Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

راشدہ خلیل :ایک کامیاب خاتون – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ

by adbimiras جولائی 2, 2021
by adbimiras جولائی 2, 2021 0 comment

کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے ایک عورت ہوتی ہے۔یہ عورت ماں ہو،بیٹی ہو،یا بیوی لیکن سکون کا موجب اور تحریک کا سبب ضرور ہوتی ہے۔راشدہ خلیل بھی ایک ایسی ہی نیک طینت خاتون تھیں جو خلیل الرحمٰن اعظمی جیسی نابغہ روزگار شخص کے لئے سکون و قرار کا سبب بنیں۔ خلیل الرحمٰن اعظمی ایک جید ناقد اور صاحب طرز شاعر تھے۔ مطالعے کے بے حد شوقین اور اپنی ادبی صفات کے باوصف زندگی میں سلیقہ و تہذیب کو ترجیح دینے والے۔راشدہ خلیل نے ان کی اس صفت کو حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے لکھا ہے :

’’مجھے شاعروں کی گھریلو زندگی پہلی بار دیکھنے کا اتفاق ہواتو میں نے یقین جانئے،خلیل صاحب کوبالکل، جیسا کہ سنتے چلے آئے تھے وہ لاپرواہ اور لاابالی ہوتے ہیں،منفرد پایا۔ان کے اندر ذرا بھی لا ابالی پن نہیں تھا۔ان کا مزاج نہایت منظم اور صفائی پسند تھا۔کسی بھی قسم کی گندگی گھر میں پسند نہیں کرتے تھے۔اپنی ضروریات کی تمام چیزیں اپنی جگہ احتیاط سے رہتیں۔۔۔۔گھر میں اتنی کثیر تعداد میں کتب موجود تھیں مگر خلیل صاحب کو کوئی بھی کتاب تلاش کرنے میں چند منٹ ہی لگتے تھے کیونکہ جو کتاب جس جگہ سے نکالتے اسی جگہ واپس رکھتے۔‘‘

(’’چھوڑ کر تجھ کو بہت دور نکل جائیں گے‘‘راشدہ خلیل،مطبوعہ ’بزم ادب‘۲۰۱۱ء ، ص:۱۱۱)

اتنے صفائی پسند اور اصول پرست شخص کی شریک حیات کو جس قدر سلیقہ مند،با مروت، مزاج داں،مہذب اور متحمل ہونا چاہئے تھا،راشدہ خلیل ان اوصاف سے مزین تھیں۔خلیل الرحمٰن اعظمی سے شادی کے وقت وہ سند کے اعتبار سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ تھیں لیکن ان کا تعلق جس خانوادے سے تھا،اس کے اوصاف نے ان کی شخصیت کو تابدار بنا رکھا تھا۔

راشدہ خلیل کا تعلق خطیبہ خاندان کی تیسری پشت سے تھا۔ ان کے والد حکیم مولوی سید محفوظ الدین ضلع پیلی بھیت کے قصبہ دیوریا کلاں میں گورنمنٹ یونانی ڈسپنسری کے انچارج تھے۔حکیم صاحب لکھنؤ کی شہرہ آفاق طبی درسگاہ ’’تکمیل الطب‘‘ سے فارغ التحصیل تھے۔دست شفا تھے اور اپنے حسن اخلاق کے سبب گردونواح میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ راشدہ  خلیل کی والدہ سرور جہاں کانپور کے ایک اعلیٰ اور مقتدر خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ سرور جہاں نہایت نفیس، با اخلاق اورباوقار شخصیت کی حامل خاتون تھیں۔ امور خانہ داری میں کمال مہارت رکھتی تھیں۔ خوش خطی ،زبان پر غیر معمولی قدرت اور حسن اخلاق کی وجہ سے وہ معروف و مقبول مجلسی شخصیت کے طور پر جانی جاتی تھیں۔ راشدہ خلیل نے اپنے والدین کے اوصاف کو بخوبی اپنی ذات میں جذب کیا اور اپنے وجود کی شعاعوں سے اپنی اگلی نسل کو تابناک بنانے کا فریضہ انجام دیا۔ ( یہ بھی پڑھیں   ’’میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی‘‘(خلیل الرحمن اعظمی ) – ڈاکٹروصیہ عرفانہ)

راشدہ خلیل کو علمی صلاحیت اور ذہنی استعداد وراثت میں ملی تھی۔ خلیل الرحمٰن اعظمی سے شادی کے بعد ان کے گھر کے علمی و ادبی ماحول نے سونے پر سہاگہ کا کام انجام دیا۔ خلیل صاحب بار ہا تاکید کیا کرتے :

’’ پڑھتی لکھتی رہا کرو،گھر کے دھندے تو زندگی کے ساتھ چلتے رہتے ہیں۔مگر انسان کے لئے مطالعہ وہ بھی اچھی کتب و رسائل کا بہت ضروری ہے۔مطالعہ روح کی غذا ہے۔‘‘

( ’’چھوڑ کر تجھ کو بہت دور نکل جائیں گے‘‘راشدہ خلیل،مطبوعہ ’بزم ادب‘۲۰۱۱ء ، ص:۱۱۱   )

خلیل صاحب کی حوصلہ افزائی سے راشدہ بیگم کی خوابیدہ صلاحیتیں بیدار ہونے لگیں اور انہوں نے رفتہ رفتہ کاغذ و قلم سے رشتہ استوار کرنا شروع کیا۔شوہر کی توانا رفاقت نے انہیں اعتماد بخشا۔ابتدا میں راشدہ بیگم نے خلیل صاحب کے گھرانے کا علمی و ادبی ماحول دیکھ کر اپنے تعلیمی سلسلے کو مزید آگے بڑھانے کا ارادہ کیا لیکن خلیل صاحب کے نزدیک علم کبھی بھی اسناد سے مشروط نہیں رہا۔ وہ بخوبی اس بات سے واقف تھے کہ خانگی زندگی کے ابتدائی ایام میں ایک عورت کی ذمہ داریاں، بحیثیت ایک ماں،ایک بیوی، ایک خاتون خانہ مختلف النوع ہوتی ہیں۔ڈگری حاصل کرنے کی دوڑ میں عورت کی ساری صلاحیتیں وقف ہو جائیں تو گھر کا نظام درہم برہم ہو جاتا ہے اور بچے کی تربیت متاثر ہوتی ہے۔راشدہ خلیل ایک مزاج شناس اور باشعور خاتون تھیں۔ انہوں نے ڈگری کی تگ و دو کو فی الوقت ترک کرکے اپنی علمی صلاحیتوں کو صیقل کرنے کا عہد کیا جس میں وہ ازحد کامیاب رہیں ۔ ان کی تحریریں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ بعد ازاں، انہوں نے تعلیم برائے سند کا مرحلہ بھی بخوبی طے کیا اور بی اے،بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔

علی گڑھ کی مشہور سوشل ورکر سیدہ فرحت صاحبہ ایک دردمند دل کی مالک تھیں۔ان کی پوری توجہ پسماندہ بچوں کو بنیادی تعلیم فراہم کرنے پر رہی۔مجبوروں اور ضرورت مندوں کے کام آنا ان کا شعار تھا۔وہ ایک ادیبہ اور شاعرہ بھی تھیں۔انہوںنے بزم ادب کے نام سے ایک انجمن قائم کی۔ گھریلو پڑھی لکھی خواتین کی ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشنے اور ادبی ذوق کی تربیت کرنے کی غرض سے اس انجمن کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ سیدہ فرحت نے نہایت جانفشانی سے اس ادارے کے مقاصد کی ترویج کی۔ جس زمانے میں فون یا موبائل کی سہولت نہ تھی، خطوط کے ذریعے ممبران خواتین کو نشست کی تاریخ اور مضامین کے موضوعات کی اطلاع فراہم کی جاتی۔علیگڑھ کی بیشتر خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے،ان کی فطری صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر انہوں نے بہترین ادب پاروں کے مطالعے اور ادبی شہ پاروں کی تخلیق کی رجحان سازی کا گرانقدر کام انجام دیا۔اس ادارے میں اکثرو بیشتر نامور ادیباؤں اور شاعرات کے خصوصی پروگرام کا انعقاد ہوا کرتا تھا۔عام نشستوں میں مختلف خواتین ممبران کے ذریعے منتخب افسانے، مضامین،انشائیے اور خاکے پڑھے اور سنے جاتے۔خواتین کے فطری ذوق و شوق کے مد نظر اس ادارے میں بہترین لائبریری کا نظم بھی تھا جس میں مشہور ناول نگاروں کے ناول اور افسانوی مجموعے موجود تھے۔ راشدہ خلیل اس مشن میں سیدہ فرحت کی دست راست رہیں۔ دونوں کی باہمی تگ و دو اور کاوشوں نے اس ادارے کو استحکام بخشا۔۱۹۸۵ء اپنی صحت کے پیش نظر سیدہ فرحت نے راشدہ خلیل کو اس بزم کی ذمہ داری کلی طور پر سونپ دی لیکن راشدہ خلیل نے ان کی رہنمائی اور مشورے کو ہمیشہ ترجیح دی۔ ممبر سازی، نشست کا مقام اور موضوعات کے انتخاب میں انہوں نے ہمیشہ سیدہ فرحت کی رائے کو اولیت بخشی۔ یہ واقعہ ہے کہ اس بزم نے راشدہ خلیل کی نہ صرف تحریری صلاحیتوں کو جلا بخشی بلکہ انتظامی امور کے فن سے بھی انہیںآشنا کیا۔جس بے لوثی اور صداقت قلبی کے ساتھ اس بزم کی آبیاری کی گئی،وہ بے مثال ہے۔ اس بزم نے سائنس اور دیگر مضامین کے طالبات کی لسانی اور ادبی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم رول ادا کیا۔سیدہ فرحت،راشدہ خلیل اور دیگر ممبران خواتین کا مطمح نظر اپنے قد کو بلند کرنا نہیں بلکہ اپنے سرمایہ کو آنے والی نسل تک منتقل کرنا تھا۔اپنے دائرہ کار میں یہ ادارہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا۔ (یہ بھی پڑھیں اردو زبان :امکانات کا نیا منظرنامہ – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )

اس ادارے کے تحت راشدہ خلیل نے مختلف موضوعات پر مضامین تحریر کئے ۔ان کی تحریروں میں اسوہ حسنہ ،حضرت عمر کا دور خلافت، تدوین حدیث،تعلیمات نبوی،مکاتیب اخلاق،یوم خواتین وغیرہ مضامین خاص اہمیت کے حامل ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ راشدہ خلیل نے اپنی صلاحیتوں کا استعمال مثبت طریقے سے کرکے اپنی تحریروں کو ثواب جاریہ کی علامت بنا دیا۔ محمد ﷺ کی محبت،فرمان الٰہی کی اطاعت،دین کی سر بلندی،ایمان کی استقامت،امر ونہی کی لازمیت،صراط مستقیم کی چاہت ان کی تحریروں کے لفظ لفظ سے عیاں ہے۔جو مضامین محمد ﷺ یا اصحاب رسولؐ کو موضوع بناکر لکھے گئے،ان میں مذکورہ عناصر کا ہونا ظاہر ہے ، لیکن جب وہ یوم خواتین کے حوالے سے مضمون تحریر کرتی ہیں،تو عورتوں کو فلاح کی وہ راہ دکھاتی نظر آتی ہیں جو سینکڑوں سال پہلے محمدؐ نے قرآن کے حوالے سے بتائی تھی۔بحیثیت مسلمان ،راشدہ خلیل اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھیں کہ بین الاقوامی سطح پر یوم خواتین کا انعقاد کرنے والے کسی صورت عورتوں کو وہ عزت ،وقار،سربلندی،تحفظ اور عافیت دینے کے مجاز نہیں ہیں جو اسلام نے عورتوں کو بخشی ہے۔انہوںنے متعدد حوالوں سے اپنی بات پیش کی ہے کہ اعلیٰ ڈگری یافتہ ہونا ہی عورتوں کے باشعور ہونے کی دلیل ہوتا تو اولیا عظام کی غیر ڈگری یافتہ لیکن جلیل القدر مائیں ان کی پرورش و پرداخت اور تعلیم و تربیت بحسن و خوبی انجام نہ دے پاتیں ۔ راشدہ خلیل اس بات پر ایقان رکھتی ہیں کہ صرف اور صرف خوف خدا اور خوشنودیٔ خدا ہی وہ واحد اسم اعظم ہے جس سے عورت عزت و وقار بھی پاسکتی ہے اور زندگی کی ہر آزمائش میں سرخرو ہوسکتی ہے۔وہ عورتوں کی ترقی یا مردوں کے شانہ بہ شانہ چلنے کی منکر نہیں،لیکن مغرب کی اندھی تقلید میں برہنگی کو ترقی کی معراج سمجھ لینے کی غلط فہمی کو دور کرنے کی قائل ہیں۔ان کے خیال میں تقویٰ اور عبادات کے سلسلے میں بے شک مردوزن کی کوئی تخصیص نہیں لیکن آزادی کے نام پر اپنی تباہی کو دعوت دینا درست نہیں۔ ان کی رائے میں یوم خواتین کے موقع پر اگر ایسی کوئی تنظیم وجود میں لائی جائے جو عورتوں کی بنیادی اور اخلاقی کمزوریوں کو دور کر کے ان کی مثبت سوچ کی حوصلہ افزائی کرے،تو یہ ایک خوش آئند قدم ہوگا۔ (یہ بھی پڑھیں مناظر عاشق ہرگانوی اور بچوں کا جاسوسی ادب – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )

راشدہ خلیل نے محمد ؐ کے اخلاق اور ان کی تعلیمات پر بھی کئی اہم مضامین سپرد قلم کئے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ محمد ؐ کا اخلاق قرآن کی تشریح ہے اور قرآن کی تعلیمات ہی محمدؐ کی سیرت میں منعکس ہوئی ہے۔لہٰذا قرآن کے درست فہم کے لئے سیرت اور حدیث کی طرف رجوع کرنا لازمی ہے،راشدہ خلیل نے اس تناظر میں حدیث اور اس کے تدوین کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ہے ۔ حضرت عمرؓ کا دور خلافت تاریخ کا سب سے سنہرا دور کہلاتا ہے۔ایک ایسا دور جو انتظام و انصرام،منصفی اورعدل پروری،شان و شوکت اور کسر نفسی،جمال و جلال اور اشاعت دین کے لحاظ سے بے مثل تھا۔راشدہ خلیل نے اس دور پر تفصیلی اور اجمالی نظر ڈالی ہے۔وہ عموماً نہایت سنجیدگی،متانت اور تفکر آمیز انداز میں موضوع کے دروبست کھولتی ہیں۔لیکن جب وہ سیدہ فرحت کی یاد میں مقالہ قلمبند کرتی ہیںیا اپنے محبوب شوہر خلیل الرحمٰن اعظمی کے حوالے سے اپنے تاثرات پیش کرتی ہیں تو ان کا قلم جذبات کی فراوانی اور رقت قلب سے بوجھل ہوجاتا ہے۔’’چھوڑکر تجھ کو بہت دور نکل جائیں گے‘‘ کے عنوان سے انہوں نے خلیل الرحمٰن اعظمی کا بے حد وقیع خاکہ تحریر کیا ہے۔ اس خاکہ کا حسن یہ ہے کہ خلیل الرحمٰن اعظمی کی درون خانہ شخصیت کی تصویر کشی میں انہوں نے جذبوں کو بے لگام نہیں ہونے دیا اور جن پہلوؤں سے عام قارئین مستفید ہو سکتے ہیں،انہیں ہی پیش نظر رکھا۔سچ تو یہ ہے کہ فکروفن کا توازن ہی کسی خاکے بلکہ تمام ادب پاروں کا بہترین وصف ہوتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شوکت حیات:اردو افسانے کا سنگِ میل – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )

راشدہ خلیل ہر موضوع کو سادگی،سلاست اور پُر اثر انداز میں پیش کرتی ہیں۔ ان کے خلوص اور ان کی مثبت سوچ نے ان کی تحریروں میں تاثیر پیدا کردی ہے۔سادہ بیانی کے پیرایے میں اہم موضوعات کی پیشکش ہنر مندی کا فن ہے۔ راشدہ خلیل سادگی اور سلاست کے ساتھ قارئین کے لئے غور و فکر کے دروا کرتی جاتی ہیں۔ان کے مضامین کے چند اقتباس پیش ہیں جو ان کی طرز تحریر کے عکاس ہیں:

’’قرآن پاک نے صحیح راستہ پر چلنے کے لئے تقویٰ اور طہارت کی زندگی کو ضروری قرار دیا ہے۔ تقویٰ و پرہیزگاری پیدا کرنے کے لئے اسلام نے کچھ عبادات کو ضروری قرار دیا ہے۔۔۔۔لیکن قرآن پاک میں ان عبادات کا تفصیلی طریقہ نہیں بتایا گیا ہے۔وہ تو صرف ان آفاقی قدروں کی وضاحت کرتا ہے جو ان کی بدولت حاصل کی جاسکتی ہیں۔ان عبادات کو سمجھنے اور سیکھنے کے لئے نبیﷺ کے اسوۂ حسنہ اور عمل کی طرف رجوع کرنا پڑتا ہے۔اسی نسبت کا نام سنت ہے۔غرض قرآن حکیم جس راہ کی نشاندہی کرتا ہے،اس راہ کو روشن کرنے والی چیز حدیث نبوی ؐ ہے۔‘‘

(تدوین حدیث: حدیث کی ابتدا اور اس کا مفہوم)

’’قانون قدرت کے نکتہ شناس جانتے ہیں کہ فضائل انسانی کی مختلف انواع و اقسام ہیں اور ہرفضیلت کا الگ راستہ ہے۔ ایک شخص ایک فضیلت کے لحاظ سے دنیا میں اپنا جواب نہیں رکھتا لیکن اور فضائل سے اس کو بہت کم حصہ ملا ہے۔سکندر بہت بڑ ا فاتح تھالیکن حکیم نہ تھا۔ارسطو بہت بڑا حکیم تھا لیکن کشور مستان نہ تھا۔بڑے بڑے کمالات ایک طرف، چھوٹی چھوٹی فضیلتیں بھی ایک شخص میں جمع نہیں ہوتیں ہیں۔بہت سے نامور گذرے ہیں جو بہادر ہیں ،پاکیزہ خیال نہ تھے۔بہت سے پاکیزہ اخلاق تھے لیکن صاحب تدبیر نہ تھے۔بہت سے دونوں کے جامع تھے لیکن علم و فضل سے بے بہرہ تھے۔حضرت عمر ؓ کے حالات اور ان کی مختلف سرگرمیوں پر نظر ڈالنے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سکندر بھی تھے اور ارسطو بھی، مسیح بھی تھے اور سلیمان بھی،تیمور بھی تھے اور نوشیرواں بھی،ابو حنیفہ بھی تھے اور ابراہیم ادھم بھی۔‘‘

(حضرت عمرؓ  کا دور خلافت)

’’آج کی عورت یہ سمجھنے لگی کہ ہم مردوں کے شانہ بہ شانہ چل کر ہی عزت اور مرتبہ پاسکتے ہیں تو وہ اپنی ڈگر سے ہٹ گئی اور اصلی خرابی معاشرہ میں یہیں سے شروع ہوئی جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ہے اور جس میں رنگ،مغرب کی اندھی تقلید نے خوب خوب بھرا ہے ۔جس کو ہم اپنی آزادی کی کلید سمجھ رہے ہیں وہ ہی ہماری بربادی کی جڑ ہے۔‘‘   (یوم خواتین اور ہم)

’’یہ ادبی بزم صرف سیدہ فرحت کی دین ہے،انہیں کی کاوشوں کی مرہون منت ہے۔انسان جب بھی کوئی مثبت کام کرنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو ہمارا معاشرہ اپنی بساط بھر اس کام میں روڑے اٹکانے کی سعی پیہم میں لگ جاتا ہے۔مگر مرحومہ ان معدودے چند خواتین میں سے تھیں جو کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنا کام جاری اور اپنی زندگی کا قیمتی حصہ دوسروں کی فلاح و بہبود میں لگاتی ہیں۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ کام اپنے نام و نمود اور شہرت کے لئے ہورہا ہے لیکن ایسا ہوتا نہیں ،بلکہ ان کی یہ جہد آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ ہوتی ہے۔‘‘    (سیدہ فرحت : بانیٔ بزم )

’’ہاتھ میں قلم لئے بہت دیر سے خاموش بیٹھی ہوں ۔دل غم سے بوجھل ہے،آنکھیں پُرنم ہیں،کچھ لکھنا چاہتی ہوں مگر کچھ نہیں لکھا جارہا ہے۔آخر یہ کیسا درد ہے جو الفاظ کے سانچے میں ڈھل نہیں پارہا ہے۔یہ کیسا غم ہے کہ دل کے شگافوں سے نکل نہیں پارہاہے۔زندگی میں غیر متوقع حادثات ہوتے رہتے ہیں لیکن بعض حادثات اپنی کیفیت کے اعتبار سے دائمی رنج و الم چھوڑ جاتے ہیں۔جو بھلائے نہیں جاتے اور زندگی کے آخری تار نفس سے ان کا رشتہ جڑا رہتا ہے۔میں سوچتے سوچتے تھک جاتی ہوں کہ اچانک میرے سامنے ایک پرچھائیں ایک معصوم چہرہ نمودار ہوتا ہے جو مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے۔‘‘

(چھوڑکر تجھ کو بہت دور نکل جائیں گے)

بہر طور راشدہ خلیل کو ایک کامیاب خاتون کہا جاسکتا ہے۔ درون خانہ ایک غمگسار شریک حیات اورایک شفیق ماں جب خارجی دنیا میں قدم رکھتی ہے تو بزم ادب کی بنیاد مستحکم ہوتی ہے جس کا مقصد گھریلو خواتین کومثبت سوچ اور مثبت عمل میں مصروف رکھنا ہے۔ان کا خیال تھا کہ جب عورتیں مصروف ہوں گی تو وہ تضیع اوقات اور دل بستگی کے لئے کوئی منفی مصروفیات تلاش نہ کریں گی۔ابتدا میں یہ بزم صرف ایک ادارہ رہا۔بعد ازاں ،یہاں سے باقاعدہ ادبی مجلّہ بھی شائع ہونے لگا ۔راشدہ خلیل بزم ادب سوسائٹی کی سکریٹری بھی رہیں اور ’بزم ادب‘ کی ایڈیٹر بھی۔بلا شک و شبہ کہا جاسکتا ہے کہ سیدہ فرحت نے جو بیج بویا،راشدہ خلیل نے اسے شجر سایہ دار بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ گرلس ایسو سی ایشن،علی گڑھ کی پی آر او بھی رہیں۔ ان کی ادبی اور فلاحی سرگرمیوں کے لئے انہیں متعدد ایوارڈز سے بھی نوازا گیا جن میں رائٹر فورم تنظیم ایوارڈ،اے ایم یو اولڈ گرلس ایسو سی ایشن ایوارڈ،البرکات ایجوکیشنل سوسائٹی ایوارڈ سر فہرست ہیں۔ایک انسان جو گھریلو محاذ پر بھی متحرک ہو اورجس نے اپنی ذات سے معاشرے کو بھی مستفید کیا ہو ،دراصل وہی کامیاب انسان ہے۔

 

ڈاکٹر وصیہ عرفانہ

سمستی پور،بہار

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

راشدہ خلیلوصیہ عرفانہ
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں؟  ڈاکٹر صفدرامام قادری
اگلی پوسٹ
قلی قطب شاہ کی شاعری – محمد شاداب ابراہیم

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں