گھر آنگن کا شاعر : جاں نثار اختر – ڈاکٹر سلمان فیصل

by adbimiras
0 comment

جاں نثار اختر ایک ایسے علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جن کی جبلت میں شاعری و دیعت کی ہوئی تھی۔ جاں نثار اختر کو ورثے میں شاعری ملی اور انھوں نے اپنی جولانی طبع سے اسے صیقل کرنے کی کوشش کی ۔ ان کی شاعری کے مختلف رنگ و روپ ہیں۔ چونکہ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے، اس لیے ان کی شاعری میں ترقی پسند رنگ بہر حال غالب ہے جو پہلی قرأت میں ہی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ انھوں نے غزلوں اور نظموں کے ذریعے اردو شاعری کی خاطر اپنے حصے کا چراغ جلانے کی حتی الامکان کوشش کی، جس کے نتیجے میں ان کے شعری مجموعے سلاسل، تارگریباں، نذر بتاں، جاوداں، گھر آنگن ، خاک دل اور پچھلے پہر منظر عام پر آئے۔

"گھر آنگن” جاں نثار اختر کا بالکل انوکھا اور یکسر مختلف قسم کا مجموعہ کلام ہے، جو رباعیات اور قطعات پر مشتمل ہے۔ یہ مختصر سا مجموعہ تقریبا ڈیڑھ سو رباعی اور قطعات پر مبنی ہے، جس کے نام سے ہی ظاہرہوتا ہے کہ اس مجموعہ کلام میں جو شاعری ہے وہ گھر آنگن کی شاعری ہے۔ ان رباعیات اور قطعات میں جاں نثار اختر نے یاتو گھر کی رونق خاتون خانہ کے بارے میں اظہار خیال کیا ہے ،یا پھر خاتون خانہ کی زبانی اپنے پیا کے لیے جذبہ محبت کا اظہار ہے۔ یہ گھر آنگن کی شاعری یوں تو ہندوستانی تہذیب و ثقافت پر مبنی ہے، لیکن پوری طرح رومانیت سے مملو ہے ۔اس مجموعہ کلام کا انتساب جاں نثار اختر نے اپنی دوسری بیوی خدیجہ کے نام کیا ہے اور جس میں انھوں نے لکھا ہے کہ "خدیجہ کے نام جو میرے لیے صفیہ کا دوسرا روپ ہے”۔

اس مجموعہ کلام پراردو کے معروف فکشن نگار کرشن چندر نے مقدمہ لکھا ہے۔ جس میں پوری کتاب کا تعارف ناقدانہ بصیرت کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ان رباعیوں اور قطعات کے حوالے سے کرشن چندر نے مختلف زاویوں سے تنقیدی و تقریظی گفتگو کی ہے۔ کرشن چندر نے اس مجموعہ کے بارے میں لکھا ہے کہ

"گھر آنگن کی شش جہتی کو، اس کی کندنی کیفیتوں کے ساتھ اس طرح آشکار کیا ہے کہ اس کی آواز ہیرے کا ایک ترشا ہوا نگینہ بن گئی ہے، جو سہاگ کے جھومر کی طرح عورت کے ماتھے پردمک رہا ہے۔‘‘ (گھر آنگن، جاں نثار اختر،مکتبہ شاہراہ، اردو بازار، دہلی 1971، ص:10)

کرشن چندر نے جاں نثار اختر کی شاعر ی کے محاسن پر گفتگو کی ہے اور ان کے لہجے کے بارے میںلکھا ہے کہ

–”جاں نثار اختر کی شاعری کا لہجہ کبھی بلند آہنگ اور کھن گرج والا نہیں رہا۔ اسے چیختے ہوئے رنگ پسند نہیں۔اس کی شاعری دھیمی دھیمی آنچ پر پکتی ہے، گھر کے سالن کی طرح۔ اور اس کی تشبیہوں ، علامتوں اور استعاروں سے آنگن میں کھڑے ہوئے پیڑوں کی جھولتی شاخوں کی صدا آتی ہے۔اختر کے دھیمے دھیمے لہجے، متوازن معتدل مزاج اور گہرے دھارے کی طرح اندر ہی اندر بہنے والے جذبے نے اس مشکل موضوع سے مکمل انصاف کیا ہے اور اردو شاعری کو ایک نیا تجربہ، ایک الگ موضوع اور ایک نیا تصور عطا کیا ہے جو بیک وقت قدیم بھی ہے اورجدید بھی”-(گھر آنگن، ص:۱۱)

قدیم شعرا نے شاعری کی ایک طرزریختی ایجاد کی تھی، جس میں متکلم خاتون ہوتی ہے۔ خاتون کی زبانی مختلف موضوعات کا بیان ہوتا، جو رومانیت سے بھرا ہوا چٹخارے دار ہوتا اور کبھی کبھی رومانیت کا چٹخارا اس قدر تیز ہوتا کہ رذالت کی کیفیت پیدا ہو جاتی۔ جاں نثار اختر نے اس ریختی کو بنیاد بنا کر ایک نئے طرز اور نئے اسلوب کو خلق کیا ہے۔ ریختی کے عناصر گھر آنگن کی شاعری میں پائے تو جاتے ہیں ،لیکن وہ رذالت والی کیفیت بالکل نہیں ہے،گرچہ رومانیت بھرپور ہے۔ جاں نثار اختر نے رباعیات و قطعات میں نئے موضوع سخن اور نئے تصور کو پیش کرکے اردو شاعر میں ایک نئے رجحان کی بنیاد رکھی ہے۔ اس مجموعہ کلام میں جس طرح سے ہندوستانی تہذیب کی عکاسی ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ تہذیب ان کو ورثے میں ملی تھی،کچھ رباعی و قطعات ملاحظہ ہوں:

وہ اون کے ڈالے ہوئے پھندے گن کر

طے کر چکی سوئٹر کی رکھے کیا چوڑائی

اب جانے وہ کیا سوچ رہی ہے من میں

ہونٹوں میں دبائے ہوئے بننے کی سلائی

٭٭٭

سوتے سے اٹھی کہ گرم کھانا کردے

لوکا جو لگا جھلس گئی سب کایا

آیا ہے جو ہوش پوچھتی ہے ان سے

بتلائیے سچ، آپ نے کھانا کھایا

٭٭٭

آہٹ مرے قدموں کی جو سن پائی ہے

اک بجلی سی تن بدن میں لہرائی ہے

دوڑی ہے ہر اک بات کی سدھ بسرا کے

روٹی جلتی، توے پہ چھوڑ آئی ہے

٭٭٭

نظروں سے مری خود کو بچالے کیسے

کھلتے ہوئے سینے کو چھپالے کیسے

آٹے میں سنے ہوئے ہیں دونوں ہی تو ہاتھ

آنچل جو سنبھالے تو سنبھالے کیسے

اس مجموعے کی خاص بات یہ ہے کہ جاں نثار اختر نے شاعری کی ابتدا وہاں سے کی ہے جہاں پر محبت کی داستاں ختم ہوتی ہے ،یعنی وصل۔ بالعموم افسانہ و ناول نگاروں یا داستان نویسوں نے اپنی کہانی اور داستان وصل پر ختم کی ہے- لیکن وصل کے بعد کی کیفیات کیا ہیں ان پر کم لوگوں نے لکھا ہے۔ کرشن چندرنے اپنے مقدمے میں لکھا ہے:

"اختر نے گھر آنگن میں اس بات کو وہاں سے شروع کیا ہے جہاں اکثر ناول نگار اور افسانہ نگار اسے ختم کرتے ہیں۔ وہی اختر کے لیے ابتدا ہے۔ ازدواجی زندگی کے سکھ دکھ، باہمی رفاقت، پیار اور محبت کا گہرا گداز جس سے اس دنیا کے کروڑوں گھر ایک خوب صورت زندگی سے جگمگاتے ہیں اور جنھیں اکثر و بیشتر شاعر اور ادیب خاطر میں نہیں لاتے، نہ اپنی شاعری میں اسے کوئی جگہ دیتے ہیں۔‘‘ (گھر آنگن،ص: ۱۲) ( یہ بھی پڑھیں کلاسیکی اردو شاعری اور ملی جلی معاشرت – پروفیسر گوپی چند نارنگ )

رشتہ ازدواج میں منسلک دو روحوں کے مابین جس قسم کی اصل محبت ہوتی ہے یا ہونی چاہیے اس کا نقشہ جان نثار اختر نے کھینچا ہے۔ شوہر کے آرام و خوشنودی کا خیال ، دونوں کے درمیان محبت کے پاک اور تقدس رشتے ،عورت کی فطرت وجبلت اور اس کی بے لوث محبت اور پیار کا نمونہ ملاحظہ ہوں:

وہ آئیں گے چادر تو بچھادوں کوری

پردوں کی ذرا اور بھی کس دوں ڈوری

اپنے کو سنوارنے کی سدھ بدھ بھولے

گھر بار سجانے میں لگی ہے گوری

٭٭٭

ہر چاندنی رات اس کے دل کو دھڑکائے

بھولے سے بھی کھڑکیوں کے پردے نہ ہٹائے

ڈرتی ہے کسی وقت کوی شوخ کرن

چپکے سے نہ اس کے پاس آکر سو جائے

٭٭٭

کپڑوں کو سمیٹے ہوئے اٹھی ہے مگر

ڈرتی ہے کہیں ان کو نہ ہوجائے خبر

تھک کر ابھی سوئے ہیں کہیں جاگ نہ جائیں

دھیرے سے اڑھارہی ہے ان کو چادر

٭٭٭

ہر صبح اٹھے اٹھ کے اندھیرے سے نہائے

آنکھیں جو اٹھائے بھی تو نظریں نہ ملائے

راتوں کا مگر بھید چھپائے نہ چھپے

بھیگے ہوئے بالوں سے مہک سی آجائے

جاں نثار اختر نے اپنی رباعیوں اور قطعات میں گھریلو زندگی کو موضوع سخن بنایا ہے، جس طرح سے گھریلو زندگی میں قسم قسم کے رنگ اور مناظر نظر آتے ہیں، ان سب کا احاطہ پوری طرح تو نہیں کیا گیا، لیکن جن مناظر میںپیار و محبت اور رومانیت کا شائبہ ہے ان کو واضح طورپر بیان کیا گیا ہے۔ کشور سلطان لکھتی ہیں:

’’ گھریلو زندگی کا موضوع اپنے دامن میں بڑی وسعت رکھتا ہے پردہ سیمیں کی طرح خانگی زندگی بھی ہر آن نئے مناظر نئے مشاہدات کی جاذب نظر تصویریں سامنے لاتی رہتی ہیں یہی تصویریں اختر کی ان رباعیات اور قطعات میں نہایت قرینے کے ساتھ پیش کی گئی ہیں ان کی باریک بیں نگاہیں ان کی قوت مشاہدہ ان کی نفسیاتی گرفت اور زبان کا رس ان سب خصوصیات نے ملکر گھر آنگن کی شاعری کو دل پذیر بنا دیتا ہے۔‘‘ (جاں نثار اختر (حیات و فن)، ڈاکٹر کشور سلطان، نسیم بک ڈپو لاتوش روڈ لکھنؤ،ستمبر ۱۹۷۷، ص:۲۶۷)

ترقی پسند تحریک سے وابستہ جان نثار اختر کے اس مجموعہ کلام کو پڑھ کر بالکل بھی ایسا نہیں لگتا کہ یہ ترقی پسند شاعر کی رباعیاں اور قطعات ہیں۔ رومانیت اور گھریلو قسم کی قدیم ہندوستانی تہذیب سے پُر اس شعری مجموعے میں ترقی پسند تحریک کا مزدوروں اور غریبوں و مسکینوں کی آواز اٹھانے اور ان کی حمایت کرنے والا مینی فیسٹو کہیں بھی نظر نہیں آتا ہے۔ان رباعیات اور قطعات میں ایک الگ ہی دنیا بسی ہوئی ہے۔ ایسی شاعری کی قرأت سے دل محظوظ تو ہو سکتے ہیں، لیکن ترقی پسندی والا کوئی طوفان نہیں برپا ہوسکتا۔ کیونکہ اس میں سیاسی نعرے بازی کی ادنی سی بھی جھلک نظر نہیں آتی ہے۔ اس شعری مجموعے کے مطالعے سے یہ کہاجاسکتا ہے کہ جاں نثار اختر کی شاعری میں غنائیت اور گدگدانے والا لہجے کا دھیمہ پن ان کی ایک الگ شخصیت کی پہچان کراتا ہے۔

٭٭٭٭٭

صریرِ خامہ سلمان فیصل

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

You may also like

Leave a Comment