بڑی مدت سے چشم و گوش و بینی عذاب آلودگی کا سہہ رہے ہیں
مسلسل ہے یہ سیل آزمائش بڑی شدت سے تینوں بہہ رہے ہیں
پوری کائنات کا خالق ایک ہے اور اللہ جل شانہ نے تخلیق کائنات کے ساتھ ہی ایک مضبوط نظام عطا فرماکر پوری کائنات کو محفوظ و مامون بنادیا۔ اسی نظام کے پابندی کے باعث وقت پر موسم بدلتے ہیں، وقت پر لیل و نہار گردش کرتی ہے، ہر روز مقررہ وقت پر سورج کا طلوع و غروب ہوتا ہے، اسی سے ماہ سال کا حساب بنتا ہے اگر اس نظام میں ذرا سا بھی خلل آجائے تو ساری کائنات چشم و زدن میں درہم برہم ہو جائے۔ الغرض پوری کائنات میں مکمل نظم و ضبط پایا جاتا ہے اور ہر قدرتی نظام میں ایک توازن پایا جاتا ہے انسان جب بھی اس توازن کو عدم توازن میں لانے کی کوشش کی اس کے منفی اثرات بھگتنے پڑے۔ ایک مذہب کے طور پر اسلام میں یہ بات بھی واضح کر دی گئی ہے کہ اس کرۂ ارض پر انسانوں کو کس طرح رہنا چاہئے۔ انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ خالق کی عطا کردہ نعمتوں کی قدر کرے اور کائنات کے حسن نظام کی حفاظت کرے۔ قدرتی وسائل کے استعمال اور انسانوں کی ماحولیاتی ذمہ داریوں کے حوالے سے یہ بات بہت اہم ہے کہ اسلام فطرت کی پیدا کردہ ہر شئے کے استعمال میں احتیاط پسندی کا حکم دیتا ہے۔ یہاں تک کہا گیا ہے کہ وضو کرتے وقت بھی پانی ضائع نہ کیا جائے۔ ماحول کا اثر انسان کی جسمانی بناوٹ، رہائش، طرز حیات، غذا اور دیگر سرگرمیوں پر پڑتا ہے۔ اسی لئے اللہ نے زمین پر فساد کی ممانعت فرمائی، تاکہ ماحول کو ہر طرح کے شرو فساد سے بچایا جا سکے۔ ماحولیاتی آلودگی دور حاضر کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہماری زمین اور فضا کو آلودگی کے سبب نا قابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ کائنات میں قدرت نے زبردست توازن رکھا ہے اور یہی توازن کائنات کی بقا کا ضامن ہے۔
ماحول انسان کے لئے ہے اور انسان ہی اس میں بگاڑ پیدا کر رہا ہے اس کا نقصان بھی انسان کو ہی ہے ہمیں نہیں تو ہماری آنے والی نسلوں کو ہوگا۔ اس ماحول کا تحفظ انسان کی ذمہ داری ہے کیونکہ انسان کو ا للہ نے اپنا خلیفہ بنایا ہے اور انسان ہی اشر المخلوقات ہے، اس کے علاوہ کائنات کے توازن میں بگاڑ کا سب سے زیادہ ذمہ دار بھی انسان ہے۔ اس لئے بھی کہ کائنات میں توازن کے بگاڑ میں سب سے زیادہ نقصان بھی اسی کا ہے۔افسوس کی بات ہے کہ معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو ماحولیات کو اپنے ذاتی مفادات پر قربان کر رہے ہیں۔ قدرتی ذخائر کو تباہ کر رہے ہیں، جنگلوں اور پہاڑوں کو تباہ کر رہے ہیں، چراگاہوں کو پامال کر رہے ہیں، زیر زمین اورزیر آب ذخائر کا بے دریغ استعمال کرکے در حقیقت آئندہ انسانی نسلوں کو ان نعمتوں سے محروم کر رہے ہیں اور انہیں خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )
انسان نے جب اپنے آرام و سکون کی خاطر قدرت کے خوبصورت نظام کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور قدرتی وسائل کا بے دریغ استعمال شروع کیا تو فطرت نے رد عمل ظاہر کیا اور ماحولیاتی آلودگی نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا جو بنی نوع انسان کے علاوہ کرۂ ارض پر ہر قسم کے جانداروں کے لئے بھی انتہائی خطرناک ہے۔تیزی سے بڑھتی ہو ئی آبادی کے لئے زمین کے سینے سے ہرے بھرے درختوں کا قتل عام بھی جاری و ساری ہے۔ حالاں کہ درخت کائنات کے پھیپھڑوں کے مانند ہیں، جو مہلک کثافتوں کواپنے پتوں میں جذب کر کے جانداروں کی بقا کے لئے آکسیجن مہیا کرتے ہیں۔ درختوں کے پھول اور پھل غذا کے ساتھ مختلف امراض کے علاج میں استعمال ہوتے ہیں۔ جنگلات زمین کا حسن ہی نہیں بلکہ یہ انواع اقسام کے پرندوں اور حشرات کا مسکن بھی ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ ہما شیرازی )
اس آلودہ ماحول سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر اقداما ت کرنے کی ضرورت ہے۔ جیسے کہ ہر انسان اپنے گھر، دفتر، دوکان اور ارد گرد کے ماحول کی صفائی رکھے اور دوسروں کو بھی صفائی کی ترغیب دیں۔ صفائی چونکہ نصف ایمان ہے اس لئے اپنے گھر، اپنے سماج اور ملک کو پاک صاف رکھ کر نقصان دہ آب و ہوا سے آزاد رہیں۔آلودگی کو کم کرنے کے لئے عام لوگوں تک آگاہی مہم شروع کی جائے تاکہ لوگ اس کو سمجھ سکیں اور آلودگی کو کم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ بڑے پیمانے پر شجرکاری کی جائے۔ درخت قدرت کی سب سے خوبصورت نعمت میں سے ایک ہیں، آکسیجن خارج کرتے ہیں اور فضا میں موجود آلودگی کو جذب کر لیتے ہیں۔ مٹی اور صاف ہوا بھی پیدا کرتے ہیں اس لئے ضروری ہے کہ لوگوں کو درخت لگانے کے فوائد سے آگاہ کیا جائے۔بے جا درختوں کو کاٹنے سے منع کیا جائے تاکہ ہم اس آلودہ ماحول کو کم کر سکیں۔ ہمارا مذہب بھی درختوں کے قتل عام سے منع کرتا ہے۔
اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے آج سے چودہ سو سال قبل ماحولیات کی اہمیت کو اس وقت سمجھا جب دنیا ماحولیاتی آلودگی کے نام سے بھی واقف نہ تھی، نہ تو گاڑیوں کا وجود تھا، نہ کارخانے وجود میں آئے تھے اور نہ ہی ذخیرۂ آب زہر اگل رہا تھا۔ اس وقت رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماحول کو پاک رکھنے اور فضاکو آلودگی سے محفوظ کرنے کی تعلیم و تلقین، اصولی ہدایات اور عملی اقدامات تینوں طرح سے ماحول کی پاکیزگی کو یقینی بنایا تاکہ انسان خود بھی ماحول کی پاکیزگی سے لطف اندوز ہو سکے اور دوسرے جانداروں کو بھی راحت پہنچا سکے۔ اسلام کی مقدس شرع میں شجر کاری اور پودا لگانے کو نیک کاموں میں سے ایک بتایا گیا ہے متعدد روایتوں میں ہمیں درخت اگانے اور پودا لگانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔محسن انسانیت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فر مان کے مطابق درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔ اس کا اجر دنیا میں اور مرنے کے بعد بھی ملتا ہے ”مسلمان کوئی درخت یا کھیتی لگا ئے اور اس میں انسان درندہ، پرندہ یا چوپایا کھائے تو وہ اس کے لئے صدقہ ہو جاتاہے“(مفہوم حدیث مسلم شریف)۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات میں نہ صرف درخت لگانے کے متعلق احکام ملتے ہیں، بلکہ درخت، پودے لگا کر اس کی حفاظت کے بھی واضح احکام ملتے ہیں۔ارشاد ہے کہ”جو کوئی درخت لگائے، پھر اس کی حفاظت اور نگرانی کرتا رہے یہاں تک کہ وہ درخت پھل دینے لگے وہ اس کے لئے اللہ جل شانہ کے یہاں صدقہ کا سبب ہوگا‘۔(مسنداحمد) (یہ بھی پڑھیں کیا ہر ادیب تحریر کو گھربناتا ہے؟ – پروفیسر ناصر عباس نیر )
اللہ نے پودے اور درخت کو انسانی زندگی کا ایک اہم عنصر قرار دیا ہے۔ پودا، درخت،سبزہ اور جو کچھ ان سے اگتا ہے انسانی تمدن کی تعمیر میں ایک اہم اساسی بنیاد ہیں۔ پودے اور درخت ہوا کو بھی صاف کرتے ہیں اور انسان کے لئے غذا بھی پیداکرتے ہیں وہ انسان کے دل وروح کے لئے شادابی کا بھی سبب ہیں اور انسانی زندگی کی ماحولیات کے لئے خوشی و آبادی کا بھی موجب ہیں۔اسی طرح انسان کی ضرورت کی بہت سی دوائیں بھی پیڑ پودوں سے حاصل ہوتی ہیں۔ اس کے علاہ لکڑیوں اور جڑوں میں بھی بہت سے فوائدہیں۔تو بحیثیت امتی ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم رحمت دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پرعمل پیرا ہوتے ہوئے ماحول کو آلودگی سے بچائیں اور اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے ہر اس عمل سے اجتناب کریں جس سے زمین کے حسن اورماحولیات کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ماحول میں ہونے والی منفی تبدیلیوں کی روک تھام کے لئے شجر کاری کی جائے،فیکٹریوں اور گھروں کے فضلات پانی میں نہ پھینکی جائے،زہریلے دھوئیں کے اخراج پر کنٹرول کیا جائے۔۵ جون کو ہر سال عالمی ماحولیات کے دن عوام میں شعور بیدار کیا جائے، عوام میں حفظان صحت کے امور سے متعلق شعور دیا جائے کہ اگر انہوں نے اپنے ماحول کو صاف و شفاف نہ رکھا تو ایک دن وہ ان کی ہلاکت کا باعث بنے گا یعٰنی اگر ہم آلودگی کو نہ مٹا سکے تو آلودگی ہمیں مٹا دے گی۔
حافظ معراج المو مینین۔
انجینر
پاور گرڈ رانچی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

