اللہ ربّ العزت کے بعد واجب الاحترام و قابل قدر اگر کوئی ذات ہے تو وہ والدین کی ذات ہے، یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ایک نہ ایک دن ہر کسی کو کسی نہ کسی سے جدا و رخصت ہونا ہے لیکن جدائیگی کی لا تعداد و بے شمار قسمیں ہیں ۔ کوئی دنیا سے رخصت ہوتا ہے تو کوئی اولاد کے حقوق و فرائض کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لئے جدائیگی اختیار کرتا ہے ، تو کوئی رشتہ دار و اقارب سے لین دین کے مسئلہ کے باعث جدا ہوتا ہے لیکن جو اولاد اپنے والدین سے جدا ہوتے ہیں خواہ وہ تعلیمی اعتبار سے ہو یا کسی اور غرض سے ان کا اندازہ ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا ہے ، اکثر و بیشتر لوگ والدین سے پریشان ہوکر کنارہ کش ہوتے ہیں تو کچھ لوگ اپنی محترمہ (بیوی) کے بہکاوے میں آکر دوری اختیار کرتے ہیں ، کچھ لوگ والدین (نعوذ باللہ) سے تنگ آکر جھگڑا کرکے جدائی کا موقع تلاش کرتے ہیں اور بھی بہت راستے ہیں جن کی وجہ سے اولاد اپنے والدین سے جدا ہوتے ہیں _
چنانچہ بیشتر لوگوں میں چند ایسے بھی لوگ ہیں جنہیں ہم نوجوان طلبائے مدارس کے نام سے جانتے ہیں ، جب یہ طلباء مدارس اپنے والدین سے جدا ہوتے ہیں تو اس وقت کا منظر اس طالب علم کے علاوہ کوئی دوسرا لگانے سے عاجز و قاصر ہے ، ایک جانب وہ طالب علم جب سواری پر سوار ہوتا ہے تو والدین کی روح جسم سے جدا ہو جاتی ہے ، قدم لڑکھڑا جاتے ہیں ، زمین تلے سے پاؤں کسک جاتی ہے ، اس ماں کے رونے کی آواز سے گھر کی در و دیوار ہل جاتے ہیں ، جس کھڑکی پر والدین کھڑے ہوتے ہیں وہ جگہ ان کے آنسوؤں سے تر ہوجایا کرتی ہے اور ساتھ ہی والدین اس خیال میں غوطہ زن ہوتے ہیں کہ میرا جگر کا ٹکڑا ایک دن عالم دین بن کر گھر لوٹے گا ، وہ والدین اس وقت کے منتظر ہوتے ہیں کہ میرا لاڈ لا پڑھ لکھ کر ہمارا سر اونچا کرےگا ، وہ والدین اس خوبصورت خواب کی تعبیر میں وقت گزارتے ہیں کہ میرا لڑکا عالم باعمل بن کر لوگوں کو دین کی طرف بلائے گا ، وہ والدین اس دن کے متلاشی ہوتے ہیں کہ میرے دل کی دھڑکن ایک روز ہمارا نام روشن کرے گا ۔ (یہ بھی پڑھیں باصرسلطان کاظمی کی غزلیں [حصّہ دوم] – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
تو دوسری جانب وہ طالب علم سینہ اور سر پٹک پٹک کر بے تحاشا روتا ہے ، اس طالب علم کی سسکیوں کا عالم رب العالمین ہی جان سکتا ہے ، اس کے آنکھ سے جدا ہوتے آنسوؤں میں چھپے ہوئے گراں قدر الفت کا اندازہ خداوند کائنات ہی لگا سکتا ہے ، اس منظر کے وقت سواری چلانے والے کی آنکھ بھی اشکبار ہوجاتی ہے ، اس وقت کی منظر کشی کرنے سے منظر کش بھی حیران و ششدر رہ جاتا ہے اور وہ نیک بخت طالب علم بھی اپنے دل میں یہ ارادہ اور عزم کر کے والدین ، رشتے دار ، اقارب و احباب سے جدا ہوتا ہے کہ محنت و مشقت ، جد وجہد ، مستقل مزاجی ، یکطرفہ ذہہن ، کھیل کود سے دور ہوکر ایک جید و ٹھوس حافظ و عالم بن کر اپنے گاؤں کا اپنے والدین کا اپنے بھائی بہن کا نام روشن کرے گا ، چنانچہ جیسے جیسے سواری آگے بڑھتی ہے والدین اور طالب علم کے رونے کی آواز میں بڑھوتری و اضافہ ہوتے رہتا ہے ، اس وقت والدین اور طالب علم کی آنکھ سے آنسوؤں کو کوئی روکنا بھی چاہے تو نہیں روک سکتا ، اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ یہ انمول رشتہ کے درمیان کیسی محبت پوشیدہ ہے ، اللہ تعالیٰ ہی کو اس خوبصورت رشتہ کا علم ہے کہ کیسی شفقت و الفت اس سے وابستہ ہے ، اللہ ربّ العزت ہی کو معلوم ہے کہ اس واجب الاحترام رشتہ کے مابین کونسی چیز مضمر ہے ۔
ماں کی یاد ستاتی ہے
ماں کی یاد نے مجھے دوران سفر قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا ، والدین سے دوری اختیار کئے چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ والدین کی یاد ستانے لگی ، میری چھوٹی سی آنکھ میں اس ماہ کا چہرہ یاد آرہا تھا کہ اس ماں نے روز ولادت سے آج تک میری دیکھ بھال میں کسی بھی طرح کی کوئی کمی کا احساس نہ ہونے دیا ، اس ماں کی یاد نے مجھے دنیا و مافیہا سے غافل کر دیا ، وہ ماں جو میری نیک خواہشات کی تکمیل کرتے کرتے مجھے جوانی کے عالم میں واصل کر دیا ، وہ ماں جس نے اپنی حاجت کو ناقص رک کر میری آرزؤں کو مقدم رکھ دیا ، وہ ماں جس نے نو ماہ اپنے پیٹ میں ایک بھاری بھرکم بوج کو لادے رکھا ، وہ ماں جس نے میری ولادت کے وقت تکالیف کو گلے لگا لیا ، وہ ماں جس نے مجھے لوتھڑے سے شیر خوار بنا دیا ، وہ ماں جس نے میری طبیعت بگڑنے پر اپنی نیندیں حرام کردی ، وہ ماں جس نے میرے زخم کو اپنا زخم گردانا ، میرے ہات میں چند سال پہلے لکڑی چبھ گئی تھی میں اس چوٹ کو نظر انداز کردیا تھا ، چند عرصے گزرنے کے بعد 3 ماہ سے وہ چوٹ زخم کی شکل اختیار کر لیا تھا ، جس کے باعث مجھے تکلیف کا احساس ہوا ، والدہ کو پتا چلنا تھا کہ فوری طور پر دوا خانے کا رخ کیا ، خلاصۂ کلام یہ کہ زخم کے ختم ہونے کے خاطر والدہ نے ایکسرا ، سونو گرافی ، حتی کہ MRI کی نوبت بھی آگئی والدہ نے وہ بھی کرا دیا ، اس کی رپورٹ چند دن کے بعد آنے والی تھی کہ گاؤں کا سفر آن پہنچا اور میں اپنے اہل بیت کے ساتھ گاؤں آگیا ، اور رپورٹ ہسپتال میں ہی پڑی رہ گئی ۔
یہ سب بتانے کا مقصد یہ ہیکہ ایک ماں ہی کا قرض ایسا ہے جسے انسان کبھی ادا کر ہی نہیں سکتا ہے ، وہ میری پیاری والدہ محترمہ تقریباً 15 مرتبہ سے زائد ہسپتال کی راہ اختیار کی ہے ، اب میں ان سے بہت دور آگیا ہو ، اب میری دیکھ بھال کون کریگا ، میری طبیعت بگڑی گی تو کون رات کو اپنی نیند حرام کرے گا ، کون مجھے پوچھے کا کہ بیٹا کھانا کھایا ، یا اللہ میرے ماں باپ کا سایہ مجھ پر تادیر قائم رکھئے آمین (یہ بھی پڑھیں ادب کی ماحولیاتی شعریات اور اردو افسانہ 2 – ڈاکٹر اورنگ زیب نیازی )
قارئین ! میں اپنے والدین سے پہلی بار تقریباً دو ہزار کلومیٹر دور جا رہا ہوں ، ان سے رخصت ہوئے چوبیس گھنٹے بھی نہ ہوئے کہ میری حالت ہسپتال کے بیڈ پر لیٹے مریض کی سی ہو گئی ہے ، اللہ خیر کرے میری حالت زار پر ، واقعی اس فیلنگ کو میں کبھی بھلا نہیں پاؤں گا ، اس احساس کا شکار ہی تھا کہ والدہ محترمہ کا کال آ گیا اور میں کچھ دیر مارے خوشی کے پھولا نہ سمایا ، والدہ نے خیریت دریافت کیا اور حوصلوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر میری نظر کر دیا ، دنیائے رنگ و بو میں کوئی حال خبر پوچھے یا نہ پوچھے لیکن وہ ماں ہی کی ممتا ہے جو اپنی اولاد سے الفت و محبت بھرے لہجے میں پوچھتی ہے کہ بیٹا کھانا کھایا ، طبیعت کیسی ہے ، کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ہے اگر کوئی چیز کی حاجت ہو تو فوراً اطلاع دے دینا ، پیسے ہیں یا ختم ہو گئے ، میرے بیٹےاور کتنے سال باقی ہیں پڑھائی مکمّل ہونے میں ، میرے شہزادے کب گھر لوٹے گو ، بہت دن ہوگئے اپنے شہزادہ کو دیکھے ، صحت و تندرست تو ہو نا میرے جگر کے ٹکڑے ، یہ کس کی پکار ہے کون ہے دنیا میں جو اتنی خبر پوچھتا ہے جو اپنے چہرے پر مسکان کو سجائے یہ حال دریافت کر رہی ہو ، وہ کس کی ذات ہے جو ہچکیوں کو دبائیے اپنے لختِ جگر کے حال سے باخبر ہو رہی ہو ، وہ کس کی ہنسی ہے جو اپنی اولاد سے فاصلوں میٹر دور ہو کر نہ اچھے سے کھانا کھاتے ہو نہ کسی چیز میں دل و من لگ رہا ہو ۔
پورے کائنات میں وہ صرف والدین ہی کی ذات ہے جو فکر اولاد میں کھوئی ہوئی رہتی ہے ، والدین کی آدھی زندگی اسی خیال میں گزر جاتی ہے ، اتنا کچھ کر دینے کے باوجود بعض اولاد اپنے والدین کے بے پناہ خدمات و احسانات کو فراموش کر بیٹھتی ہے ، ایسی اولادیں نہ دنیا میں خوش رہتی ہیں نہ آخرت میں ، اللہ تعالیٰ کا ایسی نافرمان اولاد پر غضب و جلال نازل ہوتا ہے اور وہ اولاد دائمی مایوسی کا شکار ہو جاتی ہے ، ایسے اولادیں در در کی ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہیں ، ایسی اولادوں کا ٹھکانہ دوزخ کے سوا کچھ نہیں ہوتا ، کیوں کہ وہ فراموش اولاد نے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے ، اس نے قرآن مجید کی اس آیت کا انکار کیا جس میں اللہ ربّ العزت فرماتا ہے کہ ” اگر تمہارے والدین میں کوئی ایک یا دونوں ضعیفی کی حالت کو پہنچ جائے تو انہے اف تک نہ کہو ”
قارئین آپ خود فیصلہ کریں ایسی اولاد کا انجام کیا ہونا چاہیے جس کے بارے میں خداوند عالم نے نافرمانی نہ کرنے کا حکم دیا ہو یقیناً یقیناً یقیناً ایسے اولادیں جہنم کی کھٹکتی آگ میں واصل ہوگی ۔
آپ مانے یا نہ مانے لیکن میں اس تحریر کو آنکھ میں آنسو لئے لکھ رہا ہو صرف اس وجہ سے کہ مجھے والدین کی جدائی نے رلا دیا ، اس والدین کی محبت و عقیدت میں لکھ رہا ہو کہ ان کے ارمان و خواب کی تکمیل نہ کیا تو میں مارے شرم کے مرجاؤ گا ، اس والدہ کی الفت کا صلہ نہ دے سکا تو زندہ لاش کے مانند ہو جاؤں گا ، ان کے دئیے ہوئے وصیت کی تکمیل نہ ہوپائی تو میں بروز قیامت خدا کو کیا جواب دوں گا ۔
میں صرف اپنی بات نہیں کہ رہا ہو یہ تحریر ہر عام و خاص بالخصوص طلباء مدارس کے لئے جو کئی ہزار کلومیٹر کا سفر کر کے ان کے ارمان کو پورا کرنے کے لئے بے شمار قربانیاں پیش کر دیتے ہیں _
اتنی محبتوں کے نتائج کیا ہونے چاہیئے ، اتنی الفتوں و شفقتوں کا رزلٹ کیسا ہونا چاہیئے ، والدین کے اس بے مثال و لا جواب قربانیوں کے ثمرات کتنے گھنے ہونے چاہیے ، اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے ۔ اگر کوئی اولاد والدین کو خوش رکھنے کے لئے پیسے کمانے کی غرض سے سفر باندھتا ہے تو اب اسے بذات خود فیصلہ کرنا ہوگا کہ کتنا کماؤں گا تو میرے والدین خوش رہے گے ، اگر کوئی والدین کی خوشنودی کے خاطر تعلیم کے حصول کے لیے سفر کا ارداہ کرتا ہے تو اب اسی خود طے کرنا ہوگا کہ کس قدر پڑھ لکھ کر اپنے والدین کا نام روشن کروں گا ، گاؤں والے اور دنیا والے کے درمیان کس طرح والدین کا سر اونچا کروں گا اس کا فیصلہ ہمیں خود کرنا ہے ۔
والدین سے اولاد کی جدائی کے بعد کی ذمہ داری
والدین سے جدا ہونے کے اسباب و نتائج سے ہم آگاہ ہوگئے اب ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان سے کئے ہوئے وعدے کی تکمیل میں مصروف و مشغول ہوجائیں ، ان کی کہی ہوئی باتوں پر کھڑے اترے ، ان کے ارمانوں کو پورا کرنے کے خاطر ہمہ جہت محنت و مشقت کریں ، ان کے خوابوں کی تعبیرات کو مکمل کرنے کے لئے خوب جد و جہد کریں ، ان کے نیک خواہشات کی تکمیل کے خاطر تن من دھن کی بازی لگا دیں ، ان کے آرزؤں کو سجانے کے لئے دلجوئی و یکسوئی کے ساتھ اپنے مشن کو جاری رکھیں ، والدین پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کے لئے دعائیں کریں کیونکہ والدین کی دعاء اولاد کے حق میں سب سے بہتر ہے ،خیر ؛ جب یہ تمام چیزیں پائی جائی گی تو ہم اپنے مشن میں کچھ حد تک کامیاب و کامران نظر آئے گے ۔ اللہ تعالیٰ والدین کا سایہ ہر اولاد پر تادیر قائم و دائم رکھے آمین ثم آمین
ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہو گا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے
محمد عامل ذاکر مفتاحی
مدرسہ فاروقیہ و الفلاح کلاسیس گوونڈی
برائے رابطہ 9004425429
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

