خطۂ اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی میں شبلی کا حصہ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض

by adbimiras
1 comment

علامہ شبلی نعمانی ایک مورخ ،نقاد،سوانح نگار کی حیثیت سے جانے پہچانے جاتے ہیںلیکن انکی شناخت ایک ماہر تعلیم کی بھی ہے۔یہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ مولانا کی تعلیم پر کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے۔لیکن اس حوالے سے ان کے جو مضامین ’مقالات شبلی‘کے جلد سوم میں موجود ہیں،وہ کسی کتاب سے کم بھی نہیں۔شبلی نعمانی کی شخصیت تعلیمی خدمات کے لحاظ سے بہت بلندہے۔انہوں نے اصلاح تعلیم پر بہت مفید مضامین لکھے۔اپنے زمانے کے نصاب تعلیم کے نقائص اور ان کی خرابیوں سے قوم کوآگاہ کیا۔انھوں نے سوسال قبل اس سے متعلق جو کچھ لکھا تھا اس کی اہمیت آج بھی مسلم ہے۔جو تجاویز انھوں نے اس وقت پیش کی تھیں وہ اب بھی قابل عمل اور تعلیمی ترقی کے لیے رہنمااصول کا درجہ رکھتی ہیں۔مولانا شبلی نعمانی نے عربی تعلیم پر جو غیر معمولی زور دیا اور اس کے لیے جو جد وجہد کی،اس سے یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ وہ جدید تعلیم کے مخالف تھے مگر حقیقتاً ایسا نہیں ہے۔مولانا جدید تعلیم کے ویسے ہی حامی تھے ،جس طرح قدیم تعلیم کے۔جس طرح وہ عربی تعلیم کو ضروری سمجھتے تھے اسی طرح انگریزی تعلیم کے بھی قائل تھے۔چنانچہ جہاں ندوہ کے قیام اور اس کی ترقی میں اپنا غیر معمولی کردار ادا کیا،وہیں اعظم گڑھ میں نیشنل اسکول قائم کرکے اس کا عملی ثبوت بھی دیا۔جس نے رفتہ رفتہ نیشنل اسکول سے شبلی ڈگری اور پوسٹ ڈگری کالج تک کا سفر طے کیا۔

اعظم گڑھ میں علامہ شبلی سے وابستہ تین ایسے ادارے ہیں،جس کی بنیاد شبلی نے خود ڈالی یا ان کی ترقی میں اپنا غیر معمولی کردار ادا کیا ۔وہ تینوں ادارے نیشنل اسکول(شبلی کالج)،مدرستہ الاصلاح سرائے میر اوردارالمصنفین اعظم گڑھ ہیں۔یہ تین ایسے ادارے ہیں جس کے وجود سے مولانا کے ذہن کا خاطر خواہ اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ایک طرف نیشنل اسکول کا قیام ان لوگوں کا جواب ہے جو شبلی پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ شبلی جدید تعلیم کے مخالف ہیںدوسری طرف مولانا کو دینی تعلیم سے کس قدر والہانہ لگاؤ تھا کہ انھوں نے ندوۃ العلما سے سبکدوشی کے بعد مدرستہ الاصلاح کی تعلیمی ترقی میں اپنا بھر پور تعاون پیش کیا۔اس سلسلے میں انھوں نے علامہ حمیدالدین فراہی اور اپنے دوسرے شاگردوں سے بھی مدد لی ،تاکہ اس مدرسے کی ترقی منظم طریقے سے ہو سکے۔تیسرے دارالمصنفین کے قیام کا خیال،گر چہ کہ مولانا اسے پہلے ندوۃ العلما لکھنؤ میں قائم کرنا چاہتے تھے، لیکن بوجوہ جب ایسا نہ ہوسکا تو انھوں نے اپنے وطن مالوف میں ہی اس کے قیام کا فیصلہ کیا ۔اب جب کہ علامہ شبلی نعمانی کو اس دنیا سے رخصت ہوئے ایک صدی گزرچکی ہے،ایسے میں موجودہ تناظر میں اگر ان تینوں اداروں کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی نعمانی تعلیم کے معاملے میں کس قدر دور اندیش تھے۔

مدرستہ الاصلاح سرائے میر:

اعظم گڑھ کے قصبہ سرائے میر میں قائم مدرستہ الاصلاح علامہ شبلی نعمانی کی یادگاروں میں سے ایک ہے جس کے قیام کا خیال سیدھا سلطانپور کے ایک نیک سیرت شخص مولانا محمد شفیع صاحب کے دل میں آیا۔(ارود کے معروف شاعر وناقد خلیل الرحمن اعظمی کا تعلق اسی گاؤں سے ہے۔)انھوں نے۱۹۰۶ میں اصلاح المسلمین کے نام سے ایک انجمن قائم کی،جس کا مقصد یہ تھا کہ گاؤں گاؤں میں جا کر جلسہ کیا جائے،تاکہ اصلاح اور ترک بدعات کے متعلق لوگوں کی ذہن سازی کی جا سکے۔اس انجمن سے کئی اہم لوگ وابستہ ہوئے۔اسی سلسلے نے ایک مدرسے کے قیام کا خیال پیدا کیا ۔مدرسہ کی ابتدا سرائے میر سے متصل ایک گاؤں منجیر پٹی میں ہوئی۔۹۔۱۹۰۸ میں ایک چھوٹے سے چھپر میں سرائے میر منتقل کیا گیا۔یہ مدرسہ آج بھی اپنے مقصد میں سر گرم عمل ہے ۔مدرسہ کے قیام کے بعد کے مراحل میں علامہ شبلی نعمانی نے اپنا غیر معمولی کردار ادا کیا۔اس کی ترقی کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو محدود نہیں کیا بلکہ علامہ حمیدالدین فراہی کو بھی اس کی ترقی کے لیے حصہ لینے کی تلقین کی۔مدرسہ کا دستورالعمل علامہ شبلی نے خود مرتب کیا۔اس مدرسے کا پہلا جلسہ ۱۹۱۰ میں ہوا ۔ اس وقت علامہ شبلی نعمانی لکھنؤ میں تھے۔لیکن اس جلسے میں شریک ہونے کے لیے شبلی نعمانی نے لکھنؤ سے اعظم گڑھ کا سفر کیااور جلسے میں شریک ہوئے۔مدرسے کے انتظامی جلسوں میں بھی علامہ شبلی کی شرکت رہی۔لیکن ندوۃ العلما لکھنؤ سے ۱۹۱۳ء میں مستعفی ہونے کے بعد ’’مدرستہ الاصلاح ‘‘علامہ کی توجہ کا خاص مرکز رہا۔وہ مسلمانوں کی تعلیم کے لیے کس قدر فکر مند تھے ،اس کا اندازہ کرنا بہت مشکل ہے۔البتہ اس فکر کی جھلک ہمیں انکی تحریروں اور خطوط میں ضرور ملتی ہے۔علامہ حمیدالدین فراہی کوایک خط میں مدرستہ الاصلاح کے متعلق لکھتے ہیں:

’’ مدرسہ اپنی آمدنی سے چل رہا ہے،بحث یہ ہے کہ ہماری قومی قوت سرائے میر پر صرف ہو یا اعظم گڑھ پر،دونوں کے برداشت کے قابل نہیں ہیں،کم سے کم یہ کہ دونو ں کی جداگانہ پوزیشن قائم ہونی چاہیے اور ان کا باہمی تعلق۔

کبھی کبھی یہ خیال ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک کو مرکز بنا کر اس کو دین و دنیا دونوں تعلیم کا مرکز بنایا جا ئے،یہیں خدام دین بھی تیا ر ہوں ،مذہبی اعلیٰ تعلیم بھی دلائی جائے،گویا گروکل ہو،تم اپنی رائے لکھو،ندوہ میں لوگ کام کرنے نہیں دیتے تو اور کوئی دائرہ عمل بنانا چاہیے،ہم سب کو وہیں بودو باش کرنی چاہیے،ایک معقول کتب خانہ بھی وہاں جمع ہونا چاہیے۔اگر تم بہ عزم جزم آمادہ ہو تو میں موجود ہوں۔۔۔۔۔۔۔پرنسپلی اور بیش قرار تنخواہ چند روزہ ہیں اور یہ کام ابدی ہے۔‘‘

(مکاتیب شبلی،جلددوم ،م، سید سلیمان ندوی،دارالمصنفین،شبلی اکیڈمی ،اعظم گڑھ۔۲۰۱۲ء۔ص،۴۲۔۴۱)

درج بالا خط سے علامہ شبلی نعمانی کے احساس کا اندازہ کسی حد تک کیا جا سکتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی تعلیم اور دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے کس قدر فکر مند رہا کرتے تھے۔اپنے معاصرین میں سب سے کم عمر پانے والے علامہ شبلی نے جس طرح کی علمی خد مات انجام دیں ان کی مثال افراد کے بجائے اداروں سے ہی دی جاسکتی ہے۔شبلی کے ان جاوداں علمی کارناموں پر علمی دنیا کو بجا طور پر آج بھی ناز ہے۔علامہ شبلی نعمانی دارالمصنفین اور مدرستہ الاصلاح کو ایک طرح کا مدرسہ قائم کرنا چاہتے تھے۔جہاں تصنیف و تالیف کا کام ہواور تعلیمی و تر بیتی عمل بھی۔اسی لیے دارالمصنفین کو وہ ندوہ میں قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہو سکی ۔ دارالمصنفین جو خیال سے عمل کی طرف بڑھ رہا تھا اس کے اور مدرستہ اصلا ح سرائے میرکے متعلق مولوی مسعود علی ندوی کو ایک خط میں لکھتے ہیں۔

’’دارالمصنفین ،درجہ تکمیل،سرائے میر درجہ ابتدائی پورا جامعہ اسلامیہ کا مصالحہ ہے،کام کرنے کی ضرورت ہے،سرائے میر والے چند بار آئے،وہ تمھارے بہت آرزو مند ہیں،وہاںکے موجودہ عملی ناظم اور بانی مدر سہ مولو ی شفیع کی خواہش ہے کہ تم ناظم یا نائب ناظم بن جائو اور وہ واعظ بن کر قصبات کادورہ کرتے رہیں کہ مالی حالت کی طرف سے اطمینان ہو جائے وہ کہتے ہیں کہ مجھ کو نظم و نسق نہیں آتا۔‘‘  ایضاً ص ۱۱۶

علامہ شبلی نعمانی جو چاہتے تھے اور جیسا چاہتے تھے وہ تو نہیں ہو سکا البتہ ان کی خواہش کی تکمیل کسی نہ کسی صورت میں ضرور ہوئی۔گو کہ دونوں ادارے الگ الگ جگہ پر قائم ہیںلیکن تصنیفی و تعلیمی کام کا جو خواب مولانا  نے دیکھا یہ دونوں ادارے اسی خواب کی تعبیر ہیں۔مولانا کی وفات کے بعد ان کے نا تمام خوابوں کی تکمیل کے لیے مجلس اخوان الصفاکی تشکیل علامہ حمید الدین فراہی نے کی۔اس مجلس نے مولانا کی خواہش کے مطابق مولانا شبلی متکلم کو مدرستہ الاصلاح سرائے میر کی تعلیمی اور مولانا مسعود علی کو انتظامی نگرانی سپرد کی گئی۔مولانا شبلی متکلم ایک زمانے تک اپنے فرائض انجام دیتے رہے ۔علامہ حمید الدین فراہی نے کچھ ہی دنوں کے بعد اس مدرسہ کی انتظامی ذمہ داری سنبھال لی۔ جس زمانے میں مولانا حمیدالدین فراہی مدرستہ العلوم حیدر آباد کے پرنسپل تھے اور ان کی ماہانہ تنخواہ ایک ہزار روپئے تھی،علامہ شبلی کے کہنے پر وہ مدرستہ الاصلاح میں ۳۰ روپئے کے قلیل مشاہرے پر اپنی خدمات انجام دینے کے لیے آگئے ۔

مدرستہ الا صلاح سرائے میر اپنی طرز کا ایک منفرد ادارہ ہے۔جس کا مقصد قرآن کی محققانہ تعلیم اور علامہ شبلی نعمانی اور علامہ فراہی کے افکار و نظریات کی اشاعت ہے۔اس مدرسہ نے نہ صرف اعظم گڑھ کے مسلمانوں ، بلکہ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو بڑا فیض پہنچایا ہے۔عصری اور دینی تعلیم کا یہ مرکز آج بھی اپنی خصوصیات اور روایات کے ساتھ قائم و دائم ہے۔

شبلی اسکول:

علامہ شبلی نعمانی علی گڑھ تحریک سے اس قدر متاثر تھے کہ پانچ مہینے کی قلیل مدت میں اعظم گڑھ میں جون ۱۸۸۳ میں ایک انگریزی تعلیم کا مدرسہ نیشنل اسکول کے نام سے قائم کیا۔۱۳۰ سال پہلے قائم کردہ ایک چھوٹا سا مدرسہ پوسٹ گریجویٹ کالج کی شکل میں ہماری نظروں کے سامنے ہے اور آج اعظم گڑھ کی تعلیمی شہرت میں اس کالج کا اپنا مقام ہے۔۱۸۵۷ کے بعدہندوستان کی جو سیاسی صورت حال تھی اس سے ہم سب واقف ہیں۔اس زمانے میں جب لفظNationalism( قومیت )کے استعمال سے بھی لوگ گھبراتے تھے ایسے میں شبلی نے’’ نیشنل اسکول‘‘ قائم کرکے ایک طرح سے انگریزی حکومت کو اس طرف بھی سوچنے پرمجبور کر دیاتھا کہ ابھی ہم میں اتنی قوت باقی ہے کہ اپنی بات کو عملی طور پر انجام دے سکتے ہیںاور قوم کی تعلیمی بیداری میں اس طرح کے عملی ثبوت نے بہت اہم کردار ادا کیا۔ایک طرح سے سوتے ہوئے لوگوں کو جہاں جگانے کا کام کیا،وہیں تعلیم کی طرف لوگو ں کا ر جحان بھی بڑھا۔سرسید نے اس سے متعلق جو کچھ کہا وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی صورت میں عالمی پیمانے پرآج بھی اپنی مثال آپ ہے اور شبلی نے جو کچھ تعلیمی حوالے سے کیا وہ مختلف جہتوں سے نہ صرف اعظم گڑھ میں بلکہ بھوپال ،حیدرآباد ،لکھنؤ اور دوسرے شہروں میں اپنی جیتی جاگتی صورت میں موجود ہے۔

علامہ شبلی نعمانی ’’ نیشنل اسکول‘‘کو اپنی فکر کے مطابق ترقی دینا چاہتے تھے۔اور اس کی ترقی کے لیے جس طرح محنت کی ہے وہ ایک قوم کے درد مند سے ہی ممکن ہے۔چنانچہ محمد اسحاق نعمانی کو ایک خط میں لکھتے ہیں:

’’اب اس بات پر خیال کرو کہ یہ اسکول ہم لوگوں کے خیالات اور حوصلوں کا ایک عمدہ مشغلہ ہے ہم توقع کرتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کی عملی ترقی کے ساتھ اس کو بھی ترقی دیتے جائیں گے،آخر وہ کیا چیز ہے جس کو محسوس صورت میں ہم ایک ترقی کا کام کہہ سکتے ہیں،ہم میں جو لوگ قومی مذاق پیدا کرتے جائیں گے،ان کے لیے اپنی قومی فیاضی کے صرف کرنے کا اس اسکول سے عمدہ تر کیا موقع ہوگا۔‘‘

مکاتیب شبلی ،حصہ اول ۔م،سید سلیمان ندوی ص۳۵،سنہ اشاعت۲۰۱۰

درج بالا خط سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا شبلی کو ’نیشنل اسکول‘سے جتنا گہرا لگاؤ تھا اس سے کہیں زیادہ قوم کی تعلیم و تربیت کے لیے فکر مند تھے ۔یہ اسکول بڑے نشیب وفراز سے دوچار رہا۔لیکن شبلی نعمانی کے ماموں زاد بھائی شیخ محمد مرحوم کی نظامت میں اس اسکول کو نئی زندگی ملی۔اور انہیں کی کوشش کے نتیجے میں دوبارہ ہائی اسکول کو پہنچا اور ساتھ ہی ساتھ تعمیری کام میں بھی اضافہ ہوالیکن اصل کامیابی تو شوکت سلطان کے پرنسپل ہونے کے دور میں ملی۔جن کی کوشش اور حسن تدبیر سے پوسٹ گریجویٹ کالج کا درجہ حا صل ہوا۔اور کئی اہم مضامین میں ایم۔اے کے درجات کھل گئے۔علامہ شبلی حصول تعلیم کے لیے ہر طرح کی آرائش کے قائل تھے تاکہ پر سکون ماحول میں تعلیم حاصل کی جا سکے۔اسی لیے وہ بورڈنگ کے قیام کے لیے بھی فکر مند تھے۔اور چاہتے تھے کہ کسی طرح سے ایک دار الاقامہ تعمیر ہو جاتا تو بچے زیادہ سے زیادہ تعلیم حاصل کر سکتے۔اس وقت اس خیال کو عملی جامہ تو نہیں پہنایا جا سکا،البتہ کیفی اعظمی کے نام سے شبلی کالج میں لڑکیوں کے لیے ایک عالیشان دارالاقامہ شبلی منزل سے متصل قایم کیا گیا ہے۔اعظم گڑھ کے ذی شعور لوگوں نے اپنی محنت اور لگن سے علامہ شبلی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے کے لیے اپنی طرف سے ہر ممکن کوشش کی۔اس کی واضح مثال شبلی کالج کے کیمپس کا جدید تقاضوں کے تحت قایم کرنا ہے۔شبلی بورڈنگ کے متعلق اپنے بھائی مولوی محمد اسحاق کو ایک خط میں لکھتے ہیںـ:

’قابل غور یہ مسئلہ ہے کہ نیشنل اسکول کو ہائی اسکول بنانا چاہیئے یا ایک بورڈنگ قائم کرنا چاہیئے،اسکول ہر شہر میں سرکاری یا مشن موجود ہوتے ہیں اور ان کے برابراسٹاف اکا اسکول بنانا آسان نہیں اور بہت قوت اور محنت صرف کرنی پڑتی ہے، اب تجربہ کار لوگ اس کو تسلیم کرتے جاتے ہیں کہاسلام بورڈنگ بنانا زیادہ مفید ہے،جس میں اخلاقی اور مذہبی تربیت ہو،باقی تعلیم تو کسی بھی اسکول میں حاصل کریں گے،اگر یہ رائے صحیح ہو تو نیشنل کی عمارت کے قریب بورڈنگ کی بنیاد ڈالنا چاہیے، جس کو رفتہ رفتہ ترقی دی جا سکتی ہے،بورڈنگ کی وجہ سے بہت زیادہ بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے اور کفایت شعا ری کے ۔‘‘

ایضاً۔ص۔۵۳۔۵۴

درج بالا اقتباس سے اس بات کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ شبلی بورڈنگ کی اہمیت کو کسی قدر ضروری سمجھتے تھے۔ ان کی یہ بات’’نیشنل اسکول کو ہائی اسکول بنانا چاہئیے یا بورڈنگ قائم کرنا چاہیئے‘‘اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ بورڈنگ کو اسکول سے زیادہ ضروری اور مقدم سمجھتے تھے۔ مولانا نے ایک مدرسہ اپنے گائوں میں قائم کیا تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک خط میں انھوں نے مولوی عبدالسمیع کو لکھا:

’’ تم نے یہ نہیں لکھا کہ مدرسہ بندول کا ماسٹر کس درجہ کا پاس کیے ہے۔‘‘                        جلد اول۔ص۔۶۶

مولانا کے مکاتیب میں ان کے شاگردوں اور بہی خواہوں کے نام ایسے بہت سے خطوط موجود ہیں جن میں انھوں نے نیشنل اسکول کا ذکر کثرت سے کیا ہے اور اس کی ترقی کے لیے اس میں کسی نہ کسی طور سے شرکت کے لیے بھی آمادہ کیا ہے۔

جو ’’نیشنل اسکول تین لوگوں کی تعداد سے شروع ہوا تھا آج وہی اسکول ’’شبلی نیشنل کالج‘‘ کے نام سے ہزاروں طلبا کو فیض یاب کر رہا ہے۔یہ کالج صرف ایک تعلیمی ادارے کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ مسابقت کا بھی مرکز ہونے کا شرف حاصل کر چکا ہے اور یہاں کے فارغین دنیا کے مختلف حصوں میں علم کی شمع جلائے ہوئے ہیں ۔ یہ کالج اعظم گڑھ کے لوگوں کا سر فخر سے بلند کیے ہو ئے ہے۔ مشرقی اتر پردیش میں شرح خواندگی کا جو فیصد ہے اعظم گڑھ کی شرح خواندگی اس سے کم ہے کیونکہ شہری آبادی بارہ فیصد سے زیادہ نہیںہے۔ایسے میں جس شہر کی شرح خواندگی ۵۶یا ۵۷ فی صد ہو ، اس سے اس شہر کی تعلیمی بیداری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اعداد و شمارسے بھی یہ تصدیق ہوتی ہے کہ اعظم گڑھ میں تعلیمی بیداری میں شبلی کالج کا رول کتنا اہم ہے۔

ایسے ادارے جو کسی مشن یا تحریک کا حصہ رہے ہوں دوسرے اداروں سے ان کی اہمیت قدرے مختلف ہوتی ہے ۔اس اعتبار سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ شبلی نیشنل کالج کا یہ طرۂ امتیاز ہے کہ اس نے بالخصوص مسلمانوں کی تعلیم با لعموم اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی میں اپنا اہم رول ادا کیا ۔نیشنل اسکول شبلی کو کس قدر عزیز تھا اور کس جانفشانی سے انھوں نے اسے قائم رکھا ،اس سلسلے کے خطوط جو مکاتیب میں شامل ہیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے۔ اوریہی وہ خلوص تھا جس نے اس ادارے کو ایک شہر سے بین ا لاقوامی سطح پر متعارف کرایا۔ آج بھی یہ ادارہ اپنی ترقی کی منزلیں طے کرتا ہوا آگے کی طرف رواں دواں ہے۔ وہ دن دور نہیں جب یہ کالج جدید یونیورسٹی کے روپ میں اپنی الگ شناخت قائم کرے گا۔

دار المصنفین :

علامہ شبلی نعمانی کی زندگی کا آخری کارنامہ جسے ان کی تعلیمی فکر کا نتیجہ کہنا چاہیے ،وہ دراصل دارالمصنفین کا قیام ہے۔گو کہ عملی طور پر یہ ادارہ ان کے انتقال کے بعد عمل میں آیا۔لیکن اس کا مکمل خاکہ انھوں نے پہلے ہی تیار کر لیا تھا۔صرف خاکہ ہی نہیں تیار کیا تھا بلکہ اپنے عزیزوں اور احباب کو اس متعلق خطوط بھی لکھے تھے۔اس ادارے کے قیام کا خیال ان کے ذہن میں ایک عرصے سے تھا لیکن بعض مجبوریوں اور ندوۃالعلماکے ذمہ داران کی عدم دلچسپی سے یہ ادارہ قائم نہ ہو سکا ۔اس تعلق سے شبلی نعمانی نے مولوی مسعود کو لکھا ہے:

’’بھائی وہ لوگ دارالمصنفین ندوہ میں بنانے کب دیں گے کہ میں بناؤں،میری اصلی خواہش یہی ہے،لیکن کیا کیا جائے ،حالانکہ اس میں انہی کا فائدہ ہے۔‘‘

مکاتیب شبلی،جلد دوم۔۲۰۱۲۔ص۱۰۹

درج بالا اقتبا س سے مولانا شبلی نعمانی کے درد کا اندازہ ہوتا ہے۔اس ادارے کے قیام کے متعلق بہت ساری جگہوں کے بارے میں مشورہ کیاگیا۔بات گھوم پھر کر لکھنؤ آکر رک جاتی تھی۔مولوی مسعود کو لکھتے ہیں:

’’ایک کام کرنے کا تو یہ ہے کہ دارالمصنفین کا بندوبست کرو،راجہ صاحب محمودآباد نے مجھ سے کہا تھا کہ میں نے نجف کے پاس زمین لی ہے ،چاہو تو وہیں تم کو بھی دلادوں۔‘‘

ایضاً۔ص۔۱۱۰

مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی نے اپنے گاؤںحبیب گنج میں اس کے قیام کی پیشکش کی۔اس سلسلے میں شیروانی صاحب کو ہی لکھتے ہیں:

آپ دارالمصنفین کو حبیب گنج لے جانا چا ہتے ہیں تو حضرت میں اعظم گڑھ کو کیو ںنہ پیش کروں ،اعظم گڑھ میں اپنا باغ اور دو بنگلے پیش کر سکتا ہوں۔‘‘

مکاتیب شبلی،جلد اول۔۲۰۱۰۔ص۔۲۰۰

لیکن دارالمصنفین کے قیام کی جگہ کا مسئلہ ان کے بھائی مولوی محمد اسحق کی موت کے بعد خود بخود طے ہو گیا۔جب مولانا کو مجبور ہو کر اعظم گڑھ آنا پڑا۔ یہاں پہنچ کر مولانا کو بہت سکون و اطمینان حاصل ہوااور انھوں نے دارالمصنفین کو وہیں قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔مولوی مسعود صاحب کو لکھتے ہیں:

’’میں نے یہاںاپنا مستقل انتظام کر لیا ہے ،ہر طرح کا آرام اور پھیلاؤہے ،تعلیمی کام شروع ہو گئے ہیں ،کسی طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں،بالکل ایک بادشاہت معلوم ہوتی ہے اور افسوس ہوتا ہے کہ میں نے کیوں اتنے دن پاجیوں میں بسر کیے۔

باغ ہے،بنگلہ ہے،حکومت ہے،گریجویٹ ہیں،اسکول ہے،تعلیمی انجمن ہے اور سب حسب دلخواہ کام کرتے ہیں،نہ کہ وہاں سگان بازاری کے ساتھ عوعو میں مبتلا ہونا۔دارالمصنفین بھی شروع ہو جائے گا۔‘‘

مکاتیب شبلی ،جلد دوم،۲۰۱۲۔ص۔۱۱۸

چنانچہ دارالمصنفین کے لیے انھوں نے اپنا بنگلہ اور باغ سب وقف کر دیا۔اس کے لیے انھوں نے اپنے اعزہ کو راضی بھی کرلیا اور وقف نامہ کے لیے جن مراحل سے گزرنا پڑتا ہے ،اسی سلسلے کی کاغذی کاروائی چل رہی تھی ۔مولوی مسعود ہی کو لکھتے ہیں:

کلکٹر صاحب کے ہاں وقف نامہ کی تعیین اسٹامپ کی درخواست دی تھی،کل حکم آگیا،آٹھ آنہ سیکڑہ شرح ہے،اب تکمیل وقف نامہ میں کوئی انتظار نہیں۔‘‘                       یضاً۔ص۔۱۱۶

اسی دوران مولانا دارالمصنفین کا دستورالعمل ، طلبہ کے داخلے کے قواعد ،دوسرے خاکے اور منصوبے بھی تیار کر رہے تھے۔تقریباً سارے کاغذی مراحل طے ہو چکے تھے۔ لیکن عملی طور پر اپنے خواب کی تعبیر مکمل کرنے سے پہلے ہی مولانا داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔

علامہ شبلی نعمانی کے انتقال کے وقت دارالمصنفین دو کچے بنگلے اور کتابوں کی چند الماریوں پر مشتمل تھا۔ یہ علامہ شبلی نعمانی کے اس حسین خواب کی تعبیر تھی جسے انھوں نے کئی سال پہلے دیکھا تھا۔مولانا دارالمصنفین کو بالکل ندوہ کے نہج پر چلانا چاہتے تھے ،اسی لیے اس میں دو شاخیں ،درجۂ تکمیل اور درجۂ تفسیر قائم کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے جانشینوں اور شاگردوں نے اسے صرف تصنیف و تالیف تک ہی محدود رکھا۔

علامہ شبلی نعمانی کا دارالمصنفین کے قیام کا مقصد در اصل ان کے تعلیمی فکر کے ایسے لوگوں کو تیار کرنا تھاجو نئے حالات کانئے زمانے میں سامنا کر سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ جس وقت دارالمصنفین قائم ہوا تھا اس وقت بھی دین اسلام کو ہر طرف سے نشانہ بنایا جا رہا تھا اور موجودہ حالات بھی اس وقت کے حالات سے کچھ مختلف نہیں کیونکہ جس زمانے میں علامہ شبلی نے اس ادارے کا خاکہ بنایا تھااس وقت ہندوستان انگریزوں کی قید میں تھا۔آج بھی صورت حال بہت زیادہ مختلف نہیں ہے اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے میں لوگ پہلے ہی کی طرح سرگرم ہیں ۔ شبلی کی دور رس نگاہوں نے اس بات کی ضرورت محسوس کی تھی کہ ایسی تحریریں اسلام کی موا فقت میں تیار کی جائیں جس سے الزامات کا جواب دیا جاسکے۔تاریخ میں دارالمصنفین کا بڑا کارنامہ یہ ہے کہ شبلی نعمانی کا مقصد ان کی خواہش کے عین مطابق پورا ہوا۔گویا کہ وہ جو چاہتے تھے دارالمصنفین اس کا عملی ثبوت ہے۔لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی کے اس دور میں اس ادارے کی اشاعت مختلف ذرائع سے عام لوگوں تک پہنچائی جائے۔تسلی بخش بات یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں اس طرف خاطر خواہ توجہ دی جارہی ہے ۔

درج بالا تینوں ادارے اعظم گڑھ میں علامہ شبلی نعمانی کی یاد گار ہیں۔علامہ شبلی نعمانی کی ذات ایک ایسی رحمت ثابت ہوئی جس نے نہ صرف اعظم گڑھ میں بلکہ عالم اسلام میں اپنے علم سے لوگوں کو متاثرکیا۔مولانا نے اپنے وطن سے ایک ستارہ کی مانند نکل کر ساری دنیا کو اپنے علم سے منور کر دیا۔ان تینوں اداروں کی وجہ سے اعظم گڑھ نے اپنی ایک شناخت بنائی۔اور یہاں کی تعلیمی ترقی میں ان تینوں اداروں نے اپنا غیر معمولی کردار ادا کیا۔مولانا اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی کے متعلق کس قدر متفکر تھے اس کاا ندازہ ان کے خط کے اس اقتباس سے ہوتا ہے جو انھوں نے مولوی مسعود کو لکھا تھا:

’’میں اگر صحیح رہا تو دارالمصنفین کی تجویز اور اعظم گڑھ میں عام تعلیم کی اشاعت ان دونوں کاموں کو وسیع پیمانہ پر جاری کروں گا۔‘‘

ایضاً۔ص۔۱۱۹

اس لیے ہم کہہ سکتے ہیں کہ علامہ شبلی نعمانی نے جو پودا لگایا تھا وہ آج ایک تناور درخت کی شکل میں ہمارے بیچ موجودہے اور اس کے سائے سے خطۂ اعظم گڑھ پوری  طرح سے مستفیض ہو رہا ہے۔ مولانا نے اگر کچھ نہیں کیا ہوتا تب بھی نیشنل اسکول(موجودہ شبلی نیشنل پوسٹ گریجویٹ کالج،اعظم گڑھ)ان کی بقا کا ضامن ہوتا۔اعظم گڑھ کی شرح خواندگی کی بہتری میں اسی ادارے کا حصہ ہے،جو اعظم گڑھ میں اہل اعظم گڑھ کے لیے ایک تحریک کی طرح کام کر رہا ہے۔

 

 

Dr. Shahnewaz Faiyaz

Mob.No.9891438766

Email ID: sanjujmi@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

1 comment

Safdar Imam Quadri فروری 20, 2021 - 3:40 صبح

اچھا مضمون ہے۔ فیضان شبلی کا یہ نیا پہلو ہے۔مضمون نگار کو مبارکباد۔

Reply

Leave a Comment