دشت و در – صائقہ غیاث

by adbimiras
1 comment

شہروں کی رونق کی کیا بات یہاں دن کیا، کیا رات ۔گاؤں میں تو شام ہوتے لوگ نیند کی آغوش میں چلے جاتے ہیں اور شہروں میں دن کی رونق رات کے آگے پھیکی معلوم ہوتی ہے ۔غروب آفتاب کے بعد  سڑکیں، بازار، شاپنگ سینٹرس، کلب، ہوٹلیں اس طرح جگمگا اٹھتی ہے جیسے سبھی کسی جشن میں مصروف ہوں ۔

ہائیوے کے قریب والی سڑک کے کچھ اندر شام ہوتے ہی ایسی چکاچوندھ ہوتی گویا  ستارے اپنے نور بکھیرنے خود فلک سے اتر آئے بھیڑ بھی عجب ہوا کرتی تھی لوگ جام اور موٹرکاروں کی عجیب و غریب آواز سے پریشان ہو کر قسمیں کھاتے دوبارہ اس راہ سے گزر نہیں ہو گا پھر بھی اگلے دن اسی سڑک کنارے انواع انواع اقسام کے اسٹریٹ فوڈ سے لطف اندوز ہوتے نظر آتے ۔( یہ بھی پڑھیں مجھے گھر جانا ہے – صائقہ غیاث)

آج بھی ہرروز کی طرح بھیڑ تھی سامنے چائے کی اسٹول  پر کچھ بزرگ حضرات کے گروہ کے علاوہ ایک گروپ نوجوان نسل کا بھی تھا جن کے سیر سپاٹے کی صدائیں بلند ہو رہی تھی سبھی اپنے آپ کام میں مصروف تھے ۔ ہائیوے کے طرف سے کئی گاڑیوں کے ساتھ ایک لال رنگ کی کار بھی اسی سڑک کی جانب مڑ گئی ۔ وہ کار دوسری کاروں سے ذرا مختلف معلوم ہو رہی تھی، نہ لائٹ جل رہی تھی نہ مکمل طور پر ڈرائیور نظر آرہا تھا جلدی تو سبھی کو تھی نہ جانے اس کار والے کو کس بات کا خوف تھا کبھی کار کو ہائیوے کی طرف موڑتا تو کبھی آگے لےجانے کی کوشش کرتا پر نکل پانا ممکن نہ ہوا ۔ چائے کے اسٹول پر نوجوان نسل کا جو  گروپ تھا ان میں سے ایک بڑی سنجیدگی سے اس کار کو دیکھ رہا تھا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا ذہن اور نگاہیں اس  کار کی جانب مرکوز تھیں ۔اس لڑکے کو کار کی وینڈو سے کچھ آواز آنے کا احساس ہوا ، گویا کوئی کار سے آواز دے رہا ہو۔اپنی تسلی کے لیے جوںہی وہ  اٹھ کر کار کی جانب بڑھا کار کا وینڈو ذرا سا کھلا اور ایک ہاتھ وینڈو سے ذرا باہر کی طرف  نکلا گوئی کوئی بلا رہا ہو، وہ نوجوان کچھ سمجھتا اس سے قبل ہی گہرے سیاہ اندھیروں نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا ۔کچھ باہر پھیکتے ہوے کار چلنے لگی نوجوان کار کی طرف لپکا اور شور مچانے لگا ۔ قریب جاکر دیکھنے پر معلوم ہوا کہ کار سے پھیکی ہوئی چیز دراصل کسی لڑکی کے کپڑے ہیں اور کار پر کوئی نمبر پلیٹ بھی نہیں ۔اسی افراتفری  میں کچھ لوگوں نے اس کار کا پیچھا کرنا شروع کیا لیکن کار راستوں کے دشت میں کھوگئی اور لوگ مختلف علاقوں میں تلاش کرتے رہ گئے ۔

 

 

نوٹ: افسانہ نگار ایم اے کی طالبہ ہیں

You may also like

1 comment

SALIMA KHATOON جون 7, 2021 - 4:19 صبح

ماشاءاللہ ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت اچھے
اللہ تعالیٰ تمہیں اور کامیابی دے (آمین)

Reply

Leave a Comment