گزشتہ ایک دہائی میں نئی نسل کے جن شعراء نے شعری افق پر اپنے وجود کا احساس دلایا اور جن کے کلام نے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائی ان میں جدیدلب و لہجہ کے شاعر،ادیب، شعلہ بیان خطیب اور مشہور ناظم جمیل اختر شفیق ؔ کا نام سرِ فہرست ہے۔آپ کا تعلق بہار کے ضلع (سیتا مڑھی) سے ہے۔آپ کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے۔وہ اپنے ہم عصروں میں منفرد آواز ، بے باک طرز ادا کے سبب دور سے ہی پہچان لئے جاتے ہیں،۔اس کے لئے بڑی فنی ریاضت ،پیشہ ورانہ انہماک ،حساس شعور، بے پناہ ذہانت اور فکری بالیدگی لازمی ہے۔ اﷲ نے ان ساری خصوصیات سے انہیں نوازا ہے۔جناب شفیق ؔ صاحب ہندوستان کے بڑے بڑے جلسوں اور مشاعروںمیں شرکت کرتے ہیں۔پچھلے دنوں حکومت بہارکے محکمۂ اُردو ڈائریکٹریٹ سے منظور ہو کر ان کا شعری مجموعہ’’دھوپ کا مسافر‘‘ پورے آب و تاب کے ساتھ منظرِ عام پر آیا جو ادبی حلقوں میں ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہاہے ۔ آپ کی تخلیقات ریڈیو اور ٹی۔وی، چینلوں پر کثرت سے نشر ہوتی رہتی ہیں۔ ان کی نعت و حمد و دیگر تخلیقات اکثر I Plus TV ،ممبئی کے توسط سے پوری دنیا میں سُنی جاتی ہیں۔ ابھی حالیہ دنوں میں برطانیہ میں Radio XL BIRMINGHAM سے جناب عاطف مسعود صاحب(پاکستان) نے متواتر آپ کی کئی غزلیں نشر کیں۔ جو دنیا کے مختلف حصوں میں سنی گئیں ۔جب آپ ترنم کے ساتھ اپنا کلام پیش کرتے ہیں تو یہ کہنا پڑتا ہے ؎
اُس غیرتِ ناہید کی ہر تان ہے دیپک
شعلہ سا چمک جائے ہے آواز تو دیکھو
(یہ بھی پڑھیں انسانی زندگی پر موبائل کے منفی اور مثبت اثرات – امام الدین امامؔ )
موصوف کی شاعری سادہ ، سلیس اور آسان زبان میں ہوتی ہے ۔ جو عام قاری بھی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔اُن کی غزلوں میں خود اعتمادی کا سبق ملتا ہے۔ موصوف اپنے معاشرے پر گہری نظر رکھتے ہیں۔شفیقؔ صاحب اپنی شاعری میں سماج میں موجود ظلم، زیادتی ، غربت، استحصال کی سچّی عکاسی کرتے ہیں۔آپ کی شاعری فنّی اور فکری دونوں اعتبار سے قابلِ قدر ہے۔ان کی یہی خصوصیت انہیں اپنے معاصر شعراء سے اُنہیں منفرد و ممتاز کرتی ہے۔ان کے بارے میں معروف عالم دین ، محقق، مفسر، مصنف، شاعر،ادیب و عالمی شہرت یافتہ خطیب علامہ جلال الدین قاسمی کا یہ اقتباس قابلِ غور ہے ۔ ملاحظہ ہو :
’’جمیل اختر شفیقؔ اپنے پورے مجموعۂ کلام میں زندگی کی سچائیوں کی پیکر تراشی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ انہوں نے حسب مقدرت اخلاق وحکم کے مضامینِ عالیہ کو شعری قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے، کہیں صبائے بصیرت و آگہی کی مشک فشانی ہے تو کہیں نسیمِ فکر سلیم کی لخلخہ سائی تو کہیں شوخیٔ جذبہ و فکر کی ہنگامہ آرائی ہے، ان کا یہی انداز ان کی شاعری کو سند اعتبار بخشتا ہے۔ ہر مجموعۂ کلام میں فنی اسقام کا در آنا ایک فطری امر ہے مگر ان تمام کے علی الرغم جمیل اختر شفیقؔ کی شاعری کا اندازہ ہمہ شما شاعروں سے ا نہیں الگ ایک شناخت عطا کر تا ہے۔‘‘
(’’دھوپ کا مسافر‘‘ ص ، فلیپ)
علامہ جلا ل الدین صاحب کی اس بات کی میں بھی تائید کرتا ہوں۔واقعی ان کی شاعری زندگی کی سچائیوں کی عکاسی کرتی ہے۔جمیل اختر شفیقؔ کی شاعری خود اعتمادی ،کے ساتھ زندگی کے سرد و گرم کا مقابلہ کرنے اور آگے بڑھتے رہنے کی تعلیم دیتی ہے۔چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا تاکہ میرے دعووں کی تصدیق ہو سکے ؎
روز گھٹ گھٹ کے یہ جینا کوئی جینا ہے شفیقؔ
زندگی ایسی جیو تم کہ زمانہ ڈھونڈھے
دشمنوں کی دشمنی ناکام کرتے جائیے
یاد رکّھیں لوگ ، ایسا کام کرتے جائیے
اب کوئی موسیٰ نہیں کہ ہو تجلی کا ظہور
بے سبب ہم دیکھتے ہیں کوہ سینا کی طرف
درج بالا اشعار سے قارئین کو یہ احساس ہو گیا ہوگا کہ واقعی ان کی شاعری کامیاب زندگی کے فلسفے سے کتنی قریب ہے ۔شفیقؔ صاحب کی شاعری کے بارے میں اردو ادب کے عالمی شہرت یافتہ ادیب و شاعر جناب پروفیسر عبدالمنّا ن طرزیؔ کی منظوم رائے بھی دیکھیں ؎ (یہ بھی پڑھیں بیکل اُتساہی کی نعتیہ شاعری – امام الدین امامؔ )
نام ہے ان کا جمیل اختر ، تخلص ہے شفیقؔ
معتبر استاد ہیں تو آپ شاعر ہیں لئیق
اُن کا اسلوبِ سخن بھی اِس قدر ہے پاک باز
ڈھونڈنے پر بھی نہیں ملتی ہیں چشمِ نیم باز
ہوں تخیل کہ تصور ، ہیں طہارت آشنا
گرچہ مشکل ہے غزل میں ایسی پاکیزہ فضا
اُن کی غزلیں در حقیقت ہیں محبت کا سبق
زندگی میں اُن کی غزلیں پیدا کرتی ہیں رمق
ہے شفیقِؔ خوش نوا کے حق میں طرزیؔ کی دعا
دین و دنیا میں خدا سے پائیں اعلیٰ مرتبہ
(’’دیدہ ورانِ بہار‘‘مصنفہ پروفیسر عبدالمنّان طرزیؔ،صفحہ ۱۴۷/۱۴۸)
پروفیسر طرزیؔصاحب نے بجا فرمایا ہے کہ واقعی ان کی غزلوں میں حسن و عشق، چشم نیم باز ، لب و رخسار کی جھلک کم دکھائی دیتی ہے۔ان ہی وجوہات کے سبب وہ بڑی تیزی سے میدان سخن میں فتوحات کے جھنڈے گاڑتے چلے جا رہے ہیں۔ساتھ ہی ان کی شہرت و مقبولیت کا گراف بتدریج بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ آپ لوگوں کے چہروں کو پڑھنے کابخوبی ہنر جانتے ہیں ۔ جمیل اختر شفیقؔ اپنی خداداد صلاحیتوں کو عملی جامہ پہنا کر انسانوں کی فلاح و بہبود کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔شاعری آپ کے رگ و پے میں رچی بسی ہوئی ہے،شیخ محمد ابراہیم ذوقؔ کے لفظوں میں یہ کہوں کہ ؎
رہتا سخن سے نام قیامت تلک ہے ذوقؔ
اولاد سے تو بس یہی دو پشت چار پشت
یہ ان کا وہ کارنامہ ہے جو ان کے بعد بھی اس دنیا میں یاد گارِ شفیق ؔکے نام سے زندہ ٔ جاوید رہے گا(انشاء اﷲ)۔ابھی تو ان کو بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔یوں تو ہرشاعر زندگی اور زمانے کو ہی اپنی شاعری کا محور اور موضوع بناتا ہے۔ جمیل اختر شفیقؔنے بھی عصری زندگی اور اس کو در پیش مسائل و مصائب کا بہت تعمقِ نظر سے مطالعہ و مشاہدہ کیا ہے۔ اس لئے ان کے یہاں بھی موجودہ عہد کی پریشانیاں اور پیچیدگیاں حساس طبع دلوں کو جھنجھوڑ تی نظر آتی ہیں۔ میں یہاں اُردو دنیا کے مشہور و معروف ناظم و شاعر انور جلال پوری کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتاہوں تاکہ ہماری درج بالا باتوں کی تصدیق ہو جائے :
’’وہ’’جمیل اختر شفیقؔ‘‘اپنے شعروںمیں ہمارے درمیان کی غربت،استحصال،ظلم و زیادتی کی ایسی سچی تصویر کھینچنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سماج کا منظر نامہ شاعری بن کر ہمیں دعوت فکر دیتا ہے۔ ان کی شاعری رنگین جذبات کی ترجمانی نہیں بلکہ سماج کے چہرے پر جو خراشیں ہی ان کی ترجمان بن کر سامنے آتی ہے۔‘‘ (دھوپ کا مسافر،داہنا فلیب)
خوف طوالت در پیش ہے اس وجہ سے میں ان کے کچھ اشعار پیش کر کے اپنی بات ختم کروں گا ؎
یہ کبھی مت دیکھئے کہ کس نے کیا تنقید کی
خامُشی سے صرف اپنا کام کرتے جائیے
ترے ساتھ رہ کے بھی کیا ملا وہی روز و شب کی اذیتیں
میں غموں کا ایسا لفاف ہوں جو پڑا ہوا ہے کُھلا نہیں
میری خود دار طبیعت کا تقاضا ہے الگ
کیسے یہ سر کسی کم ظرف کا شانہ ڈھونڈے
ذرا سی چوک پہ ساری روایت چھین لیتی ہے
نئی تہذیب بچوں سے شرافت چھین لیتی ہے
بغیر رب کی مشیت کے کچھ نہیں ہوتا
وہ میرے قتل کی سازش فضول کرتا ہے
کوئی زخموں کی کہانی تو نہیں سنتا ہے
میری شہرت پہ مگر سب کی نظر ہوتی ہے
مذکورہ اشعار کے علاوہ ایسے ڈھیروں اشعار ان کے مجموعۂ کلام میں موجود ہیں۔جنہیں پڑھ کر ان کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔حاصلِ گفتگو یہ کہ ان کی ہر غزل ہی نہیں بلکہ ہر شعر ان کا بولتا ہوا نظر آتا ہے اور اس بولی میں بڑی حلاوت، نفاست ، طہارت ، تازگی ، تابندگی اور پائندگی شدت سے پائی جاتی ہے۔اﷲ کرے زور قلم اور زیادہ ۔
Imamuddin Imam
(Student JNU, New Delhi)
Muzaffarpur
Bihar-India
Mob.- +91 62061 43783
imamuddin.muz@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

