سیاہ رنگت مبہم فضائیں روانسی سی زہر آلودہ دھند کی دبیز پرتوں کے بوجھ تلے گھُٹ رہی تھیں۔کالے آسمان میں ایک بیزار سا چا ند فرض ادائیگی کی رسم نبھا رہا تھا ۔چاند کا بھی اپنا ایک الگ آسمان تھا اور وہ کالا تھا ۔ چاند پر دن بھی کالے تھے اور راتیں بھی کالی تھیں۔چاند کی بنجر زمیں پر چھوٹی بڑی بے شمارخندقیں تھیں اور دھول کے دور دور تک پھیلے ہوئے ہیبت ناک ریگزار تھے ۔چاند پر نہ تو پانی تھا اور نہ ہی ہوا تھی ۔چاند کے کھُردُرے چہرے پر کھُدے ہوئے پر اسرار نشانات اُسے اپنی سحر انگیزگرفت میں لئے رہتے تھے۔صدیاں بیت گئی تھیں،چاند پر ایک عمر کی تمام سرحدیں پار کر چکی بڑھیا چرخہ کات رہی تھی ۔ بڑھیا کے بال برف کی طرح سفید تھے اور اس کا سیاہ چہرہ جھریوں سے پر تھا ۔
کائنات میں لامکاں،وقت اور خلا کے درمیان ذرّہ برابر،کمزور ہچکولے کھاتی دنیا کی کشتی دھندلے نیلے نقطے کی مانند روشنی کی ایک کرن پر ٹکی نظر آرہی تھی ۔یرقان زدہ روشنیوں کے سماگ میں ہاپنتے کانپتے نقاہت زدہ عکس ،شاہ راہ پر یہاںوہاں لرز رہے تھے ۔شاہ راہ برق رفتار تھی اور بائک سوار بھی برق رفتار تھا۔ ( یہ بھی پڑھیں چھُٹّی – محمد علیم اسماعیل )
سیاہ دھند تاریک اُونچایئوں کا طواف کرتی ہوئی آہستہ آہستہ شہرکی گلیوں ،زندگیوں،کوچہ و بازار اور سانسوں میں اُترتی جا رہی تھی ۔ بائک سوار کی آنکھوں میں ماحول کی سنگین رسوائوں کی نہ جانے کتنی چتائیں جل رہی تھیںاور اُنکی راکھ اُس کے دل اور جگر میں دفن ہوتی جا رہی تھی۔شہر کا شہر ایک قسم کا گیس چیمبر تھا ۔عجائب گھر کی بائونڈری وال سے لگا ہوا ایک گندہ نالاغلیظ اور کشیف گٹر کے پانی سے لبریزانچ انچ رینگ رہا تھا۔نالے میں کوڑا کرکٹ اور طرح طرح کے سالیڈویسٹ بھرے پڑے تھے ۔نالے میں سے سڑاندھ کے بھپکے اُٹھ اُٹھ کر دھند میں تحلیل ہوئے جا رہے تھے ۔نالا کچھ دور عجائب گھر کی باؤنڈری وال کے ساتھ چلتے چلتے پھر بائیں جانب گھومتا ہوا ندی کو نا پاک کر نے کے لئے اُس میں جا پڑتا تھا ۔کچھ اور دور آگے چل کر عجائب گھر کی باؤنڈری وال کے نزدیک ہی ایک ہاؤسینگ پروجیکٹ کا تعمیری کام چل رہا تھا ۔کنسٹرکشن سائٹ پرہائی بیم لائٹیں دھند میں ڈوبی رات میں بھی روشن تھیں اور مشینوں کا بھاری شور رات کی خاموشی کومجروح کر رہا تھا ۔عجائب گھر کے جہنم میں اپنے اپنے دم گھوٹو تنگ پنجڑوںمیں عمر قید کی سزا بھوگت رہے مجبوربے زبان معصوم جنگلی جانور وں اور پرندوں پر مشینوں کی بھاری بھرکم دھمک اور شور ، نالے کی سڑاندھ سے اُٹھتی بوے بد اور آلودہ دھند جان لیوا ثابت ہو رہی تھی ۔
برق رفتار بائک سوار کے ہیلمیٹ پہنے ہونے کے باوجوداُس کی آنکھیں بے انتہا کڑوا رہی تھیں۔سانس لینے میں تکلیف ہو رہی تھی لیکن سفر جاری تھا ۔صبح سے ہی دھند چھائی ہوئی تھی اور پھر رات گئے یہ اور گھنی ہو گئی لیکن شہرادھا دھند دوڑتا بھاگتا ہی رہا ۔چہروں پر ماسک تھے ۔گھول کر ہواؤ ں میں زہر ہر شخص منہ چھپائے گھوم رہا تھا ۔خراب ہوا نے اُڑا دی تھی شہر کی ہوائیاں۔
عجائب گھر کے قریب ساری رات بھاری مشینیں شور غل کر تی رہیں۔مشینوں کے چلنے سے ہو رہی کمپن اور شور نے عجائب گھر میں قید جانوروں کے رہن سہن اور رویوں کو درہم برہم کر کے رکھ دیا تھا ۔جنگل کے اُلٹ عجائب گھر کی قید میں وہ دن کی جگہ رات میں سونے کے عادی ہو گئے تھے ۔مشینوں کی مسلسل دھما دھم کی بدولت اب وہ نہ رات میں اور نہ ہی دن میں چین سے سو پا رہے تھے ۔وہ بے حد خوفزدہ،بے چین،چڑچڑے اور جارحانہ ہو گئے تھے ۔شور ،بوئے بد اور دھواںدھواں دھند ، ان سب نے مل کر جانوروں کی بھوک پیاس اُڑا دی تھی۔ کہرے میں گُم قبرستان میں رات کے وقت شر پسند داخل ہوئے اور قبر کھودنے لگے ۔خاتون کا قتل چالیس دن پہلے ہوا تھا۔ مرحومہ کی تدفین مقامی قبرستان میں کر دی گئی تھی ۔تدفین کے ٹھیک چالیس دن کے بعد اس سیاہ رات شرپسندوں نے پہلے تو قبر کی کھودائی کی اور پھرلاش کو باہر نکال کر اسے کچھ دور گھسیٹا اور پھر لاش کا سر کا ٹ کر لے گئے ۔غم غصے،حسداورانتقام کے شولے عالم کو جھلسا رہے تھے اور دھند میں وحشت گھُل رہی تھی ۔دھند کی وحشت میں نہ تو قتل کا کوئی سوراغ ملا اور نہ ہی سر کٹی لاش کا سر ملا ۔ (یہ بھی پڑھیں مردانی – راجیو پرکاش ساحر )
چاند کے دو چہرے ہوتے ہیں، ایک تو وہ ہے جس میں پچھلے کروڑوں سال سے ایک بڑھیا بیٹھی چر خہ کات رہی ہے اور چاند کا دوسرا چہرا تو زمینی دنیا نے کبھی دیکھا ہی نہیں۔در اصل عقیدت مند چاند نے زمین کا طواف کر تے وقت اس کو کبھی اپنی پیٹھ دکھائی ہی نہیں۔ شہری درختوں پر دھول ہی دھول تھی ۔دن رات جنریٹرچلنے سے شور اور دھواں حالات کو بد سے بد تر بنا رہے تھے ۔بھالو گھبرا کر اپنے پنجڑے میں ادھر ادھر بھاگ رہا تھا ۔اس نے لوہے کے سیخچوں سے سر ٹکرا ٹکرا کر اپنے آپ کو لہو لہان کر لیا تھا ۔وہ دیوانہ وار ناچ رہا تھا اور اس کے سر پر موت ناچ رہی تھی ۔غزال کی آنکھوں سے پانی بہ رہاتھا اور اس کے منہ سے جھاگ نکل رہا تھے ۔کبوتر بیمار تھے ۔ وہ سب دم توڑنے ہی والے تھے ۔ مادہ گینڈے نے شور اور ہوا کی آلودگی سے پریشان ہو کر اپنا بچہ گرا دیا اوراپنا اکلوتا سینگ توڑ ڈالا ۔باگھ اپنے پنجڑے میں مرا پڑاتھا۔ اس کے پھیپھڑے کالے پڑچکے تھے ۔جنگل کا راجا شیر قید میں مضطرب تھا ۔
بائک سوار کو اپنے پھیپھڑوں میں چبھن محسوس ہو رہی تھی ۔گلا سوکھ رہا تھا ،سانس لینے میں دقت ہو رہی تھی اورچہرہ جل رہا تھا ۔کنسٹرکشن سائٹ کے مین گیٹ سے کچھ آگے ،شاہراہ کے اپنی سائڈ والے کنارے پر اس نے اپنی بائک روک دی۔وہ بائک سے اُترااور اُتر کر اپنے بیگ سے پانی کی بوتل نکالی،منہ دھویا توہتھیلی پر کالیکھ اُتر آئی۔ابھی وہ اپنی کالیکھ کامعائنہ کر ہی رہا تھا کہ پیچھے سے آرہے ایک مال سے لدے دس ٹائر والے ٹرک نے اسے روند ڈالا۔لمحے بھر میں ہی بائک سوار اور اس کی بائک ،دونوں ہی خون سے سنے کباڑ میں تبدیل ہو گئے۔نگاہیں دھند کے زیر اثربرہم تھیں۔
چاند پر صدیوں سے چرخہ کات رہی بڑھیا نے چرخے سے نگاہیں ہٹا کر زمینی دنیا کو دیکھا۔دنیا جل رہی تھی ،دھند ہی دھند،دھواں ہی دھواں۔بڑھیا کی آنکھوں میں مایوسی چھا گئی ۔بڑھیا نے نظریں اُٹھا کر چاند کا طواف کر رہی سر کٹی لاش والی خاتون کی روح کو دیکھا اور کہا
’’اے،خدا کی نیک بندی صبر کر،قیامت قریب ہے ‘‘۔
بڑھیا کی صدا خلا ؤں میں باز گشت کر تی رہی ۔
راجیو پرکاش ساحر

