’’نہیں گرینڈ پا…!میں آپ کو یوں ضائع نہیں ہونے دوں گا ۔‘‘رافع نے بوڑھے دادا کے ہاتھ تھام لیے۔
’’بیٹا…!میں یہاں بہت خوش ہوں۔یہاں کے سارے ملازم اچھے ہیں اور اب تو اتنے سے لوگوں دوستی بھی ہو گئی ہے ۔‘‘انہوں نے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
’’بس گرینڈپا!میں نے آپ سے کہہ دیا ،آپ یہاں ہر گز نہیں رہیں گے۔ اگر پپا کے گھر میں آپ کے لیے جگہ نہیں تو میں الگ گھر بنائوں گا ۔پھر ہم دونوں مل کر وہاں رہیں گے۔‘‘اس کے لہجے میں مضبوطی اور نگاہوں میں روشن مستقبل کی چمک تھی۔
علی نواز نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر۔انہیں اپنا یہ پوتا بہت عزیز تھا ۔اگرچہ ان کا بیٹا سمیع ان کا خیال نہیں رکھتا تھامگر رافع دادا پر جان چھڑکتا تھا۔اسے اپنے شفیق سے بوڑھے دادا بے حد عزیز تھے کیونکہ وہ انہی کی محبت بھری گود میں پل کر جوان ہوا تھا۔
ایک سمیع پر ہی کیا منحصر تھا۔ان کے باقی دو بیٹے اور ایک بیٹی بھی ان سے بہت دور دوسرے ممالک میں رہ رہے تھے اور کسی کو بھی اپنے بوڑھے باپ کی یاد نہیں آتی تھی۔رافع جب چھوٹا تھاتب سمیع انہیں انڈیا لے آیا تھااور رافع کو ان کے سپرد کر دیا تھا۔ان کے خیال میں رافع کی بہتر تربیت علی نواز کے سوا کوئی دوسرا نہیں کر سکتا تھا مگر رافع جب بڑا ہوا تو سمیع نے اسے ہوسٹل میں داخل کر دیااور اب تو بوڑھے باپ کی ذات بھی ان کی نگاہوں میں کھٹکنے لگی تھی اور آخر ایک دن بیوی کے مشورے سے وہ انہیں ’اولڈ ہائوس‘چھوڑ گئے۔
رافع ہوسٹل میں تھا،چھٹیوں میں جب گھر آیا تو دادا کے متعلق جان کر وہ باپ سے الجھ پڑا۔
’’ڈیڈ!آپ نے گرینڈپا کو وہاں کیوں بھیج دیا؟‘‘
’’اس لیے بیٹے!کہ بوڑھے لوگوں کے لیے اس سے بہتر کوئی جگہ نہیں۔‘‘ انہوں نے بیزاری سے جواب دیاتو رافع کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیامگر وہ باپ سے مزید الجھنا نہیں چاہتا تھا۔اس لیے خاموشی سے ’اولڈہائوس‘چلا آیا۔
’’کیا سوچنے لگے دادو!‘‘لاڈ میں آکر وہ انہیں ’دادو‘ ہی کہتا۔
’’کچھ نہیں بیٹا…!‘‘بس ایسے ہی انہوں نے یادوں کے دریچے کو بند کرتے ہوئے کہا۔
’’چلو اب تم گھر جائو،شام گہری ہو رہی ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے چلا جاتا ہوں مگر آپ کو میری بات ماننی پڑے گی۔‘‘وہ پرجوش لہجے میں بولتا ہوا کھڑا ہوگیااور وہ اس کی محبت پر مسکرا دئیے۔ (یہ بھی پڑھیں سرشاخ گل – صائمہ ذوالنور )
’’منیٰ…منیٰ بیٹے!رک جاؤ۔‘‘کوریڈور میں بھاگتی ہوئی لڑکی کے پیچھے تیز تیز چلتے ہوئے احمد شاہ کی سانس پھول گئی۔
’’انکل!پلیز اتنا تیز نہ چلیں۔‘‘رافع نے انہیں تھام لیا ۔ان کی سانس بے قابو ہو گئی تھی۔رافع نے انہیں پاس پڑی کرسی پر بٹھا دیا۔
’’وہ چلی گئی …!‘‘سانس پر قابو پاتے ہی وہ بمشکل بول سکے۔
’’منیٰ!میری بچی مجھ سے ناراض ہوگئی۔‘‘محبت سے ان کا لہجہ بھیگ گیا۔
’’کوئی بات نہیں انکل!پھر آجائے گی۔چلیں میں آپ کو آپ کے کمرے تک پہنچا دوں ۔‘‘وہ انہیں سہارا دے کر ان کے کمرے تک لے آیا۔
پچھلے کئی روز سے وہ بہت اپ سیٹ تھا۔دادا کو گھر لانا تھامگر سمیع کسی طور راضی نہیں تھے۔
’’بے وقوفی کی باتیں مت کرو رافع!میں کوئی نئی بات نہیں کر رہا ۔یہاں سارے لوگ ہی اپنے بوڑھے والدین کو ’اولڈہائوس‘میں رکھتے ہیں۔یہ انڈیا جیسا بیک ورڈ ملک نہیں ہے کہ لوگ بوڑھے لوگوں کو ساتھ لیے لیے پھریں ۔تم نے جدید ملک اور جدید تہذیب میں آنکھ کھولی ہے جس کے تقاضوں کو پورا کرنا تمہارا فرض ہے۔‘‘
’’اپنی پرانی قدروں کو بھول جانا اور ایک غیر ملک کی تہذیب کو اپنا لینا یہی ہمارا فرض ہے نا…؟وہ پیارا وطن جو ہماری شناخت ہے جس کے سہارے ہم غیر ملک میں بھی پہچانے جاتے ہیں ۔اس کی قدروں کو ہم اتنی آسانی سے کیسے بھول سکتے ہیں ڈیڈی!‘‘
رافع کی آواز میں دل کا دکھ سمٹ آیا تھا۔
میں آپ سے صرف اتنا کہنا چاہتا ہوں کہ گرینڈپاکو گھر میں رکھنا چاہتا ہوں۔ڈیڈی!چاہے انسان کتنا ہی بوڑھا ہو جائے مگراس کے اندر جو آرزوئوں اور امنگوں کا دریا ہوتا ہے نا اس میں پہلے سے بھی زیادہ روانی آجاتی ہے۔انسان کی امنگیں اور تمنائیں کبھی بوڑھی نہیں ہوتیں اور ڈیڈ بڑھاپے میں ہی انسان کو اصل سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔جوانی تو وہ اکیلے رہ کر بھی گزار سکتا ہے اور آپ گرینڈپاسے ان کے سارے سہارے چھین لینا چاہتے ہیںمجھ سے یہ نہیں ہوگا۔گرینڈپا نے مجھے پالا ہے۔مجھ پر محبت وشفقت کے خزانے لٹائے ہیںاور آپ نے کیا دیا ہے مجھے۔آپ اور مما کو صرف اپنی زندگی ہی پیاری رہی ہے۔گرینڈپانے میری زندگی کے درخت کو اپنی محبت سے سینچا ہے۔میں ان کی محنت کا ثمرہ ہوں ڈیڈ! اور میں انہیں اس طرح تہی داماں نہیں رکھ سکتا۔‘‘وہ ایک ہی سانس میں سب کچھ کہہ کر باہر نکل گیا۔ (یہ بھی پڑھیں وہ نئے گلاب کی دستکیں – صائمہ ذوالنور )
اولڈہاؤس میں قدم رکھتے ہی اسے عجیب سی طمانیت کا احساس ہوا۔اسے دیکھتے ہی علی نواز کی آنکھوں کی روشنی بڑھ گئی۔
’’آجاؤ بیٹے…!‘‘وہ محبت سے بولے تو وہ ان کے برابر آکر بیٹھ گیا۔
’’دیکھو بیٹے!میں نے تم سے کہا تھا کہ نا میرے ،یہاں بہت سے دوست بن گئے ہیںاور سب سے اچھے دوست تو یہ احمد شاہ ہیںاور یہ ان کی پوتی منیٰ۔‘‘انہوں نے تعارف کرایا۔
’’آپ کی طبیعت کیسی ہے انکل!رافع احمد شاہ سے مخاطب تھا۔
’’رب عظیم کا کرم ہے بیٹا!‘‘ وہ اس سے محبت اور توجہ پاکر پگھل گئے۔
’’اور گرینڈپا!آپ کی کھانسی ختم ہو گئی ؟‘‘اب اس کا رخ علی نواز کی جانب تھا۔
’’ہاں بیٹا…!اب تو مجھے دوا کی بالکل ضرورت نہیں رہی۔‘‘
’’خیر یہ تو میں بہتر جانتا ہوں کہ آپ کو دوا کی ضرورت ہے یا نہیں ۔‘‘وہ مسکرا کر بولا۔
’’بس بیٹا…!اب دوا نہیں پی جاتی۔‘‘وہ بڑی عاجزی سے بولے۔
’’واہ گرینڈپا!کیوں نہیں پی جاتی ۔جب آپ دوا نہیں لیں گے تو اچھے کیسے ہوں گے؟‘‘منیٰ نے سرزنش کی تو رافع نے چونک کر اسے دیکھا۔اس کے بھولے چہرے پر محبتوں کا عکس جھلملا رہا تھا۔
’’دیکھا نواز!یہ پگلی اسی طرح ڈانٹ کر مجھے بھی دوا کھلاتی ہے ۔‘‘احمد شاہ کا لہجہ محبتوں سے چور تھا۔
’’ارے ہم نے ہی تو آپ کا خیال رکھنا ہے دادو!‘‘منیٰ کے لہجے میں اداسی چھلک آئی تو احمد شاہ تڑپ اٹھے۔
’’نہیں بیٹی!اداس مت ہونا ورنہ پھر میں دوا نہیں لوں گا۔‘‘انہوں نے اس کا سر سینے سے لگاتے ہوئے دھمکی دی۔
’’انکل!یہ آپ لوگ دوا نہ پینے کی دھمکی کسے دیتے ہیں۔‘‘رافع نے گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔
’’لوبھئی یک نہ شد دو شد۔‘‘احمد شاہ اور علی نواز کے قہقہے کافی جاندار تھے۔ رافع اور منیٰ نے بیک وقت ہی ان کی خوشیوں کے لیے دعا کی۔
…………………
سمیع کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ رافع کو اس کی حرکت سے کس طرح باز رکھیں۔وہ ہر قیمت پر علی نواز کو گھر لانا چاہتا تھا۔ماں باپ کی ناراضگی کی اسے بالکل پروا نہ تھی۔وہ تقریباً روز ہی سمیع سے الجھ پڑتااور آج تو سمیع کی قوت برداشت نے جواب دے دیا تھا۔
’’میں تم سے آخری بار کہہ رہا ہوں رافع!اپنی ضد چھوڑ دو ورنہ انجام بہت برا ہوگا۔‘‘انہوں نے غصے سے کہا۔
’’ٹھیک ہے ڈیڈ!اب آپ انجام بر اہونے دیں ۔میں اپنی ضد نہیں چھوڑوں گا۔‘‘اسے بھی تائو آگیا۔
’’اگر تم اپنی ضد نہیں چھوڑ سکتے تو میرا گھر چھوڑ دو‘‘آگ بگولہ ہوتے ہوئے سمیع کو احساس نہیں رہا کہ وہ کیا کہہ گئے۔رافع حیرت زدہ رہ گیا۔
’’ڈیڈ!یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’ہاں میں کہہ رہا ہوں ۔جب تمہیں عزت کا کوئی خیال نہیں تو میرے گھر میں رہنے کا بھی تمہیں کوئی حق نہیں۔‘‘وہ پائوں پٹختے ہوئے باہر نکل گئے۔ (یہ بھی پڑھیں سکھ کے موسم کا قاصد- صائمہ ذوالنور )
’’ڈیڈ…!آپ اتنے خود غرض ہو سکتے ہیں؟‘‘رافع نے حیران ہو کر سوچا۔
…………………
’’گرینڈپا…!‘‘وہ علی نواز کی گود میں سر رکھ کر رو دیا۔
’’بیٹے…میرے بچے!‘‘علی نواز تڑپ اٹھے:’’مجھے بتا کیا ہوا،کس نے تجھے کچھ کہا؟‘‘وہ بیقرار ہو گئے۔
’’گرینڈپا…!مجھے کسی نے نہیں بلکہ میرے باپ نے بہت کچھ کہہ دیا۔‘‘
’’کیا کہا سمیع نے مجھے بتا۔‘‘وہ اس کا سر سہلاتے ہوئے بولے۔
’’ڈیڈی نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے۔‘‘
’’کیا…!‘‘انہیں شاک لگا:’’سمیع نے تجھے گھر سے نکال دیا…؟‘‘
’’ہاں دادو!اور اب میں وہاں کبھی نہیں جائوں گا۔‘‘
اس نے ان کے جھریوں بھرے ہاتھ تھام لیے۔
’’نابیٹے…ایسا نہیں کہتے،وہ تمہارے باپ ہیں،غصہ میں کہہ دیا ہوگا۔ جب غصہ اترجائے گا تو خود آکر تمہیں لے جائے گا۔‘‘
’’نہیں گرینڈپا!میں جانتا ہوں اب ان کا غصہ کبھی نہیں اترے گا۔‘‘
’’لو اب بھلا ایسی کون سی خطا کر دی تم نے !‘‘انہوں نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔
تبھی ان کی نظر منیٰ پر پڑی جو دروازے سے ٹیک لگائے خاموش کھڑی تھی۔
’’ارے بیٹی…!اندر آجائو!‘‘انہوں نے پیار سے اسے پکارا۔
رافع نے جلدی سے علی نواز کے دامن سے اپنا تر چہرہ صاف کیا اور سیدھا ہوکر بیٹھ گیا۔‘‘کسی کے کمرے میں یونہی نہیں چلے آتے وہ منیٰ کو دیکھتے ہوئے خفگی سے بولا۔
’’یہ کسی کا نہیںمیرے گرینڈپا کا کمرہ ہے۔‘‘وہ بغیر متاثر ہوئے کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی۔
’’آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے میڈم کہ گرینڈ پا میرے ہیں آپ کے نہیں ۔‘‘وہ موڈ کو خوشگوار بناتے ہوئے بولا۔
’’جی نہیں میرے ہیں۔‘‘وہ بھی ہٹ دھرمی سے بولی۔
’’ارے یہ کیا تم آپس میں جھگڑنے لگے ۔منیٰ بیٹے…!جائو اچھی سی چائے بنا لائو ،میرے بیٹے کے سر میں درد ہے۔‘‘انہوں نے محبت سے رافع کو دیکھا تو منیٰ خلاف توقع خاموشی سے باہر چلی گئی۔چند منٹ میں ہی وہ گرماگرم چائے لیے کھڑی تھی۔
’’دادو…!اب آپ جلدی سے اپنا سامان سمیٹیں ،ہم ابھی یہاں سے گھر چلیں گے۔‘‘
’’ارے کہاں جائیں گے اب ہم…!‘‘منیٰ نے حیرت سے پوچھا۔
رافع نے جو اتنے دن میں اس سے کافی بے تکلف ہو چکا تھا،منیٰ کی خوبصورت نیلی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے سارے حالات اس کے گوش گزار کر دئیے۔
’’میں نے الگ فلیٹ لے لیا ہے منیٰ…!اب میں گرینڈپا کے ساتھ وہیں رہوں گا ،تم وہاں آیا کروگی نا؟‘‘آخر میں وہ اس سے سوال کر بیٹھا اور منیٰ جو اس کے جانے کا سن کر اداس ہو گئی تھی،اثبات میں سر ہلادیا۔منیٰ کسی کام سے اٹھ کر باہر گئی تو رافع نے علی نوا ز کے ہاتھ تھام لیے۔
’’دادو…!‘‘وہ بے حد لاڈ سے مخاطب ہوا:’’ایک بات کہوںمان جائیں گے…؟‘‘
’’کہو بیٹا…!‘‘وہ محبت سے بولے۔
’’میں…میں منیٰ سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
اندر داخل ہوتی ہوئی منیٰ کے قدم باہر ہی رک گئے۔
’’یہ تو بڑی اچھی بات ہے بیٹا…!‘‘وہ خوشی سے بولے۔
’’گرینڈپا!میں چاہتا ہوں نئے گھر میں ہمارے ساتھ منیٰ بھی جائے ۔‘‘
گرینڈپا کے ہاتھ تھامے اپنی خواہشوں کا اظہار کرتا ہوا وہ منیٰ کو بے حد اچھا لگا۔
احمد شاہ نے سنا تو وہ بھی بہت خوش ہوئے ۔منیٰ کے والدین تو بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے۔احمد شاہ نے ہی اس کی پرورش کی تھی اور منیٰ کو خوش دیکھنا ان کی زندگی کی اولین خواہش تھی۔رافع اس کے لیے بہترین شریک سفر ثابت ہو سکتا تھا۔ پھر وہ کیوں اعتراض کرتے اور یوں باہمی رضامندی سے رافع اور منیٰ ایک خوبصورت اور اٹوٹ بندھن میں بند ھ گئے۔
جب احمد شاہ اور علی نواز کے ساتھ منیٰ کو لے کر رافع اپنے چھوٹے سے فلیٹ میں داخل ہوا تو اندرونی خوشیوں سے اس کا چہرہ جگمگا رہا تھا۔سچی خوشی نے اس کی شربتی آنکھوں کی چمک کو اور واضح کر دیا تھا۔اس کی ریاضت کا پھل اسے مل گیا تھا۔ اس نے دودو خوشیاں حاصل کر لی تھیں۔ایک گرینڈپا کو اپنے ساتھ رکھنے کی اور دوسری منیٰ کو پالینے کی۔منیٰ جو پہلی ہی نظر میں اس کا خواب بن گئی تھی۔
’’منیٰ…!‘‘اس نے گرم جوشی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔’’تم میری زندگی ہو منیٰ…!تم شجر سایہ دار ہو،جس نے کڑی دھوپ میں مجھے گھنی اور فرحت بخش چھائوں بخشی ہے۔‘‘وہ اپنے قیمتی اور پاکیزہ جذبے اس پر لٹا رہا تھا۔
اور جب صبح اس کی آنکھ کھلی تو منیٰ بھاگتی دوڑتی سارے کام انجام دے رہی تھی۔
’’جلدی سے اٹھ جائیں صاحب!دادو اور پاپا ناشتہ کی میز پر آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔‘‘وہ مسکراتی ہوئی بولی تو وہ جلدی سے منھ دھوکر ڈرائنگ روم میں آگیا۔
’’آئو بیٹا …!ناشتہ کر لو ۔‘‘دادو نے اسے اپنے پاس والی کرسی پر بٹھا لیا، منیٰ بھی پاس ہی بیٹھ گئی۔
ہنستے مسکراتے ناشتہ کرتے ہوئے وہ سب کتنا خوش تھے۔خاص طور پر علی نواز اور احمد شاہ کے چہرے سچی خوشیوں سے جگمگا رہے تھے۔رافع کے دل سے ان کے لیے بے ساختہ دعا نکلی۔تبھی کال بیل کی آواز پر رافع نے دروازہ کھولا تو سامنے ہی مما اور ڈیڈ کھڑے تھے۔اس نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔
’’ڈیڈ…!آپ…؟‘‘
’’کیا اندر آنے کو نہیں کہوگے؟‘‘سمیع نے مسکرا کر کہا۔
’’کیوں نہیں ڈیڈ…!آپ کا ہی گھر ہے اندر چلے آئیں۔‘‘وہ انہیں لیے ہوئے اندر آگیا۔
احمد شاہ سے گفتگو کرتے ہوئے ،علی نواز سے معافی مانگتے اور منیٰ کو گلے لگاتے ہوئے سمیع کو رافع پر ڈھیروں پیار آگیا۔
’’ڈیڈ…!کیا آپ نے مجھے معاف کردیا؟‘‘وہ ان کے ہاتھ تھام کر بولا۔
’’معافی تو مجھے تم سے مانگنی ہے بیٹے…!میں نے تمہیں کتنا غلط سمجھا اور تم اتنے گریٹ نکلے۔‘‘انہوں نے محبت سے رافع کو گلے لگا لیا۔
’’ڈیڈ…!مجھے شرمندہ نہ کریں۔‘‘وہ نادم ہو گیا۔
’’شرمندہ تو میں ہوں بیٹے!اپنے آرام وآسائش اور جدید تہذیب کو مدنظر رکھتے ہوئے میں بھول گیا تھا کہ والدین کی کتنی اہمیت ہوتی ہے۔جس طرح ہمیں عیش وآرام کی ضرورت ہے اسی طرح ہمارے بوڑھے والدین کو ہماری ضرورت ہے۔بڑھاپے میں ہمیں ہی تو ان کا سہارا بننا ہے تاکہ انہیں ’اولڈ ہائوس‘کے رحم وکرم پر نہ چھوڑ دیں۔‘‘اپنی غلطیوں کا اعتراف کرتے ہوئے وہ بے حد نادم لگ رہے تھے۔
رافع نے محبت سے ان کے ہاتھ تھام لیے اور ان پر بوسہ دیتے ہوئے وہ سوچ رہا تھا:’’آج کی ہر اولاد یہ سمجھنے لگے تو دنیا سے محرومی اور معذوری کا نشان مٹ جائے گا اور خدا کے رحم وکرم کی بارش کی نرم پھوار ہم پر برستی رہے گی!‘‘
…………………

