Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

انسانی زندگی پر موبائل کے منفی اور مثبت اثرات – امام الدین امامؔ

by adbimiras مئی 26, 2021
by adbimiras مئی 26, 2021 0 comment

’’ایک فنکار اپنے معاشرے میں پائی جانے والی برائیوں پر طنز اس غرض سے کرتا ہے کہ وہ اسے ان برائیوں سے پاک چاہتا ہے۔میں نے جو کچھ عرض کیا ہے اسے اظہارِ شکایت کی بجائے موجودہ حالات پر میرا نیک نیتی پر مبنی ردِ عمل ہی سمجھا جائے۔‘‘

(دشت زاد:سہیل اختر، عرض حال، ص  ۱۹)

درج بالا اقتباس کے پیش کرنے کا ایک ہی مقصد ہے کہ میں بھی جو کچھ آگے لکھنے جا رہا ہوں ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ ایسی باتیں بھی آئیں گی جو عام لوگوں کو شاید ناگوار گزرے لیکن میرا مقصدبھی وہی ہے ۔جواوپر پیش کیا گیا ہے۔کیونکہ میں ابھی زندگی کے جس پڑاؤ میںہوں اس میں میرے اکثر دوست نوجوان ہیں ۔اس لئے مجھے اپنے معاشرے میں پھیلی ہوئی اچھائی اور برائیوں کو نوجوانوں کی نظر سے دیکھنے کا موقع بہت قریب سے مل رہا ہے۔ اس لئے میں اس سلگتے ہوئے موضوع پر کچھ لکھنے کی جسارت کررہا ہوں تاکہ ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی چند خرافات جو موبائل کی صورت میں رونما ہوتی ہیں۔ ان سے عام لوگوں کو آگاہ کیا جاسکے۔

کسی بھی فنکار یا تخلیق کارکو سماج اور معاشرے کا آئینہ دار کہا جاتا ہے اور آئینہ کبھی جھوٹ نہیں بولتا اسی طرح سے کوئی بھی فنکار جو کچھ بھی عوام کے سامنے پیش کرتا ہے۔ وہ اس کاذاتی مشاہد و تجربہ ہوتا ہے۔ہوسکتاہے کہ عام لوگ اس بات کو اس وقت نہ سمجھیں لیکن ایک وقت وہ بھی آتا ہے۔ جب اس کو ان تمام حقیقتوں کا اعتراف کرنا ہی پڑتا ہے۔اب یہ قاری کے اوپر منحصرکرتاہے کہ میری اس تحریر کو وہ کس نظریے سے دیکھتے ہیں ۔

آج کے اس سائنسی دور میں دنیا بڑی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ ہرکام میں آسانیاں پیدا ہورہی ہیں۔ گھنٹوں کا کام منٹوں میں ہو رہاہے۔ مِیلوں کا سفر گھنٹوں میں طے کیا جا رہاہے۔انسانی زندگی کے ہر شعبے میں ترقی ہورہی ہے۔ خواہ وہ ہماری زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو پہلے کی بہ نسبت ہر کام آسان ہو رہاہے۔پہلے کے زمانے میں لوگ بیل گاڑی سے سفر کرتے تھے جبکہ اس سائنسی دور میں ہوائی جہاز، ٹرین، موٹر گاڑیاں اپنے جلوے دکھلارہی ہیں۔ابھی سے بیس پچیس سال قبل تک اگر ہمارا کوئی جاننے والا ہندوستان کے کسی دوسرے خطے میں رہتا تھا۔ تو اپنے ہاتھ سے یا کسی دوسرے شخص کی مدد سے خط و کتابت سے خیریت دریافت کرتا تھا یا تار وغیرہ کا نظام تھا۔ اس کے برعکس آج کے اس موجودہ دور میں موبائل کی شکل میں اللہ تعالیٰ نے ایک بہت ہی بڑی نعمت ہمیں عطا کی ہے۔ اس کے ذریعے سے اگر ہمارا کوئی بھائی یا رشتے دار دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہو ہم اس سے ویڈیو کالنگ پہ اس طرح سے بات کرتے ہیں۔ جیسے وہ ہمارے درمیان موجود ہو۔ بات چیت کے علاوہ طالب علموں اور اساتذہ کے لئے بھی بہت ساری سہولتیں مہیاہوگئی ہیں ۔آج ہم کسی بھی سوال کا جواب موبائل کی مدد سے سکنڈوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔چاہے وہ کوئی بھی سوال ہو کسی بھی Subjectسے اس کا تعلق ہو،یہی نہیں اگر ہمیں کسی ایسی جگہ جانا ہو جہاں ہم پہلے کبھی نہیں گئے ہوں تو وہاں بھی موبائل کی مدد سے بغیر کسی سے پوچھے ہوئے اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں بلکہ دنیا کے اکثر کاموں میں آسانیاں پیدا ہوگئیں ہیں۔اور پوری دنیا مٹھی میں قیدہوکر رہ گئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بیکل اُتساہی کی نعتیہ شاعری – امام الدین امامؔ )

انسانی زندگی میںہر چیز کا اثردوطریقوں سے ہوتاہے۔ ایک مثبت اثر دوسرا اس کے برعکس منفی۔ یہ ہمارے استعمال پر موقوف کرتا ہے کہ ہم اس کو کیسے استعمال کرتے ہیں ۔اگر ہم اپنی زندگی کے لئے بہت ضروری چیز کھانا کو لے لیں اگر ہم اس کو اپنی بھوک کے مطابق استعمال کرتے ہیں۔ وقت پر کھاتے ہیں۔ تو اس سے ہماری صحت اچھی رہے گی ۔ا گر ہم بے وقت کھانا کھائے یا ہروقت کھاتے ہی رہے یا اس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں تو ہماری طبیعت کے خراب ہونے کا پورا خطرہ بنارہتا ہے۔ ہم بیمار ہو سکتے ہیں۔اسی طرح سے موبائل کو اگر ہم اپنے اچھے کاموں کے لئے استعمال کرتے ہیں تو فائدہ ہی فائدہ ہے۔جیسے ہم اس سے اپنی پڑھائی لکھائی کیلئے استعمال کریں۔اپنے عزیزو اقارب سے بات کرنے ان کی خیریت دریافت کرنے یا اپنے امتحان کارِزلٹ دیکھنے کے لئے یا پھر کوئی بھی اچھاکام کریں تو اس میں ہمارا فائدہ ہے۔

جہاں اس موبائل کے اتنے فائدے ہیں کہ گننے لگے تو عین ممکن ہے کہ ہم اس کو شمار نہ کرپائیں۔ اس کوشمار کرنا بہت ہی دشوار عمل ہوگا۔ جیسا کہ اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ ہر چیز کے فائدے کے ساتھ ساتھ کچھ نقصانات بھی ہیں۔جس سے ہمیں حتیٰ الامکان بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جیسے کہ قرآن کریم کے اندر شراب پینے سے منع کیا گیا ہے ۔شراب اسلام میں حرام ہے۔ اس کے باوجود قرآن میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ’:’ شراب کے نقصانات کے ساتھ ساتھ کچھ فائدے بھی ہیں۔لیکن نقصان فائدے سے زیادہ ہے۔‘‘قرآن کے اس بیان سے یہ بات بالکل صاف ہوجاتی ہے کہ ہرچیز میں کچھ نفع اور کچھ نقصان ہے۔ اب یہ ہماری سمجھ شعور اور استعمال پر منحصر ہے کہ ہم کس حد تک اس کا صحیح یا غلط استعمال کرتے ہیں۔

موبائل کے چند فوائد اوپر بتائے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی لاتعداد فائدے موجود ہیں۔ اب ہم یہاں اس کے چند نقصانات کا بھی تذکرہ کریں گے۔ ہوسکتا ہے کہ میری یہ بات شاید کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے تو میں اُن حضرات سے پیشگی معذرت خواہ ہوں۔

میں جس عمر میں ہوں اس عہد میں ایسے لوگوں سے میرا سابقہ پڑتا رہتا ہے کہ کچھ واقعات کو سننے میں دل دہل جاتا ہے اور بہت افسوس بھی ہوتا ہے۔

موبائل کے بہت سارے نقصانات میں سے ایک سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آج کل کچھ گھروں کے ذمے داران اپنی جوان بہن ،بیٹیوں کو موبائل دے دیتے ہیں اور ان کو کھلی اجازت ہوتی ہے کہ وہ جس سے چاہے بات کریں ۔اس سے الگ کچھ والدین ایسے بھی ہیںجو اپنی بچیوں کو موبائل تو دے دیتے ہیں ۔مگر ان کا اپنا ذاتی موبائل نہیں ہوتا بلکہ ماں یا باپ کا موبائل ہوتا ہے۔ اس کے باوجود اس لڑکی کے ساتھ پڑھنے والا غیر محرم لڑکا اس کے نمبر پر فون کرتا ہے اور لڑکی کی ماں سے کہتا ہے کہ انٹی مجھے فلاں سے بات کرادیجئے مجھے کچھ نوٹس اس سے لینے ہیں یا کچھ سوالات و جوابات کرنے ہیں اور ماں بھی اپنی بچی کو بلاکر موبائل دے دیتی ہے۔ اب اس کے بارے میں اسلام کاکیا نظر یہ ہے ۔یہ تو سب بہت اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسلام میں کسی غیر محرم سے بات کرنا غلط ہے ۔لیکن اس کے علاوہ اس ماں کو اس بات کا احساس کیوں نہیں ہوتا کہ اس اسکول یا کالج میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں ہی تعلیم حاصل کرتی ہیں تو یہ لڑکا میری لڑکی سے ہی کیوں بات کرنا چاہتا ہے؟میری بیٹی سے ہی کیوں اس کو نوٹس کی ضرورت ہے؟ وہ اپنے کسی لڑکا دوست سے کیوں نہیں تبادلۂ خیال کرتا ؟یہ خیال آنا چاہئے ہر والدین کو مگر افسوس کہ مائیں خود اپنی بیٹی کو غلط راستے پر لانے میں مدد کرتی ہیں۔کسی بھی بچے یا بچی کو بگاڑنے میں ماں کا زیادہ ہاتھ ہوتا ہے۔ کیونکہ فطرت نے ماں کے دل کو اتنا موم بنایا ہے کہ بیچاری اپنی اولاد کی محبت میں بہ آسانی پگھل جاتی ہیں۔جبکہ باپ کے سامنے بچے کو بات کہنے میں دقت ہوتی ہے۔اس لئے باپ کے سامنے کوئی بھی بچہ سنبھل کر ہی کوئی کام کرتاہے۔یہ تو لڑکے کے فون کرنے کا معاملہ ہے آج کل تو ایسا ہوتا ہے کہ لڑکیاں ہی اپنی دوسری سہیلی(لڑکی) کانمبرلڑکے کو بہ آسانی دے دیتی ہیں۔ پھر بات چیت کے سلسلے شروع ہوجاتے ہیں اور جو سارے معاملات ہوجاتے ہیں۔ جہاں تک سوچا بھی نہیں جا سکتا   ؎

درج ذیل رپورٹ قابلِ غور ہے ۔ جس میں یہ بات صاف طور سے کہی گئی ہے کہ سات سال سے لیکر پندرہ سال تک کی  لڑکیاں لڑکوں سے زیادہ فون استعمال کرتی ہیں  :

Girls aged between Seven and 15 are more likely to own a smartephone than boys and 54 percent of girls say they use a smart  phone every day, compared with 35 percent of boys.

امریکہ میں ہوئے ایک تحقیق کی رپورٹ پیش کرناچاہتا ہوں ۔جس میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں زیادہ Smart phoneکا استعمال میسج کرنے اورای۔میل وغیرہ کے لئے کرتی ہیں  :

"Men vs Women: Research shows both sexes use cellphones differently. Women are more likely to use cellphones for texting or emails to build relationships and have deeper conversations, while men prefer using their devices for entertainment purposes and accesing social networking sites.(www.firstpost.com)

درج بالا رپورٹ میں اس امر کا انکشاف کیا گیا ہے کہ لڑکیاں لوگوں سے تعلقات استوارکرنے کے لئے Text Massageاورای۔میل پر لوگوں سے بات کرنے کی غرض سے موبائل فون کا استعمال کرتی ہیں۔اِسی سے جڑی ایک دوسری رپورٹ بھی قابلِ غور ہے۔جو امریکہ کہ Baylor Universityکی تحقیق ہے ۔ذرا س طرف اپنی توجہ کو مرکوز کریں  :

"Women college Students spend an average of 10 hours a day on their cellphones and men college students spend nearly eight”

درج بالا اقتباس سے بھی یہی پتہ چلتا ہے کہ لڑکیاں لڑکوں کے مقابلے میں زیادہ موبائل فون کا استعمال کرتی ہیں۔ اب وہ کس مقصد کے تحت کرتی ہیں۔یہ استعمال کرنے والے کے اوپر ہے۔ وہ کس کام میں زیادہ استعمال کرتاہے۔ اب ذرا اسی یونیور سیٹی کے اُسی رپورٹ کا حصہ ہے جو اوپر بیان ہو چکا ہے کہ موبائل فون پر کس کام میں کتنا وقت وقت صرف کرتے ہیں ۔یہ اقتباس دیکھئے  :

"Respondents overall reproted spending the most time textin (an average of 94.6 minutes a day), followed by sending emails (48.5 minutes), checking Facebook (38.6 minutes), surfing the Internet (34.4 minuts) and listening to their iPods (26.9 minutes) Men send about the same number of emails as women but spend less time on each”

درج بالا تحقیق تو امریکہ کی ہے ۔جہاں Textمیسج میں تقریباً۹۵؍منٹ صرف ہوتا ہے۔ مگر میرا ہندوستان تو اس میدان میں امریکہ کو بھی پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ کیونکہ جب میں اس مضمون کی تیاری کے لئے مواد کو اِکٹھا کر رہا تھا تو میں نے ایک شخص جو میرے Contactلِسٹ میں تھا۔اس کو واٹس ایپ پہ چیک کیا تو وہ صبح کے نو بجے سے دوپہر ساڑھے تین بجے تک مجھے آن لائن ملا۔اور یہ اس کا روزانہ کا معمول ہے۔نہ جانے کہاں بات کرتی ہے؟او رکیا بات ہوتی ہوگی    ؎

نہ سنبھلوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو

تمہاری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں

اب اس بات پر بھی ذرا غور کریں کہ آج کل ہماری موجودہ نسل کی لڑکیاںیا لڑکے خود کواکیلے رہنا پسندکرتے ہیں۔جب اس کے ہاتھ میں موبائل ہوتا ہے۔ ایساکیوں؟ اور اگر بہ فرض محال کسی کام کے تحت کوئی دوسرا شخص اس کے سامنے آجائے تب وہ اپنے موبائل کو فوراً چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟میں بتاتاہوں کیوں کہ میں اپنی زندگی کی تیسری دہائی میں قدم رکھ چکاہوں۔ میرے تجربات و مشاہدات کوئی زیادہ نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود اپنے معاشرے میں کچھ ایسی چیزیں دیکھنے کے بعد عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کرتا ہوں ۔آج کل ایک بہت ہی مشہور موبائل ایپ ہے۔ جس کو’’ واٹس ایپ‘‘ Whatsappکہتے ہیں۔آج ہمارے بچوں یا نوجوانوں کے ہاتھ میں جیسے ہی موبائل ملتا ہے۔ وہ فوراً ’’واٹس ایپ‘‘پہ سوار ہوجاتے ہیں۔ اس کے تعلق سے میں اپناایک ذاتی مشاہدہ پیش کرنا چاہتاہوں کہ لڑکیاں واٹس ایپ پہ بہت Activeہوتی ہیںاوراگر چہ کسی لڑکے یا کسی ایسے شخص سے بات کرتی ہوں ۔جس کا چھپانا اس کے لئے ضروری ہوتو ’’واٹس ایپ‘‘میں Delete for meکا Optionآتا ہے۔ وہاں سے وہ اپنے تمام مراسلات و مکالمات کو ختم کردیتی ہیں۔ تاکہ کسی کو اس کی خبر نہ لگے ۔پھر اس کے بعد اس کو Blockکر دیتی ہیں اور اپنے وقت متعین پر پھر سے جو وقت مقرر ہو۔ اس وقت اپنے اسی عمل کو دہراتی ہیں۔صرف یہی نہیں اس کے علاوہ بھی ان کا وقت مقرر ہوتا ہے کہ فلاں دن کو فلاں وقت میں اِتنے بج کر اِتنے منٹ میں میں تم سے بات کروں گی یا کروں گا ۔پورے ہفتے کی روٹنگ ہوتی ہے۔اور اگرچہ بہ فرض محال اگر اس کے ذمہ دار ان اس سے موبائل مانگ لیں تو وہ پہلے میسچ کر دیتی ہیں کہ تم کو جب تک میں میسج نہ کروں تم میسیج نہ کرنا کیوں کہ میرا فون میرے ماں،باپ یا بھائی کے پاس رہے گا۔

ابھی کچھ دنوں پہلے میرے ایک دوست نے Whatsappکے بارے میں ایک نئی چیز بتائی وہ یہ کہ ہم اپنے موبائل فون میں کسی کو بلاک کئے بغیر اس سے اپنے واٹس ایپ کے بارے میں جانکاری چھپاکر رکھا جا سکتا ہے۔ وہ ہوتا ہے Privacy Settingsاس کے ذریعے ہم اپنے موبائل سے چند مخصوص نمبرات کو پرائیویسی میں ڈال دیں گے ۔جس سے آپ کس وقت تک Whatsappچلاتے ہیں؟ وہ اُس شخص کو پتانہیں چلے گا۔جس سے آپ کو خطرہ ہے ۔اس کو پرائیویسی میںڈال دینے سے خطرہ بالکل ختم ہی ہوجاتا ہے۔ کیونکہ جس سے خطرہ تھا اس کو تو Privacyمیں ڈال دیا گیا۔اب نہ وہ Whatsapp Statusدیکھ سکتا ہے اور نہیں یہ کہ میں کتنے بجے تک موبائل پر سوار رہتا ہوں۔ کب میں واٹس ایپ پہ آن لائن ہوں یا کب آف لائن ہوں۔اب ذمہ داران بیچارے تو اپنی زندگی گاندھی جی کے زمانے میں گزار رہے ہیں۔ ان کو ان ساری باتوں کی کوئی خبر نہیں ۔وہ تو صرف واٹس ایپ پہ میسج کرنے اور میسج پڑھنے کا حال ہی جانتے ہیں۔

میرے ایک جاننے والے نے تو یہاں تک بتایا کہ وہ جس لڑکی سے بات کرتا تھا۔وہ لڑکی اپنے والدین کے سامنے اس سے بات کرتی تھی۔مگر اس کے والدین کو خبر نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس لڑکی نے اس لڑکے کا نمبر اپنے فون میں کسی لڑکی کے نام سے محفوظ کر رکھی ہے۔اگر والدین دیکھ بھی لیں تو کوئی شک نہیں۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کسی لڑکی سے بات کر رہی ہے۔ بعینہٖ یہی حال لڑکوں کا ہے۔ وہ بھی اپنے والدین کے سامنے لڑکی سے بات کرلیتا ہے ۔لڑکے کے نام سے نمبرکوSaveکئے ہوئے رہتا ہے۔ اگر ماں باپ کے ہاتھ میں بھی فون ہو۔اگر کال آجائے تو کسی کو شک نہیں ہوگا کیونکہ نمبر تو لڑکے کے نام سے محفوظ ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اُردو میں ادب اطفال کی موجودہ صورت حال عالمی ادب اطفال کے تناظر میں – امام الدین امامؔ )

یہ تو میں نے Whatsappکے تعلق سے چند باتیں بتایا۔ بعض لوگوں نے تو یہ بھی بتایاکہ میرے گھر والوں نے میرا واٹس ایپ پہ Activeرہنا جان گئے تو میں Direct text massegeکرتا ہوں تاکہ کسی کوکچھ خبر ہی نہ ہو کیونکہ Text Massegeمیں نہ تو کوئی یہ دیکھ سکتا ہے کہ میں آن لائن ہوں یا پھر یہ کہ میں کیا بات کررہا ہوں۔اس لئے سب سے اچھا ہتھیار Textمیسج کو بنایا ہے۔ اور واقعی یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہے۔ جو کسی کو خبر نہیں ہونے پاتا کہ ٹیکسٹ میسج کب اور کس کو کیا جارہا ہے۔

اب ان تمام باتوں کو ذہن میں رکھئے اور اپنے معاشرے پہ نظردورائیے کہ کیا کیا خرافات ہیں جو نہیں ہورہے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں۔یہ تو ہوئی غیر محرم لوگوں کا آپس میں بات کرنا ۔آج کل اکثر جگہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اگر ہمارے گھر میں کوئی مہمان آتاہے ۔یا تو خالہ کا لڑکا ہو یا پھوپھی کا لڑکا ہو یا ماموں کا لڑکا ہو ۔لڑکیاں اور لڑکوں کو کھلی اجازت دی جاتی ہے کہ وہ اس سے بات کریں۔ ان سے گپیں لڑائیں اور ہنسی مذاق کریں ۔کیونکہ ماں باپ بھی دیکھ کر کوئی نوٹس نہیں لیتے ۔کیونکہ مہمان آیاہے۔مہمان سے بات ہورہی ہے ۔ماموں کا لڑکا ہے ۔نہ جانے پھر کب آئے گا؟ایسے لوگوں سے ادب کے ساتھ عرض ہے کہ میاں!یہ جو لڑکاخالہ کا بیٹا یا پھوپھی کا بیٹا یا ماموں کا بیٹا ہے یہ غیر محرم ہے ۔ان سے بات کرنا اور ان سے ہنسی مذاق کرنا یہ بھی بہت بڑا نقصان کا سبب بن سکتا ہے اور بنتا بھی ہے۔اس لئے اس قسم کی آزادیوں پہ ذرا دھیان دیجئے ۔ہوسکتا ہے میری ان باتوں سے لوگوں کو تکلیف ہو کیونکہ بعض لوگوں نے مجھ سے کہا کہ تم ہربات پہ صرف Negative ہی سوچتے ہو۔میری سوچ میں وسعت نہیںہے۔ان سے عرض ہے کہ بھائی میں Negativeنہیں ہوں۔آپ اپنے آزادانہ خیال پہ ذراغور کیجئے تو یہ ساری چیزیں آپ کو بھی نظر آئیں گی۔

اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دورائیں۔ اگرہم اخبارپڑھتے ہیں تو آئے دن اس قسم کی خبریں پڑھنے کو ملیں گی۔ جو میں بیان کررہاہو۔مگرہم کو تو ماڈرن ہونے کا بھوت سوار ہے۔اس لئے ہماری نظر اس طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ بھائی قرآن میں بھی آیا ہے کہ ’’کسی کی جاسوسی مت کرو!(کسی کی ٹوہ میں مت رہا کرو۔)میں نے اس سے عرض کیا کہ بھائی قرآن کی اس بات کو میں بھی تسلیم کرتا ہوں۔ کیونکہ ہمارا ایمان ہے۔لیکن قرآن نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ اپنے بچوں پہ دھیان رکھے اور ان سے سوالات کریں۔جیسا کہ حضرت زکریا ؑنے حضرت مریم ؑ سے سوال کیا تھا۔ بغیر موسم کے پھل دیکھ کر اس لئے حضرت زکریاؑ بھی تو حضرت مریم کا خیال رکھ رہے تھے۔ تبھی تو پتا چلا کہ یہ بہ موسم کا پھل کہاں سے آئیں؟نہیں تو حضرت زکریاؑ سوال ہی نہیں کرتے کہ یہ پھل کہاں سے آیا؟اس لئے قرآن کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں یا ان سے جن کے آپ ذمہ دار ہیں۔ ان سے سوال کرنا چاہئے۔ ان کی Activitiesپہ نظر رکھنی چاہئے۔جیسے کہ کس کا فون تھا؟ کس سے بات ہورہی تھی؟صبح صبح تجھے موبائل کی کیا ضرورت پڑگئی؟تم جب کل اسکول یا کالج گئے تھے ۔تو تمہیں آج اپنے دوست سے نوٹس کی کیا ضرورت آگئی؟ وغیرہ۔

اس لئے ہمیں ضروری ہے کہ ان ساری باتوں کو دھیان میں رکھیں تاکہ ہمارا سر ہمیشہ اپنے معاشرے میں اونچا ہو۔ اور ایک بات یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ یہ ضروری نہیں کہ صرف لڑکیاں ہی موبائل کا غلط استعمال کرتی ہیں اور ہمیں صرف ان سے ہی خطرہ ہے۔ بعض لوگ صرف لڑکیوں پر ہی اپنی نگاہ ٹکائے رکھتے ہیں۔ لڑکوں کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں ۔تو آپ اس مغالطے میں نہ رہیں ۔بلکہ لڑکے تو سب سے زیادہ شیطان ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں اپنے لڑکے اور لڑکیوں دونوں پر کڑی نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ تاکہ ہمارا وقارہماری عزت وعظمت معاشرے میں برقرار رہے ۔اور اس میں کسی قسم کی کوئی حرف نہ آنے پائے۔

ابھی حال ہی میں اگست  ۲۰۲۰ میں میری بستی میں ایک لڑکی کی شادی ہوئی ۔جب اس کی شادی ہوگئی ۔چاردن کے بعد جب وہ اپنے شوہر کے ساتھ مایکے واپس آئی ۔تو اس کے شوہر کے فون پر کسی انجان نمبر سے اس لڑکی کی تصویر کسی دوسرے لڑکے کے ساتھ آئی۔اب اس تصویر کو دیکھتے ہی اس کے شوہر کے پیروں تلے سے زمیں کھسک گئی۔ اب وہ اپنی بیوی کو وہ فوٹو دکھاکر پوچھا کہ یہ کون لڑکا ہے؟اور تمہاری تصویر اس کے ساتھ کیسے آئی؟وغیرہ لڑکا اور لڑکی دونوں کے گھرمیں وبال کھڑا ہوگیا۔اس لڑکی کا شوہر اس لڑکی کو چھوڑنے کے لئے تیار ہو گیا۔ وہ بھی ابھی چاریا پانچ دن ہی شادی کو ہوا تھا۔بعد میں اس لڑکی کے شوہر کو پتا چلا کہ اس لڑکی کا اس لڑکے کے ساتھ پہلے سے دوستی تھی۔اور وہ لڑکا اس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن وہ کوئی کام نہیں کرتا تھا بے روزگار تھا ۔ اور بھی کئی وجوہات تھے، برادری وغیرہ کا معاملہ تھا ۔اس لئے اس لڑکے سے شادی نہیں ہوئی۔ ان ساری باتوں کا انکشاف اس لڑکی کی ماں نے کیا کہ ایک روز جب وہ اپنی لڑکی کی آواز Toiletسے سنی تو اپنی بیٹی سے پوچھی کہ بیت الخلاء میں کیا بھُنبھنا رہی تھی؟تو اس لڑکی نے صاف انکار کر دیا۔لیکن ماں اسی فراق میں لگی رہی۔اور اپنے گھر کی تلاشی لیتی رہی۔خیر دوتین ہفتے بعدمیں اس لڑکی کی ماں کو بیت الخلا کے کسی خاص حصے سے ایک موبائل فون ملا۔تب جاکر اس کے بیت الخلا سے آواز آنے کی وجہ کا پتا چلا ۔لیکن یہ پتا نہیں چل سکا کہ کس سے بات کرتی تھی اور اس کا نمبر کیا ہے؟کیونکہ وہ لڑکی پوری جانکاری موبائل سے ختم کردیتی تھی۔

اب ذرا غور کیجئے کہ اس لڑکی اور اس کے شوہر کے گھر والوں پہ کیا گزراہوگاکہ ابھی چارپانچ دن پہلے لاکھوروپیہ خرچ کرکے باپ اپنی بیٹی کی شادی کرتا ہے۔ چارپانچ دن کے بعد اس کے لڑکی کا گھر برباد ہونے کے دہانے پر پہنچ جاتا ہے۔اس لئے ہم لوگوں کو چاہئے کہ پہلے سے ہی ان ساری خرافات پہ نظر رکھے۔اللہ ہم تمام لوگوں کو اس قسم کی آزمائش سے محفوظ رکھے۔آمین

ستمبر  ۲۰۲۰ میں مظفرپور ضلع کے دیگھراسے یہ خبر نکلی کہ ایک گھر میں ڈاکوؤں نے ڈاکہ ڈالا اور مال و اسباب کے ساتھ ساتھ ایک دوشیزہ کو بھی لے گیا۔یہ خبر پورے ضلع ہی نہیں بلکہ ہرچہارجانب جنگل کی آگ کے طرح پھیل گئی کہ ڈاکولڑکی کو لے گیا۔لیکن بعد میں کچھ اور ہی معاملہ سامنے آیا۔وہ معاملہ یہ نکل کر آیا کہ لڑکی اپنی مرضی سے اپنے عاشق کے ساتھ گھر سے نکل گئی تھی۔رسوائی کے ڈر سے گھروالے اسے کوئی اور رنگ دے دئے۔یا اگر ممکن ہے کہ مان بھی لیا جائے کہ اس گھر میں ڈکیتی ہوئی تو اس لڑکی کے اشارہ پر ہی ہوئی کیونکہ جب وہ لڑکی اپنے عاشق کے ساتھ گھر سے نکلی تو ہوسکتا ہے کہ پہلے سے یہ معاملہ طے رہا ہو کہ تم میرے گھر میں آنااور چوری کرنا پھر اسی بہانے سے میں تمہارے ساتھ نکل پڑوں گی ۔اور یہ سارا معاملہ بغیر موبائل کے ممکن نہیں ہے۔اس معاملے میں جس چیز نے اس کی مدد کی وہ موبائل فون ہی ہوسکتا ہے۔کیونکہ اسی کے ذریعہ سے پوراخاکہ تیارہوا ہوگا   ؎

جب توقع ہی اُٹھ گئی غالبؔ

کیوں کسی کا گلہ کرے کوئی

ایک آخری واقعہ بیان کرکے اپنی بات کو ختم کروں گا۔ کیونکہ بات کافی لمبی ہوگئی ہے۔میں نے خود ایک ایسی فیملی کو دیکھا کہ ان کی بیٹی کسی غیرلڑکے سے فون پہ بات کرتی تھی ۔ماں نے دھمکایا کہ تمہارے بڑے بھائی کو بتادون گی تو وہ لڑکی برجستہ جواب دیتی ہے کہ تمہارا بیٹا کون سا سُدھراہوا ہے۔ اور تم کو جس کو بھی کہنا ہے ۔کہہ دو میں تو اس لڑکے سے بات کرنا نہیں چھوڑوں گی۔اس قسم کی بہت ساری مثالیں ہیں۔جو ہم کو اپنے معاشرے میں مل جائے گی۔جیسے ہی ذمہ دار اپنے بچوں کو کسی گندگی یا برائی سے روکناچاہتے ہیں ۔تو ان کے سامنے ایسی مثالیں پیش کردی جاتی ہیں کہ فلاں فلاں بھی تو ایسا کرتی ہے یا کرتا ہے۔پہلے ان سب کو روکو پھر مجھے کہنا۔اس لئے ہمیں بہت احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔نہیں تو ہو سکتا ہے کہ ہمیں بھی ایسی رسوائیوں کا سامنا کرناپڑے۔

اب کل ہی میں نے فیس بُک پہ شاہد آفریدی مشہور کرکٹ کھلاڑی کو پاکستان کے کسی ٹی۔وی۔پر یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے کہا’’میں اپنے گھر میں کسی لڑکی کو موبائل فون نہیں دیا ہوں اگر میرے بچوں کو کسی اپنے دوست سے یا اسکول کا کوئی کام ہوتا ہے تو وہ ہمارے فون کا استعمال کرتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہاکہ میری بیٹوں کو کچھ بھی کھیلنا ہے یا کرنا ہے وہ گھر کی چہار دیواری کے اندر رہ کر کرے۔اور میں خود ان کے ساتھ میں کرکٹ کھیلتا ہوں ۔میری ذمہ داری ہے کہ میں اپنے بچوں کو یہ بتاؤں کہ میرا دین کیا کہتا ہے اور اسی کے مطابق ہمیں اپنی زندگی گزارنی ہے۔‘‘اب ذرا غور کیجئے کہ شاہد آفریدی جیسا آدمی جس کو کسی چیز کی کمی نہیں ہے نہ پیسے کی ، نہ شہرت کی، نہ دولت کی، نہ عزت دنیا کاہر شخص جس سے واقف ہے۔بعض دفعہ ان کی بیوی یا بیٹیوں کی تصیور کسی ذریعہ سے سوشل میڈیا میں دکھائی دیتا ہے۔تو ماشاء اللہ پردے میں ہی نظر آتی ہیں۔اس لئے یہ کہنا کہ آج کا دور ہی الگ ہے اور بغیر موبائل فون کے بچوں کا کام اور ان کی پڑھائی ممکن نہیں یہ بات بالکل بے بنیاد ہے ۔جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

اب اخیر میں میں اپنی بات جنوبی کوریائی ،گیونگی کے چھ مختلف کالجوں کے 1,236طلباء پر ہوئے ایک تحقیق کی رپوٹ پیش کرنا چاہتا ہوں ۔جس میں عورتوں یا لڑکیوں کے زیادہ موبائل استعمال کرنے کی بات سامنے آنے پر ان کو آجو یونیورسٹی آف اسکول آف میڈیسن سے تعلق رکھنے والے پروفیسر جئے۔یون۔جنگ نے یہ تنبیہہ کیا کہ وہ وقتاً فوقتاً موبائل کو اپنے سے دور رکھیں۔ملاحظہ ہو  :

A South Korean study conducted a survey of 1,236 students from six different colleges in Suwon, Gyeonggi.”Female users(Mobile users) are advised to consciously put their phones out of their reach from time to time,” Said Professor Jae-Yeon Jang from the Ajou University School of Medicine.

اوپر میں جتنی بھی باتیں بیان کی گئی ہیں ۔اس سے سارے لوگ واقف ہوں گے ممکن ہے کہ کچھ لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوگی لیکن میری یہ تحریر پڑھنے کے بعد پھر کوئی بہانہ باقی نہیں رہے گا۔اس لئے ہمیں ضروری ہے کہ ہم اپنے موبائل کا صحیح استعمال کریں اور اپنے گھر والوں کا بھی خیال رکھیں ۔کیوں کہ جہاں تک ہم سوچ بھی نہیں سکتے ۔وہاں تک معاملہ پہنچ جاتا ہے۔یہ تو میں نے چند باتیں ہی واٹس ایپ، میسنجر،فیس بُک وغیرہ کے بارے میں بتایا ہے۔اس کے علاوہ بھی درجنوں ایسی چیزیں موبائل میں موجود ہے۔ جوہمارے لئے سوائے نقصان کے فائدہ کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ۔اسی میں سے ایک Tik Tokتھا جہاں ہماری لڑکیاں بالکل برہنہ ناچ رہی تھیں ۔اللہ کا بہت بڑا کرم ہے کہ ہمارے ملک میں اس پر بندش عائد کردی گئی ہے۔ لیکن اس کے علاوہ بھی درجنوں ایسے موبائل ایپس ہیں جو بے حیائی اور برائی کو بہت ہی زور شور کے ساتھ فروغ دے رہی ہیں۔جس میںہمارے معاشرے کا تقریباً ۸۰؍ فیصد آبادی اس بیماری میں مبتلا ہے۔ ان تمام ایپس اور باتوں کا بیان کرنا یہاں ممکن نہیں ۔اس لئے میں اپنی بات کواپنے اس شعر پہ ختم کرتا ہوں کہ   ؎

ہے نئی تہذیب کی ہر ہر ادا لعنت ملامت

بچ کے رہنا ہے ہمیں اب اس ریا کاری سے ہردم

 

Imamuddin Imam

(Student JNU, New Delhi)

Muzaffarpur

Bihar-India

Mob.- +91 62061 43783

imamuddin.muz@gmail.com

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

امام الدین امام
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بانجھ پن صرف عورت میں نہیں ہوتا – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
روح کی آواز – پرویز اشرفی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں