شاعری لاتعداد رجحانات اور میلانات سے عبارت ہے۔ کسی بھی معتبر شاعر کے ہاں اس کے بے شمار فکری زاویے مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ یہی فکری زاویے شاعر کی تخلیقی وسعت کا تعین کرتے ہیں۔ افکار کی رنگارنگی اور بو قلمونی اس کے فکری کینوس کی غمازی کرتی ہے۔ شاعر کے تخیلات میں تغیراتی شواہد کا پایا جانا لائقِ التفات و ستائش ہے۔ محمد آصف مرزا کے مجموعۂ کلام ’’ستارہ ہے خاک پر‘‘ کے مطالعہ سے ان کے مختلف الجہات فکری زاویے اور تغیراتی شواہد اقلیمِ خرد پر جلوہ ریز ہوتے ہیں۔ اس مجموعہ کا نام ندرت کا مظہر ہونے کے ساتھ ساتھ طرفہ طرزِ فکر کا غماز بھی ہے۔ اس کتاب میں حمد و نعت کے علاوہ غزل اور نظم کے حسیں رنگوں کی نگہت بیزیاں بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہیں۔ ان کی غزل تغزل کی دولت سے مالا مال ہے۔ روایت اور جدت کا حسین امتزاج، محمد آصف مرزا کی شعری اپج کا وصفِ جمیل ہے۔ ان کے ہاں افراط و تفریط یا کسی ایک سمت فکری جھکاؤ دیکھنے میں نہیں آتا جس سے اُن کی متوازن شخصیت نمو پاش ہوتی ہے۔
بنی نوع انسان کی آفرینش سے ہی حالات نامساعد رہے ہیں۔ گویا اس میں ایک ہمہ گیری کا پہلو کارفرما ہے۔ اس پُرآشوب سنسار میں انسان نے ہر عہد میں شدید نوعیت کے احساسِ اجنبیت کو محسوس کیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ انسان ہر دور میں شدید قسم کے احساسِ تنہائی سے دوچار رہا ہے۔ اسی فکر کی پرچھائیاں محمد آصف مرزا کے افکار میں بھی مشاہدہ کی جا سکتی ہیں اور ایک مستقل نوع کے ہمسفر کی انتہائی شدت سے ضرورت محسوس ہوتی ہے:
بظاہر چل رہا ہے ساتھ میرے
مگر وہ ہمسفر میرا نہیں ہے
میں آ کے جا بھی چکا ہوں، جہاں کو کیا معلوم
مکاں میں کون مکیں تھا، مکاں کو کیا معلوم
میں اُن کے ساتھ ہوں، پھر بھی بہت اکیلا ہوں
مگر یہ بات مِرے ہم رہاں کو کیا معلوم
میں رہنے والا کسی اور سر زمیں کا ہوں
ہوں واقعہ بھی کسی اور ہی زمانے کا
اگرچہ چھایا ہے باہر غضب کا سنّاٹا
کسی نے شور ہے اندر مِرے مچایا ہوا
اُن کے مصرعوں کے فکری ربط و ضبط میں ایک کرشمہ کاری کا اعجاز نظر آتا ہے۔ اُن کے تخیلات نجی، عامیانہ اور روایتی نوعیت کے نہیں ہیں۔ اُن کے سوچنے کا رنگ ڈھنگ جداگانہ اور منفرد ہے۔ ان کے اشعار ندرت آمیزی کا مظہر ہیں:
دیکھو تو آسماں کے ستارے بھی ہیں غبار
سوچو، تو کیسا کیسا ستارہ ہے خاک پر
بھولو نہیں سَمندِ ہوا کے مسافرو!
اُٹھا جو خاک سے وہ دوبارہ ہے خاک پر
سواری درد کی اُتری ہے دل کی خلوتوں میں
جہاں کی چیز تھی، اُس کو وہاں رکھا گیا ہے
اِدھر زمیں پہ فزوں تر ہے رقصِ وحشت خیز
اُدھر خموش بہت، آسمانِ غم زدگاں
چڑھتے سورج کی اگرچہ ہے پجاری دنیا
جیسی کیسی بھی سہی، ہے تو ہماری دنیا
حسنِ زیست، جمالیاتی اقدار یا احساسات سے فروغ پاتا ہے۔یہ جذبے نہ صرف نبضِ حیات کو تپش آمادہ رکھتے ہیں، بلکہ ہستیِ ناپائیدار کو تگ و تاز سے مرصع کرتے ہیں۔ یہ تخیلات ہر عہد میں اعتبارِ ذوق ہوا کرتے ہیں۔ انہی کی بدولت زندگی کی چکا چوند برقرار رہتی ہے۔ ایسے جذبوں کے کئی حوالے ہیں جن کو معرفت و مجاز کے کلیدی تلازمات میں منقسم کیا جاتا ہے۔ معرفت کا حوالہ تصوف کی دلیل گردانا جاتا ہے۔ اس کی کئی عمدہ تمثیلیں محمد آصف مرزا کے ہاں ملاحظہ کی جا سکتی ہیں:
میں جس گھڑی کہ ہوا خود پہ آشکار میاں
دکھائی دینے لگا ہے سب آر پار میاں
گریۂ شب میں ملی جن کو ملی دولتِ درد
روشنی پردۂ ظلمات میں رکھی گئی ہے
رہِ نبیؐ سے مجھے پہنچنا خدا تک ہے
یہ دیکھنا ہے، کہاں تک مِری رسائی ہے
اُس پہ کھُل جا کہ اُسے بھی ہے تمنا تیری
اور کبھی اپنے لیے، سینۂ غم خوار کو کھول
عالمِ ہُو تھا عرش پر، میرے ہبوط کے سبب
میں جو پلٹ پڑا تو پھر، حشر سا اِک بپا ہوا
حیاتِ انسانی کچھ قربانیوں کی متقاضی ہوتی ہیں۔ جو کوئی اس نوع کے اوصافِ حمیدہ سے مسجع ہو، وہ انسان دوستی کا علمبردار کہلاتا ہے۔ ان خصوصیات سے متصف ہونے کے لیے پربت کا جگر چاہیے۔ اگر اولوالعزمی دمساز ہو تو تمام معرکے باآسانی سر ہوتے ہیں۔ جب انسان اپنے ماحول میں محبتیں اور مروتیں بکھیرتا ہے تو معاشرت میں خلوص و موانست کی فضا پیدا ہوتی ہے اور دنیا جنت مثال نظر آتی ہے۔ زندگی کے کٹھن سفر میں جہاں ہجرتوں کا کرب بھی مہیب صورت کا حامل ہوتا ہے، اس اذیت کو جھیلتے جھیلتے انسان بھیڑ میں بھی اپنے آپ کو تنہا محسوس کرتا ہے۔ یہ عوامل ان کے شعری کینوس میں بدرجہ اتم نظر آتے ہیں:
میں کس کا بوجھ اٹھائے پھر رہا ہوں
میرا بارِ سفر، میرا نہیں ہے
نرغۂ شورشِ حالات میں رکھی گئی ہے
زندگی عرصۂ حالات میں رکھی گئی ہے
مغائرت نے اڑائی ہے بستیوں میں وہ دُھول
بکھرتی جاتی ہے اب رُت ہی آشنائی کی
جانے اس جادۂ ہجرت پہ ملن ہو کہ نہ ہو
میں الگ پھِرتا ہوں، تقدیر جُدا پھِرتی ہے
تشویش ہائے سُود و زیاں سے ہوا بلند
اس کارِ عشق میں تو عجب فائدہ ملا
سماجی روایات جب روبہ زوال ہوتی ہیں، جب عمرانی ادراکات کو ٹھیس پہنچتی ہے تو حیاتِ انسانی میں ایک بے زاری کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ زیست کی رونقیں اور رعنائیاں اپنی بساط لپیٹ لیتی ہیں۔ احساسِ تجمل کو گزند پہنچتا ہے۔ پھر انتشارِ ذات، تحلیل نفسی، فکری خلفشار، زیست کی بے رغبتی اور بے ضابطگی انسان کو اپنے احاطۂ قدرت میں لے لیتی ہے۔ مرورِ ایام نے جو انسانی معاشرت پر بھیانک اور انمٹ اثرات مرتب کیے ہیں وہ اخلاقی اقدار کا نوحہ پیش کرتے ہیں۔ حالات کی واژگونی باعثِ بے سکونی ہے۔ رُو بہ زوال اخلاقیات اور بدلتی ہوئی ترجیحات، احوال کی نامساعدت کا نقشہ پیش کرتے ہیں۔ ایسے میں محمد آصف مرزا جیسا گہری حساسیت رکھنے والا انسان تڑپ اٹھتا ہے:
یوں کیا نظمِ جہاں اہلِ ہوس نے تاراج
خون ارزاں ہے بہت، ہو گیا مہنگا پانی
نئے شہروں کو ہم آباد کرنے سے بھی پہلے
پرانی بستیاں مسمار کرتے جا رہے ہیں
غلامی اندرونِ خانہ گردش میں ہے اب بھی
بظاہر قصر کی تعمیر بدلی جا رہی ہے
کیسے وہ جان سکتے ہیں کربِ فغانِ شہر
آتی نہیں ہے جن کو ذرا بھی زبانِ شہر
سَر اگر تھا تو اُسے ہم نے جھکایا ہوا ہے
رہ گئی جاں، تو سمجھتے ہیں بچا لی ہوئی ہے
شاعری حسیات کے توسط سے شعور و آگہی کی بازیافت سے موسوم ہے۔ یہ امردیکھنے لائق ہوتا ہے کہ اس حوالے سے لاشعور اور شعور کس حد تک ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں۔ اگر فطری و غیر فطری عوامل کی کرم فرمائی شاملِ حال ہو تو سخنور کے ہاں عمیق حسیات کا ورود ہوتا ہے۔ البتہ یہ بات بھی ضرور ہے کہ عمیق حسیات کا حامل کلام، عام قاری کی ذہنی سطح سے بالاتر ہوتا ہے۔ فنِ شاعری کا یہ وصفِ حمیدہ محمد آصف مرزا کے ہاں بھی ضو ریز ہوتا دکھائی دیتاہے:
اُسے خبر ہے کہ گھر میرا بے چراغ نہیں
ہزار رنگ کے طوفاں اُٹھا رہی ہے ہوا
کتنی آباد ہے ہر لحظہ اُجڑتی دنیا
کیا کشش کوئے خرابات میں رکھی گئی ہے
دھوپ چھائوں سے کسی طور نہ مغلوب ہوئی
زور سورج نے بہت اپنا، شجر پر رکھا
سبھی راگوں پہ مجھ کو دسترس ہے
پہ اس میں راگ درباری نہیں ہے
کِبر کی خاک اُڑا، عجز کے اسرار کو کھول
رقص کرتا ہوا چل اور درِ یار کو کھول
محمد آصف مرزا کا طرزِ اظہار غیر معمولی نوعیت کا ہے۔ان کے ہاں نادر النظیر ترکیبات و تشبیہات کا ایک جہاں آباد ہے۔ ان کی تمثیلات قرینہ کاری کا مظہر ہیں۔ عمدہ تراکیب کا برتاؤ بیان کی دلکشی بڑھا رہا ہے۔ رفعتِ تخیل کی وجہ سے ایک فکری دقیقہ سنجی مشاہدہ کی جا سکتی ہے۔ اسلوبیاتی حوالے سے بھی اُن کا کلام لطف آمیزی کی کیفیت رکھتا ہے۔ لسانی اعتبار سے ایک قرینہ کاری کا ہنر آشکار ہوتا ہے۔ ان کے داخلی احساسات خارجی اظہار کی راہیں ہموار کرتے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے شعری کینوس میں آموز گاریِ حیات کے رموز بھی انتہائی عمیق اور فکر انگیز انداز میں ملتے ہیں :
سر نگوں شاخِ ثمر دار یہی کہتی ہے
خوبیِ عجز کمالات میں رکھی گئی ہے
آج بھی وقت کی پیشانی پہ لکھا ہے یہی
مارنے والے سے برتر ہے بچانے والا
کیا نہیں یاد رہی جبر کی تاریخ تجھے
آپ مٹ جاتا ہے، اوروں کو مٹانے والا
میں جونہی سِرّ خموشی سے ہمکنار ہوا
اثر بلا کا مِری بات میں چلا آیا
آرزئوں سے گراں بار نہیں ہوتے جو
سحرِ دنیا میں گرفتار نہیں ہونے کے
محمد آصف مرزا نے اپنے مجموعۂ کلام ’’ستارہ ہے خاک پر‘‘ میں متقدمین اور معاصرین سے عقیدت کا اظہار بھی کیا ہے۔ فکری حوالے سے وہ علامہ اقبالؒ سے زیادہ متاثر دکھائی دیتے ہیں:
یہ کچھ اشعار تِری نذر کرتا ہوں مِرے اقبالؒ
تِرے بخشے ہوئے سوزِ دروں کی آبیاری ہے
کاش سخن اقبالؒ ہو ہم سب کے لیے مہمیز
ایک ذرا جو نم ہو تو یہ مٹی ہے زرخیز
محمد آصف مرزا کے شعری مجموعے ’’ستارہ ہے خاک پر‘‘ میں بے پناہ فکری زاویے مشاہدہ کیے جا سکتے ہیں۔ جو اپنے قاری کے لیے آغوش کشا نظر آتے ہیں۔ اور اُسے قابل تسکین اور قابلِ اطمینان امکانات بہم پہنچاتے ہیں۔
…٭…٭…
حسنین ساحر
نائب صدر بزمِ تخلیق و تحقیق
بھارا کہو، اسلام آباد۔
موبائل: 0333-5499585
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

