نکاح کے ایک برس بعد تک اگر اولاد نہ ہو تو گھر اور خاندان میں چے می گوئیاں شروع ہوجاتی ہیں _ اگر کچھ اور وقت گزر جائے تو افرادِ خانہ کھلّم کھلّا اس کا اظہار کرنے لگتے ہیں _ یہ غلط نہیں ہے _ فکر ضرور کرنی چاہیے اور اولاد کی خواہش فطری ہے ، اس کا اظہار ہونا چاہیے _ غلط یہ ہے کہ نگاہیں اور انگلیاں صرف عورت کی طرف اٹھنے لگیں اور اسی کو طعنے دیے جانے لگیں ، حالاں کہ بانجھ پن صرف عورت میں نہیں ہوتا ، مرد میں بھی ہوسکتا ہے _ اس لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ ولادت میں تاخیر ہو تو شوہر اور بیوی دونوں کو اپنا ٹیسٹ کرانا چاہیے _
فطری طریقۂ تولید یہ ہے کہ مرد اور عورت کے جنسی اتصال ( sexual contact) سے مرد کے نطفہ ( sperm) اور عورت کے بیضہ (Ovum) کا امتزاج ہوتا ہے _ نطفہ مرد کے خصیوں (Testies) سے اور بیضہ عورت کے خصیۃ الرحم (Ovaries) سے نکلتا ہے _ دونوں کا امتزاج عورت کے رحم سے متصل عضو ‘قاذف’ (Fallopian tube) کے باہری تہائی حصے میں ہوتا ہے ، جس سے عمل بارآوری (Fertilization) انجام پاتا ہے _ پھر یہ بار آور بیضہ مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد رحم میں اتر آتا ہے ، جہاں جنین (Foetus) کی تشکیل ہوتی ہے _
فطری طریقۂ تولید میں کوئی رکاوٹ آجائے تو اسے بانجھ پن کہتے ہیں _ یہ عارضی ہوسکتا ہے اور مستقل بھی _ مرد میں بھی ہوسکتا ہے اور عورت میں بھی _ مرد میں اس کی مثالیں یہ ہیں کہ وہ قوتِ مردمی میں کمی کی وجہ سے جماع پر قادر نہ ہو ، یا اس کے نطفے میں حیواناتِ منویہ کا تناسب کم ہو ، یا ان کی حرکت کم زور ہو ، یا نطفے کو خصیوں سے عضو تناسل تک لانے والی رگیں مسدود ہوگئی ہوں ، یا خصیے بے کار ہوں ، یا اوپر چڑھے ہوئے ہیں _ اسی طرح عورت میں اس کی مثالیں یہ ہیں کہ خصیۃ الرحم میں کسی نقص کے سبب اس سے بیضہ کا اخراج ممکن نہ ہو ، یا قاذفین پیدائشی طور پر موجود نہ ہوں ، یا مسدود ہوگئے ہوں ، یا عورت پیدائشی طور پر رحم سے محروم ہو ، یا کسی سبب سے اس میں بارآور بیضہ کا استقرار ممکن نہ ہو، وغیرہ _ (یہ بھی پڑھیں کیا خواتین کی عقل کم ہوتی ہے اور دین بھی؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
نکاح کے کچھ عرصہ بعد تک اگر ولادت نہ ہو تو شوہر اور بیوی دونوں کو ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے اور تمام ضروری جانچیں کروالینی چاہییں _ بسا اوقات مرد یا عورت میں کوئی معمولی نقص ہوتا ہے ، جو علاج سے بہ آسانی دور ہوسکتا ہے _ اگر کسی مرض یا نقص کی وجہ سے فطری طریقے پر استقرارِ حمل ممکن نہ ہو تو مصنوعی تدبیر (IVF) اختیار کی جاسکتی ہے ، بس شرط یہ ہے کہ نطفہ شوہر کا ہو ، بیضہ بیوی کا ہو اور حمل کا استقرار بیوی ہی کے رحم میں ہو _
اگر تمام تدابیر کے باوجود زوجین اولاد کی نعمت سے محروم ہوں تو انہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش سمجھنی چاہیے اور صبر سے کام لینا چاہیے _ اگر زوجین چاہیں تو اولاد کے بغیر بھی پوری زندگی ہنسی خوشی گزار سکتے ہیں _ اللہ کے پیغمبروں میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت زکریا علیہ السلام کی زندگیاں اس سلسلے میں مثالی نمونہ ہیں _ حضرت ابراہیم کے یہاں حضرت سارہ سے جب حضرت اسحاق پیدا ہوئے اس وقت ان کی عمر سو برس تھی _ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان دونوں نے سات آٹھ دہائیوں تک اولاد سے محروم ہونے کے باوجود پُر مسرّت ازدواجی زندگی گزاری _ حضرت زکریا نے جب مریم کا نکاح نہ ہونے کے باوجود ان سے عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا معجزہ دیکھا تو ان کے دل میں خواہش ہوئی کہ دوسرا معجزہ ان سے بھی صادر ہوسکتا ہے کہ بڑھاپے میں ، جب کہ ان کی بیوی بھی بانجھ ہے ، اللہ انہیں اولاد کی نعمت عطا فرمائے _ اس کا مطلب یہ ہے کہ انھوں نے پوری زندگی ایک بانجھ عورت کے ساتھ ہنسی خوشی گزار دی تھی _ (یہ بھی پڑھیں عورتیں تو کھیتی کے مثل ہیں – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
اولاد کی خواہش ہر ایک کو ہوتی ہے _ اس بنا پر اگر کوئی عورت بانجھ ہو اور تمام تر علاجی تدابیر کے باوجود اب اس سے اولاد ہونے کی توقع نہ ہو ، دوسری طرف اس کا شوہر یا سسرال والے اولاد کے حصول کے لیے دوسرے نکاح کا ارادہ کررہے ہوں تو عورت کو مصالحت کا مظاہرہ کرنا چاہیے _ قرآن مجید میں ایک موقع اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ” اگر کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا اندیشہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر وہ دونوں ( کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں ۔ صلح بہرحال بہتر ہے _” ( النساء :128) یہ صلح اس بات پر ہوسکتی ہے کہ عورت اپنے شوہر کے دوسرے نکاح پر رضامند ہوجائے اور شوہر اپنی بیوی کو طلاق نہ دے ، بلکہ اسے بھی بیوی کی حیثیت سے باقی رکھے اور تمام حقوق دے _
اولاد سے محروم جوڑے ایک کام یہ بھی کرسکتے ہیں کہ اپنے خاندان ، متعلق یا کسی دوسرے شخص کے بچے کو گود لے لیں _ اسلام کسی اجنبی بچے کو گود لینے کی اجازت دیتا ہے ، بس اس سے منع کرتا ہے کہ کسی بچے کی نسبت باپ کے علاوہ کسی اور شخص کی جانب کی جائے _ ( الأحزاب :5) اس طرح وہ کسی بچے کو اپنی کفالت میں لے کر اجر کے مستحق ہوں گے اور اپنی ویران زندگی میں خوشیوں کی بہاریں بھی دیکھ سکیں گے _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

