حسرت شعر کو تھی ان چھوئے لہجے کی تلاش
چلتے چلتے اسے ہاتھ آ گیا خورشید اکبر
مقطع کا یہ شعر محض ایک تعلّی آمیزشعر ہی نہیں بلکہ خورشید اکبر کی شاعرانہ کائنات کا فنی تعارف بھی ہے۔وقت بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیںتو ادب کا منظر نامہ بھی بدلتا ہے۔ہر دور میں ویسا ہی ادب تخلیق پاتا ہے جیسی قاری کی مانگ ہوتی ہے۔اس لئے بیشتر ادب اپنے دور میں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتا ہے لیکن بدلتے ادوار بالآخر ادبی سرمایے میں سے بعض کو فراموش کرادیتے ہیں اور بعض کو جدید کی صف سے نکال کر قدیم ادب کا اثاثہ بنا دیتے ہیں ۔بدلتے ہوئے حالات میں فنکار اگر گہرے سماجی شعور کے ساتھ اپنے فن کو ہم آہنگ کر،درون قلب کی آگ میں تپاکر پیش کرتا ہے تو وہ فن پارہ زندہ و تابندہ قرار پاتا ہے ۔جس فنکار کے یہاں روایات اور نت نئے تجربات کی آویزش نظر آتی ہے ،اس کی تخلیق زمان و مکان کی قید سے آزاد ہوکر ادبی سرمایہ کا ایک اہم حصہ بن جاتی ہے ۔ایک قاری کی حیثیت سے میری نظر میں خورشید اکبر کے شہ پارے ’’سمندر خلاف رہتا ہے‘‘ ، ’’بدن کشتی بھنور خواہش ‘‘، ’’فلک پہلو میں‘‘ اور ’’زمین آسمان سے آگے‘‘ (ہندی) مستقبل میں اردو ادب کے وقیع سرمایے کا ایک گرانقدر حصہ ہوں گے۔ (یہ بھی پڑھیں راشدہ خلیل :ایک کامیاب خاتون – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
خورشید اکبر ایک حساس اور باشعور شاعر ہیں ۔وہ اسلاف کی روایتوں کی نفی نہیں کرتے بلکہ انہیں روایات کو آگے بڑھاتے ہوئے نئے آہنگ کے ساتھ اظہار کے نئے سانچے وضع کرتے ہیں۔نئے استعارات و تشبیہات اور نئے اشاروں کنایوں کے امتزاج سے اپنی شاعری میں ایک نئی اور انوکھی فضا قائم کردیتے ہیں۔ یہی نیاپن اور اچھوتا پن ان کی شاعری کو ممتاز بناتا ہے :
بُنے تھے اس نے یونہی لذتوں کے جال گندم بھر
مگر اک بے ضرر خواہش نے پائی ہے سزا برسوں
حسن کی محشر بدوشی اک صدائے بے طلب ہے
عشق میں یارا ہے تو پیدا اپنا اسباب کرلے
نہ جانے کتنے بھنور کو رلاکے آئی ہے
یہ میری کشتی جاں خود کو پار کرتی ہوئی
مجھے یہ بے پناہی کب ترا رستہ دکھائے گی
تری آواز ہوں اور گنبد بے در میں رہتا ہوں
خورشید اکبر ایک جدید شاعر ہیں لیکن ان کی جدت پسندی محض جدید موضوعات کو پیش کرنے تک محدودنہیں ہے بلکہ انہوں نے عام موضوعات کو اپنی تخلیقی جہت سے ایک نیا زاویہ نظر عطا کیا ہے۔ زندگی کے عمومی رویے ان کے یہاں خصوصی افکارونظریات کا مرقع بن جاتے ہیں ۔ان کے اس تخلیقی رویے نے موضوعات کو بڑی وسعت عطاکردی ہے۔ اظہار کے ہر پہلو میں ان کے یہاں حقیقت کا احساس ہوتا ہے۔
دو ساحلوں کے بیچ جزیرۂ امید ہے
اس کو بھی تیری موج نگلتی رہے گی کیا
رواروی تھی بہت عمر بھر خطا سے گئے
سزا یہ کم تو نہیں ہم تری سزا سے گئے
عجب طرح سے وہ دریا کو پار کرتا ہے
بھنور کے بیچ بھی لہریں شمار کرتا ہے
وہ شاخ سربلند ہے اس کی دعا نہ مانگ
وہ جھک گئی تو لذت انگور جائے گی
شجرکارانِ جنت خوش ہیں میری بے پناہی پر میں اک ٹوٹا ہوا پتہ ہوا کی زد پہ رہتا ہوں
خورشید اکبر فطرتاً اور طبعاً رومانی ہیں لیکن ان کے بالیدہ سماجی شعور نے ان کی شاعری کو رومان اور حقیقت کی آمیزش کا آہنگ عطا کیا ہے ۔ان کا رنگ و آہنگ اوروں سے جدا ہے۔ وہ نہ تو اپنے پیش روؤں کی طرح توضیحی انداز اختیار کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی شاعری کو ابہام کی سرحدوں میں داخل کرتے ہیں بلکہ اپنے خلاقانہ شعور سے نئے اشارے کنائے وضع کرتے ہیں ۔ان تمام مدارج میں وہ ترسیل کا خاص خیال رکھتے ہیں ۔جدیدیت اور روایت کی ہم آہنگی نے ان کے یہاں برتی جانے والی لفظیات کو مانوسیت عطا کی ہے۔
وہی اک شاخ ممنوعہ جسے میں چھو نہیں سکتا
وہی چپکے سے آجاتی ہے خوابوں کے علاقے میں
ریگستان پیاس لبوں پر آتی ہے کیوں
چلتے چلتے کون سمندر بن جاتا ہے
سفید شال میں تازہ گلاب ہے خورشید
کہ جیسے جھیل میں جلتا ہوا شکارہ ملے
ہیں میرے نام جہاں لاحقے عذابوں کے
وہاں سے تیرے مرے سابقے بدلتے ہیں
ضرورت کے اپاہج پاؤں میں قلت کی بیڑی ہے
رکی ہے سانس اور ہم نوٹ کا پہیہ نہیں رکھتے
میرے اس کے بیچ کا رشتہ اک مجبور ضرورت ہے
میں سوکھے جذبوں کا ایندھن وہ ماچس کی تیلی سی
ایک عرصہ تک شاعروںنے سنجیدہ موضوعات یا معاشرتی مسائل کی پیشکش کے لئے نظم کی صنف کو اختیار کیا اور غزل کو محض عشق و محبت یا زلف و رخسار کی باتوں تک محدود رکھا ۔لیکن زمانے کی تبدیلی کے ساتھ غزل کے موضوعات و مضامین میں بھی وسعت پیدا ہوئی۔ حساس اور ذہین شاعروں نے زمانے کی بلاخیزی اور معاشرتی مسائل کو بھی غزل کے پیرایہ میں پیش کیا۔خورشید اکبر کے یہاں بھی زمانے کی ہر کروٹ کا احساس ملتا ہے۔ان کی شاعری کے مطالعے کے دوران بارہا یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ ہر فرد واحد کے احساسات کی ترجمانی ہے۔ یہ تو وہی شب و روز اور شب و روز کے وہی مسائل ہیں جن سے ہم روزانہ متصادم ہوتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں ’’میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی‘‘(خلیل الرحمن اعظمی ) – ڈاکٹروصیہ عرفانہ )
اے شہر ستم زاد ! تری عمر بڑی ہو
کچھ اور بتا نقل مکانی کے علاوہ
ستم کی انتہا پر چل رہی ہے
یہ دنیا کس خدا پر چل رہی ہے
لہو سے کھیلتے ہیں سب فرشتے
سیاست فاتحہ پر چل رہی ہے
یزید وقت کو دنیا قبول کرلے مگر
سناں کی نوک پر اک سر خلاف رہتا ہے
چند سکوں پہ وہ تقدیر بدل سکتا ہے
راستہ عدل جہانگیر بدل سکتا ہے
سنا ہے شاہ کی روشن ضمیری لا کلامی ہے
کہو ممکن ہے کیا اب آدمی کو شادماں رکھنا
مٹھی سے ریت پاؤں سے کانٹا نکل نہ جائے
میں دیکھتا رہوں کہیں دنیا نکل نہ جائے
جھلس جاتے ہیں پکنے ہی سے پہلے خواب کے غلے
ہم اپنی تھال میں تعبیر کا لقمہ نہیں رکھتے
خورشید اکبر نے زندگی کی دشوار گذار راہوں کا ذکر جابجا کیا ہے لیکن امید کی شمع کو روشن رکھنے کا وطیرہ بھی اپنایا ہے۔ کچھ اس طرح کہ زندگی کی صعوبتیں مایوس نہیں ہونے دیتیں بلکہ قاری کو ایک نئے چیلنج کا سامنا کرنے کے لئے مہمیز کرتی ہیں۔ ان کی شاعری ہمیں محظوظ ہی نہیں کراتی بلکہ غوروفکر اور حرکت و عمل کے لئے اکساتی بھی ہے۔
یہ زندگی کا سمندر ہے بے پناہ تو کیا
کسی جزیرۂ غم کو اٹھا کے چلنا ہے
آسماں اپنے ستاروں کی خبر لے پہلے
کوئی موسم ہو مگر پھولتی پھلتی ہے زمیں
فنا رنگت چٹانوں میں بقا کی نہر پنہاں تھی
کہ محو تیشہ اندازی رہا دست دعا برسوں
کون جانے خیر کا پہلو کہیں روشن ہو شاید
ہم تمہارے شہر میں ہیں بے اماں ہوتے ہوئے بھی
اے بیاباں کے شجر خود کو ذرا شاداب کرلے
میری جانب دیکھ اور مٹی کو تو سیراب کرلے
موسم کے اندیشوں سے بے نور ہوئے جاتے ہیں لوگ
ہم تو چراغ رہگذر ہیں ظلمت سے تن جائیں گے
خورشید اکبر نے تقسیم کا المیہ نہیں دیکھا لیکن تقسیم کے نتیجے میں رونما ہونے والی تفریق اور تفریق کے کرب کو محسوس کیا ہے۔لمحوںکی خطا کے نتیجے میں صدیوں کی جو سزا ہمارے حصے میں آئی ،اس کے اثرات جابجا ان کی شاعری میں نظر آتے ہیں ۔ زمانے کے حالات ، وطن میں بے وطنی کا احساس،ناسازگار ماحول اور ناموافق نظام اقدار نے جس طرح کی ذہنی اور جذباتی کیفیت پیدا کی ہے ،اس کی عکاسی شاعر نے بخوبی کی ہے۔خورشید اکبر چونکہ انتظامیہ سے وابستہ ہیں،اس لئے انہوں نے تمام حالات کے نشیب و فراز کا قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ افراط و تفریط کے اس ماحول میں ایمانداری کے ساتھ اپنے منصبی فرائض کی بجاآوری میں اندر کے شاعر کی حساسیت اور دردمندی قدم قدم پر مجروح بھی ہوئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو زبان :امکانات کا نیا منظرنامہ – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
دیار غیر پہ قبضہ ہو قبر بھر اپنا
یہ فیصلہ بھی کسی دن وطن سے چاہتے ہیں
ہمارے شہر میں ہوتا ہے سانحہ لیکن
خطا کہاں کی ہے غصہ کہاں نکلتا ہے
کہاں تلاش کروں شہر اعتبار تجھے
کہ ہجرتیں ہیں وہی قافلے بدلتے ہیں
ہم بھی ترے بیٹے ہیں ذرا دیکھ ہمیں بھی
اے خاک وطن ! تجھ سے شکایت نہیں کرتے
تو جو کہتا ہے کہ یہ خاک وطن تیری ہے
میں کہاں پر ہوں میرے یار کہاں جاؤں میں
کہاں لے جائے گی آخر یہ تقسیم وراثت
مرے حصے میں اب ہندوستاں بھی کہ ہے شاید
کہاں ہے وحدت گنگ و جمن کہاں ہوں میں
بتا بتا، مری خاک وطن کہاں ہوں میں
سنا ہے شہر سے وحشت سوال کرتی ہے
کہاں ہے خطۂ دشت و دمن کہاں ہوں میں
بدن کی جمالیات کو بیشتر شعرا نے اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے ۔اردو شاعری کی تاریخ میں کئی ایسے شعرا بھی ہیں جنہوں نے اپنی شاعری کی اساس ہی بدن کی جمالیات پر رکھی ہے۔ کئی شاعر رومان کی راہ نکل لئے تو بعض نے کھلا ڈلا انداز اختیار کر اپنی پہچان بنائی ۔خورشید اکبر نے یہاں بھی روایت کو ملحوظ رکھا ہے۔ان کے یہاں بدن کی جمالیات پر خاصے اشعار ملتے ہیںلیکن ایک ضبط کی فضا بھی ملتی ہے۔ خورشید اکبر طبعاً رومانی ہیں۔ان کے یہاں جمالیات کیف پرور اور نشاط آگیں ہے۔نئے نئے اشارے اور استعارے وضع کرکے انہوں نے جمالیات کے جمال کو فزوں تر کیا ہے۔
کیسا ہے وہ بدن مردنگ جیسا
کھنکتا ہے ،کرارا بولتا ہے
تھم گئی دونوں جہاں کی رفتار
کیا ہیں ابرو کے اشارے آخر
چھلکا پڑا ہے نور بدن کے خطوط سے
کیا شہر بے پناہ قبا کے خلاف ہے
یہ آنکھ کا قصہ ہے، وہ ہونٹ کی جنبش ہے
اک شہر چراغوں میں پھولوں میں چمن رکھنا
میں چاہے جتنے بھنور،ناؤ اور ندی لاؤں
تمہارے جسم سے بہتر نہ استعارہ ملے
شفق ، سحاب ، سمندر ، سفینہ ، سیرابی
دھلی دھلی ہو فضا،تیرتا شباب کھلے
شب وصال کے بعد ایک صبح آئینہ
لبوں کی پنکھڑی روشن ہو وہ گلاب کھلے
۔ ہندی الفاظ و تراکیب کا استعمال اکثر اردو شاعروں نے کیا ہے ۔یہ استعمال کبھی ضرورت شعری کے تقاضوں کے مد نظر کیا گیا تو کبھی شعر کو عام فہم اور سلیس بنانے کے خیال سے اور کبھی زبان کی لفظیات کو وسعت دینا بھی پیش نظر رہا۔ خورشید اکبر نے اپنے اشعار میں ہندی الفاظ کے موتی اس طرح ٹانکے ہیں کہ اس سے بہتر متبادل اور کچھ ہو ہی نہیں سکتاتھا۔ بعض اشعار تو مکمل طور پر ہندی ہیں مگر نہایت عام فہم اور دل پذیر۔ انہیں زیر لب دہرائیے تو یوں لگتا ہے کہ دور پہاڑوں میں کوئی جھرنا مدھم لَے میں گررہا ہے یا سلونی شام میں کوئی تنہا کوئل کوک رہی ہے۔
دل دروازے بیٹھ سکھی دربانی کر
رونا دھونا چھوڑ چُنر کو دھانی کر
شام سجن کی راہ نین کے دیپ جلا
من مندر کو تھام بھجن دیوانی کر
چکنی ماٹی گہری گھاٹی پنگھٹ دور
کایا کمبھ سنبھال کشن ! آسانی کر
شام سجن سے نیہہ لگی ہے جیوتی کنج رہے آباد
لاکھ زمانہ رستہ روکے ہم تو مدھوبن جائیں گے
ہندی تہذیب کے زیراثر ہی انہوں نے اپنے مجموعہ کلام ’’فلک پہلو میں‘‘کی سلسلہ وار غزلوں میں ’پنچ تتو ‘یعنی عناصر خمسہ بطور ردیف استعمال کرکے ایک نیا رنگ پیدا کیا ہے ۔دیگر مظاہر فطرت کو بھی ردیف بنایا ہے۔کمال فنکاری یہ ہے کہ یہ الفاظ بھرتی کے نہیں بلکہ اشعار کا لازمی جزو معلوم ہوتے ہیں۔
شہر بے آب ہوا جاتا ہے
اپنی آنکھوں میں بچالوں پانی
کچھ تو بارش میں نیا کام کرے گی مٹی
راستے راستے کہرام کرے گی مٹی
ناخدا کون خدا دیکھ رہا ہے مجھ کو
میں ہوں کشتی مری پتوار چلائے گی ہوا
وہ مرا پہلا قدم کتنا بلند آغاز تھا
میں زمیں جس کو سمجھتا تھا وہ ٹھہرا آسماں
مت اسے ہاتھ لگانا وہ سجن آگ ہے آگ
تم اسے خاک سمجھتے ہو بدن آگ ہے آگ
اس نے ایک تیر چلایا ہے بلندی کی طرف
اور کہتا ہے کہ گرنے کو ہے سارا آکاش
اس کے چہرے کا پسینہ دیکھ کر آیا خیال
ابر کے سایے میں کتنی بے اماں لگتی ہے دھوپ
کھائے جاتی ہے اسے کس کی جدائی دن رات
اور کس نور شہادت سے پگھلتی ہے زمیں
شاعری سب سے پہلے اظہار ذات ہے ،بعد ازاں اظہار کائنات۔سچ تو یہ ہے کہ ہر انسان اپنی ’’میں‘‘ کو عزیز رکھتا ہے۔ہر شخص کی تمنا ہوتی ہے کہ فلک اس کے پہلو میں ہو یانہ ہو، اس کا نام فلک پر ضرور نظر آئے۔عام آدمی اپنی خواہش کے جگنو کو مٹھی میں بند کئے راستہ طے کر لیتے ہیں لیکن شاعروں کو یہ خوش نصیبی وردان ہے کہ اپنی خواہش کی سیرابی کا سامان ہر غزل کے آخری شعر میں کرلے۔دراصل یہی مقطع کا شعر ہے۔خورشید اکبر نے اپنے تخلص کا استعمال دو جہتوں میں کیا ہے ۔انہوں نے اپنے تخلص کو لفظی طور پر استعمال تو کیا ہی ہے لیکن اس کا معنوی استعمال کرکے وہ بساوقات اپنے اشعار کی معنی آفرینی کو کمال کا حسن اور تاثیر عطا کرتے ہیں۔ ان کے کلام میں ایسے اشعار کثیر تعداد میں ملتے ہیں جہاں تخلص شعر کا لازمی جزو بن کر جہان معانی کے نئے دروا کرتا ہے۔
نئی شریعت جمہور بننے والی تھی
نئے افق سے وہ خورشید اگنے والا تھا
کہہ دو سیاہ رات سے مایوس نہ پھرے
خورشید سے ملے گی تو پُرنور جائے گی
تاریک افق پر وہ عجب شان سے نکلا
خورشید سے روشن ہے جہاں دیکھتے رہنا
اک ڈوبتے مہتاب نے دھیرے سے کہا تھا
خورشید نکل آئے تو گھربار بناؤں
شام کے تیر سے زخمی ہے خورشید کا سینہ
نور سمٹ کر سرخ کبوتر بن جاتا ہے
خورشید اکبر کا تعلق منصبی طور پر انتظامیہ سے رہا ہے ۔جہاں اور جس منصب پر رہے،وہاں کی مکمل ذمہ داری اور جواب دہی ان کی رہی ہے ۔مختلف النوع حالات و واقعات پر نظر رکھنی ہے۔انتظامیہ کو چست درست رکھنا ہے۔ دفتر کا روٹین ورک دیکھنا ہے۔کبھی کورٹ میں سنوائی کرنی اور فیصلے سنانے ہیں۔لائ اینڈ آرڈر کا دھیان رکھنا ہے ۔کوئی ناخوشگوارواقعہ رونما ہو ، جائے وقوع پر حاضر ہونا ہے۔ماتحتی میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کرنی اور کبھی کبھی سخت کوشی بھی برتنی ہے۔ہڑتال سے نپٹنا ہے۔الیکشن کو بخوبی انجام دلانا ہے۔حکومت کو بروقت رپورٹ دینی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔گویا کہ ذمہ داریوں کاایک سلسلہ ہائے دراز ہے جس سے نبرد آزما ہونا ہے اور ان سب کے ساتھ ساتھ اندر کے ہمکتے ہوئے شاعر کی دلداری بھی کرنی ہے۔ یعنی ایک شخص کو بیک وقت دو زندگی متوازی و مساوی طور پر جینے کی سزا ملی ہے اور سر تسلیم خم کرنے کی ادا بھی ودیعت ہوئی ہے۔
زندگی ! میں نے تجھے ہر حال میں آباد رکھا
روتے ہنستے،جیتے مرتے، بے نشاں ہوتے ہوئے بھی
(تمام شد)
ڈاکٹر وصیہ عرفانہ
سمستی پور،بہار
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت ہی چامعہ اور خوبصورت تعارف پیش کیا ہے ڈاکٹر وصیہ عرفانہ نے۔ شاعر خورشید اکبر کی شاعری سے چنندہ اشعار شاعر کے تعارف کو مکمل کرتے ہیں اور قاری کو وصیہ عرفانہ کے اپنے ادبی ذوق کی گہرائیوں تک لے جانے میں بھی کامیابی حاصل کرتے ہیں۔