نئی روح پھونک دی۔اساطیری اسلوب کا ایک نمونہ ملاحظہ کیجیے:

’’ہر طرف جل تھل تھا۔برہما اور وشنو بچ گئے۔سرشٹی کی استھاپنا پھر ہوئی تھی۔دونوں تکرار میں الجھ گئے  ہم بڑے کہ تم بڑے۔۔۔فیصلہ کچھ نہیں ہوا۔تب آکاش وانی ہوئی اور ایک جیوتی لنگ پرکٹ ہواکہ اس کا جو انت دیکھے وہی بڑا۔ہزاروں سال بیت گئے۔کسی کو انت نہیں دکھا۔برہما ہار ماننے والے نہیں تھے۔کام دھنیوں کو چپکے سے راضی کیا۔تینوں پھول کیتکی،جیأ ندھوک کو بھی گواہ بنایا اور وشنو سے بولے۔۔۔ہم نے جیوتی لنگ کا انت دیکھ لیا۔گواہوں نے حامی بھر دی۔تبھی آکاش وانی ہوئی۔برہما جی کا پول کھلا۔اس لیے برہما جی کی پوجا ہر جگہ نہیں ہوتی۔تینوں پھول بھی شیو جی کو نہیں چڑھتے۔کام دھنیوں کا منھ بھی اسی سمے اَپوتر گھوشت ہوا۔برہما نے ایشور ہونے کا دعویٰ چھوڑا۔دونوں نے سویکار کیا کہ ایشور ہی جیوتی لنگ ہے۔تب ایک جیوتی پرکٹ ہوئی اور گوری شنکر کے درشن ہوئے۔برہماجی کو پشکر میں پوجے جانے کا وردان ملا۔برہما اور وشنو کی ارادھناچلتی رہی۔پنچ مکھی شیو آٹھ ہاتھوں میں  جے مالا اور امرت سے بھرا کمنڈل لیے پرکٹ ہوئے۔برہما کو سرشٹی رچنا اور وشنو کو سرشٹی پالن کا اُپدیش ملا۔پنچ مکھی شیو خود جیوتی لنگ بن کر  پشوپتی ناتھ کے روپ میں استھا پت ہو گئے۔‘‘62؎

’موت کی کتاب‘ خالد جاوید صاحب کا پہلا ناول ہے۔اس ناول کی اشاعت سے ادبی دنیا میں ہلچل سی پیدا ہوگئی جس سے وہ صرف افسانہ نگار ہی نہیں بلکہ ایک صاحب اسلوب ناول نگار کی حیثیت سے بھی متعارف ہوئے۔اس ناول کا موضوع بہت ہی مختصرہے۔ ایک چھوٹے سے واقعے سے متاثر ہوکر چالیس دن میں ایک ایسا ناول لکھ دیا جس میں پہلی باررحم مادر میں پل رہے بچے کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کی ہے۔میرے مطالعے میں ابھی تک اردو میں اس طرح کا ناول سامنے نہیں آیا جس میں ’رحم مادر میں نشو نما پارہے بچے کے سر میں چوٹ لگ جانے سے اس بچے پر جو اثر ہوا ‘اس کیفیت اور صورتحال کو موضوع بنا کر کوئی ناول لکھا گیاہو۔ اسلوبیاتی سطح پر یہ تجر بہ بہت کامیاب رہا جس کی ناقدین نے تعریف بھی کی ہے۔لیکن اس ناول کی اشاعت پر بعض ادیبوں نے بہت زیادہ ناک بھنو بھی چڑھائے اور اس کی پرزور مخالفت بھی کی۔لیکن سنجیدہ ناقدین نے اس تجربے کی پذیرائی کرتے ہوئے اس کی پُر زور تائید بھی کی۔اعتراضات سے نہ تو ناول کی قدر و قیمت میں کوئی کمی واقع ہوئی  اور نہ ہی تخلیق کار پر اس طرح کے اعتراض سے کوئی فرق پڑا۔بلکہ قارئین کے تمام اعتراض کا ناقدین ادب نے کھل کر جواب بھی دیا۔اس کی اہمیت اور اس کے افادی پہلوئوں کو اُجاگر کیاگیا۔

اس ناول کا نام اور انتساب دونوں ہی قاری کو چونکاتا ہے۔نام سے تو بعد میں بحث ہوگی لیکن انتساب ’جو سنسکرت زبان کے پُر اسرا حرف ’ری‘اور اس ناول کے آخری ورق کے نام‘کیا ہے۔سنسکرت حرف ’ری‘ کی معنویت کو سمجھنے کے لیے ہندو دیو مالا کا مطالعہ نا گزیر ہے۔یہ ایک علامتی حرف ہے۔جس کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ’سنسکرت کی ری دھاتوں پر غور کریں تو یہ بات اور صاف ہو جاتی ہے۔پتھر پر خراشیں ڈالنا،اسے ادھیڑنا، رگڑنا اور تکلیف پہنچانا۔لکھنا یہی سب تو ہے۔ری دھتوں کے مطابق ’لکھنا ‘ وہ ہے کہ مصنف اور اس کی تحریر میں کو ئی دوئی یا دوری نہ باقی رہے۔ اس طرح کے علامتی حرف کا علامتی بیانیہ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ رِشی کا معتبر ’رس‘ یا ’درس‘ ہے جو دیکھنا کے ہم معنی ہے۔یہیں سے رِشی نکلا ہے۔جس کا مطلب’ دکھانے کا سبب‘ ہے۔اس ناول میں فن کار نے جو دیکھنے اور دکھانے کی کوشش کی ہے، یہ لفظ اسی کی علامت ہے۔اور آخری ورق جو سادہ ہے،اس کی بھی معنویت سمجھنی ضروری ہے۔سادہ ہونا بھی علامت ہے۔بہر حال ناول کے نام اور علامتی انتساب سے ہی اندازہ لگایا  جا سکتا ہے کہ یہ ناول کیسا ہوگا۔ناول کے نام اور انتساب کے علاوہ اس کی فہرست بھی دوسرے ناول نگاروں سے منفرد  ہے۔اکیسویں صدی کے ابتدائی تخلیق کاروں کی تخلیقات میں اس طرح کا انتساب یا فہرست کسی کے یہاں نظر نہیں آتی۔عرض مصنف اور مقدمہ کے علاوہ پہلا ورق سے انیسویں ورق تک کے بعد آخری ورق کا سادہ ہونا،اور سب سے آخر میں’لا محدود اور بے کراں زمانوں تک۔۔۔۔۔‘پر ناول کا اختتام، ایک نئے اسلوب،نئی تکنیک اور نیا ٹرینڈ قائم کرنے کی شعوری کوشش ہے۔اس ناول کے حوالے سے ایک اہم بات جس کاذکر ہو چکا ہے کہ یہ ایک تجرباتی ناول ہے۔اس میں اول تا آخر تجربہ ہی تجربہ ہے۔

اکیسویں صدی جسے ناول کی صدی بھی کہا جانے لگا ہے،اس میں فکشن تخلیق کاروں کی ایک نئی نسل ابھر کر آرہی ہے جو فکشن میں نئے نئے موضوعات و اسالیب کی پیش کش کے ذریعہ اپنی شناخت مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔ اس صدی کے تخلیق کاروں کی خاص بات یہ ہے کہ یہ کسی ازم کے پابند نظرنہیں آتے۔ یہ اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کو اپنے تخیل کی مدد سے واقعات و حادثات کو نفسیاتی،سماجی، مذہبی، سیاسی اور تہذیبی و ثقافتی بیانیہ کے ذریعہ عصری منظرنامے کا حصہ بناتے ہیں۔ ایسے فکشن تخلیق کاروں میں رحمن عباس کا نام بھی لیا جا سکتا ہے۔انھوں نے اپنے ناول’روحزن‘ میں اسطوری اسلوب کا سہارا لیا ہے۔

اس ناول کا اساطیری پہلو یہ ہے کہ  پار وتی ہل،چاہ بہار،ممبا دیوی،دیو، میخائیل سنگھ،عزرائیل سنگھ،اجنہ اور شیاطین، سفید کبوتروں کی علامتوں کے سہارے کہانی کی تفصیلات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔کتاب الحکمت بین العالم،حیاتی دور اور ہمارے جین کا خاکہ،کائنات، اندھیرا اور روح، روح اور جسم کا تعلق، یاجوج ماجوج، بیت الارواح کے ذریعے بہت سارے جنسی، جذباتی، نفسیاتی، نظریاتی،فکری،فطری و غیر فطری،اسلامی اور غیر اسلامی حقائق کا اظہار بھی کیا ہے۔یہ تمام پہلو وہ ہیں جو قاری کو ناول پڑھنے کی طرف نہ صرف راغب کرتے ہیں بلکہ پڑھنے پر مجبور بھی کرتے ہیں۔

اس ناول میں تقریباً دس ایسی علامتیں پیش کی گئی ہیں جو ناول کے عنوانات کی تفہیم میں آسانی پیدا کرتی ہیں۔ کچھ علامتیں ایسی ہیں جو چینی مائتھولوجی سے ماخوذ ہیں مثلاً Yinعورت کی توانائی اور Yangمرد کی توانائی کی علامت ہے۔کچھ Greekمائتھو لوجی سے ہے مثلاً Nyxرات اورErebusتاریکی کا بیٹاہے اور نیند کی علامت ہے۔اس کے علاوہ Eye of Godیعنی خالق کی آنکھ۔یہ ہندوستان کے علاوہ اور کئی جگہ اساطیر میں اس کا تصور پایا جاتا ہے۔یہ Archetypeمیں تحفظ کا احساس دلاتا ہے اور ساتھ میں غلط کام نہ کرنے کی تلقین بھی کرتا رہتا ہے۔ایک اور علامت Kokopelliکی ہے۔یہ South Westاور United State میں زرخیزی اور افزائش نسل کی علامت ہے۔نیز کالی ماں جو ہندوستانی اساطیر سے ماخوذ ہے اور جس کی ہندوستان میں پوجا کی جاتی ہے یہ انسانوں کے تحفظ کی دیوی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ان سب کے علاوہ ایک اور علامت ’سوستیکا‘ہے یہ ہندوستانی اساطیر کے ساتھ اور کئی دوسرے ممالک کی اساطیر میں بھی پایا جاتا ہے۔یہ دیوتا وشنو کی بھی علامت ہے۔اس علامت کو حصول برکت اور خوشحالی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔مزید ایک علامت اِنکی(Enki)کی ہے جسے زمینی خدا کہا جاتا ہے۔یہ دراصل مٹی اور پانی کے رشتے سے متشکل ہونے والی زندگی کی علامت ہے۔اس کی تفصیل ناول نگار کے علامتی اور اساطیری اسلوب میں ملاحظہ کیجیے:

’’چاہ بہار ایران کی ایک ساحلی پٹی ہے جہاں سے چالیس کلومیٹر دور ’اِنکی‘(Enki)کا ایک مندر ہے جسے زرتشوں کے ایک قبیلے نے پندرہ سو برسوں سے خفیہ طور پر تحفظ فراہم کر رکھا ہے۔ (اِن کی کا مطلب:زمین کا خدا ہے) اس مندر میں ہزاروں سال پرانی ایک مورتی ہے لیکن زرتشوں نے مورتی کو سات حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔سخت گیر افراد یا ریاستی ملازمین کی آمد پر وہ اِنکی کے حصے الگ الگ مقامات پر چھپا دیا کرتے تھے۔یہ قبیلہ ہمیشہ سنسان اور بیابان علاقوں میں قیام کرتا تھا۔اس کی اپنی ایک الہامی کتاب تھی جس کا بہت سارا متن زبور سے مشابہت رکھتا تھا۔اِنکی کے پاس نفس اور تہذیب اور تمام جادؤں کا علم تھا۔ اِن کی کو زیر زمین شفاف پانی کا خدا بھی تصور کیا جاتا تھا اور ممبا دیوی جس نے صرف کھارے پانی پر گزارا کیا تھا  اسے شفاف میٹھے پانی میں کچھ عرصہ گزارنے کی چاہت تھی۔ کہتے ہیں کہ نممو جو اِنکی کی ماں ہے اس کا دیدار بھی ممبا دیوی کر چکی ہے۔نممو بحرین میں رہا کرتی تھی جہاں عرب سمندر کا پانی خلیج فارس کے نمکین پانی میں ملتا ہے۔پانی کے اس اختلاط کو سمری زبان میں نممو کہا جاتا تھا۔اِن کی کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی بیٹی ننسار کے ساتھ مباشرت کی تھی اور اپنی بیٹی کی بیٹی ننکوررا سے بھی اس کا اختلاط رہا۔اِنکی کی اس مباشرت کا ایک سبب اسکے نفس کی تنہائی بتایا جاتا ہے۔‘‘115؎

اسی طرح صفحہ 166پر پاروتی ہل پر پانچ مندروں میں سے کارتیکیہ جو محبت،جنگ، عقلمندی اور فتح یابی کا خدا ہے۔شیو اور پاروتی کا بیٹا۔والّی اور دیویانی اس کی بیویاں تھیں، ان کے بارے میں ایمل کے جنسی خیالات کے ذریعہ سمجھا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ مور، ناگ، سانپ،راکھشش، فال اِکینوکس(Fall Equinox) جسے مصری تہذیب کی تاریخ میںالہامی وقت قرار دیا جاتا ہے، ان سب کی تفصیل پیش کی گئی ہے۔لیکن جتنی بھی علامتیں پیش کی گئی ہیںان سب کو  کہیں نہ کہیں جنس کے طور پرہی برتا گیا ہے۔اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری جگہوں پر اساطیر اور علامتوں کے ذریعہ ناول کی فضا کو بامعنی اور تہہ دار بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

novel aur asateerادبی میراثاساطیرخالد جاویدشموئل احمدموت کی کتابناول
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں