احمر بہت دیر سے اسے دیکھ رہا تھا۔سیاہ سوٹ میں اس کا گلابی رنگ دمک رہا تھا۔خوبصورت سیاہ آنکھیں نہ جانے کس کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں۔رسالہ اس کے سامنے کھلا پڑا تھامگر وہ ارد گرد سے بے نیاز نہ جانے کہاں گم تھی۔بے حد اداس سی !
احمر اسے کئی روز سے دیکھ رہا تھا۔وہ سامنے والے فلیٹ میں رہتی تھی۔اس کے علاوہ اور کوئی بھی فلیٹ میں نظر نہیں آتا تھااور آج تو احمر کے ضبط کے سارے ہی بند ٹوٹ گئے تھے۔جب اس نے اس نازک سی لڑکی کو ریلنگ پر سر ٹکائے روتا ہوا دیکھا۔ پتہ نہیں اسے کیا دکھ ہے؟اس کا دل بے قرار ہو اٹھا ،وہ بھاگ کر نیچے آیا۔
پھپھو دوپہر کے کھانے کے لیے سبزی کاٹ رہی تھیں۔اسے یوں بوکھلایا ہوا دیکھ کر وہ ڈر گئیں۔
’’کیا ہوا بیٹے…؟‘‘چھری ٹرے میں رکھ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے وہ بولیں۔
پھپھو امی !آپ سے ایک بات پوچھنی تھی ۔‘‘اس نے اپنے پھولے ہوئے سانس پر قابو پاتے ہوئے کہا۔
’’ہاں پوچھو بیٹے…!‘‘
’’آپ کے سامنے والے فلیٹ میں کون لوگ رہتے ہیں؟‘‘
’’ارے!اس میں تو جیلانی صاحب رہتے ہیں ۔بے حد نیک اور خداپرست آدمی ہیں ۔ان کی بیوی بھی بہت اچھی خاتون ہیں ۔بے چاروں کا نصیب پھوٹا ہوا ہے ۔‘‘پھپھو نے دکھ بھرے لہجے میں کہا اور چھری اٹھا کر دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئیں۔
’’کیوں…ان کے نصیب کو کیا ہوا؟‘‘احمر نے کریدتے ہوئے پوچھا۔
’’ارے بیٹے!کیا کروگے جان کر؟‘‘
’’آپ بتائیں تو سہی پھپھو۔‘‘اس کے بے حد اصرار پر وہ گویا ہوئیں۔
’’بیٹے!خدا نے جیلانی صاحب کو ایک ہی بیٹی دی ہے مگر ان کی قسمت میں بیٹی کا سکھ نہیں لکھا۔ہائے کیا دن تھے وہ بھی ۔‘‘پھپھو نے ایک سرد آہ بھرتے ہوئے گزشتہ دنوں کو یاد کرتے ہوئے کہا۔ان دنوں تو اس کی شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی تھی۔بیگم جیلانی نے اپنے دل کے ارمان پورے کیے ۔جی بھر کے پیسہ لٹایامگر بیٹی کا سکھ برقرار نہ رکھ سکیں۔‘‘پھپھو نے اپنی پرنم آنکھوں کو ململ کے دوپٹے سے صاف کیا۔
’’وہ کیسے پھپھو…!‘‘احمر نے بے قراری سے پوچھا۔
’’کیا بتائوں بیٹے…!یہ سب خدا کا نظام ہے،وہ جسے چاہتا ہے من چاہی خوشیوں سے نواز دیتا ہے اور کسی سے پل بھر میں چھین بھی لیتا ہے۔ابھی چند مہینے ہی کی تو بات ہے جب کامنی نے دو جڑواں بچوں کو جنم دیا تھا۔مگر ہائے ان کا نصیب! باپ کو ان کی صورت تک دیکھنی نصیب نہ ہوئی۔وہ اسکوٹر کے ایک حادثہ میں جاں بحق ہو گیابے چارہ!پر اس میں اس غریب کاکیا دوش؟ساس نے اسے ’منحوس‘کا خطاب دے کر گھر سے نکال دیا۔وہ دکھیا جس نے ابھی زندگی کی بہاربھی نہیں دیکھی تھی اپنے معصوم بچوں کو لے کر باپ کے سینے سے آلگی۔بس یہی غم جیلانی صاحب اور ان کی بیگم کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔بے چارے ہر وقت بیٹی کے لیے پریشان رہتے ہیں۔رشتے تو اس کے بہت آرہے ہیں مگر سب لالچی اور کمینے لوگ ہیں۔بیگم جیلانی کل ہی تو میرے پاس آئی تھیں۔کہہ رہی تھیں کہ کوئی اچھا سا رشتہ بتائو۔ارے ہاں یاد آیا بیٹا…!ذرا فرصت سے بیٹھ کر تم اپنی ماںکو میری طرف سے خط لکھنا ۔شاید اس کی نظر میں کوئی اچھا رشتہ ہو مگر مصیبت تو یہ ہے کہ آج کل ڈھنگ کے رشتے تقریباً ناپید ہو گئے ہیں۔‘‘پھپھو نے اپنی پیشانی پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا:’’آج کل کے نوجوان تو کچھ لاابالی طبیعت کے ہیں۔کنواریوں بالیوں کو تو دوڑ کر کریں گے مگر کوئی بیوہ یا مطلقہ تو ان کے لیے گویا چھوت کی بیماری ہے۔اے خدا…! تو ہی اس بچی کی طرف دیکھ لے ،تو سب پر رحم کرنے والا ہے۔‘‘
وہ نہ جانے کیا کیا کہتی رہ گئیں اور احمر اوپر چلا گیا۔
لڑکی جا چکی تھی۔وہ دیوار پر نظریں جمائے کھو سا گیا۔کامنی کی من مو ہنی صورت میں ،اس کے ریشمی سیاہ بالوں میں اور اس کی خوبصورت آنکھوں میں !
’’اے خدا!تو کیا کامنی کو میرے مقدر میں نہیں لکھ سکتا تھا۔‘‘وہ بڑے دکھ بھرے انداز میں سوچ رہا تھا۔
’’مگر اب بھی کچھ نہیں بگڑا ہے …اگر میں چاہوں تو اسے حاصل کر سکتا ہوں لیکن اس کے دو بچے…ان کا کیا ہوگا؟‘‘اس نے گھبرا کر سوچا۔
’’معصوم بچے تو خدا کی رحمت ہوتے ہیں احمر!اور تمہیں تو ویسے بھی چھوٹے بچوں سے بے حد پیار ہے۔اتنے نایاب تحفے تمہاری اپنی دسترس میں ہیں ہاتھ بڑھا کر انہیں حاصل کر لواحمر…!‘‘اسے اپنے دل کی آواز آتی محسوس ہوئی تو وہ پھر نیچے چلا آیا۔
پھپھو کچن میں تھیں۔وہ کامن روم میں آیا۔فون پر گھر کے نمبر ڈائل کرتے ہوئے وہ بہت کچھ سوچ رہا تھا۔دوسری طرف زبیدہ بیگم نے ریسیور اٹھایا۔
’’کیا بات ہے بیٹے!خیریت سے ہو؟انہوں نے ممتا بھرے لہجے میں پوچھا۔
’’آپ کی دعائیں ہیں امی جان!دراصل آپ سے ایک بات کہنی تھی۔‘‘
’’ہاں ہاں کہو بیٹے…!‘‘
’’امی…!آج کل آپ میرے لیے لڑکیاں تلاش کر رہی ہیں نا ۔تو آج آپ کی تلاش ختم ہوئی۔پھپھو کے گھر کے سامنے ایک بہت ہی اچھی لڑکی رہتی ہے۔آپ جلد از جلد آکر اسے انگوٹھی پہنا دیں۔یہ میری خواہش ہی نہیں التجا بھی ہے امی…!وہ بے حد ملتجی لہجے میں بول رہا تھا۔
’’کیسی باتیں کر رہے ہو بیٹے!تمہاری پسند میری پسند سے الگ تو نہیں ہو سکتی۔میں بہرحال تمہاری پسند کو اپناؤں گی۔ کل صبح ہی میں ممبئی پہنچ رہی ہوں تمہاری منگنی کی انگوٹھی لے کر۔‘‘وہ دھیرے سے ہنس کر بولیں۔
’’اچھا امی خدا حافظ!‘‘کہہ کر احمر نے ریسیور رکھ دیا۔
اگلے دن صبح کی فلائٹ سے زبیدہ بیگم ممبئی پہنچ گئیں۔احمر کو گلے سے لگاتے ہوئے وہ مسکرا کر بولیں:’’بہت خوب برخوردار !جو کام ہم مہینوں میں نہیں کر سکے وہ تم نے چند ہی دنوں میں کر ڈالا۔
’’ممی پلیز!‘‘وہ جھینپ سا گیا۔
’’کون سا کام دلہن!ذرا میں بھی تو سنوں۔‘‘پھپھو جو اپنی بھاوج کی اچانک آمد پر حیران تھیں،مزید حیران ہوکر بولیں۔
’’ارے آپا …!اس نے اپنے لیے یہاں کوئی لڑکی پسند کر لی ہے۔کل مجھے فون کیا تھا۔اب ذرا نہا کر کپڑے بدل لوں ،پھر انگوٹھی لے کر لڑکی کے گھر چلیں گے۔‘‘
انہوں نے بیگ میں سے کپڑے نکال کر غسل خانے کا رخ کیا۔
’’ارے بیٹے…!موئی اس ممبئی میں تمہیں کون سی لڑکی پسند آگئی اور مجھے بتایا بھی نہیں ۔‘‘پھپھو نے احمر کو گھورتے ہوئے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا۔
’’ارے میری پھپھو!ناراض نہ ہوں ۔کل ہی تو پہلی بار میں نے اس لڑکی کو دیکھا ہے۔‘‘وہ ہنستے ہوئے بولا۔
’’اے لو اور سنو!کہیں ایسے رشتے ناطے بھی ہوتے ہیں کہ کل لڑکی دیکھی اور آج بات پکی۔خاندان،ذات پات ،سبھی کچھ دیکھنا پڑتا ہے بیٹا…!پھپھو تجربہ کارانہ انداز میں بولیں۔
’’میں ذات پات میں یقین نہیں رکھتا پھپھو!بس لڑکی مجھے پسند آگئی۔اس کے ماں باپ اچھے ہیں اور کیا چاہیے ہمیں،پھر کل آپ ہی تو ان کے گن گا رہی تھیں۔‘‘
’’یہ کیا کہہ رہے ہو بیٹے!پھپھو کی حیرت کی انتہا نہیں رہی ۔اسی وقت بیگم صاحبہ بھی غسل خانے سے باہرآگئیں۔
’’پھپھو!آپ امی کو لے کر جیلانی صاحب کے گھر چلی جائیں۔میں بھی مٹھائی لے کر پہنچ رہا ہوں۔‘‘احمر اتنا کہہ کر ان کا جواب سنے بغیر کمرے سے باہر نکل گیا۔پھپھو محو حیرت بنی اپنی جگہ کھڑی رہ گئیں۔
’’چلیے آپا…!جلدی کیجیے۔‘‘
’’دلہن…!پہلے ذرا میری بات سن لو ۔‘‘انہوں نے کچھ کہنا چاہا۔
’’ساری باتیں پھر سنوں گی ،ویسے ہی کافی دیر ہو گئی ہے۔بس آپا ذرا جلدی سے چلیں۔‘‘
…………………
بیگم جیلانی انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوئیں۔کافی دیر تک اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔پھر زبیدہ بیگم نے اپنا مدعا بیان کیا جسے سن کر بیگم جیلانی حیران وششدر رہ گئیں۔
’’بہن …!میری بیٹی کے ساتھ جو ٹریجڈی ہوئی ہے شاید آپ اس سے واقف نہیں۔‘‘انہوں نے درد بھرے لہجے میں کہا۔
’’کیسی ٹریجڈی!‘‘زبیدہ بیگم نے استفسار کیا اور جب انہوں نے ساری بات تفصیل سے سنی انہیں بھی حیرت کا جھٹکا لگا۔
’’تو کیا آپ کی صرف ایک ہی بیٹی ہے؟‘‘
’’جی ہاں!‘‘
’’تو پھر احمر نے کسے پسند کیا تھا؟‘‘وہ خود کلامی کے انداز میں بولیں۔
’’مجھے معلوم نہیں۔میں نے آپ کے بیٹے کو دیکھا تک بھی نہیں۔‘‘
’’احمر نے کامنی کو ہی پسند کیا ہے دلہن!‘‘بالآخر پھپھو بول اٹھیں۔
’’کیا کہہ رہی ہو آپا…!میرے بیٹے کے لیے کیا وہ بیوہ ہی رہ گئی ہے؟‘‘
انہوں نے ناگواری سے کہا۔
بیگم جیلانی تڑپ اٹھیں :’’بہن !ایسا تو نہ کہیں۔خدا کی مرضی میں کسی کو دخل نہیں ہوتا۔اس رب عظیم کے آگے انسان بے بس ہے۔‘‘
پھر اسی لمحے احمر اجازت لے کر اندر آگیا۔زبیدہ بیگم اپنے بیٹے پر ناراض ہونے لگیں :’’کیا تمہیں یہی لڑکی پسند آئی تھی؟‘‘
’’ممی …!پلیز ،یہ میری خواہش ہے اور آپ نے ہمیشہ میری خواہشات کا خیال رکھا ہے۔‘‘وہ اپنی ماں کا ہاتھ تھام کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔تبھی کامنی دو ننھے بچوں کو لے کر اندر آگئی۔
’’ممی…!آپ ذرا اس کی طرف دیکھیں ،کیا کمی ہے اس میں؟رہا سوال بچوں کا تو یہ ہمارے لیے رب کریم کا تحفہ ہیں۔ممی…پلیز،انہیں آپ میری خاطر قبول فرمالیں۔‘‘وہ بے حد ملتجی نظروں سے ماں کی طرف دیکھ رہا تھا۔
پھر زبیدہ بیگم نے بھی ایک نظر اپنے بیٹے کو دیکھا ۔اس کے بعد کامنی کی طرف دیکھنے لگیں،جو سر جھکائے بچوں کو سنبھالنے میں مصروف تھی۔انہوں نے آگے بڑھ کر اس کی گود سے ایک بچے کو لے لیااور احمر سے بولیں:’’بیٹے!میرے پرس میں ایک انگوٹھی ہے وہ نکال کر لے آئو اور میری بہو کو پہنا دو۔‘‘
احمر خوشی سے جھوم اٹھا ۔بیگم جیلانی بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔احمر انگوٹھی لے کر کامنی کے پاس آگیا اور اس کا ہاتھ تھام کر مخروطی انگلی میں ڈائمنڈ کی چمکتی انگوٹھی پہنا دی۔
’’آپ نے یہ ٹھیک فیصلہ نہیں کیا ۔‘‘کامنی نے نظریں جھکا کر آہستہ سے کہا۔
’’میرا یہ فیصلہ کتنا صحیح ہے اور کتنا غلط ،یہ میں بہتر جانتا ہوں …کیوں؟کیا تمہیں میرا فیصلہ پسند نہیں ہے؟اچھا لائو اسے ذرا مجھے دے دو۔‘‘احمر نے اس کی گود سے دوسرے بچے کو لے لیا۔پھر بولا:’’کیا نام رکھا ہے ان کا؟‘‘
’’ابھی تو کچھ نہیں رکھا۔‘‘
’’ٹھیک ہے اپنے ان پیارے پیارے بچوں کا نام میں خود ہی رکھوں گا۔‘‘ احمر نے بچے کے رخسار پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا:’’ایک کا نام حسن ،دوسرے کا حسین۔ کیوں ٹھیک ہے نا؟‘‘وہ کامنی سے پوچھ رہا تھا۔
’’احمرآپ…آپ کتنے عظیم ہیں۔‘‘وفور جذبات سے اس کی زبان لڑکھڑا گئی۔
’’نہیں کامنی عظیم تو وہ ہمارا پروردگار ہے جس نے ہم دونوں کو ملایا ہے۔ ہمیں اس کا ہی شکر ادا کرنا چاہیے کامنی!‘‘احمر نے محبت سے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے کہا۔
’’ارے تم دونوں وہاں کیوں کھڑے ہو؟احمر…!چلو ادھر آئو میں اپنی بہو کو مٹھائی کھلا دوں ۔‘‘زبیدہ بیگم کی آواز فرط مسرت سے بوجھل ہو گئی تھی اور بیگم جیلانی سوچ رہی تھیں کہ اے خدا تو سارے مردوں کے دل ودماغ کو احمر جیسا بنا دے۔انہیں جیسی اعلیٰ ظرفی عطا کر،آمین!
…………………

