یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ جب علمی و ادبی شخصیتیں ایسی ہوتی ہیں کہ جب وہ ہمارے درمیان رہتی ہیں ہم ان کی علمی و ادبی قدر و قیمت کا اندازہ بخوبی نہیں کرپاتے۔صرف سرسری طور پر ان کے کارہائے نمایاں پر نظر ڈال کر مطمئن ہوجاتے ہیں لیکن ان میں سے جب کوئی باکمال شخصیت ہمیں داغ مفارقت دے جاتی ہے تب ہمیں اپنی غفلت کا احساس ہوتا ہے۔ایسی ہی باوقار شخصیت گذشتہ مہینے ہمارے درمیان سے اٹھ گئی جو معروف شاعر،افسانہ نگار،ادبی صحافی، محقق،ناقد،مبصر و مترجم مظفر حنفی تھے۔مظفر حنفی کا اصل نام محمد ابوالمظفر ہے جن کی ولادت یکم اپریل 1936ء میں مدھیہ پردیش کے قصبہ کھنڈوہ میں ہوئی تھی۔ان کی زندگی کے شب و روز درس و تدریس سے وابستہ تھے۔بحیثیت استاد بے شمار طلبا و طالبات کو زیور تعلیم سے آراستہ کیا،جو آج مختلف یونیورسٹی اور کالجوں میں بحیثیت پروفیسر علمی و ادبی خدمات انجام دے رہے ہیں اگر یہ کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا کہ مظفر حنفی نہ صرف استاد تھے بلکہ ایک پروفیسر ساز بھی تھے۔
مظفر حنفی کا شمار برصغیر کے ممتاز شعراء میں ہوتا ہے۔وہ ایک کہنہ مشق شاعر تھے ان کا شعری مجموعہ پانی کی زبان(1967)،تیکھی غزلیں(1968)،عکس ریزہ(1969)،طلسم حرف(1980)،پردہ سخن کا(1986)،یا اخی(1997)، پرچم گرد بار(2001)،ہاتھ اوپر کئے(2002)،آگ مصروف ہے(2004)،مظفر کی غزلیں(2003)، اشاعت پذیر ہوکر مقبولیت کا شرف حاصل کرچکا ہے۔
مظفر حنفی دورحاضر کے نہایت پر گو شاعروں میں سے ایک تھے جنہیں اپنے منفرد لب و لہجہے کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے دیگر شعراء کی طرح مظفر نے بھی اپنی شاعری کی ابتدا روایتی انداز میں غزل سے کی مگر مزاج کی مناسبت کی بنا پر شاد عارفی شرف تلمذ حاصل کی اور قدیم روایتوں سے انحراف کرتے ہوئے نئے خیالات،نئے تجربات،نئے تصورات نیز جدید حسیت کو اپنی غزل میں سمونے کی نہ صرف سعی کی بلکہ اپنے منفرد اسلوب و لہجہ سے اس کو پروان بھی چڑھایا۔
میری کشادگی پہ سمندر کرے گا رشک
میری گھٹن کو دیکھ کے ڈر جائے گا دھواں
فن سے اس کی وہ نسبت ہے جیسے جل میں بن
شعر مظفر کا پیکر ہے اور مظفر چھاؤں
ہمارا شعر بھی لوح طلسم ہے شاید
ہر ایک رخ سے ہمیں بے نقاب کرتا ہے
اس کو ٹوٹا ہوا تارا نہ سمجھیے صاحب
تیر جاتاہے یہ ظلمت کے سفیروں کی طرف
ہے شاید عارفی سے مظفر کا سلسلہ
اشعار سان چڑھ کے بہت تیز ہوگئے
زمانہ سمجھا مجھے انتہا نگارش کی
خود آگہی نے بتایا کہ حرف ابجد ہوں
مری شناخت مری کج کلاہی ان ہی تو ہیں
کلاہ کج سے مظفر مجھے زیاں ہے بہت
نقش پا اپنے مٹاتا ہوا چلتا ہوں میں
کارواں نے بھی مجھے ننگ سفر جانا تھا
شاد صاحب کی طرح میں نے مظفر حنفی
طنز پرسان چڑھانے کی قسم کھائی
مظفر حنفی کی غزلوں کا مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے شاد کے رنگ و آہنگ کو اپنے عصری احساس اور ذاتی کرب کا وسیلہ اظہار بنایا یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں میں شاد کی طرح طنزیہ کیفیت موجود ہے،ان کے طنز میں سنجیدگی، لطافت اور ایک آزادانہ فضا کا احساس ہوتا ہے۔مثلا۔
ہزاروں مشکلیں ہیں دوستوں سے دور رہنے میں
مگر ایک فائدہ ہے پیٹ پر خنجر نہیں لگتا
اب آگ سے کچھ نہیں ہے محفوظ
ہم سائے کے گھر میں آگئ
شہرت کے لئے معاف کرنا
کچھ دھول سفر میں آگئی
سچ ہے کچھ یادوں کے بدلے ہم نے دل کو بیچ
تم نے تو ماضی کے ہاتھوں مستقبل کو بیچ دیا
میرے تیکھی شعر کی قیمت دکھتی رگ پرکاری چوٹ
چکنی چپڑی غزلیں بے شک آپ خریدیں سونے سے
اگرچہ زرہ ہوں، اپنی بساط جانتا ہوں
معاف کیجئے،میں بھی ہوا کے ساتھ نہیں
سچ بولنے لگے ہیں کئی لوگ شہر میں
دیواریں اٹھ رہی ہیں نئی قید خانے میں
ادیبوں کو سچ بولنا چاہیے
سیاست کی آب و ہوا ٹھیک نہیں
(یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری)
ہوا کا رخ یہ بتا رہا ہے کہ سنگ باری ضرور ہوگی
قصور یہ ہے کہ سنگ ریزے کو میں نگینہ نہیں سمجھتا
اس کھردری غزل کو نہ یوں منہ بنا کے دیکھ
کس حال میں لکھی ہے مرے پاس آ کے دیکھ
مظفر حنفی کی طنزیہ غزلیں ہوں یا عشقیہ غزلیں جو بات انہیں سب سے منفرد مقام عطا کرتی ہے وہ ان کا بیباک لہجہ ہے۔انہوں نے جب کبھی عشقیہ اشعار کہے ہیں ،ان میں لہجے کی شوخی،بے ساختگی،انداز گفتگو کی بےتکلفی ملتی ہے اور روایت و جدت کا خوشگوار امتزاج بھی۔
وہ پاس آ کے مہکتی ہے کس قدر یارو
وہ دور سے نظر آتی ہے دل ربا کتنی
ہر ایک سانس تری یاد سے معطر ہے
ہر ایک لمحہ ترے انتظار سے روشن
ٹوٹتی رہتی ہے سینے میں مسلسل کوئی شئے
درد مصروف ہے راتوں کو سحر کرنے میں
اس نے مجھ کو یاد فرمایا یقیناً
جسم میں آیا ہوا ہے زلزلہ سا
اک ستارہ سا کہیں ٹوٹ گیا پہلو میں
ہجر کی رات نے چپکے سے کہا سنتے ہو
چراغ صبح سا لرزے میں ہوں ٹھنڈی ہوا سے ہی
بھڑکتا ہوں خود اپنے دل دھڑکنے کی صدا سے ہی
مظفر حنفی نے اپنے کلام میں ہندی الفاظ کا استعمال بڑی خوبصورتی سے کیا ہے جو غزل کے مزاج سے مناسبت رکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ہندی تلمیحات کا استعمال بھی کیا جس کی وجہ کر ان کی غزلوں میں وسعت اور رعنائی پیدا ہوگئی ہے۔مثلا
دھرتی کی آخر کوئی سیما ہوتی
میری فوجوں نے تنگ آکر گھیر لیا مجھکو
تمام زور مرا آئینے نے چھین لیا
کہاں سے رام نے بالی پہ تیر مارا ہے
ڈول رہے ہیں آنکھوں میں پتھر کے سائے
شریانوں میں بہتی ندیاں سوکھ چکی ہے
ہمارے ہاتھ اپنے ہیں،نہ غم کی ڈور ہاتھوں میں
لکیریں تو سنہری ہیں مگر کمزور ماضی تھا
کیوں اوڑھے بیٹھے ہو بیتے دن کا پشچا تاپ
بھور ہوئے یگ بیت چکا ہے،کھڑکی تو کھولو
سر ہی سر تھا اک جنونی کیفیت تھی اور احباب
ساحل واحل،لہریں و ہریں دریا وریا پھر کیا تھا
بقول ظ انصاری
"نئی نئی زمینیں،ردیف قافیہ کا استعمال کا انوکھا پن اور چھٹکارا مکالماتی انداز،استہزائیہ اور استفہامیہ لہجہ،طنز کی کاٹ زبان میں دردراپن ان کی ترچھی چال بہرصورت اپنی انفرادیت کو نمایاں رکھنے کا انداز، یہ ساری خصوصیات مل کر ان کی غزل کو ایک ایسے منفرد رنگ سے آشنا کرتے ہیں کہ ہمعصر غزل میں وہ آپ اپنی مثال بن جاتی ہے”_
مظفر حنفی کی شاعری کا بغور مطالعہ کرتےہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جہاں انہوں نے جدیدیت کے رنگ کو اپنایا وہیں روایت پسندی کے دامن کو بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا،بلکہ روایت سے بغاوت کرنے والوں کے لئے انہوں نے لکھا ہے:
"بظاہر نیا فن کار قدیم ادب سے باغی نظر آتا ہے لیکن سچی بغاوت کے لئے لازم آتا ہے کہ جس روایت سے بغاوت کے جارہی ہو اس کے حسن و قبیح پر باغی کی گہری نظر ہوچنانچہ وہی نئے لکھنے والے صحیح معنوں میں ادب تخلیق کرسکے ہیں جو اپنے کلاسیکی سرمایے کا سچا شعور رکھتے ہیں”_
روایت کا احترام کرنے والا کوئی شاعر شعور و ابلاغ کی سطح پر عصری حسیت اور نجی تجربے کو شعری ڈھانچہ دینے میں مظفر حنفی سے بہتر طریقے سے زبان کو شاید ہی کوئی برت سکے۔
حال اندھیرا گھپ ہے لیکن ،مستقبل کی اس کے جگنو
میری جلتی پیشانی پر ڈال رہے ہیں ٹھنڈا پانی
یہ کشتوری بھری نافہ ہے میرا بانٹتے آنا
سنا ہے تم جہاں جاتے ہو چنگاری لگاتے ہو
کسی کے آگے مظفر نے سر جھکایا نہیں
نہ اونچ نیچ کی اس کو تمیز آئی ہے
ہر ایک پھول ہے فانوس کی حفاظت میں
بہار اب کے نہایت دبیز آئی ہے
مظفر حنفی جدید شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک نفیس انسان بھی تھے،انہوں نے اردو غزل کو ایک نئی توانائی اور قوت بخشی،آج کے شخص کو جو مسائل در پیش ہیں اس کی طرف بھی اشارے کئے،اور انسانی زندگی میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کے لئے انھوں نے طوفان،سمندر،سفر،آسمان،ہوا،یلغار ،خون،دیوار،خنجر،پرچم،تیر ،کمان وغیرہ جیسی علامتوں کا استعمال کیا جو شعر کے معنی و مفہوم کو وسعت دیتی ہیں اور شعر کی تہداری میں اضافہ کرتی ہیں۔
آندھی اولے طوفانوں کی باتیں مت سوچو
اب ہم نے پر کھول دیے ہیں ہونے دو جو ہو
حیران ہوں کہ جاؤں کدھر کس طرح نہیں
چاروں طرف ہے گرد سفر،کس طرف نہیں
ڈبو کر خون میں لفظوں کو انگارے بناتا ہوں
پھر انگاروں کو دھکا کر غزل پارے بناتا ہوں
یلغار کی تو ہاتھ سے شمشیر گر پڑی
مانگی دعا تو کانپ کے تقدیر گر پڑی
بلندیوں سے جو اپنے مکان کو دیکھا
پلٹ کے پھر نہ کبھی آسماں کو دیکھا
فن ہے وہ سمندر کہ کنارا نہیں جس کا
ڈوبا ہوں مظفر تو مرا نام ابھر آیا
زلزلہ خون میں آیا تھا جو اندر کی طرف
میں نے شہ رگ ہی بڑھا دی ترے خنجر کی طرف
مبارک تمہیں پرچم و تخت و تاج
مری دھوپ اور بوریا چھوڑ دو
سواے مرے کسی کو جلنے کا ہوش کب تھا
چراغ کی لو بلند تھی اور رات کم تھی
المختصر مظفر حنفی کو اگر اپنے عہد کا نابغہ شخصیت کہا جائے تو بےجا نہ ہوگا،انہوں اپنے نجی تجربے اور عصری حسیت کو عام بول چال کی زبان،توانا لہجہ اور طنزیہ اسلوب میں اس طرح سمویا ہے کہ یہ رنگ خود ان کی پہچان بن گیا۔ انہیں اپنے بیباک لہجے اور طنزیہ اسلوب و شاعری پر ناز تھا جبھی تو انہوں نے کہا تھا:
نوٹ کرلیں میرا لہجہ نہ سمجھنے والے
کھردرا پن ہی میرے شعر کا گہنا ہوگا
شاہینہ پروین
پتہ: جموڑیہ،مومن محلہ (مغربی بنگال)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

