ادب کی ماحولیاتی شعریات فلسفۂ ماحولیات کے چند بنیادی مقدمات سے ظہور کرتی ہے۔مثلاََ یہ کہ ادب،ثقافت اور فطرت میں ایک لازمی رشتہ ہے؛عالم ِمادی کی تمام اشیا باہم مربوط ہیں؛ ایک دوسرے پر انحصار،باہمی تعامل ا ور تعاون میں ان کی بقا ہے؛صرف انسان ہی حیوانِ ناطق نہیں،تمام بہائم،طیور،اشجار،حشریے اور دیگر مظاہرِ فطرت بھی جذبات و احساسات اور اپنی زبان میں کلام کی صلاحیت رکھتے ہیں نیز یہ کہ انسان کی استحصال پسند طبیعت اور اس کی مادی خواہشات و ہوس فطرت کے قائم کردہ توازن میں بگاڑ کا باعث ہے جس نے کرہ ء ارض کو اس صورت حال سے دوچار کر رکھا ہے جسے ماحولیاتی بحران کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔امریکی ماہرِ ماحولیات بیری کامنر(Barry Commoner) نے اپنی کتاب The Closing Circle(1971) میں ماحولیات کے چار قوانین پیش کیے ہیں۔(۱) یہ قوانین ادب کے ماحولیاتی مطالعات کے لیے اساس کا درجہ رکھتے ہیں۔ان میں سے پہلا قانون:”ہر شے دوسری شے سے جڑی ہوئی ہے“،ماحولیاتی کُرے میں موجود مختلف زندہ نامیوں،انواع اور بے جان اشیا کے باہمی ربط کی نشاندہی کرتا ہے۔دوسرے قانون کے مطابق ”ہر شے کہیں نہ کہیں استعمال ہوتی ہے“۔یہاں فزکس کا یہ بنیادی اصول ماحولیات پر لاگو ہوتا ہے کہ مادہ ناقابلِ تقسیم ہے۔کامنر کے مطابق ماحولیاتی نظام میں ختم ہونے والی کوئی بھی شے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتی،یہ کسی نہ کسی صورت میں ماحول میں موجود کسی دوسری شے کی خوراک بن جاتی ہے۔بیری کامنر اپنے تیسرے قانون میں دعو یٰ کرتا ہے کہ”فطرت اشیا کو بہتر جانتی ہے“۔یہ قانون فطرت کے استحصال کا جواز فراہم کرنے والے اس مفروضے کا استرداد کرتا ہے کہ انسان فطرت کو بہتر استعمال کر سکتا ہے۔اس قانون کی رُو سے صرف فطرت ہی بہتر جانتی ہے کہ کون سی شے کو کس مقصد کے لیے بہتر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ماحولیات کا چوتھا قانون(ماحولیاتی نظام میں کچھ بھی اضافی نہیں ہے)ماحولیاتی بحران کے اسباب کی طرف اشارہ کرتا ہے۔اس قانون کے مطابق کرۂ ارض کے تمام ماحولیاتی نظام ایک دوسرے سے منسلک ہیں،ان میں سے کسی بھی شے کا غیر ضروری استعمال مجموعی ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان اور بگاڑ کا باعث بن سکتا ہے۔ انسان اس توازن کو بگاڑنے کے لیے جو بھی عمل کرتا ہے،اس کی جلد یا بدیر کچھ نہ کچھ قیمت چکانی پڑتی ہے۔یہ قوانین بالخصوص پہلا قانون ادبی متون کے ماحول اساس مطالعات کی راہ ہموار کرتا ہے۔یہ اس مؤقف کو تقویت دیتا ہے کہ فطرت اور ثقافت ایک دوسرے سے الگ مظہر نہیں ہیں۔انسان اور انسان کی تخلیقی سرگرمیاں جہاں ایک طرف ثقافت اور تاریخ سے جڑی ہوتی ہیں،وہیں دوسری طرف ادب کی تخلیق،تخلیقی عمل اور تخلیقی ذرائع فطرت اور ماحول سے بھی پوری طرح ہم آہنگ اور مربوط ہیں۔ادب کی ماہیت،اہمیت اور کردار کے حوالے سے ای۔ایم فورسٹر کا کہنا ہے:
ادب اور آرٹ ہمیں جانوروں سے الگ کرتے ہیں۔اور طرح طرح کی مخلوقات سے بھری اس دنیا میں ہمارے لیے وجہ ء امتیاز پیدا کرتے ہیں۔(۲)
جب کہ جوزف میکر سوال اُٹھاتا ہے کہ:
انسان زمین کی واحد ادب تخلیق کرنے والی مخلوق ہے۔اگر ادب کی تخلیق نوعِ انسانی کا منفرد وصف ہے تو پھر انسانی رویّوں اور قدرتی ماحول پر اس کے اثرات کی بھی شفاف اور اور ایمان دارانہ تحقیق ہونی چاہیے تا کہ یہ تعین ہو سکے کہ انسانیت کی فلاح اور بقا کے لیے ادب کا کیا کردار ہے؟(اگر ہے تو؟)نیز یہ دوسری انواع اور ارد گرد کی دنیا کے ساتھ انسانی رشتوں میں کن بصیرتوں کو نمایاں کرتا ہے۔کیا یہ ایک ایسی سرگرمی ہے جو ہمیں دنیا سے قریب کرتی ہے یا ہمارے اندر اس کے لیے کدورت کو جنم دیتی ہے؟فطرت کے انتخاب اور ارتقا کے اس ناقابل رحم تناظر میں کیا ادب ہماری بقا کے لیے زیادہ کردار ادا کرتا ہے یا ہماری معدومیت کے لیے؟ (یہ بھی پڑھیں ماحولیات کا تحفظ عصرِ حاضر کا تقاضا – مظفر نازنین )
دو مختلف مکاتب ِ فکر سے تعلق رکھنے والے ناقدین کی آرا ء ایک ساتھ درج کرنے کا مقصداد ب کے کردار کے متعلق دو مختلف نقطہ ہائے نظر کو سامنے لانا ہے۔یہ دو آرا ء دو مختلف شعریات کی نمائندگی کرتی ہیں۔فورسٹر کی رائے (جانوروں کے بارے میں تحقیری رویےّ سے قطع نظر)انسانی معاشرے میں انسانی تخلیق کی اہمیت کو باور کراتی ہے۔یہ ادبیات عالم کی عمومی روش ہے، دنیا کا بیشتر ادب انسان کی مذہبی،روحانی،سماجی اور نفسیاتی دنیا کو موضوع بناتا ہے۔انسان کا اپنا ذہنی جہان اس قدر وسیع اور بے کنار ہے کہ اس نے انسان کو یہ مہلت ہی نہیں دی کہ وہ ”جہانِ دیگر“ کی طرف بھی توجہ دے پاتا۔دوسری طرف ماحولیات پسند جوزف میکر کے سوالات ادبی بصیرتوں میں اس ”جہانِ دیگر“کو برابری کی سطح پر شامل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔میکر کے سوالات انسان پسندی کی اساس پر قائم ہونے والے تنقیدی نظریات کے مقدمات میں نظر اندز کردہ منطقوں کی جانب پیش رفت کرتے ہیں۔یہیں سے ادب کی انسان پسندانہ اور ماحولیاتی شعریات کا امتیاز بھی نمایاں ہوتا ہے۔انسان پسند شعریات تحدید کی قائل ہے جب کہ ماحولیاتی شعریات سیکولر اقدار پر استوار ہوتی ہے۔ماحولیاتی ادب مذہبی،سیاسی اور سماجی تصورات سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے دنیا کو ایک وسیع سماج تصور کرتا ہے:ایک ایسا کامل سماج جس میں نہ صرف انسانی سماج کی طبقاتی تقسیم شکست و ریخت کا شکار ہوتی ہے بلکہ انسان اور دیگر مخلوقات کے مابین ترجیحی ترتیب کا مفروضہ بھی اتھل پتھل کا شکار ہوتا ہے۔ماحولیاتی ادب ایک ایسے سماج پر اصرار کرتا ہے جس میں انسان سمیت تمام مخلوقات برابر حقوق اور مساویانہ سلوک کی مستحق قرار پاتی ہیں۔یہ انسان اور انسانی سماج و ثقافت کے ساتھ فطرت اور اس کے مظاہر کو براہ راست موضوع و معروض بناتا ہے۔نیز انسان کے ان توسیع پسندانہ عزائم کو بھی معرضِ سوال میں لاتا ہے جو انسانی ترقی کے نام پر ٹیکنالوجی کی بے مہار طاقت کو فطرت کے استحصال کا جواز فراہم کرتے ہیں۔یہ سوال بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے کہ فطرت براہِ راست انسان کے تخلیقی تجربے کا حصہ کن بنیادوں پر بنتی ہے؟کسی تخلیقی تجربے کا تخلیقی اظہار اس زبان کا مرہون منت ہوتا ہے جو انسان کے اظہار کا ذریعہ ہے۔چناں چہ ادب میں فطرت کے اظہار کی دو صورتیں ممکن ہوتی ہیں۔پہلی صورت انسانی زبان کا مجازی اظہار ہے جس میں فطرتی مظاہر کسی انسانی جذبے،کیفیت یا صورت حال کے لیے تشبیہ،استعارہ،علامت یا نشان بنتے ہیں۔نشان خاطر رہے کہ تشبیہ،استعارہ،علامت یا نشان کسی دوسرے کی ترجمانی/نمائندگی کرتے ہیں بذاتِ خود بعینہٖ وہ شے نہیں ہوتے۔اس صورت میں ادب فطرت کو استعمال کرتا ہے یا یوں کہنا چاہیے کہ اپنے بہتر اظہار کے لیے اس سے معاونت طلب کرتا ہے۔دوسری صورت فطرت کے براہِ راست اظہار کی ہے، جس میں فطرتی مظاہر اپنی جدا گانہ اور قائم بالذات حیثیت میں سماج کے ایک حصے/باشندے کے طور پر ظاہر ہوتے ہیں۔یہ کسی انسانی صفت کی نمائندگی کرنے کے بجائے اپنے احساسات و جذبات،افعال و اعمال،سماج میں اپنے کردار اور انسان سمیت دیگر مخلوقات کے ساتھ تعلق و رشتے کو بیان کرتے ہیں اور اپنی موجودگی(بہ طور ایک فطرتی مظہر)باور کراتے ہیں۔ماحولیاتی ادب بشر مرکزیت کے مقابل حیات مرکزیت کا دعویٰ کرتا ہے۔یہ سماجی علوم میں راسخ قدیم انسان پسندانہ مفروضات اور اس تشکیلی علاحدگی اور ثنویت کے استرداد پر اصرار کرتا ہے جس کی رُو سے انسان اور فطرت ایک دوسرے سے الگ مظاہر تصور کیے جاتے ہیں۔۔انسان اور فطرتی مظاہر و اشیا کے باہم جڑے ہونے کا ماحولیاتی مقدمہ اس تیقن سے پھوٹتا ہے کہ حیاتیاتی معاشرے میں موجود تمام مخلوقات تکلم کی صلاحیت سے متصف ہیں؛خاموش معروض نہیں ہیں؛ان کی اپنی ایک آواز ہے،جو سنائی دیتی ہے،اسے ایک خاص سطح پر محسوس کیا جا سکتا ہے اور اس کا ابلاغ بھی ممکن ہے۔منشا یاد کے افسانے بچے اور بارود کا موضوع اگرچہ جنگ اور اس کی تباہ کاری ہے تاہم افسانے کے آغاز میں جب افسانے کا راوی بوڑھی خاتون سے اس کی سماعت کے بارے میں دریافت کرتا ہے تو وہ کہتی ہے:
ہاں ساری آوازیں سن لیتی تھی۔جہاں ہمارا گھر تھا وہاں بہت درخت تھے۔درختوں پر سارا دن کبوتر،کوے،فاختائیں،چڑیاں اور طوطے بولتے تھے۔ان کی آوازوں سے عجب سماں بندھا رہتا۔ہمارے گھر کے پاس ایک آبشار تھی۔بارہ مہینے بہتی رہتی۔جب بھی پیچھے پہاڑوں پر بارش ہوتی یا برف پگھلتی،اس کا شور بڑھ جاتا۔میں روٹی پکاتی،جھاڑو دیتی،بکری دوہتی اس کی آواز سنتی رہتی۔اس کی آواز میں ذرابھی تبدیلی آتی تو مجھے گھر بیٹھے پتہ چل جاتا کہ پانی کا کتنا بڑا ریلا آیا ہے۔میرا مرد کھیتوں میں ہل چلاتا تو مجھے اس کی آہٹ سے پتہ چلتا رہتا کہ اب وہ کھیت کے کس حصے میں ہے۔وہ جنگل میں لکڑیاں کاٹنے جاتا تو مجھے گھر بیٹھے اس کے کلہاڑے کی آواز سے اندازہ ہوتا رہتا،اب وہ تھک گیا ہے اور اسے قہوے کی ضرورت ہے۔رات کو کہیں چوہا حرکت کرتا تو میری آنکھ کھل جاتی۔(یہ بھی پڑھیں ماحولیاتی آلودگی، ہماری ذمہ داریاں اور اسلامی تعلیمات – حافظ معراج المومینین )
یہاں ہمیں مختلف جاندار اور بے جان اشیا کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔یہ آوازیں مختلف مفاہیم کی حامل ہیں۔مثلاََ آبشار کی آواز کا بدل جانا یہ مفہوم رکھتا ہے کہ پانی میں اضافہ ہو چکا ہے۔کھیتوں میں ہل کی آہٹ بتاتی ہے کہ ہل چلانے والا دور یا نزدیک پہنچ چکا ہے۔کلہاڑے کی آواز میں تبدیلی،کلہاڑا چلانے والے کی جسمانی کیفیت کا پتہ دیتی ہے اور چوہے کی مدھم حرکت کسی ممکنہ نقصان کے معانی باور کراتی ہے۔
ماہرین لسانیات متفق ہیں کہ آواز ابلاغ کی اولین صورت ہے اور زبان بنیادی طور پر آوازوں کا مجموعہ ہے۔زمانہ ماقبل تاریخ کے اس انسان کو تصور میں لائیے جو محض چند اشارات اور غوں غاں کی آوازوں سے اپنے جذبات،احساسات اور ضروریات کا اظہار کرتا تھا۔مختلف آوازوں کے لیے مختلف علامتوں (حروف)کا تعین اور ان کی ترتیب و تنظیم زبانی کلچر سے تحریری کلچر کی طرف وہ بڑی شفٹ تھی جس نے نہ صرف انسان کو امتیازی حیثیت سے نوازا بلکہ انسان اور فطرت کے مابین ایک بیگانگی اور مغائرت کو جنم دے کر انسان کو افضلیت کے زعم میں مبتلا کردیا۔انسان کے قدیم ترین عقیدے مظاہر پرستی(Animism)کی رُو سے حیوانات کے علاوہ مجہول موجودات بھی ذی روح اور متکلم وجود ہیں لیکن انسانی معاشرے میں صرف انسانی آوازوں کے لیے علامتوں کا تعین اور ان کے مخصوص معانی کا تقرر ہوا چنا ں چہ عقلیت پسندی یہ تسلیم کرنے میں ہمیشہ متامل رہی کہ دیگر مخلوقات و مظاہر کی آواز اور زبان بھی کسی خاص مفہوم کی حامل ہو سکتی ہے یا ا سے ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔اردو کے ایک ماہر لسانیات خلیل صدیقی لکھتے ہیں:
پچھلی صدی کے نصف آخر میں ”حیاتیاتی ارتقا“کے نظریے نے نظریہ ء ارتقا اور تاریخی نقطہ ء نظر کو فروغ دیا تو ملتے جلتے مظاہر کو ایک ہی زمرے میں شامل کرنے اور تصورات(Concepts)کو وسیع تر کرنے کا رجحان بھی پیدا ہوا،چناں چہ زبان کے تصور میں اتنی وسعت پیدا کر دی گئی کہ اس میں اکثر جانوروں کی شمولیت کا جوا ز بھی پیدا ہو گیا۔زبان کی ابلاغی ’قدر‘ کے التزام نے حیوانی آوازوں میں اس ”قدر“کے تجسس پر آمادہ کیا۔بعض جانوروں کی مخصوص آوازیں ان کے ہم جنسوں میں جوبی عمل(Response)کی محرک بھی ہوتی ہیں،اس لیے انھیں ابلاغی سمجھنے کا جواز بھی ڈھونڈ لیا گیا۔یہ بھلا دیا گیا کہ ابلاغی قدر شعور و ارادہ کی مرہون منت ہوتی ہے۔حیوانی آوازیں محض اظہار کہلا سکتی ہیں کیوں کہ ان کا محرک کوئی ابلاغی ارادہ نہیں ہوتا اور انہ ہی ان کے حسب مرضی جوابی رد عمل یا تاثر کی توقع کی جاتی ہے۔(۴)
یہ زبان کا خالص بشر مرکزی تصور ہے۔ماہرین لسانیات زبان کی بنیادی تعریف متعین کرتے ہوئے اسے انسانی اعضائے ناطقہ کے تعامل سے پیدا ہونے والی آوازوں کا مجموعہ کہتے ہیں۔بیسویں صدی میں ساختیات کا لسانی فلسفہ زبان کے اس مروج تصور پر ضرب لگاتا ہے۔ساختیات سے ماخوذ نشانیات،زبان سے مراد محض انسانی زبان نہیں لیتی بلکہ ان سب نشانات کو زبان تصور کرتی ہے جو ابلاغ کرتے ہیں اور اس میں جانوروں کی زبان بھی شامل ہے۔فرق یہ ہے کہ انسانی زبان مصنوع ہے جب کہ جانوروں کی زبان جبلی ہے۔یہ نکتہ بجائے خود قابل سوال ہے کہ انسانی اعضائے نطق سے پیدا ہونے والی آوازیں اگر زبان کہلا سکتی ہیں اور ان آوازوں کے معانی کا تعین ہو سکتا ہے تو دیگر جاندار مخلوقات کے منہ سے نکلنے والی آوازیں اور بے جان اشیا سے پیدا ہونے والی آوازوں کے مفہوم کا تعین کیوں نہیں ہو سکتا؟مذکورہ بالا اقتباس میں ابلاغی قدر کے ”شعور و ارادہ“ سے تہی ہونے کو اس کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔اس پر بھی ممکنہ سوال یہ ہو سکتا ہے کسی آواز کے شعور و ارادہ کے تحت ہونے یا نہ ہونے کا تعین انسانی دنیا کیوں کر کر سکتی ہے جب کہ اس کے پاس ان آوازوں کے لیے مخصوص علامتی نظام اور معانی کے تعین کے لیے کوئی میکنزم بھی موجود نہ ہو؟محض بے خبری یا لا علمی کی بنیاد پر کسی چیز کا انکار بذات خود ایک غیر عقلی رویّہ ہے۔درحقیقت نا انسانی آوازوں کے شعور و ارادہ سے تہی ہونے کا تصور جان ڈرائزک،مرے بوکچن اور رینے ڈیکارٹ جیسے انسان پسند مفکرین کے خیالات سے جنم لیتا ہے جن کے مطابق حیوان”عقل و شعور سے عاری بے کار مشینیں ہیں“۔ماحولیاتی فلسفہ انسان پسندی کے اس مفروضے کو چیلنج کرتا ہے جو ابلاغی صلاحیت/قدر سے حیاتیاتی معاشرے میں انسانی تفوق کی بنیاد بنتا ہے۔یہ انسانی تفوق زبان اور استدلال کی مدد سے طاقت کے نئے رشتے کو جنم دیتا ہے اور اسی طاقت کے بل بوتے پر انسان فطرت کو مفتوح،محکوم،اپنی ملکیت اور ایک خاموش معروض تصور کرتا ہے۔کرسٹوفر مینز کے مطابق:”ہمارا مخصوص محاورہ قرونِ وسطیٰ کی توضیحات اور انسان پسندی کی تجدید کا مرکز ہے۔یہ اپنی دانش،ارتقا اور استدلال میں غیر متزلزل یقین کی مدد سے خاموشی کی ایک وسیع دنیا تخلیق کرتا ہے؛ایک ان کہی کی دنیا جسے فطرت کہا جاتا ہے۔ایک ایسی دنیا جو انسانی افتراقات،عقلیت اور ماورائیت کے ابدی حقیقت ہونے کے عالم گیر دعاوی کی وجہ سے ہمیشہ دھندلکے میں رہتی ہے۔“(۵)ماحولیاتی ادب فطرت کی خاموشیوں اور غیر انسانی دنیا کی آوازوں کو سمجھنے اور سماجی و ثقافتی تناظرات میں ان کے مفہوم و معنی کے تعین کی کوشش کرتا ہے۔
اردو میں حیوانی اور انسانی زبان کے مابین قربت اور ابلاغی قدر کی بنیاد پر شرکت احساس کی عمدہ مثال رفیق حسین کا افسانہ گوری ہو گوری ہے۔افسانے میں گوری ایک گائے کا نام ہے۔انسانی سماج میں غیر بشری کردار کی نام سے شناخت اسے سماج کا فرد باور کراتی ہے۔اس افسانے کا لوکیل واضح نہیں مگر مناظر اور عمومی فضا سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ شہری تہذیب سے دور ہندوستان کے کسی گاؤں کی کہانی ہے جہاں فطرت اپنی قدیم اور اصل حالت میں موجود ہے۔یہ گاؤں ایک مختصر لیکن مکمل سماج ہے جہاں انسان،بکریاں،بھینسیں اور گائیں بہ طور فرد مساوی حیثیت میں موجود ہیں۔کرداروں کی زبان غیر مہذب اور ناتراشیدہ ہے۔یہ انسانی اور حیوانی زبان میں فاصلے کو کم کرتی ہے۔یہاں مختلف بہائم،پرندوں اور حشریوں کی آوازیں اپنے مکمل مفاہیم کے ساتھ سنائی دیتی ہیں۔افسانے کا آغاز رات کے وقت گاؤں میں سیلاب کی آمد سے ہوتا ہے۔گاؤں والے افرا تفری میں گاؤں چھوڑ کر محفوط جگہ پر پناہ لیتے ہیں۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوتا ہے کہ بسنتی اور مادھو کی بیٹی رمکلیا پیچھے رہ گئی ہے اور اب اسے واپس لانا ممکن نہیں۔لیکن صرف بسنتی کی بیٹی نہیں گوری کا بچھڑا بھی وہیں رہ گیا ہے۔ممتا کے اس دُکھ میں گوری بسنتی کے ساتھ شریک ہے۔بسنتی گوری کو گلے لگا کر اپنا دُکھ،اپنی زبان میں بیان کرتی ہے اور گوری اپنی زبان میں اپنا دُکھ کہتی ہے۔افسانے کی درج ذیل سطریں انسانی اور حیوانی زبان میں ایک ہی دُکھ کو بیان کرتی ہیں:
گوری رے موری رمکلیا۔۔۔۔۔۔ایھ ایھ ایھ ایھ
گوری رے اب توہے کون چرائے۔۔۔۔۔۔ادھ ادھ ادھ ادھ
گوری رے اب توہے کون کھلائے۔۔۔۔۔۔ادھ ادھ ادھ ادھ
گوری رمکلیا تو گئی رے۔۔۔۔۔۔ادھ ادھ ادھ ادھ
گوری توری رمکلیا۔۔۔۔۔۔ایھ ایھ ایھ ایھ
گائے نے وہی لمبی آواز نکالی:تو کاں آں
گائے کے اعضائے نطق سے نکلنے والی آوازیں غیر ارادی اور غیر شعوری نہیں ہیں۔یہ ایک مکمل جوابی عمل ہے۔اگلی صبح گائے کا چپکے سے رمکلیا اور اپنے بچھڑے کی تلاش میں نکل جانا بھی غیر فطری اور غیر عقلی عمل نہیں ہے۔اپنے بچھڑے کو نہ پاکر گائے کا رمکلیا کی طرف جانااور بچھڑے کی آواز پر رمکلیا کو چھوڑ کر بچھڑے کی طرف لوٹ جانا بھی عین ممتا کے فطری جذبے کے تحت ہے۔اس کے لیے کسی تاویل کی ضرورت نہیں کہ ممتا ایک عالمگیر جذبہ ہے جس میں انسانوں کے ساتھ حیوان بھی شریک ہیں۔بچھڑے کو رسی سے بندھا ہوا پاکر گوری کا واپس رمکلیا کی طرف آنا،اسے اپنی پیٹھ پر بٹھا کر ساتھ لے جانا تاکہ وہ بچھڑے کی رسی کھول سکے؛ ثابت کرتا ہے کہ حیوانات کے بعض اعمال بھی شعور و ارادے کے تحت انجام پاتے ہیں۔حیوانی آواز کے معانی کس طرح جذبات پر اثر انداز ہوتے ہیں اور ارادے میں تبدیلی کا باعث ہوتے ہیں،اس کے لیے افسانے کا یہ حصہ دیکھیے:
رمکلیا چونکی،ہاتھ آنکھوں پر سے ہٹے،آنسو بہتے مُردہ چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ آئی۔
”توکاں آں“۔آواز پھر آئی۔
رمکلیا نے”ہرے رام گوری بولے“ کہتے ہوئے چاروں طرف دیکھا۔گائے دکھائی تو نہیں دی لیکن رمکلیا نے اپنی پوری طاقت سے پکارا۔”گوری ہو گوری“۔
جواب آیا:”تو کاں آں ھ“۔
اور پھر باغ سے تیرتی ہوئی گائے نکلی۔رمکلیا نے پھر پکارا۔وہ اس کی طرف بولتی ہوئی بڑھی لیکن دور سے ایک اور آواز آئی:”ا و ماں آں ھ“۔
باغ کی آڑھ سے بچھڑے کی آواز تھی۔گائے اس آواز کی طرف گھوم پڑی۔
اردو کی تمام اصناف کے بارے میں یقین سے نہیں کہا جا سکتا لیکن اردو افسانے کے حوالے سے یہ دعویٰ کرنے میں تامل نہیں کہ یہ صنف ایک کامل سماج کی ترجمانی کرتی ہے۔ایک سو بیس سالہ طویل تاریخ میں اردو افسانے نے رومانیت اور سادہ حقیقت نگاری سے لے کر علامت و تجرید اور جادوئی حقیقت نگاری تک موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح پر جس قدر بھی دائرے تشکیل دیے ہیں،ان میں انسان کے ساتھ فطرت،ماحول اور حیاتیاتی مقامیت برابر کی شریک رہی ہے۔ انتظار حسین اپنے مضمون اجتماعی تہذیب اور افسانہ میں ایک ایسی تہذیب کی نشاندہی کرتے ہیں جس میں سماجی زندگی کے تمام مظاہر ہم رشتہ تھے۔اس تہذیب میں اشیا کے باہمی رشتے منقطع نہیں ہوئے تھے؛ان کی حدیں آپس میں ملی ہوئی تھیں۔انتظار حسین کے خیال میں ”ایسے سماج میں پیدا ہونے والے افسانہ نگار کے لیے یہ ممکن تھا کہ وہ آدمی کو درخت کے روپ میں یا جانور کی جون میں دکھاتا اور بندر کو کبھی خوش خط تحریرلکھتے ہوئے اور کبھی بے ثباتی عالم پر پُر مغز تقریر کرتے ہوئے پیش کرے اور اس کے باوجود حقیقت نگار اور واقعیت پسند رہے“۔(۶)انتظار حسین کے اپنے افسانوں (ساتواں در،انجنہاری کی گھریا،ہم نوالہ،اجنبی پرندے وغیرہ)میں گھر سماج کی ایک ایسی اکائی ہے جہاں درخت،چڑیاں،کوے اور گلہریاں گھر اور مکینوں سے الگ کوئی شے نہیں ہیں بلکہ گھرانے کے معزز افراد ہیں۔ انتظار حسین کا یہ شکوہ بھی بجا ہے کہ جدید عہد میں یہ تہذیبیسالمیت برقرار نہیں رہی۔مربوط معاشرے کے ٹوٹنے سے تخلیقی عمل کی رو ماند پڑ گئی ہے،جس کا اثر افسانے کی تہذیب پر بھی پڑا اور افسانہ پہلے کی طرح اجتماعی احساس کا حامل نہیں رہا تاہم اردو افسانے کی تاریخ میں فطرت سے ہم رشتگی کی متعدد مثالوں کو بہ آسانی نشان زد کیا جا سکتا ہے جو ماحولیاتی شعریات کا پتہ دیتی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ٹیگور کی شاعری میں ماحولیات (اُردو تراجم ’’کلامِ ٹیگور‘‘ اور ’’باغبان‘‘ کے حوالے سے)- ڈاکٹر جاوید حسن )
اردو افسانے کی ماحولیاتی شعریات کا پہلا زاویہ دیہی پیشکش سے متشکل ہوا ہے۔یہاں مقامی فطرت اور ماحولیات کے تناظر میں انسان اور اشیا کا تشخص قائم ہوتا ہے۔دیہی مقامیت،مقامی حیاتیات اور مقامی ثقافتوں کے مدھم و شوخ رنگ،جانور،پرندے،رسوم و رواج،لوک کہانیاں،روایتیں،محبت و انتقام کے جذبے اور روایتی اقدار مل کر گاؤں کا ایک مخصوص آرکی ٹائپ بناتی ہیں۔دیہی ثقافتی جغرافیہ اردو افسانے کو ایک وسیع کینوس فراہم کرتا ہے جس پر فطرت اپنی خالص اور خام حالت میں رو نما ہوتی ہے۔دیہی زندگی کی مخصوص علامتیں کھیت،کنوئیں،پگڈنڈیاں،ہل،رہٹ اور مقامی بہائم صرف پس منظر ہی نہیں بناتے،پیش منظر پر آکر کہانی کا حصہ ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات خود کہانی بن جاتے ہیں۔دیہی پس منظر میں افسانہ لکھنے والے اردو کے اہم تخلیق کاروں نے دیہی فطرت و جمالیات کا مطالعہ ایک سے زائد سطحوں پر کیا اور ہر ایک نے اپنے انداز میں اسے تخلیقی تجربے کا حصہ بنا یا ہے۔دیہی جمالیات کی پیش کش کا زاویہ اردو افسانے کے تشکیلی دور میں ہی نمایاں ہونے لگا تھا۔پریم چند نے سماجی حقیقت نگاری کے لیے دیہاتی سٹیج کا انتخاب کیا اور بہت کامیاب افسانے لکھے۔پریم چند کا افسانہ دو بیل اگرچہ ترقی پسند تناظر میں اپنی مخصوص معنویت باور کراتا ہے لیکن بیلوں کا مرکزی کردار اور ان کی اپنے مالک سے جذباتی وابستگی انسان اور مظاہر فطرت کے مابین ہم رشتگی پر دلالت کرتی ہے۔افسانہ پنچایت اور راہ نجات شہری معاشرت میں مادیت پرستی کے سبب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے والی اخلاقی اقدار کے مقابل دیہی آرکی ٹائپ کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں یہ اقدار ہنوز سلامت ہیں۔راہ نجات انتقام کی کہانی ہے۔بدھو اور جھینگر ایک معمولی بات پر آپس میں جھگڑتے ہیں اور انتقام کی آگ میں ایک دوسرے کو برباد کر دیتے ہیں۔انانیت اور انتقام دیہی زندگی کے مخصوص رویّے ہیں تاہم افسانے کے یہ کردار بہت جلد اپنی غلطی تسلیم کر لیتے ہیں اسی لیے کہانی کے اختتام پر پھر ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔افسانہ پنچایت میں الگو چودھری اور شیخ جمن کے پنچایتی فیصلے روایتی اقدار کی پاسداری سے دیہی آرکی ٹائپ کی تصدیق کرتے ہیں۔ڈاکٹر انور سدید نے لکھا ہے:”پریم چند کا دیہاتی ماحول نباتاتی دور سے گزر کر حیوانی دور میں داخل ہو چکا تھا لیکن ابھی فہم و شعور کا انسانی معراج حاصل نہیں ہوا تھا۔“(۷)انسانی معراج سے مراد شہری اقدار ہیں جو سود و زیاں کا حساب رکھتی ہیں جب کہ خالص انسانی قدریں فطرت کی آواز پر لبیک کہتی ہیں۔بدھو اور جھینگر کا سابقہ دشمنی کو بھلا پھر ساتھ رہنا اور انصاف کا تقاضا پورا کرتے ہوئے الگو چودھری کا اپنے دوست شیخ جمن کے خلاف فیصلہ دینا اور شیخ جمن کا حق کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے الگو چودھری کے حق میں فیصلہ کرنا،نیکی کی قدر کے بدی کو مغلوب کر دینے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔نیکی،غیرت،احترام اور اقدار کی پاسداری دیہی زندگی سے مخصوص صفات ہیں جو اس کا جدا گانہ تشخص قائم کرتی ہیں۔احمد ندیم قاسمی کے افسانے آبلے کا نوجوان زمیندار پیرو کہنہ رسومات کو توڑ کر دھوبیوں کے گھر میں رہنا شروع کر دیتا ہے۔اسے دھوبیوں کی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے لیکن فرسودہ رسم کو توڑنے والاپیرو اعلا اخلاقی روایات کی پاسداری کرتا ہے:
اور جب ایک روز خاکی رنگ کے خرگوش کے تعاقب میں وہ لانبی گھاس میں نالیوں سے پھاندتا اور بیریوں،بکائنوں کی شاخوں سے بچتا خرگوش کی پناہ گاہ پر جا کودا اور جھپٹ کر اس کے لمبے کان دبوچ لیے تو اس کے نرم بالوں اور گرم جسم کے مس نے اس کے دل و دماغ کے بعید ترین گوشوں میں ایک کپکپی سی طاری کر دی۔
اسی شام کو جب کمّوں اس کے پاس کھانا لے کر آئی اور اس کے ہاتھ سے پیالہ لیتے ہوئے کمّوں کے ہاتھ سے اس کی انگلیاں چھو گئیں تو خرگوش کے جسم کا مس اور رس اس کے خیالوں میں رچ گیا لیکن اچانک خیانت کے شدید احساس نے اسے سنبھالا دیا۔
جنسی جذبے کی تسکین یا محبت کا حصول اس کے مشکل نہیں مگر وہ اس منہ زور جذبے کو اخلاقی قدر کے زور پر قابو کر لیتا ہے۔پریم چند کے کفن میں دیہی زندگی کا یہ آرکی ٹائپ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے جب گھیسو اور مادھو اپنی نفسانی خواہش سے مغلوب ہو کر مکمل بے حس ہو جاتے ہیں۔
دیہات کا مثالی تصور بالخصوص صنعتی انقلاب کے بعد تبدیل ہو نا شروع ہوا۔ٹیکنالوجی کی رسائی اور شہر اور گاؤں کے مابین فاصلوں کی کمی نے مربوط دیہی معاشرے میں دراڑ ڈال دی جس کے بعد جدید تہذیب کے استعماری عزائم دیہاتی انسان اور فطرت کے قدیمی رشتے پر ضرب لگانے میں کامیاب ہو گئے۔دیہات کے پس منظر میں لکھے گئے اردو افسانے کا ایک معتدبہ حصہ جدید تہذیب اور سادہ دیہی زندگی کے مابین جاری اس کشمکش کو پیش کرتا ہے۔یہاں مقامی فطرت ایک ایسا سٹیج بن جاتی ہے جس پر انسانی دنیا سے وابستہ نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔پریم چند نے اس سٹیج کو طبقاتی کشمکش اور جدلیاتی آویزش کو آشکار کرنے کے لیے کامیابی سے برتا ہے۔کرشن چندر نے خطہ ء کشمیر کے فطرتی مناظر کو رومان انگیز پیرائے میں بیان کرتے ہوئے واشگاف لفظوں میں یہ اقرار بھی کیا کہ:”مجھے ان نظر فریب نظاروں کے اندر وہ بدصورتی اور ظالمانی اذیت کوشی بھی ملی جس کا اظہار اگر میں جا بجا اپنے افسانوں میں نہ کرتا تو شاید ان افسانوں میں وہ زندگی اور حرکت نہ ملتی جس نے عوام کو اس قدر متاثر کیا۔“(۸)اس قبیل کے افسانے فطرت اور انسان کے مابین کسی زندہ رشتے کی دریافت سے زیادہ انسانی زندگی اور انسانی معاملات و مسائل کو ترجیح دیتے ہیں۔ان میں مقامی/ دیہی فطرت موجود تو ہوتی ہے لیکن اس کی حیثیت ثانوی رہتی ہے۔ا س کے بر عکس وہ افسانہ جس میں مقامی فطرت اور اکالوجی پس منظر میں رہنے کے بجائے کہانی کا حصہ ہوتی ہے وہاں دیہات ایک جمالیاتی قدر کے طور پر ظہور کرتا ہے۔ثقافتی مظاہر،مقامی فطرت،حیاتیاتی مقامیت اور انسان ایک اٹوٹ رشتے میں منسلک ہوتے ہیں توگاؤں ایک زندہ وجود/ کردار بن جاتا ہے یا ایک ایسا صغیری سماج جو محدود ہوتے بھی کامل اور وسیع ہوتا ہے۔اس سماج میں بے جان اشیا،جانور اور ناطق انسان ایک دوسرے کی ضرورت اور مجبوری ہونے کے علاوہ احترام،محبت اور احساس کے بندھن میں بندھے ہوتے ہیں۔یہاں انسان کا تشخص اس کے ماحول سے قائم ہوتا ہے اس لیے وہ کسی جداگانہ تشخص پر اصرار نہیں کرتا۔اشیا آپس میں اور انسان اشیا سے اس طرح جڑا ہوتا ہے کہ چاہتے ہوئے بھی خود کو ان سے جدا نہیں کر سکتا۔دیہی سماج میں انسان اور فطرت کی باہمی جڑت کو بلونت سنگھ کے افسانے گرنتھی میں رہٹ کی اس تصویر کی مدد سے بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے:
پرانی طرز کا یہ رہٹ سطح زمین سے بہت اونچا تھا۔ایک اونچا گول چبوترا جہاں سے گوبر ملی مٹی نیچے گرتی رہتی تھی۔چبوترے کے دونوں طرف گارے کی بے ڈول سی ٹیڑھی میڑھی دو دیواریں کھڑی تھیں۔ان پر درخت کاٹ کر ایک لٹھ لگا دیا گیا تھا۔اس کے بیچوں بیچ چرکھڑی کی لکڑی گھسی ہوئی تھی۔پاس ہی دوسری چرکھڑی اس میں دانت جمائے کھڑی تھی۔نچلی چرکھڑی کے پاس لکڑی کا کتا جو اس کو پیچھے کی جانب گھومنے سے روکتا تھا۔جب بیل کو جوت دیا گیا اور چرکھڑیاں گھومنے لگیں تو کتا کٹ کٹ بولنے لگا۔کنوئیں والا برا چرکھڑا بھی گھوما۔رسیوں سے بندھی ہوئی ٹنڈیں پانی کی طرف لپکیں۔جو ٹنڈیں رات کی بھری بیٹھی تھیں انھوں نے پانی انڈیل دیا۔جھال میں سے پانی کی دھار تیزی سے نکلی۔کنواں عجیب سروں میں روں روں کی آواز نکالنے لگا۔کبھی ایسا جان پڑتا جیسے گا رہا ہو،کبھی رونے کی آواز نکلنے لگتی،کبھی اس میں سے دل سوز چیخ کی سی آواز پیدا ہوئی۔
افسانے کا یہ اقتباس اپنی جگہ ایک مختصر تمثیل ہے جو تین کرداروں کے عمل سے مکمل ہوتی ہے:گرنتھی یعنی انسان(فلسفۂ انسان پسندی کی رو سے شعور و ارادے کی حامل واحد ناطق مخلوق)،بیل(تکلمی صلاحیت سے محروم مخلوق) اور رہٹ(بے جان شے)۔لیکن ان تینوں نے کے باہمی تعامل سے زندگی(پانی)پھوٹتی ہے۔لٹھ،چرکھڑی،لکڑی کا کتا اور مٹی کی دیواروں جیسی بہ ظاہر معمولی اور بے کار اشیا مل کر رہٹ کو مکمل کرتی ہیں؛بیل کی حرکت رہٹ کو عمل میں لاتی ہے اور رہٹ سے نکلنے والی آوازوں کو گرنتھی اپنے اندر کی آوازوں میں شریک ہوتا محسوس کرتا ہے۔بلونت سنگھ کے تخلیقی فن کی تفہیم میں گوپی چند نارنگ نے بستی(گاؤں /دیہات)کی زمینی اور ماحولیاتی ساخت کا ذکر کیا ہے۔زمینی اور ماحولیاتی مظاہر،زمینی و آسمانی اور انسانی جغرافیے(ثقافتی مظاہر)سے مل کر بستی کی تشکیل کرتے ہیں۔ان کے الفاظ میں ماحولیات اور انسانی بستی اور اس کا معاشرتی رنگ روپ بھی(بلونت سنگھ کے فن میں)ایک جمالیاتی قدر ہے جو نہ صرف اس کو مخصوص معنویت عطا کرتی ہے بلکہ فطرت کا یہ منظر نامہ بجائے خود ایک کردار ہے جو برابر سانس لیتا ہے اور عمل میں شریک ہوتا ہے۔(۹)بلونت سنگھ کے افسانوں کا دیہی منظر نامہ ایک مخصوص جغرافیے (مرکزی پنجاب)کی مقامی فطرت و ثقافت کی نمائندگی کرتا ہے۔بلونت سنگھ کے علاوہ پریم چند،راجندر سنگھ بیدی، سدرشن، منشا یاد،غلام الثقلین نقوی،صادق حسین اور کئی دوسرے افسانہ نگار بھی اسی لینڈ اسکیپ کے پس منظر میں بیانیہ تخلیق کرتے ہیں۔زمینی جغرافیے کی معمولی تبدیلی کے ساتھ ثقافتی مظاہر،مقامی فطرت اور حیاتیاتی مقامیت کو اردو کے کچھ دوسرے افسانہ نگاروں کے ہاں تبدیل ہوتا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔مثلاََ کرشن چندر کے ہاں خطۂ کشمیر کی وادیاں،پہاڑ،دریا،چشمے اور آبشاریں فطرت کا کوہستانی منظر ترتیب دیتی ہیں۔احمد ندیم قاسمی فطرت کے جمالیاتی زاویے کو مقدم رکھتے ہیں۔ان کے ہاں شمالی پنجاب(وادی ء سون سکیسر) کا لینڈ اسکیپ دیہی مقامیت،پہاڑی کھیتوں، درختوں،جھاڑیوں،پرندوں کے علاوہ مقامی رسوم و رواج اور توہمات کے ساتھ ظاہر ہوا ہے۔دیوندر ستھیارتھی ہندوستان، لنکا اور بنگال کے وسیع لینڈ اسکیپ کو پیش کرتے ہیں۔مرزا حامد بیگ کے ہاں پنجاب اور خیبر پختونخواہ کی سرحد پر واقع نیم پہاڑی لینڈ اسکیپ نمایاں ہے۔ان کے ہاں ترائیاں،چٹانیں،مزارات،حویلیاں اور تاریخ کی بازیافت کا داستانوی انداز مقامی جغرافیے سے ہم آہنگ ہے۔نجم الحسن رضوی نے سندھ کی مقامی دھرتی کو منتخب کیا،ان کے ہاں سندھ کے مقامی فطرتی مظاہر پیش منظر پر رہتے ہیں اور جمیلہ ہاشمی کے افسانے چولستان اور جنوبی پنجاب کے زمینی جغرافیے میں فطرت اور انسان کے رشتے کی کلید تلاش کرتے ہیں۔ (جاری)
ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی
ایسوسی ایٹ پروفیسر،شعبۂ اردو
گورنمنٹ اسلامیہ کالج سول لائنز،لاہور
1۔بیری کامنر،The Closing Circle،نیویارک:ڈوور پبلی کیشنز،2000،(طبع اول 1971)
2 ۔ای۔ایم فورسٹر بحوالہ شمیم حنفی،ادب،ادیب اور معاشرتی تشدد،نئی دہلی:مکتبۂ جامعہ لمیٹڈ،2008ء،ص114
3۔جوزف میکر، y The Comedy of Survival:Studies in Literary Ecolog،نیویارک:چارلس سکرائبنر سنز،1974،ص 3-4
4۔خلیل صدیقی،زبان کیا ہے؟لاہور:بیکن بکس،2016،ص 61-71
5۔کرسٹوفر مینز،فطرت اور خاموشی مشمولہ ماحولیاتی تنقید:نظریہ اور عمل(مترجم: ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی)،لاہور:اردو سائنس بورڈ،2019،ص 54
6۔انتظار حسین،علامتوں کا زوال،نئی دہلی:مکتبہء جامعہ لمیٹڈ،1983،ص9
7۔ڈاکٹر انور سدید،اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش،الٰہ آباد،رائٹرز گلڈ،1997،ص33
۸۔کرشن چندر،کشمیر کی کہانیاں (پیش لفظ)،الہٰ آباد:الٰہ آباد پبلشنگ ہاؤس،1949ء،ص8
۹۔گوپی چند نارنگ،فکشن شعریات:تشکیل و تنقید،دہلی:ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،2009،ص731-831
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

