اردو زبان کی جائے پیدائش اور مولد کے سلسلہ میں ماہرین لسانیات میں گرچہ اختلاف ہے بعض کا نظریہ ہے کہ وادی سندھ میں زبان اردو نے آنکھ کھولی، تو کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ دہلی کے مضافات میں اردو نے جنم لیا، چند ایسے بھی ماہرین لسانیات ہیں جن کا اصرار ہے کہ گہوارہ دکن میں اردو نے سب سے پہلے سانسیں لی، لیکن اکثر وبیشتر ماہرین لسانیات اس بات پر متفق ہیں کہ گیسوئے اردو، دکن کے ادبی حلقوں میں آراستہ وپیراستہ ہوئے، دکنی عوام نے بول چال کا سلیقہ عطا کیا، شاہان دکن نے اپنے درباروں کی جبین نیاز پر اردو کا جھومر لگایا، حکاموں نے فرامین واحکامات صادرکرنے کا ذریعہ بنایا، کمانڈروں نے میدان جنگ کی سیر کرائی۔
زبان اردو دکنی کی آبیاری میں دکنی شعراء وادباء کے کارنامے شہاب ثاقب کے مانند ہیں جن کی چمک ٹوٹنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں معین الدین جینا بڑے کا افسانہ گیت گھاٹ اور گرجا – نثارانجم )
اردو نظم ونثر دونوں صنفوں کے بال وپردکن میں ہی نکلے، دونوں نے دکن ہی کے آسمانِ نیلگوں میں قوت پرواز پیدا کی، پھر دھیرے دھیرے ہندوستاں کے دیگر علاقوں کا بھی رخ کیا، لیکن یہاں پر صرف شعرائے دکن بلکہ صرف قلی قطب شاہ کی شاعری کے امتیازی پہلوؤں کو اجاگر کرنا مقصود ہے، اس لئے اب سلسلہ کلام دراز نہ کرکے قلی قطب شاہ پر توجہ مرکوز کرنا زیادہ مناسب رہے گا۔
قلی قطب شاہ ایک طرف سریرآرائے سلطنت تھا، میدان جنگ میں جاتا تھا، امور سلطنت انجام دیتا تھا، تو دوسری طرف علم وفن کا دلدادہ تھا، شعروشاعری سے شغف رکھتا تھا، زبان وبیان کی باریکیوں سے واقف تھا، یعنی رزم وبزم اور صلح وجنگ کی کٹھالی سے تپ کر نکلا تھا اسی وجہ سے گولکنڈہ کا سب سے مشہور فرما روا ہونے کے ساتھ ساتھ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر بھی تھا،جس کے بنا پر رام بابو سکسینہ کا قلم اس حد تک لکھنے پر مجبور ہوا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں پریم چند کا مطالعہ کیسے کریں؟ ڈاکٹر صفدرامام قادری )
قلی قطب شاہ پہلے شخص ہیں جن کا کلامِ اردو مجموعی صورت میں موجود ہے۔ ان کی زبان میں کافی ترقی اورپختگی پائی جاتی ہے ممکن ہے اس سے بھی پیشتر کچھ لوگ گذرے ہوں جنھوں نے اشعار کہے ہوں مگر ان کے کلام کا اس وقت تک کہیں پتہ نہیں ملا۔ کچھ مذہبی مثنویاں قطب شاہ سے پیشتر کی موجود ہیں، مگر وہ کسی معنی میں ادبی تصنیفات نہیں کہی جاسکتیں۔ قطب شاہ ہی کا کلام اب تک ایسا کلام کہا جاسکتا ہے جس میں ایک ادبی شان موجود ہے، انھوں نے سب سے پیشتر فارسی کے تتبع میں شعر کہے اور ایک دیوان بہ ترتیب حروف تہجی جمع کیا اور یہ سہرا اب تک عدم تحقیق کی وجہ سے ولی کے سر تھا، علاوہ متعارف مضامین کے ان کے کلام میں قابل تعریف بات یہ ہے کہ اصلیت اور جدت ہے، اور بعض مقامی دلچسپیوں کو بھی انھوں نے قلم بند کیا ہے، فارسی کے وہ پورے متبع نہیں کیونکہ ان کے کلام میں ہندی کا بھی بہت بڑا اثر پایا جاتا ہے ہندی الفاظ اور ترکیبیں، ہندی استعارے اور تشبیہیں، مہند فارسی الفاظ،خدا کی تعریف ٹھیٹ بھاشا میں ہندو سورماؤں اور بہادروں اور ہندوستان کی روایت کا ذکر، اظہار عشق عورت کی جانب سے مرد کے واسطے، جو ہندی شاعری کے لئے مخصوص ہے۔ یہ سب باتیں ان کے کلام کی خصوصیات ہیں، معشوق سے طریقہ خطابت جو بعد میں الٹ گیا ان کے یہاں صحیح طریقہ پر پایاجاتا ہے اس کے ساتھ فارسی کا اتباع بھی نظرانداز نہیں کیا گیا، کیونکہ قواعد نظمِ الفاظ، محاورات، ترکیبیں، مضامین تشبیہات اکثر ان کے کلام میں موجود ہیں۔ وہ اپنی قابلیت کا اظہار نہیں کرتے اور فارسی عربی الفاظ کو اسی طرح استعمال کرتے ہیںجیسے روز مرہ میں مشہور عام ہیں اس سے کہ وہ لغوی طریقہ پر صحیح ہو یا غلط۔ فی الحال چونکہ وہ قدیم زبان متروک ہوگئی ہے اور لوگوں کو اس میں کوئی لطف نہیں آتا اس لئے ان کا کلام دلچسپی سے نہیں پڑھا جاتا مگر جب نظر و تحقیق وسیع ہوگی توان کے کلام کی قدر کی جائے گی۔ مختصراً یہ کہ قلی قطب شاہ ان لوگوں میں ہیں جنھوں نے سب سے پہلے اپنے کلام کی تدوین کی اور اردو کو ایسا وسیع کیا کہ آئند وہ ایک ادبی زبان بننے کے قابل ہوگئی۔ انھوں ایک ایسے ادبی شعر کی بنیاد رکھی جس کے پیرو اور مختتم میرؔو سوداؔ، انیسؔ و دبیرؔ ذوقؔ وغالبؔ وغیرہ ہوئے۔ (ص۵۷،۵۸۔ ادب اردو۔ رام بابو سکسینہ)
بقول پروفیسر نورالحسن نقوی:
مقامی تہذیب نے قلی قطب شاہ کو بہت متأثر کیا۔ ہندو کلچر کے اثرات اس کی زندگی اور شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں مگر وہ فارسی شاعری اور اس کی روایت سے اچھی طرح واقف ہے فارسی کے شعری سرمائے سے اس نے فائدہ اٹھایا اور فارسی سے تشبیہات و استعارات مستعار لئے لیکن ساتھ ہی ہندی کے نرم وشیریں الفاظ سے اس نے اپنے کلام کو دلکش بنایا۔ اسی امتزاج یعنی فارسی اور ہندی کے شیروشکر ہوجانے سے اس کے کلام میں ایک خاص ادبی شان پیدا ہوگئی ہے۔
بقول امیراللہ شاہین:
سراپانگاری میں جو ید طولیٰ اسے حاصل ہے اردو کا کوئی شاعر آج تک اس کی ہمسری نہیں کرسکا۔ اس کی سراپا نگاری کا کمال یہ ہے کہ اس کے معشوق کے جسم کا کوئی حصہ اَن چھوا نہیں رہا ہے اور جسے نوک قلم سے اس نے چھو دیا ہے وہی حسن جہاں تاب لازوال بن گیا ہے۔ اس کی سراپا نگاری محض مجسمہ سازی کے قبیل سے نہیں ہے۔ بلکہ یہ بولتا محسوس ہوتاہے۔ وہ وسیع المشرب ہے۔ اس لئے نازک اداسانولی سلونیوں پر بھی اتنا فریفتہ ہے جتنا گوریوں، اور گدرائے جسم والیوں سے زندگی کا رس نچوڑتا نظر آتا ہے۔ (ص۱۵۔ تخلیق وتنقید)
ایک جگہ رقمطراز ہیں:
اس کی شاعری مختلف رنگتیں ہیں جن میں آنکھوں کو بھلے لگنے والے مدھر رنگوں کی آمیزش بھی ہے اور کہیں کہیں یہ رنگ جذبہ کی تیزی وتندی کی سبب اتنے شوخ بھی ہوگئے ہیں کہ آنکھیں خیرہ ہوجاتی ہیں۔ فنکار کے نازک جذبات اور انتہائی خطرناک میلانات کی ترجمانی کرکے یہ اس کے قدرت کلام کی دلیل بھی مہیا کرجاتے ہیں۔
نصیرالدین ہاشمی اپنی کتاب ’’دکن میں اردو‘‘ میں رقم طراز ہیں:
سلاطین قطب شاہیہ میں سلطان محمد قلی، محمد عبداللہ اور تانا شاہ ہر ایک باکمال شاعر تھا سلطان محمد قلی کی کلیات کتب خانہ آصفیہ میں موجو دہے۔
(ص ۱۶ دکن میں اردو)
آغا محمد باقر نے لکھا ہے:
وہ عمدہ خوش نویس ہونے کے علاوہ ایک اچھا شاعر بھی تھا۔ اس کا کلام دکنی، تلنگی اور فارسی میں موجود ہے۔ فارسی میں قطب شاہ تخلص کرتا تھا اس نے پچاس ہزار سے زیادہ شعر کہے ہیں۔ سادگی اور شیرینی اس کے کلام کا جوہر ہے، تصوف اور عاشقانہ رنگ میں اشعار کہتا تھا، مرصع نگاری اور مناظر قدرت کی بنیادیں اسی نے رکھی تھی جن کو سوداؔ اور نظیرؔاکبرآبادی نے تکمیل کو پہنچایا۔ (ص ۳۴۔تاریخ نظم ونثر)
مذکورہ بالا اقوال کی روشنی میں اردو شاعری کی تاریخ میں قلی قطب شاہ کی اہمیت ومنزلت پوری طرح واضح ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اب ان کے کلام کا ایک نمونہ پیش کردینا بہتر رہے گا تاکہ وہ اس مضمون کا نگینہ بن جائے۔
پیا باج پیالہ پیا جائے نا
پیا باج یک تل جیا جائے نا
قطب شہہ نہ دے مجھ دوانے کوپند
دوا نے کو کچ پند دیاجائے نا
شعر تیرا دروگوہر معانی سب کو
شعر حافظ کے سر اوپر رہے تاج پرویز
اسی طرح کے اشعار کو دیکھتے ہوئے مولانا عبدالحق نے لکھا ہے :
محمد قلی قطب شاہ کا کلام چار سو برس پہلے کا ہے لیکن موجودہ زمانے کی عشقیہ شاعری کو سامنے رکھ کر دیکھاجائے تو پتہ چلے گا کہ صرف زبان میں تھوڑا سا فرق ہے ورنہ وہی باتیں، وہی ہجریں، وہی مضمون اور وہی طرز ادا۔ ماخوذ از تاریخ ادب اردو پروفیسر نورالحسن نقوی ص۷۲
قلی قطب شاہ نے سراپا نگاری، مناظر فطرت کی منظر کشی، ہندوستانی ومقامی تہواروں کی منظر کشی، ہندوستانی سور ماؤں کے کارناموں کا بیان جس بہترین انداز پر کیا ہے۔ اس نے آئندہ نسلوں کے شعراء کے لئے صرف رہنمائی کا کام نہیں کیا، بلکہ ان کے لئے مشعل ثابت ہوا جس کی وجہ سے اردو کے تمام شعراء قلی قطب شاہ کے زیربار احسان ہے، یہی چیز قلی قطب شاہ کی شاعری کی عظمت کے لئے کافی ہے۔
شاداب ابراہیم ندوی
Shadab Ibrahim Nadwi
At. & Po. Bauram Via Biraul Ps. Jamal Pur
Distt. Darbhanga (Bihar) 847203
Mob: 7376163638
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

