پروفیسر ظفر احمد نظامی صاحب کی موت سے شاعری، افسانہ نگاری، انشائیہ نگاری، خاکہ نگاری، ترجمہ نگاری، سوانح نگاری اور معلمی سبھی کو نقصان پہنچا ہے۔ مگر اس قحط الرجال میں سب سے بڑا نقصان بلاشبہ ’’انسان‘‘ کا ہوا ہے۔ اس انسان کا جس کے بارے میں غالب نے کہا تھا۔
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اس عہد ناپرساں میں ہر شخص صرف اپنے لیے زندگی گزارنے پر مصر ہے، نظامی صاحب دوسروں کے لیے جیتے تھے۔ میں نے ہمیشہ انھیں دوسروں کے کام آتے یا کسی نہ کسی کی سفارش کرتے ہوئے پایا۔ انکار کرنا جیسے انھیں آتا ہی نہیں تھا۔ بڑا سلجھا ہوا مزاج پایا تھا۔ نہ کسی سے کوئی شکوہ نہ شکایت نہ غصہ نہ برہمی، نرم گفتار، نرم رفتار، چہرے پر ہر وقت ایک معصوم سی مسکراہٹ کھیلتی رہتی جس پر کبھی شوخی کا رنگ غالب آجاتا۔ مروت کے ایسے پتلے کہ زبان سے کبھی لفظ انکار ہی نہیں نکلا۔ کام کی نوعیت کچھ بھی ہو ان کے منہ سے صرف ’’ہوجائے گا‘‘ سننے کو ملتا۔ ’’ہوجائے گا‘‘ ان کا تکیہ کلام بن گیا تھا۔ کسی نے کہانظامی صاحب آسمان میں سوراخ کرنا ہے جواب ملتا ’’ہوجائے گا‘‘ کوئی کہتا بچوں کے لیے چاند تاروں کی ضرورت ہے ، انتظام ہوجائے گا۔ آواز آتی ’’ہوجائے گا‘‘ اور لطف کی بات یہ ہے کہ ہو بھی جاتا۔ وہ نیکی کرتے اور گہرے کنویں میں ڈال کر خود تو بھول ہی جاتے جس کے ساتھ نیکی کی ہوتی وہ بھی بھول جاتا۔
نظامی صاحب عرصۂ دراز تک جامعہ اکیڈمک اسٹاف کالج کے ڈائریکٹر رہے۔ ان دنوں یہ کالج مکتبہ جامعہ کی پرانی عمارت سے ملحق ہوا کرتا تھا اور مکتبہ جامعہ شاہد علی خان نامی ایک جن کے قبضے میں تھا۔ کام کے معاملے میں نظامی صاحب بھی کسی جن سے کم نہ تھے۔ مگر دونوں میںدوستی کا رشتہ قائم نہیں ہوا تھا اس کا آغاز بعد میں ہوا۔ مکتبہ میں دنیا بھر کے شاعر و ادیب آتے رہتے۔ شاہد صاحب کبھی کسی کے اعزاز میں کوئی جلسہ یا نشست کرنے کا ارادہ کرتے تو انتظام اور مشورے میں ازرہ خالد نوازی مجھے بھی شامل کرلیتے۔ مکتبہ میں کوئی ہال نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ جگہ کی تنگی کا احساس رہتا۔ موسم اچھا ہوتا تو مکتبہ کا لان کام آجاتا۔ مگر دلی میں اچھاموسم ہر وقت کہاں ہوتا ہے ۔ چنانچہ ہمیں کئی پروگراموں سے دست کش ہونا پڑا۔ ایک دن میرے دماغ میں آئی کہ مکتبہ جامعہ اور اکیڈمک اسٹاف کالج کے اشتراک سے یہ مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔ میں نے اسی وقت شاہد صاحب کے سامنے یہ تجویز پیش کی کہ ہم اپنے کچھ پروگرام اکیڈمک اسٹاف کالج کے ہال میں کراسکتے ہیں۔ شاہد صاحب کی منظوری کے بعد جب یہی تجویز میں نے نظامی صاحب کے سامنے رکھی تو انھوں نے پرزور تائید کے ساتھ اپنی مسرت کا اظہار کیا اور اپنا تکیہ کلام دہرایا۔ اس دن کے بعد اکیڈمک اسٹاف کالج میں کئی ادبی اور ثقافتی پروگرام منعقد ہوئے۔ اسی کے ساتھ ہر دو جنات کے درمیان ایسی گہری اور پائیدار دوستی کا رشتہ قائم ہوگیا کہ نظامی صاحب کی موت کے علاوہ اسے کوئی اور نہ توڑ سکا۔ بلکہ موت نے بھی کہاں توڑا۔ دوستی کا رشتہ تو اب بھی مضبوط ہے اور ہمیشہ مضبوط رہے گا کوئی بعید نہیں کہ جنت میں بھی یہ دونوں مل کر ادبی جلسوں کی داغ بیل ڈال دیں۔ برادرم نعمان خان نے اپنے مضمون میں جس یادگار پروگرام کا ذکر کیا ہے وہ اسی سلسلۂ دراز کی ایک کڑی تھا۔ اسی طرح تمثیلی مشاعرہ ، جو جامعہ کی ایک قدیم ا دبی روایت ہے، جب میرے سپرد کیا گیا تو میں نے اس میں کیف بھوپالی، تاج بھوپالی اور شعری بھوپالی کو متعارف کرانے کا ارادہ کرلیا اپنے اس ارادے کا نظامی صاحب کے سامنے ذکر کرتے ہوئے مشورتاً پوچھا کہ ان بھوپالی شعرا کی تمثیل کس سے کرائی جائے۔ کیا یہ ارادہ پورا ہوگا فوراً بولے ضرور ہوگا اور پھر سب نے دیکھا کہ انھوں نے کیف صاحب اور تاج صاحب کی بڑی اچھی تمثیلی خود ہی کر ڈالی اسی تمثیل سے حوصلہ پا کر گذشتہ برس میں نے جامعہ کا تمثیلی مشاعرہ غالبؔ کی صدارت میں کرادیا۔ غالبؔ کی تمثیل شاہد میر نے پیش کی۔ میک اپ میں شاہد میر ہو بہو غالبؔ نظر آرہے تھے۔ انھوں نے غالبؔ کی غزل ’’میں ہوں مشتاق جفا مجھ پہ جفا اور سہی‘‘ راگ جھنجھوٹی میں پڑھ کر سامعین کا دل جیت لیا۔ نظامی صاحب اچھے فن کار بھی تھے اور اچھے قلم کار بھی مگر بحیثیت انسان وہ ایک ایسی کھلی کتاب تھے جس کا ہر باب محبت کی روشنائی سے رقم کیا گیا تھا۔ منصب کے اعتبار سے نظامی صاحب ، جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیاسیات کے پروفیسر تھے اور اپنے سبجکٹ میں کامل دستگاہ بھی رکھتے تھے مگر انھیں اردو زبان و ادب سے جو گہری رغبت، مناسبت اور وابستگی تھی اس کا ثبوت پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ادب کا ہر سنجیدہ طالب علم ان کے علمی اور ادبی کارناموں سے واقف ہے۔ ان کے افسانے، شاعری اور مضامین رسائل وکتب میں اور رسائل و کتب لائبریریوں میںموجود ہیں۔ ان مطبوعات کے علاوہ بھی وہ اردو کے فروغ کے لیے ہمیشہ سرگرم عمل رہے۔ مکتبہ جامعہ کے اشتراک سے اردو پروگراموں کے انعقاد کا ذکر اوپر آچکا ہے اب ایک دلچسپ واقعہ بھی سن لیجیے اس واقعے کا تعلق اسی دور سے ہے جب نظامی صاحب اکیڈمک اسٹاف کالج کے ڈائرکٹر تھے۔ ایک دن مجھے فون کر کے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ بہت مہذب اور پر خلوص انسان تھے۔ اس محبت سے بلاتے کہ کسی کو بلائے جانے کا احساس نہ ہو۔ گرمیوں کی دوپہر تھی مگر میںفوراً پہنچ گیا مسکرا کر بولے مجھے یقین تھا آپ ابھی آجائیں گے۔ تواضع کا سلسلہ جو ان کا معمول تھا میرے پہنچتے ہی شروع ہوگیا کہنے لگے اورینٹینشن پروگرام میں باہر سے آئے ہوئے کچھ غیر مسلم اساتذہ کو اردو سیکھنے کا شوق ہے ان کی خواہش ہے کہ اگرکوئی اردو سکھانے والا مل جائے تو اس کورس کے دوران ہی اردو سیکھ لیں۔ ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اردو سیکھنے کے لیے جامعہ سے بہتر جگہ اور اس سے اچھا موقع شاید انھیں پھر کبھی نہ مل سکے۔ پھر فرمایا کہ یہ کلاس ٹائم ٹیبل سے علیحدہ ، لنچ کے بعد ڈھائی تین بجے ہوسکتی ہے او رجیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہین کہ اس کا کوئی معاوضہ بھی نہیں ہے اسی لیے میںنے آپ کو زحمت دی ہے ۔ میں نے کہا بھائی جان! آپ کے اس اعتبار کا شکریہ! مجھے اردو پڑھنے کے شوقین افراد کو اردو پڑھانے کا خود بھی بڑا شوق ہے۔ اور اس کے لیے میں کسی بھی وقت حاضر ہوسکتا ہوں۔ رہا معاوضہ کا سوال تو اردو پڑھانے میں جو لطف آتا ہے اور جو مسرت حاصل ہوتی ہے وہ خود اس کا معاوضہ ہے۔ اس دوران پڑھنے کے شوقین بھی جمع ہوچکے تھے۔ نظامی صاحب نے فرمایا تو پھر کل سے شروع کردیجیے۔ میں نے کہا یہ لوگ چاہیں تو میں آج ہی سے تیار ہوں۔ میرے اس جواب سے وہ بہت خوش ہوئے اور اردو پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ اسی دن سے شروع ہوگیا۔ ابتدا میں ایک آدھ استاد نے اردو کے چند حروف کی یکساں آوازوں پر سوال اٹھایا تو میں نے انھیں سمجھایا کہ ہر زبان کا اپنا مزاج اور اپنا پس منظر ہوتا ہے اور اسی سے اس کی پہچان قائم ہوتی ہے۔ ہندی میں بھی یہ صورت موجود ہے میں نے مثال دے کر بتایا۔ وہ مطمئن ہوگئے اور سیکھنے سکھانے کا عمل جای رہا۔ اردو سیکھنے میں ان حضرات نے کچھ ایسی دلچسپی لی اور اس قدر ذوق و شوق اور جوش و خروش کا مظاہرہ کیا کہ دو دو گھنٹے کلاس چلتی رہتی اور وہ دو دو دن کے کام ایک ہی دن میں کر لاتے۔ ان کا شوق دیکھ کر مجھے بہت مسرت ہوئی۔ صرف دو ہفتے کے بعد میں انھیں املا بول رہا تھا اور وہ لکھ رہے تھے۔ انھوں نے جس رفتار سے اردو سیکھی وہ میری زندگی کا خوش گوار تجربہ۔ الوداعی جلسے میں مختلف مضامین کے ان اساتذہ نے سب سے زیادہ خوشی کا اظہار اردو سیکھنے پر کیا۔ وہ سب کے سب اکیڈمک اسٹاف کالج ، اس کے ڈائریکٹر نظامی صاحب اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اس احسان کا کھلے دل سے بار بار اعتراف کر تے رہے کہ یہاں آکر ان کی ایک دیرینہ آرزو پوری ہوگئی۔ نظامی صاحب ان سے بھی زیادہ خوش نظر آرہے تھے۔ گویا ان کی بھی کوئی بہت بڑی مراد برآئی ہو ۔ اردو سکھانے کا اس سے بڑا معاوضہ کیا ہوسکتا تھا۔ نظامی صاحب کے عہد میں دو تین سال تک یہ سلسلہ جاری رہا پھر بوجوہ بند ہوگیا۔ اسی طرح وہ عمر بھر اردو کی خدمت کرتے رہے ان کی زندگی غالب کے اس مصرع کی مصداق تھی جس میںغالب نے دعویٰ کیا تھا۔
نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا
حالاں کہ غالب کو تو ستائش کی تمنا بھی تھی اور صلے کی پروا بھی مگر نظامی صاحب کو واقعی نہ تھی وہ خاموشی سے اپنے کام میں لگے رہتے۔ مستقل کوئی نہ کوئی وظیفہ پڑھنا یا لکھنے پڑھنے میں مشغول رہنا بس یہی ان کا شعار زندگی تھا۔ زندگی کے دوسرے وظائف پر بھی وہ ذوق و شوق سے عمل پیرا ہوئے مگر اولیت کا شرف و قرطاس و قلم ہی کو حاصل تھا۔ محبت ان کے مزاج کا بنیادی وصف تھا، جس میں خوش مزاجی اور خوش مذاقی کی دھنک رنگی ہمہ وقت اپنی چھب دکھاتی رہتی محبت کے ہلکے اور گہرے نقوش ان کے قطعات میں زیادہ واضح اور صاف دکھائی دیتے ہیں۔ ان قطعات میںحسن کی لگاوٹ بھی ہے۔ فن کی بناوٹ بھی وصل کی لذت بھی، ہجر کا سوز بھی ، ملاقات کی آرزو بھی ، یادوں کی کسک بھی ہے۔ جب وہ ان قطعات کو اپنے مخصوص انداز میں چٹخارے لے لے کر پڑھتے تو ان کی آنکھوں میں خاص قسم کی چمک عود کر آتی تھی۔ چند قطعات یہ ہیں۔
ایک حقیقت ہو، ایک مورت بھی
پیار ہو پیار کی ضرورت بھی
ہائے کس نام سے پکاروں میں
تم جواں بھی ہو، خوبصورت بھی
آج ساری فضا نشیلی ہے
تیری نظروں سے زندگی لی ہے
سارے غم غرق ہوگئے ساقی
میں نے شاید شراب پی لی ہے
آج کل میری حال خستہ پر
جانے کیوں آپ کی نوازش ہے؟
آپ اور مہربان ہوجائیں؟
بالیقین اس میں کوئی سازش ہے
جگمگاہٹ ہی جگمگاہٹ ہے
زندگی میں خوشی کی آہٹ ہے
اچھا اچھا! سمجھ رہا ہوں میں
تیرے ہونٹوں پہ مسکراہٹ ہے
یہ کوئی پیش و پس کی بات نہیں
ایک یا دو نفس کی بات نہیں
آپ کو اور بھول جائوں میں
بس یہی میرے بس کی بات نہیں
آرزو، درد، اشک، تنہائی
میری ہی داستاں کے حصے ہیں
آج کل ہر حسین کے لب پر
میری بربادیوں کے قصے ہیں
دل میں جذبات کی حرارت تھی
حسن کی ہر ادا شرارت تھی
جس جگہ آج غم کا مسکن ہے
اس جگہ عشق کی عمارت تھی
ایک مکمل حیات ہے اس میں
جذبۂ بے ثبات ہے اس میں
عشق کی وسعتیں نہ پوچھ اے دل
سچ یہ ہے کائنات ہے اس میں
زندگی غم میں کھو گئی اے دوست
درد میں جذب ہوگئی اے دوست
تو نہ آیا، نہ آسکا ہوگا
میری تقدیر سوگئی اے دوست
آج سوئے چمن گیا ہوں میں
نور کی طرح چھن گیا ہوں میں
اے خوشا وہ مرے مقابل ہیں
آئینہ خانہ بن گیا ہوں میں
حسن رنگیں نکھارنے والے
جذبۂ غم ابھارنے والے
مجھ کو الجھا کے رکھ دیا تو نے
اپنی زلفیں سنوارنے والے
تیری ان شعلہ رو ادائوں سے
ہر نظر خود سلگ گئی اے دوست
دل سے چنگاریاں سی اٹھتی ہیں
برف میں آگ لگ گئی اے دوست
اپنی بیماری کے آخری دنوں میں نظامی صاحب کئی ماہ تک اسکورٹ ہاسپیٹل کے آئی سی یو میں رہے۔ ان کی بیٹی کے علاوہ خالد صاحبہ نے ان کے بڑی خدمت کی۔ میں جب بھی ہاسپٹیل گیا انھیں وہیں پایا۔ ایک مرتبہ نعیم کوثر صاحب کے ساتھ پہنچا تو ان کی اور خالدہ صاحبہ کی بدولت آئی سی یو میں بھی ان سے ملاقات کا موقع مل گیا۔ بہت کمزور ہوگئے تھے مگر حسب معمول مسکرا کر ملے اور الٹا میرا حال چال پوچھنے لگے۔
انسانی صفات میں ایثار و انکسار اور برداشت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ ساری خوبیاں نظامی صاحب کی شخصیت کا حصہ تھیں۔ غصہ یا تو انھیں آتا ہی نہ تھا یا ضبط کی قوت زیادہ عطا ہوئی تھی کم از کم میں نے انھیں غصے میں آگ بگولہ ہوتے کبھی نہیں دیکھا۔ حالاں کہ آگ بگولہ ہونے کے ایک دو مواقع خود میرے سامنے ان کے آگے سے گزرے مگر کیا مجال ’’ناگفتنی‘‘ ایک حرف بھی ان کی زبان پر آیا ہو۔ وہ میرؔ کی طرح ’’پراگندہ طبع‘‘ نہ تھے بلکہ ’’حلیم الطبع‘‘ اور ’’سلیم الطبع‘‘ تھے۔
ان اوصاف نے انھیں تمام عمر ہر دل عزیز بنائے رکھا۔ وہ اب ہمارے درمیان نہیں مگر ان کی یادیں زندہ ہیں۔ خدا انھیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے اور ان کے درجات بلند فرمائے (آمین)۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

