” یہ عورت بہت منحوس ہے _ صرف لڑکیاں پیدا کرتی ہے _”
” ہمیں اب اور لڑکیاں نہیں چاہیے _”
” یہ عورت کوئی وارث نہیں دے سکتی _ تم دوسرا نکاح کرلو _”
کسی گھر میں کئی لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو عموماً اس طرح کی باتیں کی جانے لگتی ہیں _ گھر کے مرد ، کیا بوڑھے ، کیا جوان ، یہ باتیں کہتے ہیں اور عورتیں بھی ان کی تائید کرتی ہیں ، بلکہ بعض گھرانوں میں عورتیں ہی اس معاملے میں پیش پیش رہتی ہے اور اگر کئی لڑکیاں پیدا ہوجائیں تو وہ بہوؤں کو ہی دوش دیتی ہیں اور اپنے لڑکوں پر دباؤ ڈالتی ہیں کہ وہ دوسرا نکاح کرلیں ، تاکہ وارث پانے کی ان کی خواہش پوری ہو اور گھر میں لڑکوں کی کلکاریاں گونجیں _
ان لوگوں کو نہیں معلوم کہ لڑکیوں کی پیدائش میں عورت کا کوئی کردار اور اختیار نہیں ہوتا _ انھوں نے اگر قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھا ہوتا تو اس میں انہیں اس کی دلیل مل جاتی _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
نِسَآؤُكُمۡ حَرۡثٌ لَّـكُمۡ (البقرۃ : 223)
” تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔”
(یہ بھی پڑھیں عورت :کتنی ٹیڑھی؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
کھیت میں وہی کچھ اگتا ہے جس کا بیج کسان اس میں ڈالتا ہے _ گیہوں بوئے گا تو گیہوں آگے گا ، مٹر یا چنا بوئے گا تو وہ نکلے گا _ یہ ناممکن ہے کہ کسان اپنے کھیت میں ایک چیز بوئے اور امید دوسری پیداوار کی رکھے _
آیتِ بالا میں عورتوں کو کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے _ اس سے واضح اشارہ ملتا ہے کہ لڑکے یا لڑکی کی پیدائش میں عورت (بیوی) کا کوئی رول نہیں ہے ، بلکہ اس میں اصل رول مرد (شوہر) کا ہوتا ہے _
میڈیکل سائنس نے بھی اس بات کو قطعی طور پر ثابت کردیا ہے _ جسم انسانی کے تولیدی خلیّات (Cells) میں ایک جوہر پایا جاتا ہے ، جسے کروموزوم کہتے ہیں _ اس کے 23 جوڑے ہوتے ہیں ، جن میں سے ایک جوڑا تعیینِ جنس کے لیے مخصوص ہوتا ہے _ اسے ‘سیکس کروموزوم’ کہا جاتا ہے _ یہ جوڑا دو طرح کے کروموزومس پر مشتمل ہوتا ہے _ ایک کو X کروموزوم اور دوسرے کو Y کروموزوم کہتے ہیں _ عورت کے بیضہ (Ovum) میں سیکس کروموزوم کا جو جوڑا پایا جاتا ہے اس میں دونوں کروموزوم X نوعیت کے ہوتے ہیں ، جب کہ مرد کے نطفے (Sperm) میں پایا جانے والا جوڑا X اور Y دو طرح کے کروموزومس پر مشتمل ہوتا ہے _ عورت کے X کروموزوم سے اگر مرد کا X کروموزوم ملتا ہے تو لڑکی پیدا ہوتی ہے اور اگر اس سے مرد کا Y کروموزوم ملتا ہے تو لڑکا پیدا ہوتا ہے _ کن دو کروموزومس کا باہم اتصال ہوگا؟ یہ کوئی نہیں جانتا ، نہ اس میں کسی کے اختیار اور عمل کا دخل ہوتا ہے ، بلکہ یہ صرف تقدیرِ الٰہی پر منحصر ہوتا ہے _ ( یہ بھی پڑھیں کیا خواتین کی عقل کم ہوتی ہے اور دین بھی؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
حقیقت یہ ہے کہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے _ ایک پتّہ بھی اس کی مشیّت کے بغیر نہیں ہلتا ہے _ کسی عورت سے اولاد ہوگی یا نہیں ، ہوگی تو وہ لڑکا ہوگا یا لڑکی ، کسی عورت سے صرف لڑکے پیدا ہوں گے ، یا صرف لڑکیاں ، یا لڑکے اور لڑکیاں دونوں پیدا ہوں گی ، یہ صرف اللہ کی مشیّت اور اس کی طرف سے طے کی گئی تقدیر پر منحصر ہوتا ہے _ یہ بات قرآن مجید میں صاف الفاظ میں بیان کردی گئی ہے :
لِـلَّـهِ مُلۡكُ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ ؕ يَخۡلُقُ مَا يَشَآءُ ؕ يَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ اِنَاثًا وَّيَهَبُ لِمَنۡ يَّشَآءُ الذُّكُوۡرَ ، اَوۡ يُزَوِّجُهُمۡ ذُكۡرَانًا وَّاِنَاثًا ۚ وَيَجۡعَلُ مَنۡ يَّشَآءُ عَقِيۡمًاؕ اِنَّهٗ عَلِيۡمٌ قَدِيۡرٌ (الشوریٰ :49_50)
” اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے _ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے _ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں مِلا جُلا کر دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے ۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے ۔ ”
جب صورتِ حال یہ ہو تو لڑکی کی پیدائش پر عورت کو موردِ الزام کیوں ٹھہرایا جائے؟ درست رویّہ یہ ہے کہ لڑکی کی پیدائش پر اللہ کا شکر ادا کیا جائے، کیوں کہ اوّلاً لاکھوں خاندان ایسے ہیں جو ہزار جتن کے باوجود اولاد سے محروم رہتے ہیں ، ثانیاً لڑکیوں کی صحیح طریقے سے پرورش و پرداخت پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جنت کی بشارت دی ہے _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


5 comments
[…] اسلامیات […]
[…] اسلامیات […]
[…] اسلامیات […]
[…] اسلامیات […]
[…] اسلامیات […]