انتظارحسین (پیدائش:۲۱؍دسمبر۱۹۲۳ء ،وفات:۲؍فروری ۲۰۱۶ء) کثیرالجہت ادبی شخصیت کے حامل ہیں۔انھوں نے اردوادب کی مختلف اصناف پرطبع آزمائی کی ہے۔ان کی ادبی تخلیقات میں افسانوں اورناولوں کابڑاحصہ یقیناہے لیکن ان کی شہرت ومقبولیت صرف افسانہ نگاری اورناول نگاری تک ہی محدودنہیں بلکہ وہ ایک اچھے کالم نگاربھی ہیں ۔عام طورسے ایساکم ہی ہوتاہے کہ ایک اچھاافسانہ نگارگہری نظررکھنے والاصحافی بھی ہولیکن انتظارحسین نے صحافت کی ذمہ داری بھی بہت اچھے اورخوبصورت ڈھنگ سے نباہی ہے۔ان کی صحافتی زندگی کا آغاز ۱۹۴۷ء میں ہفت روزہ ’’نظام ‘‘کی ادارت سے ہوا جوتقسیم ہندکے بعد بمبئی سے لاہور میں منتقل ہوگیاتھا۔دوسال بعد ۱۹۴۹ء میں وہ روز نامہ ’’امروز‘‘لاہور سے منسلک ہوگئے ۔ اس کے بعد ۱۹۵۳ء میں روزنامہ ’’آفاق‘‘ لاہور سے وابستہ ہوکر کالم نگاری کاآغاز کیا لیکن جب پاکستان میں پہلا مارشل لانافذ ہواتو ’’آفاق ‘‘بند ہوگیااور انتظار حسین بے روزگار ہوگئے ۔کچھ دنوں تک وہ فری لانسر ترجمہ نگار کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور پھر ’’نوائے وقت‘‘سے منسلک ہوگئے ۔لیکن انتظار حسین کی کالم نگاری کاباقاعدہ سلسلہ ۱۹۶۳ء میں روزنامہ ’’مشرق‘‘ سے وابستگی کے ساتھ شروع ہوتاہے جہاں وہ تسلسل کے ساتھ۱۹۸۸ء تک ’’لاہورنامہ‘‘ کے عنوان سے کالم لکھتے رہے ہیں۔’’مشرق ‘‘سے علاحدگی کے بعدانھوں نے ہفت روزہ ’’آج کل ‘‘ کے لیے کچھ کالم لکھے تھے جو’’عطرفتنہ ‘‘ کے عنوان کے تحت اس پرچے میں شائع ہوئے۔
فکشن کی دنیامیں انتظارحسین کے کارنامے اتنے وسیع ہیں کہ لوگوں کی توجہ اس طرف کم ہی جاتی ہے کہ انھوں نے اپنی زندگی کاایک قابل لحاظ حصہ کالم نگاری میں بھی صرف کیاہے۔یہ حقیقت ہے کہ ان کے کالم ان کے افسانوں اورناولوں کا بدل نہیں ہوسکتے ہیں لیکن یہ ایک ہی شخصیت کے طرز احساس کی دوصورتیں ہیں۔اس لیے ان کالموں کو صرف معمولی طنزیہ ومزاحیہ مضامین سمجھ کر نظراندازنہیں کیا جاسکتاہے۔ انتظارحسین کے یہ کالم اس لحاظ سے اہم ہیںکہ ان کالموں میں پاکستان کی مختلف تصویریں ہیں۔اگر ان کالموں کوایک وسیع سیاق وسباق میںرکھ کر مطالعہ کیاجائے تو معلوم ہوگاکہ یہ ان واقعات کواپنے اندر سموئے ہوئے ہیں جو ماضی میں پاکستان میں پیش آچکے ہیں۔ساتھ ہی ان کالموں میں ان واقعات کے نتیجے میں پیداہونے والے مسائل کابھی تذکرہ کیاگیا ہے جن کاپاکستان پچھلے کئی سالوں سے سامناکررہاتھا۔ ان کالموں میں جن زمانوں، ادیبوں، دانشوروں اور ادبی محفلوں کو پیش کیاگیاہے اب وہ اپنے حقیقی وجود سے ماورا تقریباً ایک افسانوی حیثیت حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح سے ان کالموں کی حیثیت پاکستان کی سیاسی،سماجی ،تہذیبی اورادبی تاریخ کی ہوجاتی ہے۔ یہ کالم جہاں پاکستان کی ادبی ،تہذیبی اورسماجی تاریخ کااحاطہ کرتے ہیں وہیں انتظارحسین کی شخصیت وفن کے بھی عکاس وترجمان ہیں۔
ایک سنجیدہ ادیب کے یہاں صحافت اورادب کے درمیان تقسیم ہمیشہ موجودرہی ہے ۔بسااوقات یہ تقسیم غیرمنصفانہ حدتک بڑھ جاتی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ صحافت فوری چیزوں کااحاطہ کرتی ہے جس کی عمرعموماًبہت کم ہوتی ہے ۔جبکہ ادب ا ن حقیقتوں کااحاطہ کرتاہے جن کی حیثیت دائمی ہوتی ہے۔انتظار حسین کاخیال تھا کہ جوصحافی بن جاتاہے وہ ادیب نہیں رہتاہے۔لہذاوہ ادیب کو صحافی سے بہت دوررکھناچاہتے تھے۔اتنی دور کہ صحافی کاسایہ بھی ادیب پرنہ پڑسکے۔یہی وجہ تھی کہ وہ ’’آفاق‘‘اور’’نوائے وقت ‘‘میں ’’خنداں‘‘کے فرضی نام سے کالم لکھتے تھے۔اورانگریزی میں’’ دیوجانس ‘‘کے نام سے لکھتے تھے۔ مگر جب ’’مشرق‘‘ سے وابستہ ہوئے تو اس کے مالک عنایت اللہ صاحب نے کھلے لفظوں میں یہ کہہ دیاکہ یہاں ’’خنداں ‘‘کافرضی نام نہیں چلے گا۔اب آپ انتظار حسین کے نام سے کالم لکھیں گے۔انتظارحسین اس شرط سے ذہنی الجھن میں پڑگئے کہ کیاکریں صحافت ترک کریں یاادب سے ناطہ توڑیں۔بھاگتے ہوئے اپنے جگری دوست ناصرکاظمی کے پاس گئے پوری ذہنی کیفیت بیان کی۔ناصر کاظمی نے بہت اطمینان سے کہا’’میاں ادب چھوڑوصحافی بن جائو۔پریہ بات یادرکھوادب تمھیں نہیں چھوڑے گا۔اپنی دونوں حیثیتوں کوالگ الگ رکھنا تمھارا کڑا امتحان ہے۔‘‘اس دن سے انتظار حسین اپنے اصلی نام سے کالم لکھنے لگے۔ ( یہ بھی پڑھیں فرقہ پرستی اور اس کا تدارک – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
انتظار حسین نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۸۸ء تک بے شمار کالم لکھے جوبعد میں کتابی شکل میں شائع ہوئے ۔ان کے کالموں کاپہلامجموعہ ’’ذرّے‘‘کے نام سے ۱۹۷۶ء میں ڈاکٹر سہیل احمد کے دیباچے کے ساتھ شائع ہوا۔دوسرامجموعہ ’’ملاقاتیں ‘‘کے نام سے نیاز احمد نے ۲۰۰۱ء میں شائع کیا۔تیسرامجموعہ سلیم الرحمان صاحب کی مددسے ’’بوندبوند ‘‘کے نام سے۲۰۰۴ء میں شائع ہوا،اس مجموعے میں اب’’ذرے ‘‘بھی شامل ہے۔چوتھا مجموعہ ’’قطرے میں دریا‘‘کے نام سے ۲۰۱۰ء میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ اس مجموعے کی اشاعت کاسبب بیان کرتے ہوئے انتظار حسین لکھتے ہیں :
’’ بوندبوند کی اشاعت کے بعد میں نے اپنی دانست میںاس انبارسے فراغت پالی تھی لیکن ہوایوں کہ میں اپنے دوسرے انباروں کوٹٹول رہاتھاکہ ان کے بیچ سے ایک مسودہ برآمد ہوگیا۔پہلے میں حیران ہوا۔پھر یاد آیا کہ اچھافلاں فلاں دوست کی انگیخت پر کالموں کے ایک انتخاب کاڈول ڈالاتھا۔پھرسب کچھ کرکراکے بھول گیا۔توسوچا کہ چلئے یک نہ شددوشد ۔وہ جومیں’’بوندبوند‘‘مرتب کرتے ہوئے پریشان ہورہاتھاکہ وہ کالم جومیں شامل کرناچاہتاتھاوہ کہاں گم ہوگئے ۔وہ اس انتخاب میں چھپے رکھے تھے ۔ایسے کچھ کالم جویہاں شامل ہونے چاہیئے تھے اب بھی گم ہیں ۔خیر جوبیندہ گیاسوموتی ۔اورہاں اس میں تھوڑااضافہ بھی کیاگیاہے۔’’آج کل‘‘کے کالموں میں سے نمونے کے کچھ کالم بھی اس انتخاب میں شامل کردیئے ہیں۔‘‘۱؎
انتظار حسین نے اپنے کالموں میں لاہور شہر کے تہذیبی پس منظرمیں وہاں کی متغیر ہوتی علمی ،ادبی ، ثقافتی اور سماجی زندگی کوپیش کیاہے۔وہ اپنے کالم کے لیے لاہور کی ادبی محفلوں اورثقافتی تقریبات سے مواد حاصل کرتے تھے ۔وہ ان محفلوں اورجلسوں میں شریک ہوتے اور اپنے مطلب ومقصد کی بات کوذہن میں محفوظ کرلیتے تھے ۔وہ علمی وادبی مباحث کے مختلف پہلوؤں کادقیق نظرسے جائزہ لیتے اورپھر اپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں اسے پیش کرتے تھے۔انھوں نے کبھی بھی کالم کے مواد کے لیے قلم ،نوٹ بک اورڈائری کابکھیڑانہیں پالاجیساکہ دوسرے کالم نگارعام طورپر کرتے ہیں ۔انتظار حسین اپنی کالم نویسی کے طریقے کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’میں پوراکالم ایک ہی نشست میں لکھتاہوں ۔کبھی گھنٹہ دوگھنٹے میں،کبھی کچھ زیادہ وقت میں۔تقریب یاجلسے میں جاتا ہوں توکاغذقلم نہیں پاسبان عقل ساتھ ہوتاہے ۔وہی کالم کاخاکہ یااس کے بنیادی نکات نوٹ کرتاہے۔ڈائری رکھنے کی بھی عادت نہیں ،حوالوں کی ضرورت حافظہ پوری کرتاہے۔‘‘۲؎
انتظارحسین اپنے ایک کالم ’’رنگوں کی تہذیب ‘‘میں یہ سوال پوچھتے ہیں کہ اگرملتان کارنگ نیلاہے توکیا لاہورکابھی اپنا کوئی خاص رنگ ہے۔یہ سوال دراصل لاہورشہر کی تیزی سے بدلتی ہوئی تہذیبی زندگی پرروشنی ڈالتاہے کہ اس شہرنے اتنے کم وقت میں کتنے رنگ بدلے ہیں۔لاہور اپنے متعد درنگوں اوررجحانوں کے ساتھ ان کالموں میں زندہ ہے ۔یہ ایک ایساشہر ہے جواپنے تعلیم یافتہ لوگوں کے ذریعہ اپنی ایک الگ شناخت قائم کرتاہے ۔
انتظارحسین نے اپنے کالموں میں تہذیبی وادبی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات ومسائل کو بھی جگہ دی ہے ۔وہ سیاسی مسائل کوعام لوگوں کی زبانی بیان کرتے ہیں۔تانگے والوں اورنجومیوں سے عالمی جنگ کی پیشین گوئی کرادیتے ہیں ۔اسی طرح انھوں نے ’’جنگ ہوگی یانہیں ہوگی‘‘میں ۱۹۷۱ء کی جنگ سے ذراپہلے کی صورتِ حال اورجنگ کے ممکنہ نقصانات کوعام لوگوں کے رجحانات اورردعمل کے ذریعے پیش کیاہے کہ اس وقت جب کہ جنگ ہونے کے اندیشے تھے توپاکستان کی عوام کس طرح کی ذہنی ونفسیاتی الجھنوں میں مبتلاتھی اورکتنی پریشان تھی۔ جبکہ حکومت اوراس کے کارندے بالکل مطمئن تھے۔ ان میں کسی طرح کی کوئی حرکت و بے چینی نہیں پائی جاتی تھی۔
’’جنگ ایسی چیز تونہیں جس کی تمناکی جائے۔لیکن اگرجنگ کے امکانت واقعی پیداہوجائیں توانفرادی اوراجتماعی طورپراس کے لیے ایسی تیاری توکی جائے کہ یہ مرحلہ آجانے پرآدمی استقامت سے اس قیامت کامقابلہ کرسکے ۔مگربھائی ہم تواس شہرمیں جنگ کی باتیں ہی باتیں دیکھتے ہیں ،باقی توکوئی ایسے آثارنظرآتے نہیں جس سے یہ ثابت ہوکہ یہاں بھی لوگوں کوجنگ کی سنگین صورت حال کااحساس ہے۔یہی حال ہمارے یاروں کاہے۔یہی حال محکمہ شہری دفاع کاہے ۔توہماراجی یاروں سے یہ پوچھنے کوچاہتاہے کہ بھائی تم جنگ کوکیاسمجھتے ہو۔‘‘۳؎
انتظارحسین کے کالموں میں موضوعات کاتنوع پایاجاتاہے۔وہ لاہور شہر کی رنگارنگ زندگی ،روزمرہ کے معاملات ، چھوٹی چھوٹی باتیں اورغیراہم ومعمولی قصے قضیے کواپنے اچھوتے انداز وبیان سے ایک وسیع تہذیبی پس منظر رکھ کر اس طرح پیش کرتے ہیں کہ معمولی بات میں بھی تخصیص پیداہوجاتی ہے اورساتھ ہی لاہور شہر اپنی تمام تر نیرنگیوں کے ساتھ ہماری آنکھوں کے سامنے چلتاپھرتا نظر آتا ہے ۔ ڈاکٹر سہیل احمد خان ان کے کالموں کے موضوعات کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ ان کالم میں شہر کی مختلف تصویریں ہیں۔دانشوروں کی تصویریں،ادبی جلسوں کی تصویریں ، مذاکروں ، بحثوں اور مجمعوں کی روداد۔جنگ کے دنوں اور بدلتے ہوئے موسموں کی تصویریں۔جنازوں اوررفتگاں کاماتم ،غرضیکہ ایک شہر کی بارہ چودہ سال کی کتھا۔ان تصویروں کے پس منظرمیںقومی تاریخ کے مختلف مراحل بھی ہیں اوران مرحلوں پرمختلف طرح کاردعمل بھی ان کالموں کاموضوع ہے۔ان کالموں سے شہر کی جو تصویر بنتی ہے اس میں خاموشی کے منطقے گم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔شور پارے منظر پرچھاتادکھائی دیتاہے اورمسائل کی تعدادبڑھتی نظرآتی ہے۔بہتر ہے کہ ان کالموں کی حدود کوشروع ہی سے پہچان لیاجائے۔انتظارحسین کاموضوع شہر کی تہذیبی زندگی ہے۔سیاسی جلسوں یاجرائم پیشہ ماحول ،منشیات کے اڈوں، بھک منگوں اوریتیم خانوں کی تصویریں بہت کم دکھائی دیتی ہیں یہ اس کاموضوع ہی نہیں۔وہ توتہذیبی زندگی کے مختلف واقعات کونقل کرتاہے اوراسی حوالے سے شعور اور طرز احساس کی تبدیلیوں کو سامنے لاتاہے ۔ان کالموں میں موتیے کے پھول بیچنے والے، پنواڑی،تہوار منانے والے ،دانشور اور دوسرے کرداراس وسیع تہذیبی پس منظرکاحصہ بن جاتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی تصویروں پرمبنی یہ کالم ڈکنزکے ناولوں کی وسیع کائنات کی طرح شہرکی مربوط داستان نہیں بن سکتے کیوں کی یہ چیزکالم نگاروں کی حدودسے باہر ہے۔البتہ یہ چھوٹی چھوٹی تصویریں مل کر ایک مجموعی تاثربناتی ہیں اورایک تہذیب کے بکھرنے کی داستان کہتی ہیں۔‘‘۴؎
انتظار حسین کالم نگاری کے فنی اصول وتقاضے سے بھی بخوبی واقف ہیں ۔اسی لیے وہ کالم کو اپنے مخصوص اور منفرد اسلوب میں اس طرح پیش کرتے ہیںکہ قاری اس سے معلومات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ محظوظ بھی ہوسکے۔کالم اور اس کے فنی تقاضوں کے حوالے سے انتظار حسین ’’بوندبوند‘‘میں لکھتے ہیں :
’’کالم صحافت کی ایک صنف ہے ۔اس کے اپنے تقاضے ہیں جن کاادب سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ایک کالم کو اوّلاًکالم ہوناچاہیے۔اگروہ کالم کے تقاضوں کوفراموش کرکے ادب پارہ بننے کاجویاہے توپھر اس کی جگہ اخبار میں نہیں ہے ۔یعنی پھراسے ادبی رسالہ میں اپنی جگہ تلاش کرنی چاہیے۔‘‘ ۵؎
اسی طرح ’’قطرے میں دریا‘‘کے پیش لفظ میں کالم کی خصوصیات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کالم کوکالم کی صفات سے متصف ہوناچاہیے ۔میں نے ہمیشہ اس بات کی کوشش کی ہے کہ میرے کالم کالم ہی رہیں ادب کے دائرے میں داخل نہ ہوں،وہ اس تعلق سے لکھتے ہیں :
’’کالم صحافت کامیوہ ہے۔روزانہ کی صحافت نے اسے پروان چڑھایاہے جو صحافت کی تقدیروہ کالم کی تقدیر ۔میں نے کالم کو کالم نگاری کے تقاضوں کے تحت لکھنے کی کوشش کی ہے ۔اسے ادب پارہ بنانے کے خبط میں کبھی گرفتارنہیں ہوا۔‘‘۶؎
انتظارحسین کومرقع نگاری میں کمال حاصل ہے۔خاص طورپرجلسے جلوس کی منظر کشی تووہ اس طرح کرتے ہیں کہ ان کے کالم ایک دلچسپ کالیدواسکوپ(Kaleidoscope)کے طرح ہوجاتے ہیں جس میں ہم ادیبوں،شاعروں، دانشوروں، پنواڑیوں ، موسیقاروں ، مصوروں موتیے کے پھول بیچنے والوں حتی کہ سیاستدانوں کو بھی دیکھ سکتے ہیں۔’’ہنگامہ خیز دنوں سے سنسان دنوں تک ‘‘میں وہ ایک کرفیو کامنظر بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’کرفیوکے وقت میں وقفہ کیا آیا دریا کا بند ٹوٹ گیا،یایہ کہ کابک کے پٹ کھل گئے۔جوہے وہ گھرسے نکل پڑاہے بلکہ ابل پڑاہے اور اڑاچلاجارہاہے جیسے گھرگھر نہ ہوئے زنداں ہوگئے ہیں اوراب کھلی فضامیں سانس لینے کے لیے لوگ گھروں سے نکلے ہوئے ہیں اورسڑکوں پرامڈے ہوئے ہیں ۔جسے جوسواری ملی وہ اس میں سوار چل پڑا۔جسے سواری نہ ملی وہ پیدل ہی سٹ پٹ کرتاروانہ ہوا۔سڑکوں پر ایسی سراسمیگی ہم نے کبھی کاہے کودیکھی تھی ۔سواریوں کی ریل پیل میں سواری سواری سے الجھ گئی ۔ٹریفک کے گرداب بن گئے ۔رستے بند ہوگئے اورہم نے یہ بھی منظردیکھا کہ ٹریفک کاسپاہی غائب ہے ۔پبلک میں سے کوئی نوجوان کرسی چوراہے پر ڈال کر کھڑاہوگیا اور ٹریفک کوہدایت دینے کے فرائض انجام دینے لگا۔‘‘۷؎
کالم نگاری میں اسلوب اورزبان وبیان کوبہت اہمیت حاصل ہے ۔دراصل کالم نگار کااسلوب اوراندازبیان ہی وہ چیز ہے جو قارئین کی توجہ کواپنی طرف مبذول کراتاہے ۔کالم نگار کااسلوب اورانداز تحریر ہی اسے قارئین کے دلوں میں زندہ رکھتی ہے۔اسلوب اورزبان وبیان کے لحاظ سے بھی انتظارحسین کے کالم کافی اہم ہیں ۔انتظارحسین اپنے کالموں میں داستانوی اسلوب کی آمیزش سے ایک ایسی فضاتخلیق کرتے ہیں کہ قاری اس میں محو ہوجاتاہے ۔ان کاشگفتہ اسلوب نگارش،زبان وبیان کی چستی اورالفاظ کابرمحل استعمال ان کے کالموں کی جان ہیں۔وہ محاوروں کو اپنے کالموں میں اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ ہرمحاورہ انگوٹھی میں نگینہ کی مانندجڑا ہوا نظر آتا ہے۔
مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انتظارحسین نے اپنے منفرد اور انوکھے اسلوب بیان اورطرزتحریرسے کالم نگاری کے معیار کوبلند کیاہے۔انھوں نے کالم نگاری کو ایک نئی جہت عطاکی ہے جہاں کالم کی حیثیت صرف صحافتی مضامین کی نہیں رہ جاتی بلکہ وہ تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیارکرجاتے ہیں ۔ انتظارحسین کے کالم تحریری بیانیہ کے ساتھ ساتھ زبانی بیانیہ کی صفات سے بھی متصف نظرآتے ہیں ۔ وہ کالم ایسے لکھتے ہیں جیسے زبانی تاریخ داں کسی ملک کے بدلتے ہوئے زمانے کو دستاویزی طورپرقلم بندکرنے کی کوشش کررہاہو یاکوئی ماہر داستان گوداستانوی اندازمیں کہانی سنارہاہوں۔
حواشی
۱۔ انتظارحسین ،قطرے میں دریا،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۰ء ،ص۱۰
۲۔ مدیر،مرزاظفرالحسن،سہ ماہی جریدہ ،غالب ،جلد۱،شمارہ،۳،جولائی تاستمبر۱۹۷۵ء،ادارہ یادگار غالب، کراچی،ص۳۰
۳۔ انتظارحسین ،بوندبوند،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۰۴ء ،ص۲۰۰
۴۔ انتظارحسین ،قطرے میں دریا،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۰ء ،ص۱۲۔۱۳
۵۔ انتظارحسین ،بوندبوند،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۰۴ء ،ص۱۴
۶۔ انتظارحسین ،قطرے میں دریا،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۱۰ء ،ص۹
۷۔ انتظارحسین ،بوندبوند،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۲۰۰۴ء ،ص۱۴۴
ڈاکٹرابرار احمد
اسسٹنٹ پروفیسرشعبہ اردو،عربی وفارسی
پوناکالج آف آرٹس،سائنس اینڈکامرس ،پونے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]