پیامِ صبا پر ایک نوٹ – عصمت آرا
"شاید اسے ہماری انا کا گماں نہ تھا”
اردو زبان و ادب کی بے لوث خدمت کرنے والے نئی نسل کے ابھرتے ھوئے شاعر محترم جناب کامران غنی صبا کا شعری مجموعہ "پیامِ صبا” کی شکل میں الحمدللہ 2017۔ 11۔ 23 کو اسکول جانے سے پہلے موصول ھوا۔ دل خوشی سے باغ باغ ھوگیا۔ کامران صاحب کے اس شعر کے ساتھ کہنا چاہوں گی کہ
میں کب سے تشنگی اوڑھے ہوئے سویا ہوا تھا
اچانک خواب آیا، اک سمندر سامنے تھا
"پیامِ صبا ” کے دیدۂِ زیب سرورق کی ورق گردانی سے ہی نظم ” مجھے آزاد ھونا ھے” پر مضامین سے نظم اپنی طرف توجہ مرکوز کرائی۔ دل کو چھوتی ھوئی یی نظم میں فیس بک اور واٹس ایپ گروپ پہ دیکھ چکی تھی لیکن کتابوں میں پڑھنے کا اپنا الگ ہی مزہ ھوتا ھے۔ مجھے آزاد ھونا ھے موت کے فلسفے کی حقیقت بیان کرتی ھے۔ اس نظم کے ذریعے شاعر یہ احساس دلانا چاہتا ھےکہ۔۔۔ دولت شہرت اُس وقت کچھ کام نہ آۓ گی جب حسین و جمیل موت اپنی آغوش میں لے لے گی۔ اس نظم کو اگر گہرائی سے مطالعہ کیا جائے تو اس میں علامہ اقبال کی جیسی کچھ کچھ فکر نمایاں ھوتی ھوئی نظر آتی ھے۔ شاعر موت کے فلسفہ کو خوبصورتی سے ظاہر کرتا ھےکہ
زمانے بھر کی ہر خواہش سے
ہر رعنائی سے جھوٹی نمائش سے
مجھے آزاد ھونا ھے۔
حرفِ آغاز میں کامران صاحب نے اس حقیقت پر کہ نئی نسل سے ادب کا ذوق ختم ھورہا ھے، بالکل سچی اور فکر انگیز روشنی ڈالی ھے۔ لیکن شاعر آنے والی نسلوں سے نا امید بھی نہیں ھے۔ وہ کہتا ھیں کہ
میں آنکھوں میں اترنے کے ہنر سے آشنا ھوں
ڈراتے ھو مجھے کیوں، کیسا خنجر سامنے ھے
زیرِ نظر مجموعے کی ایک نظم ” ہمارے گھر کو خطرہ ھے ” سے موجودہ ادبی دنیا پر اندیشہ ظاہر ھوتا ھے۔ حالانکہ یہ نظم بھوپال ان کاؤنٹر سے متاثر ھوکر لکھی گئی ھے۔ لیکن یہ حالیہ ادبی دنیا کو آئینہ دکھانے کا کام کرتی ھے۔ نظم ” منافق ” میں منافقت کے پہلوؤں کی اچھی عکاسی کی گئی ھے۔ شاعر نے ان سب احساسات و جزبات کو بہت حسن و خوبی بیان کرتے ھوئے نظم ” شاعرو! صوفیو! عقل والو! اُٹھو۔۔۔ ” کے ذریعے بروقت صحیح مطالبہ کیا کہ۔۔ ( یہ بھی پڑھیں کربِ ذات کا شاعر: ساحرؔ لدھیانوی – کامران غنی صباؔ )
وقت کے بہتے دریا کا رخ موڑدو
اور نفرت کے ہر ایک بُت توڑ دو
بہرکیف خود کا راستہ نکالتے ھوئے پہلے ہی شعری مجموعہ کے ذریعے اپنے احساسات و جزبات کو حقیقت کی روشنی میں پیش کرکے جو سوغات دی گئی ھے وہ کامران صاحب کی شخصیت کا بھرپور احاطہ کرتی ھے کہ کامران غنی صبا میں بھی کوئی نانک اور چشتی چھپا ھوا ھے۔ اس شعر سے شاعر کے صوفیانہ مزاج کے ساتھ ساتھ جمالیاتی ذوق کا بھی اندازہ ھوتا ھے
یہ دلکشی ثبوت ھے اۓجانِ شاعری
پھولوں نے رنگ تیرے لبوں سے چراۓ ھیں
اب یہ جدیدیت، مابعد جدیدیت یا جدت آخر کیا بلا ھے یہ میری کم عقل کے پلے نہیں پڑا، یہ بڑے ادباء اور دانشور ہی بہتر بتاسکتے ھیں۔ خیر اس معمہ سازی پر کامران صاحب نے بہت عمدہ خیال پیش کیا ھے۔۔
فرق کچھ بھی نہیں، گر سمجھ لیجئیے
عاشقی بندگی، بندگی عاشقی
بلاشبہ کامران غنی صبا شاعری میں اپنی الگ پہچان بنائی ھے۔ گرچہ کامران صاحب کو مزید محنت کرتے ھوئے لمبا سفر طے کرنا باقی ھے پھر بھی آج کے ادبی منظر نامے میں ” پیامِ صبا ” سے امید کی کرن پھوٹتی ھوئی نظر آتی ھے۔ پیامِ صبا سے چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
شاید اسے ہماری انا کا گماں نہ تھا
ہم تشنگی پٹک کے سمندر پہ آۓ ھیں
ہم انکی بارگاہ میں شام و سحر گئے
لیکن ہمارے نالے سبھی بے اثر گئے
احسان ناخدا کے اٹھاتے کہاں تلک
لےکر خدا کا نام بھنور میں اتر گئے
ہم اپنی ہتھیلی پہ سجاتے ھیں سروں کو
بزدل کی طرح سے ہمیں جینا نہیں آتا
تمہاری یاد کا سورج غروب ھونے تک
نماز ہجر کا ہم اہتمام کرتے ھیں
ہونٹوں کو سمندر اور زلفوں کو گھٹا لکھنا
معصوم تبسم کو پیغام وفا لکھنا
بستی جو جلاؤ گے اٹھے گا دھواں لیکن
تم پر ھے یقیں سب کو تم کالی گھٹا لکھنا
اور یہ شعر بطورِ خاص دیکھیں۔۔۔۔۔
میری جبین شوق پر داغِ منافقت نہیں
گوہرِ دامن ترم گرچہ نہیں شمار میں
بہرحال پہلے شعری مجموعہ کی اشاعت پر دلی مبارک پیش کرتی ھوں اور اس عنایت کے لیے تہہ دل شکریہ کے ساتھ دعا گو ھوں کہ ﷲ کامران غنی صبا کی خوبیوں کو مزید وقار اور اعتبار بخشے۔۔ آمین
( ختم شد)
عصمت آرا
رحیم آباد، سمستی پور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

