مغربی ملکوں میں ہندوستانی قلمکاروں اور ادب شناسوں کی آمد ویسے تو بیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں میں ہی شروع ہو چکی تھی مگر یہ سلسلہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے بعد تیز سے تیز تر ہوتا گیا۔ ملک راج آنند، سجاد ظہیر اور ان کے دوسرے ترقی پسند رفقا مغرب کے مستقل باشی نہ سہی مگریہاں مغرب کے قیام کے اثرات موجود ہیں۔ اگر ہم سجاد ظہیر اور ملک راج آنند کی کہانیوں کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان میں مغرب کے طرز معاشرت سے زیادہ وہاں کا طرز فکر موجود ہے۔ اس کے مقابلے میں کرشن چند رکے بعض ناولوں یا افسانوں میں مغربی طرز زندگی کی ایسی سچی تصویریں ملتی ہیں جن کو دیکھ کر یہ کہنے کا واقعی دل چاہتا ہے کہ ’’یہ چاند سورج بھی ہیں ہمارے‘‘ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مغرب کی زیر اثر لکھے جانے والے ایسے افسانوں کی روایت جو مغرب کی کسی نہ کسی طور پر آئینہ دار ی بھی کرتے ہوں۔ برصغیر میں افسانہ نگاری کے آغاز سے کم وبیش تیس برس بعد شروع ہوتی ہے۔ یہ وقفہ اس اعتبار سے بہت زیادہ نہیں کہا جاسکتا کہ پریم چند کے قبل ہمارے یہاں بھی اردو افسانہ بس اپنے بال و پر ہی نکال سکا تھا اور اسے نہ تو کوئی وسیع فضا میسر تھی نہ میدان۔
بہرحال مغرب میں اردو افسانہ نگاری کا آغاز جن لوگوں نے باضابطہ کیا وہ تارکین وطن ہی تھے جو برصغیر کے مختلف ملکوں سے ہجرت کرکے لندن اور اس کے بعد یورپ کے مختلف ملکوں میں آباد ہوتے گئے تھے پھر یہ قافلہ اور اس سے الگ دوسرے قافلے بھی روانہ ہوئے جن کی منزل یورپ نہیں امریکہ تھی۔ وہاں بھی 1905ء سے 1960ء کے دوران قائم شدہ افسانہ نگاری کی روایت کے زیر اثر کہانیاں لکھی گئیں اور آگے چل کر 1960ء کے بعد کی روایت کو بھی موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح پر پذیرائی حاصل ہوئی۔ یہاں اس نکتے کی طرف اشارہ کردینا ضروری ہے کہ جہاں تک مغرب میں اردو نثر نگاری کے آغاز کا سوال ہے اس کا سلسلہ بہرصورت افسانہ نگاری سے قدیم ہے۔ یہی نہیں خود فکشن میں بھی دوسری اصناف پر طبع آزمائی ہوتی رہی ہے مگر افسانہ کی طرف توجہ کچھ بعد میں ہوئی۔ مثال کے طور پر تین ایسے قلمکاروں کا نام لیا جاسکتا ہے جو تارکین وطن میں سے نہیں ہیں بلکہ ان کا تعلق یورپ سے ہی ہے۔ میری مراد رالف رسل، ڈیوڈ میتھیوز اور کارلوکیولا سے ہے جن کا جنم کسی ایشیائی ملک میں نہیں ہوا بلکہ یورپ میں ہی ہوا ہے۔ ان تینوں نے اردو زبان و ادب کی گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ یہاں تک کہ رالف رسل کو تو برطانیہ کا بابائے اردو ہی تسلیم کیا جاتا رہا ہے۔ مگر ان سبھوں کی خدمات کا دائرہ کار یا تو لسانیات اور علم زبان ہے یا پھر تحقیق و تنقید اور ترجمہ۔ یہیں پر شہرئہ آفاق ادیب عبداﷲ حسین کا تذکرہ ضروری ہے جو اپنے ناول ’’ادا نسلیں‘‘ کے بعد بھی مسلسل فکشن کے چمن کی آبیاری میں مصروف رہے ہیں اور زندگی کے آخری ایام بھی برطانیہ کے ایک خوبصورت قصبے میں گزار رہے ہیں۔ گرچہ انھوں نے ناولٹ بھی لکھے اور بالآخر انگریزی زبان کی طرف رجوع ہوگئے مگر ممکن ہے ان کی افسانہ نگاری کا کوئی نمونہ تحقیق کی روشنی میں سامنے آجئے اور روایت کا حصہ بن سکے مغرب میں اردو افسانے کے حوالے سے ایک اور نکتے کی طرف توجہ ضرری ہے۔ کچھ ایسے ادیب ہیں جو چند برس انگلینڈ یا کسی دوسرے مغربی ملک میں رہے اور ان کی تحریروں میں نہ صرف ان ممالک کا طرز معاشرت بلہ طرز فکر بھی جلوہ گر ہے۔ ایسے لوگوں میں سجاد ظہیر اور ان کے رفقاء کے علاوہ غلام عباس، ضمیرالدین احمد، عزیز احمد اور ابن انشا کے نام بہ آسانی لیے جاسکتے ہیں۔ کرشن چندر کے یہاں بھی بعض خوبصورت افسانے مغرب خصوصاً لندن کے حوالے سے لکھے گئے ہیں جن میں روح عصر موجود ہے مگر یہاں ان سب کا تذکرہ چھوڑ کر محض ان لوگوں کی طرف توجہ کرنا بہتر ہے جو افسانہ نگاری سے وابستہ رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں مظہر الاسلام:ایک حیران کن کہانی کار – ڈاکٹر محمد غالب نشتر )
جیساکہ میں نے ابتدا میں عرض کیا، مغرب میں اردو افسانے کی روایت ان تارکین وطن کی قلمی کاوشوں کا نتیجہ جو ہجرت کرکے یورپ یا امریکہ گئے تھے۔ اس لیے مغرب میں اردو افسانے کی تاریخ برصغیرکے کم وبیش بیس،پچیس (20-25) برس بعد شروع ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں ہماری نگاہ مختلف تاریخی شواہد کا جائزہ لیتی ہوئی جن میں افسانہ نگاروں کی تاریخ پیدا ئش بھی ایک پہلو ہے بالآخر چند ناموں پر ٹھہر جاتی ہے۔ یہ سبھی ایسے لوگ ہیں جو تقسیم اور آزادئی ہند سے قبل برصغیر کے کسی نہ کسی علاقے میں پیدا ہوئے اور براہ پاکستان یا براہ دہلی لندن یا کناڈا وغیرہ پہنچے۔ ان لوگوں میں سرفہرست اکرام بریلوی کو رکھا جاسکتا ہے جو 1918ء میں پیدا ہوئے اور جن کی پہلی تخلیق 1938ء میں زیور طبع سے آراستہ ہوئی۔ یہ ایک ڈرامہ خوفناک محبت ہے جو اختر شیرانی کے رسالہ رومان میں شائع ہوا تھا اس کے بعد ہندوستان کے مختلف رسائل مثلاً نیرنگ خیال، ادب لطیف، ادبی دنیا اور ساقی میں ان کی تحریریں شائع ہونے لگیں۔ ایک عرصے تک بلکہ ’’فسانہ کہیں جسے‘‘ کی اشاعت تک وہ فکشن رائٹر کی حیثیت سے تو مشہور رہے مگر ان کی افسانہ نگاری کا کوئی نمونہ دستیاب نہیں ہوسکا، یہ بھی عجیب بات رہی کہ وہ اردو کی تیرسی بستی یعنی لندن میں نہ رہ کر کناڈا میں مقیم رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد وہیں بس گئے مگر ایک عرصے کے بعد مشہور شاعر عابد جعفری نے یہ انکشاف کیا کہ موصوف نے افسانے بھی لکھے ہیں سید عاشور کاظمی اس نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’1992ء میں جب میں ’’فسانہ کہیں جسے‘‘ پر کام کررہا تھا اس وقت میں نے اپنی معلومات کو کافی نہیں سمجھا… بار بار اکرام بریلوی صاحب کا نام سامنے آتا تھا اور ہر بار یہی پتہ چلتا تھا کہ اکرام بریلوی صاحب ناول لکھتے ہیں افسانہ نہیں لکھتے۔ برصغیر کی تقسیم سے پہلے ان کا جو ناول شائع ہوا تھا اس کا ذکر ہوا، ان کے ڈراموں کا ذکر ہوا، پل صراط کا ذکر ہوا مگر کسی گوشے سے یہ نہ معلوم ہوا کہ اکرام بریلوی نے افسانے بھی لکھے ہیں۔ ابھی کچھ دن ہوئے ٹورنٹو سے ممتاز شاعر عابد جعفری صاحب نے اکرام بریلوی صاحب کی تصانیف کی فہرست بھیجی اور یہ بھی بایا کہ اکرام بریلوی صاحب کے افسانوں کے دو مجموعے ’’تیز ہوا میں پتے‘‘ اور ’’تیسری نسل‘‘ چھپ رہے ہیں۔ ناول سے افسانے تک وسعت سے اختصار کی سمت سفر اس بات کی دلیل ہے کہ علم بڑھ رہا ہے۔ لفظ و معنی پر گرفت مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے۔‘‘ (۱)
اس قطعی شہادت کے بعد اکرام بریلوی کو مغرب میں اردو افسانے کا ابتدائی نقطہ تسلیم کرلینے میں جھجک نہیں ہونی چاہئے۔ ان کے فوراً بعد کے لکھنے والوں میں عمر اور قدامت کے اعتبار سے مصطفی کریم، کنول نین پرواز، شان الحق حقی، بیگم اختر جمال اور ہر چرن چائولہ کے نام آتے ہیں۔
شان الحق حقی اور کنول نین پرواز دونوں کے سن پیدائش میں صرف ایک برس کا فرق ہے، حقی 1925ء میں پیدا ہوئے اور پرواز 1926ء میں۔ چائولہ کا سن پیدائش بھی 1925ء ہی تسلیم کیا جاتا ہے۔ حقی مستقل طور پر مانٹریال (کناڈا) میں مقیم رہے۔ انھوں نے تحقیقی و تنقیدی نوعیت کے کامو ںمیں شہرت پائی مگر اصل مقبولیت انھیں ’’بھگوت گیتا‘‘ کے ترجمے سے حاصل ہوئی۔ ان کی مطبوعہ کتابوں اور ترجموں کی مجموعی تعداد دو درجن سے زیادہ ہے مگر اسے اردو افسانے کی بدقسمتی ہی سمجھنا چاہئے کہ افسانوں کا صرف ایک مجموعہ ’’شاخسانے‘‘ (مطبوعہ 1991ء ) اس فہرست میں موجود ہے۔ گرچہ ان کی پہلی کتاب انتخاب ظفر 1945ء میں منظرعام پر آئی تھی۔ بہرحال اردو افسانہ نگاروں کے لیے یہ بھی کم باعث تقویت امر نہیں کہ شان الحق حقی جیسے اسکالر نے بھی افسانے لکھے ہیں۔ اب رہی بات کنول نین پرواز کی تو ان کا فکشن رائٹر ہونا ضرور تسلیم شدہ ہے مگر افسانوں سے متعلق بس ان کا یہ بیان نظر کے سامنے ہے کہ لندن آنے سے قبل انھوں نے جو افسانے اور مضامین اور ریڈیائی فیچر لکھے تھے، وہ سب ضائع ہوگئے ہیں، چونکہ یہ افسانے اور مضامین شائع شدہ تھے، اس لیے ان کی بازیابی کی طرف سے ناامید نہیں ہونا چاہئے۔ اس فہرست میں بیگم اختر جمال جیسی روشن خیال اور تعلیم یافتہ خاتون کا نام شامل رہنا اس کے مستند ہونے کی پہچان ہے۔ موصوفہ کا تعلق علم وادب کی بستی بھوپال کے ایک معزم اور ادبی خانوادے سے ہے، ان کے افسانوں کے چار مجموعے انگلیاں فگار اپنی (1971ء) ’’زرد پتوں کا بن‘‘ (دوسرا ایڈیشن 1981ء ) سمجھوتہ ایکسپریس (1989ء ) خلائی دور کی محبت(1991ء ) کے نام سے شائع ہوچکے ہیں۔ ان کے یہاں ترقی پسند فکر اور انسان دوستی نمایاں ہے، جس کا ایک سبب ان کے شوہر کی ہمہ وقت حوصلہ افزائی بھی ہے۔ اس فہرست میں ایک اور ہمہ جہت ادیب سدی مصطفی کریم کا تعلق صوبۂ بہار کی دھرتی بودھ گیا سے ہے، جہاں وہ 1932ء میں پیدا ہوئے۔ فکری اعتبار سے وہ ایک مارکسسٹ رہے ہیں جس کا اثر ان کے ناولٹ ’’گرم دن‘‘ اور افسانوی مجموعے ’’گگلو(Giglo)‘‘ پر دیکھے جاسکتے ہیں، گرچہ انھوں نے علم و ادب کے دوسرے پہلوئوں پر بھی قابل قدر کام کیا ہے اور کررہے ہیں آزادی سے قبل عالم وجود میں آنے والے جو دوسرے افسانہ نگار مغرب میں اردو افسانے کے گیسو سنوار رہے ہیں ان میں ڈاکٹر فیروز مکرجی، فیروز جعفر، عطیہ خاں، گلشن کھنہ، قیصر تمکین، ش۔صغیر ادیب، رضا الجبار، مقصود الٰہی شیخ، رضا علی عابدی، صفیہ صدیقی، جمشید مرزا اور جتیندر بلو وغیرہ کے نام آتے ہیں ۔
یہاں اگر معروف ادیبہ رضیہ فصیح احمد کا تذکرہ نہ کیا جائے تو یہ ناانصافی ہوگی۔ ظاہر ہے کہ ان کا ناول ’’آبلہ پا‘‘ شہر کی وہ حدیں پار کرچکا ہے جن کے پیش نظر ان کی دوسری تصنیفات پس پشت پڑ گئی ہیں، مگر یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ مغرب خصوصاً امریکہ میں رہتے ہوئے انھوں نے اردو افسانے کی آبیاری میں برصغیر کے کسی افسانہ نگار سے کم حصہ نہیں لیا۔
ایک بات مغرب میں لکھے گئے اردو افسانوں کے بارے میں برابر کہی جاتی ہے مگر اس کی کبھی وضاحت نہیں ملتی۔ میری مراد مغربی طرزِ معاشرت کی آئینہ داری سے ہے۔ یہ بات اکثر کہی گئی کہ مغرب میں جو اردو افسانے لکھے گئے ان میں مغربی طرز معاشرت کی یا تو آئینہ داری نہیں ہوئی یا اس حد تک نہیں ہوئی جتنی ہونی چاہئے تھی۔ اس اعتراض کا جواب بھی یہ کہہ کر دیا جاچکا ہے کہ ایسا ہو بھی نہیں سکتا، نہ ہونا چاہئے چونکہ مشرق و مغرب کا معاشرہ نہ صرف بالکل مختلف ہے بلکہ مغرب میں بہت کچھ ایسا ہے جسے دکھانے سے زیادہ چھپانا ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔ بہرحال یہاں اسی سوال وجواب کے حوالے سے میں جس پہلو کی طرف اشارہ کرنا چاہتی ہوں وہ یہ ہے کہ مغرب میں خواہ وہ لندن ہو یا امریکہ یا پھر یورپ کا کوئی دوسرا ملک اور علاقہ، مختلف طرح کا طرز معاشرت موجود ہے۔ اس کی ایک وجہ بھی ہے۔ ظاہر ہے کسی بھی علاقے میں صرف مہاجرین نہیں رہتے نہ صرف مقامی افراد رہتے ہیں، مقامی افراد اور مہاجرین کے ایک ساتھ رہنے سے ان میں طرح طرح کے فکری عوامل سے متاثر لوگ ہوتے ہیں۔ اس نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے سید عاشور کاظمی نے بالکل درست لکھا ہے کہ لندن شہر میں ہی اب ایک معاشرہ نہیں بلکہ کم از کم تین معاشرے ہیں۔ ایک معاشرہ ان انگریزوں کا ہے جن کا وطن لندن ہے۔ یہ لوگ رفتہ رفتہ اقلیت میں آرہے ہیں، چونکہ لندن مختلف طرح کی قوموں اور نسلوں کی آماجگاہ بن رہا ہے اور خود لندن کے آبائی باشندوں کو قرب وجوار کے پُرسکون علاقوں کا رخ کرنا پڑرہا ہے۔ یہ ایک فطری عمل ہے اور ایسا ہر بڑے شہر میں کسی نہ کسی طور پر ہوتا ہے۔ بہرحال لندن میں دوسرا معاشرہ ان مہاجرین یا تارکین وطن سے تعلق رکھتا ہے جو تقسیم ہند سے قبل یا فوراً بعد گویا پچاس ساٹھ سال پہلے یہاں آئے اور جنھوں نے اپنی محنت سے اپنی دنیا بسائی۔ یہ لوگ اب اپنی دوسری نسلوں کی تربیت میں مصروف ہیں بلکہ انھیں کے زیر سایہ اپنی زندگی کے آخری دور میں آرام سے زندہ ہیں۔ تو یہ تیسرا طبقہ بھی لندن یا دوسرے شہروں کی زندگی میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ یہ ایسی نسل ہے کہ جو گرچہ اپنی جڑیںتو برصغیر یا ایشیاء کے کسی ملک میں رکھتی ہے مگر یہیں کی خاک سے پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہے۔اب غور کیجیے تو مہاجرین کی یہ دوسری نسل اپنے عادات واطوار اور وضع قطع بلکہ طرز فکر کے اعتبار سے بھی پہلے معاشرے سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے ساتھ ہے گرچہ ایک حد فاصل دونوں کے درمیان ہے مگر تیسری نسل دیکھئے کہاں تک پہنچتی ہے؟
اس اعتبار سے دیکھا جائے مغرب میں آباد اردو افسانہ نگاروں نے ابتدا سے ہی پہلے اور دوسرے معاشرے کے بیشتر قابل ذکر پہلوئوں کا تذکرہ کیا ہے اور تیسرا معاشرہ بھی بعض افسانہ نگاروں کی نگاہ میں ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم افسانہ نگار جتیندر بلوکو مانا جاتا ہے۔ ان کے حوالے سے یہ بات اہم ہے کہ وہ ہندوستان سے لندن آکر صرف دو سال کے قریب یہاں رہے مگر جب واپس ہندوستان گئے تو خود وہیں کی طرزِ معاشرت اور ماحول سے مطابقت پیدا نہیں کرسکے اور واپس یورپ آگئے، جہاں اب تک مقیم ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ صرف ثقافتی پہچان کی بات کرتے ہیں ان کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے اور یہ صرف مادی آسائشوں کے حصول کی بات بھی نہیں ہے۔ آج وہ یورپ کے تینوں معاشروں کے آئینہ دار ہیں اور ہر جگہ قدر کی نگاہوں سے بھی دیکھے جاتے رہے ہیں۔ کہنے کا مقصد بس یہ ہے کہ صرف مغرب میں آباد کچھ عمر دراز لوگوں کے جذباتی مسائل کی پیش کش ابتدائی افسانوں میں بھلے ہی قابل قبول رہی ہو مگر اب مغرب کا اردو افسانہ بھی نئی حقیقتوں سے آنکھیں ملا رہا ہے۔
مغرب میں اردو افسانے کے آغاز سے متعلق سب سے آخری مگر اہم بات یہ ہے کہ اس کا مستقبل پوری طرح محفوظ نہ کل تھا نہ آج ہے، وہاں جب افسانہ نگاری شروع ہوئی تو اس کی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں تھی جو کسی نہ کسی طور پر اپنی جڑوں سے جذباتی وابستگی رکھتے تھے۔ ایسے میں افسانہ لکھنا صرف ایک شغل نہیں تھا بلکہ یادوں کے آئینہ خانے میں جھانک کر یاد ماضی سے لطف اندوز ہونے کا ایک وسیلہ اور سلسلہ بھی تھا۔ یہ ایک نسل کی ایک طرح سے مجبوری بھی تھی چونکہ اس کے پاس جڑوں سے رشتہ جوڑنے کے سوا اور کوئی چارہ کار نہیں تھا، جس معاشرے میں وہ نسل آئی تھی وہ اول تو انھیں پوری طرح قبول کرنے پر آمادہ بھی نہیں تھا۔ دوسرے وہ خود بھی کلچر کے فرق کو عبور کرکے نئے معاشرے میں Mix کرنے پر تیار نہیں تھے۔اس طرح گویا ایک دو طرفہ عمل تھا جس کے سبب ایک پوری نسل جو زیادہ سے زیادہ پینتیس چالیس سال کے وقفے میں گزرتی ہے، اس طرح کے نشیب و فراز کو جھیلتی رہی اور اس کے درد کا اظہار افسانوں میں بھی ہوتا رہا۔ مغرب میں اردو افسانے کے ابتدائی نقوش اسی صورتحال کا آئینہ ہیں مگر 1990ء کے آس پاس نظر دوڑائیے تو یہ صورتحال بدل جاتی ہے، جیساکہ میں نے پہلے کہا اول تو ایک نئی نسل سامنے آتی ہے، جو مغرب میں ہی پیدا ہوئی اور پروان چڑھی ہے۔ دوسرے پرانے لکھنے والوں میں بھی، بعض کو چھوڑ کر نئے حالات سے سمجھوتہ کر لینے کا ایک رجحان ابھرتا ہے۔
فی الحال مغرب میں ارود افسانے کے ابتدائی نقوش سے متعلق تین باتیں ہی تسلیم شدہ کہی جاسکتی ہیں۔ اول یہ کہ وہاں افسانہ نگاری کا آغاز ان تارکین وطن کے قلم سے ہوا جو برصغیر کے مختلف ملکوں سے یہاں آئے تھے اور جن میں سے اکثر اپنے آبائی وطن میں بھی کسی نہ کسی طور پر علم وادب سے وابستہ رہے تھے۔ دوم یہ کہ مغرب کے ابتدائی اردو افسانوں میں زیادہ تر ناسٹلجیائی جذبات کا اظہار ملتا ہے اور بہت کم افسانہ نگار ایسے ہیں جنھوں نے اپنے گردوپیش یا داخل کی دنیا سے باہر دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ تیسرے یہ کہ خواتین کی ایک بڑی تعداد ابتدا سے ہی مغرب کے اردو افسانوں کے فروغ میں حصہ لیتی رہی ہے اور ان میں سے بعض ایسی ہیں جنھوں نے اردو افسانے کی عمومی تاریخ میں بھی اپنی جگہ محفوظ کرلی ہے، گرچہ یہ بات بعض دوسرے افسانہ نگاروں پر بھی صادق آتی ہے مگر مجموعی طور پر مغرب میں اردو افسانے کا آغاز نہ تو بہت قدیم ہے نہ بہت وسیع۔ البتہ اس کے Shadesبرصغیر کے افسانوں سے الگ ضرور ہیں ایک خوش آئند بات ادب کے نقطہ ٔ نظر سے یہ ہے کہ ہجرت کا سلسلہ ابھی جارہی ہے اور برصغیر کے مختلف ملکوں میں سے آنے والے کچھ نئی نسل کے فنکار بھی افسانہ نگاری کی طرف متوجہ ہورہے ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت محنت سے لکھا گیا یہ ایک اہم مضمون ہے۔۔۔تسنیم فاطمہ کو مبارکباد