یہ اک چھوٹی دعا ہے میری
میرے خداوند قبول کردے
خوشی کا ایک پل مجھے بھی یارب نصیب کردے
کسی کے دل کو میرے دکھوں سے قریب کر دے
سال نو کی آمد پر امجد اسلام امجد کے یہ اشعار اس نے اپنی ڈائری کے پہلے ورق پر سجائے تو اس کے اندر تک دور کہیں جیسے دھواں ہی دھواں پھیل گیااور خوبصورت سیاہ آنکھیں بے اختیار ہی گیلی ہوتی چلی گئیں۔
کچھ انسانوں کی زندگی پتہ نہیں کیوں دکھوں سے مزین ہوتی ہے۔وہ جس خوشی کو حاصل کرنا چاہیں ،وہ ان کی دسترس سے دور ہوتی چلی جاتی ہے۔لاکھ چاہنے پر بھی سکھ کا کوئی لمحہ انہیں میسر نہیں آتا۔ان کے اپنے ہی ان کی زندگی کو جہنم بنا دیتے ہیں۔وہ اپنے،جن سے ان کا خون کا رشتہ ہوتا ہے اور جن سے وہ بہت سی توقعات وابستہ کر لیتے ہیںمگر جب یہی اپنے،دکھ دیتے ہیں تو ساری دنیا آگ کا شعلہ بن جاتی ہے…دہکتا ہوا شعلہ…جس میں ان کی شخصیت جل کر مسخ ہو جاتی ہے۔ان کے ارمانوں کا خون ہو جاتا ہے اور خواہشات کا گھروندا بکھر جاتا ہے!
کچھ ایسے ہی حالات سے دوچار تھی شعاع اصفہان!
وہ محمود اصفہان کی پانچویں اولاد تھی۔اس سے بڑے دو بھائی اور دو بہنیں تھیں۔
سب سے بڑے شجاع تھے ،پھر خاور،ان کے بعد رائمہ اور امائمہ تھیں،سب سے آخری نمبر شعاع کا تھا۔
بعض گھرانوں میں سب سے چھوٹی اولاد چاہت کی زیادہ حقدار ہوتی ہے مگر اصفہان صاحب کے گھر والے سدا سے ہی سب سے چھوٹی اولاد سے متنفر رہے تھے۔اس کی وجہ بھی نہایت معمولی سی تھی۔
شعاع کا رنگ سانولہ تھا جبکہ فائزہ بیگم کے باقی چاروں بچے سرخ وسفید رنگت کے مالک تھے۔یہی وجہ تھی کہ پیدائش سے لے کر آج تک شعاع کسی کی توجہ اور محبت اپنی جانب مبذول کرانے میں ناکام رہی۔
سب ہی اس سے کھنچے ہوئے رہتے۔بہنوں کا لہجہ تو اسے مخاطب کرتے وقت باقاعدہ تلخ ہو جاتا۔
فائزہ بیگم بھی اس کی رنگت پر چوٹ کرنے سے باز نہ رہتیں۔
شعاع کا کتنا دل چاہتا کہ شجاع اور خاور بھائی ضد کرکے اس سے اپنے کام کروائیں اور وہ بھی رائمہ اور امائمہ کی طرح ان سے نت نئی فرمائشیں کرے۔
مگراس کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی اور جو وہ کبھی خود سے ان کے کام کرنے کو آگے بڑھتی تو وہ برا سامنھ بنا لیتے۔
ہاں ابا ضرور اس سے اپنے کام کروا لیتے تھے۔
اور اماں برتن دھونے کا کام اس کے سپرد کر دیتیںکیونکہ یہ کام اس کی بہنوں کو پسند نہ تھا۔
ایسے میں اگر جینے کا کوئی سہارا تھا…کوئی آس…کوئی امنگ تھی،تو وہ فصیح اقبال کا وجود تھا۔
جس کے ساتھ آنکھ مچولی کھیلنے کو بارہا اس کے ننھے سے دل نے مچل مچل کر فرمائش کی تھی۔
مگر وہ ہر بار اپنی اس خواہش کو کچل دیتی۔
بھلا چاند کو بھی کوئی چھو سکا ہے…!
وہ نم آنکھوں سے اوپر چلی آتی تھی،جہاں نیلے گگن پہ نظریں جمائے وہ اپنے اللہ میاں جی سے ڈھیروں شکوے کر ڈالتی۔
مگر ہائے رے قسمت کی ستم ظریفی!
فصیح کا وجود بھی اس کی نگاہوں سے دور ہو گیا۔
چھوٹی پھپھو کا لاڈلا بیٹا تھا وہ…!
انہوں نے اسے تعلیم کے لیے باہر بھیج دیا۔
…………………
’’شعاع!یہ تو شام سے اندر گھسی کیا کر رہی ہے؟برتن کیا تیرے نوکر آکے دھوئیں گے؟‘‘
فائزہ بیگم کی تیز آواز نے اسے چونکا دیا۔
ڈائری اس کے سامنے کھلی پڑی تھی جہاں امجد اسلام امجد کے اشعار جگمگا رہے تھے۔شاعری سے اسے جنون کی حد تک لگائو تھااور پسندیدہ اشعار جمع کرنا اس کی اکلوتی ہابی!
’’آئی اماں…!‘‘
اس نے دبی ہوئی آواز میں جواب دیا اور جلدی سے ڈائری بند کرکے تکیہ کے نیچے رکھ دی اور کچن میں چلی آئی جہاں ڈھیر سارے گندے اور جھوٹے برتن اس کے منتظر تھے۔
اس نے جلدی جلدی برتن دھونے شروع کیے ۔ابھی تو رات کے کھانے کا انتظام بھی کرنا تھا جو اس کے ہی ذمہ تھا۔
رائمہ اور امائمہ ٹھاٹ سے کالج جاتیں اور گھر آکر مزے سے سونے اور میگزین پڑھنے میں باقی وقت صرف کر دیتیں،اماں نے کبھی انہیں کچھ نہیں کہا۔
اور جو وہ کبھی کسی کوم کو ٹال دیتی تو وہ اسے سخت سست کا طعنہ دینا نہ بھولتیں۔
قدرت کی ساری ستم ظریفیاں اس کے ہی نام رقم تھیںاور کوئی بھی اس کا ہمدرد نہیں تھا۔
’’شعاع!تم اپنی یونی فارم دھوئو تو میری بھی دھو دینا۔‘‘امائمہ نے یونی فارم نل کے پاس رکھے ٹب میں ڈال دی۔
’’شعاع!پلیز ساتھ میری بھی لے لینا۔‘‘رائمہ نے میگزین پر سے نظریں ہٹا کر صرف ایک لمحہ کے لیے اسے دیکھا اور دوبارہ میگزین میں کھو گئی۔
اور شعاع نے اپنے ہاتھوں کی حرکت تیز کر دی کیونکہ اس کا کام جو بڑھ گیا تھا۔
(یہ بھی پڑھیں وہ نئے گلاب کی دستکیں – صائمہ ذوالنور )
اس بار سب لوگ شجاع بھائی کے لیے لڑکی پسند کرنے جا رہے تھے۔اس کا بھی دل چاہا کہ وہ بھی سب کے ساتھ جائے مگر اماں نے ڈھیروں کام بتاتے ہوئے اس کی خواہش کو رد کر دیااور وہ ہمیشہ کی طرح دل مسوس کر رہ گئی۔
ان لوگوں کے جانے کے بعد وہ حسب معمول کام میں مصروف ہو گئی۔تبھی ایک نوجوان دندناتا ہوا اندر گھس آیا۔
’’ارے کون ہو تم؟اور اس طرح گھر میں کیوں گھس آئے ۔‘‘وہ خوف کے مارے زرد پڑ گئی۔
کہیں کوئی لٹیرا نہ ہو…!
آج کل تو لوگ دن دہاڑے گھروں میں گھس جاتے ہیںاور لوٹ مار کرتے ہیں۔وہ خوف زدہ ہو گئی اور جلدی سے بھاگ کر اندر کمرے میں گھس گئی اور دروازہ بند کر لیا۔
کافی دیر بعد جب باہر سے اماں کے بولنے کی آوازیں آئیں تب وہ باہر نکلی۔
یا اللہ…کیا وہ سب لوٹ کر لے گیا؟اس نے ڈرتے ہوئے باہر جھانکا۔
ڈرائنگ روم سے اماں کے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں۔اس نے اندر جھانکا …تو ایک جھٹکے سے پیچھے ہٹ گئی۔
یہ کیا … جسے اس نے لٹیرا سمجھا تھا ،وہ اماں کے کاندھے سے لگا کھڑا تھا۔
وہ حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔
تبھی اماں باہر نکلیں۔
’’ارے شعاع!تو یہاں کیا کر رہی ہے؟‘‘
’’جا جلدی سے چائے بنا لا …اور ساتھ میں پکوڑے بھی تل لینا۔‘‘
اماں احکام جاری کرکے واپس مڑ گئیں۔
اور وہ یہ بھی نہ پوچھ سکی کہ ’اماں!آنے والا کون ہے؟‘کیونکہ اماں نے اسے سوال کرنے کا حق کبھی نہیں دیا تھا۔
وہ خاموشی سے کچن میں آگئی۔چائے کے ساتھ پکوڑے تلے۔نمکین اور دوسرے لوازمات و بسکٹ وغیرہ ٹرے میں سجا کر وہ ڈرائنگ روم میں لے آئی۔
’’ممانی جان!یہ آپ نے نئی ملازمہ کب رکھی؟‘‘
’’ملازمہ…!‘‘رائمہ کھی کھی کرکے ہنسنے لگی۔
’’اللہ فصیح بھائی یہ ملازمہ نہیں…شعاع ہے شعاع…!
’’سورج کی شعاع…!‘‘وہ دھیرے سے ہنس دیا ۔ساتھ میں رائمہ اور امائمہ کی ہنسی بھی شامل ہو گئی۔
وہ دل پر منوں بوجھ لیے واپس پلٹ آئی۔
وہ دشمن جاں واپس آیا بھی تو وہی دل جلانے والا انداز لیے…!
رات کے کھانے پر اماں نے کافی اہتمام کروایا تھا۔ساری ڈشیز فصیح کی پسند کی بنوائی تھیں۔ٹیبل پر اپنی پسند کے کھانے دیکھ کر اس کی بھوک چمکی اٹھی۔
’’ارے واہ ممانی جان!آپ نے اتنے سارے کھانے بنا ڈالے…!‘‘
وہ حیرت سے بولا۔
’’ارے بیٹا…!اب میری بوڑھی ہڈیوں میں کہاں جان ہے؟یہ سب تو شعاع نے بنایا ہے۔
فصیح نے ایک نظر میز کے آخری کونے پر بیٹھی شعاع پر ڈالی اور خاموشی سے کھانے میں مصروف ہو گیا۔
…………………
شجاع بھائی کی شادی کی تیاریاں زور شور سے ہو رہی تھیں۔دونوں بہنیں اماں سے اپنے اپنے کپڑوں کی فرمائش کر رہی تھیں۔تب نہ جانے کیسے اماں کو اس کا بھی خیال آگیا۔
’’شعاع…چاند!تم بھی اپنے سامان کی لسٹ دے دینا۔‘‘
’’چاند…!‘‘اسے حیرت کا جھٹکا لگا۔کپڑے دھوتے ہاتھ ایک لمحہ کے لیے رک سے گئے۔
’’چاند…!‘‘خاور بھائی کا قہقہہ بڑا فلک شگاف تھا۔
اس کا دل بجھ گیا!
لیکن سب سے زیادہ دکھ تو اس ستمگر کی تضحیک آمیز ہنسی نے پہنچایا۔
’’ممانی جان!پلیز آپ چاند کی شان میں تو گستاخی نہ کریں۔‘‘
وہ شعاع کے سانولے چہرے پر نظریں جمائے مسکرا کر بولا تو اماں بھی بے اختیار ہنس دیں۔
’’یا اللہ…کیا کوئی میرا ہمنوا نہیں…!‘‘
’’کاش…اماں ہی…!‘‘
اس نے آنکھوں میں آئے آنسو چپکے سے صاف کیے جو بات بے بات ہی نکلے چلے آتے تھے۔
اپنی افسردہ مزاجی کا برا ہو کہ فراز
واقعہ کوئی بھی ہو آنکھ کا بھر آنا ہے
…………………
مایوں والے دن پیلے سوٹ میں وہ اپنی سانولی رنگت کے باوجود بڑی دلکش لگ رہی تھی۔
لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر گانے گا رہی تھیں۔وہ خاموشی سے اماں کے پاس بیٹھی سب کا جائزہ لے رہی تھی۔
رنگ برنگے آنچل …ہنسی…قہقہے…!
خاور بھائی دولہا کے بھائی ہونے کا پورا پورا حق ادا کر رہے تھے۔
شجاع بھائی کی سالیوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے جب وہ زوردار قہقہہ لگاتے تو اس کے ہونٹ بھی آپ ہی آپ مسکرا اٹھتے۔( یہ بھی پڑھیں سکھ کے موسم کا قاصد- صائمہ ذوالنور )
’’کیا دور سے ہی محفل لوٹنے کا ارادہ ہے؟‘‘اجنبی آواز پر اس نے چونک کر سر اٹھایا۔
ایک لڑکا اپنے ہونٹوں پر دلکش مسکراہٹ سجائے اس سے مخاطب تھا۔
اس کا جی دھک سے ہو گیا!
’’مجھے اطیب کہتے ہیں…نہ جانے کتنی لڑکیوں کا آئیڈیل ہوں …آپ کو بھی پسند آگیا ہوں نا…!‘‘
اس کا شرارت بھرا لہجہ اسے پریشان کر گیا۔وہ گھبرا کر کھڑی ہو گئی۔
’’پلیز!میری بات کا جواب دیں!‘‘وہ راستے میں آگیا۔
’’میں آئیڈیل پر یقین نہیں رکھتی۔‘‘وہ جھنجھلا کر بولی۔
’’پتہ نہیں؟یہ آج کل کے لڑکے لڑکیاں آئیڈیل پر کیوں اتنا اعتماد کرتے ہیں جبکہ آئیڈیل تو محض تخیل کا باسی ہوتا ہے۔اسے کبھی اپنی حقیقی زندگی میں نہیں تلاش کرنا چاہیے کیونکہ ایسا کرنے سے انسان بعض اوقات اپنے آپ کو بھی کھو بیٹھتا ہے۔‘‘
اس نے منھ بنا کر سوچا۔
’’میں اتنا برا تو نہیں کہ مجھے دیکھ کر آپ کے چہرے کے زاویے بدل جائیں۔‘‘وہ خاموشی سے بولا۔
اف فوہ …یہ تو خواہ مخواہ ہی گلے پڑ رہا ہے۔اس نے ادھر ادھر دیکھا اماں کا کہیں پتہ نہیں تھا۔
خاور بھائی ابھی تک لڑکیوں کے جھرمٹ میں الجھے ہوئے تھے۔وہ جلدی سے ان کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔
’’کیا بات ہے شعاع…!‘‘خاور بھائی نے اس کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
’’کچھ نہیں!‘‘اسے ان کی قربت میں تحفظ کا احساس ہوا۔
اور بھائی تو ویسے بھی بہن کے تحفظ کے ضامن ہوتے ہیں۔
شادی والے دن بھی وہ اماں سے چپکی رہی۔اماں جہاں جاتیں وہ ان کے ساتھ ہی رہتی کیونکہ اطیب کی نگاہیں اسے مسلسل پریشان کر رہی تھیں۔
شجاع بھائی کی شادی کے دوران اطیب نے اسے اس قدر زچ کیا تھا کہ وہ پریشان ہو گئی تھی لیکن اس کی پریشانی اس وقت مزید بڑھ گئی جب اسے پتہ چلا کہ اطیب کا پرپوز ل اس کے لیے آیا ہے۔
’’اے خدا…!یہ سب کیا ہو رہا ہے؟‘‘وہ گھبرا گئی۔
اس نے تو کبھی شادی کے متعلق سوچا ہی نہیں تھا۔دوسری لڑکیوں کی مانند اسے کبھی بھی اپنی شادی کا ارمان نہیں ہوا۔
وہ تو بس سب کی محبتیں وصول کرنا چاہتی تھی…اور اب…زندگی کا یہ نیا رخ…!وہ بری طرح گھبرا گئی۔
گھر میں سب کو ہی یہ رشتہ منظور تھا۔
مگر نہ جانے کیسے اماں کو اس کی مرضی معلوم کرنے کا خیال آگیا۔
ایسے ہی بھولے بھٹکے انہیں اکثر اس کا خیال آجاتا تھا۔انہوں نے گلناز بھابی کو اس کے پاس بھیجا۔
گلناز بھابی نے اسے بہت سمجھایا۔
زمانے کے نشیب وفراز سے اسے آگاہ کیا۔
’’زندگی یوں تنہا رہ کر تو نہیں کٹ سکتی شعاع!‘‘
’’اگر تمہیں کوئی اور پسند ہے تو بتا دو…!ہم بخوشی مان جائیں گے۔‘‘
تب اسے فصیح کا خیال آیا…!
جسے وہ پسند کرتی ہے اس کا تو زندگی میں کہیں گزر ہی نہیں…!
جس کے متعلق کبھی سوچا نہیں …وہ اس کا سوالی بن بیٹھا…!
زندگی میں پہلی بار کسی نے میری خواہش کی…!
مجھے اتنی شدت سے چاہا…!
تو جب زندگی گزارنا ہی ٹھہری …تو اطیب ہی سہی…!
اس نے ایک فیصلہ کر لیا۔
…………………
انہیں دنوں گھر میں ایک اور کھچڑی پکنے لگی۔
مگر وہ بے خبر تھی۔
اور ایک روز گلناز بھابی نے دھماکہ کر دیا۔
وہ حیران رہ گئی!
’’اللہ میاں جی!یہ لوگ میری ذات کو کس کس طرح نشانہ بنائیں گے!‘‘
اس نے بھیگی نگاہوں سے گلناز بھابی کو دیکھا۔
’’شعاع!یہ تمہاری زندگی کا مسئلہ ہے…سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا…اطیب یا فصیح!‘‘
’’جس کے حق میں بھی تمہارا فیصلہ ہو!‘‘
’’جس سے بھی تم مطمئن ہو!‘‘
وہ اسے فیصلے کی صلیب پر لٹکا کر چھوڑ گئیں۔
’’یا خدا…!کیا چاند زمین سے آلگا ہے؟‘‘
’’کیا میں اسے چھونے کی اہل ہو گئی ہوں؟‘‘
مگر نہیں…چاند تو وہیں ہے جہاں تھا۔
میں ہی زمین سے اوپر اٹھ گئی ہوں …آسمان کی وسعتوں میں!
اللہ میاں جی!کیا میری سزا ختم ہو گئی ہے؟
کیا تونے کسی کے دل کو میرے دکھوں سے قریب کر دیا ہے؟
’’اے خداوند!کیا تونے میری دعائیں قبول کر لی ہیں؟‘‘
اس کے نین پھر برسنے لگے۔
مگر آج یہ آنسو خوشی کے تھے۔
تبھی اچانک آسمان پر کالی گھٹا چھائی…اور بہت تیز بارش برسنے لگی۔
آسمان بھی شاید اس کی خوشی میں شریک ہو گیا تھا۔
وہ بھاگ کر نیچے آ گئی…اپنے کمرے میں آئی تو چونک اٹھی۔
فصیح اقبال اس کے بیڈ پر دراز …مزے سے اس کی ڈائری میں جمع شدہ اشعار پڑھ رہے تھے۔
’’اللہ…آپ بغیر اجازت میری ڈائری کیوں پڑھ رہے ہیں؟‘‘
شعاع نے اس کے ہاتھ سے ڈائری لینی چاہی تو فصیح نے ڈائری سمیت ہاتھ اونچے کر لیے۔
’’میری سے کیا مطلب ہے…؟اب تمہاری اور میری کوئی چیز الگ الگ تو نہیں ہو سکتی نا…!‘‘
’’اور آپ یہ کس خوشی میں مجھ سے اتنا فری ہو رہی ہیں؟‘‘
اس نے ہونٹ بھینچ کر اس کا جائزہ لیا تو اچانک ہی ڈھیر ساری شرم نے اس پر یلغار کر دی۔
اس کا سلونا چہرہ تمتما اٹھا…اور غلافی آنکھیں جھک گئیں۔
دل میں پہلی بار طمانیت کا احساس جاگا تھا۔
فصیح اقبال وہ سایہ دار شجر تھا جس کی نرم ولطیف چھائوں نے اس کے سارے وجود کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔
اور ملن کا چاند سر شاخ گل ابھر آیا تھا…!
…………………

