میدان میں بہت سے نوجوان پتنگ اڑا رہے تھے _ پورا آسمان پتنگوں سے بھرا ہوا تھا : رنگ برنگی ، چھوٹی بڑی ، چاند تارا والی ، دُم دار اور بھی کئی طرح کی _ ماہر پتنگ بازوں کی اونچی اُڑان تھی اور نو سکھیا تھوڑی بلندی پر اُڑا رہے تھے _ ہر ایک کی پتنگ ایک ڈور کے ذریعے اس کے ہاتھ میں تھی _ اس طرح وہ اسے اِدھر اُدھر نچا رہا تھا اور اوپر نیچے کررہا تھا _ جتنے اُڑانے والے تھے ان سے زیادہ تماشا دیکھنے والے _ اتنے میں ایک پتنگ کٹ گئی _ بس پھر کیا تھا؟ تمام تماشائی اس کے پیچھے لگ گئے _ پتنگ نیچے آتی گئی _ یہاں تک جب وہ بالکل قریب آگئی تو سب اس کی طرف لپکے _ نتیجہ یہ ہوا کہ اُس پتنگ کے چیتھڑے اُڑ گئے _
بے نکاحی عورت کا حال بھی کٹی پتنگ جیسا ہوتا ہے _ جب تک وہ نکاح کی ڈور سے بندھی ہوتی ہے ، دوسروں کے تصرف سے محفوظ رہتی ہے _ شوہر اس کی حفاظت کرتا ہے _ لیکن نکاح کی ڈور ٹوٹتے ہی دوسرے اسے للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگتے ہیں اور اسے اپنے قبضے اور تصرّف میں لینے کے حربے سوچنے لگتے ہیں _
سنا ہے کہ پڑوسی ملک کی ایک دوشیزہ نے ، جو مختلف اسباب سے شہرت کے دوش پر اُڑ رہی ہے ، یہاں تک کہ اسے نوبل پرائز سے بھی نوازا گیا ہے ، نکاح کے سلسلے میں ایک بڑی نامعقول بات کہی ہے _ اس نے کہا ہے : ” مجھے اب تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ لوگ شادی کیوں کرتے ہیں؟ اگر آپ اپنی زندگی میں کسی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو نکاح نامے پر دستخط کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ صرف پارٹنر بن کر کیوں نہیں رہ سکتے؟”
نسلِ انسانی کے تسلسل کے لیے مرد اور عورت کا جنسی تعلق ضروری ہے _ یہ تعلق اگر قانون کے دائرے میں اور معاہدہ کے ذریعے ہو تو اسے ‘نکاح’ کہا جاتا ہے اور اگر یوں ہی ہو تو اسے Live in relationship کا نام دیا گیا ہے _ دنیا کے بیش تر سماجوں نے نکاح کو ضروری قرار دیا ہے، جب کہ اِدھر کچھ عرصے سے عالمی سطح پر لیو اِن ریلیشن شپ کو فروغ دینے کی کوشش کی جارہی ہے _ مذکورہ دوشیزہ کا یہ بیان اُسی عالمی ایجنڈا کا حصہ ہے _ (یہ بھی پڑھیں عورتیں تو کھیتی کے مثل ہیں – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
مرد و عورت کا جنسی تعلق قائم کرنا یا تو وقتی طور پر لذّت حاصل کرنے کے لیے ہوگا یا اولاد کے حصول کے لیے _ پہلی صورت میں یہ سماج اور تمدّن سے بغاوت ہے _ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ ہر مرد اور ہر عورت آزاد ہے _ وہ جس طرح چاہیں اپنی جنسی خواہش پوری کریں _ جو مرد اور عورت محض لذّت کوشی کے لیے جنسی تعلق قائم کرتے ہیں وہ انسانی فطرت سے بغاوت کرتے ہیں ، سماج کو دھوکہ دیتے ہیں اور تمدّن کی پیٹھ میں چُھرا گھونپتے ہیں _ اگر اس کی کھلی چھوٹ ہوتی تو روئے زمین پر انسانی آبادی کب کی ختم ہوچکی ہوتی _
اگر جنسی تعلق اولاد کے حصول کے لیے ہو تو وہ عورت بہت بڑی بے وقوف ہے جو مرد کو اپنی ذات سے لذّت حاصل کرنے دے ، پھر اس کے بعد کے تمام مراحل تنہا برداشت کرے ، مرد کا اس سے کوئی تعلق نہ ہو _ دورانِ حمل اسے کوئی پریشانی ہو تو اسے تنہا جھیلے ، معاش کے ذرائع خود تلاش کرے ، وضعِ حمل کی تکلیف میں اسے کوئی سہارا دینے والا نہ ہو اور پیدائش کے بعد بچے کی پرورش خود کرے ، مرد کی اسے کچھ مدد حاصل نہ ہو _
اسلام خاندان کی تشکیل کے لیے نکاح کو لازم قرار دیتا ہے _ اس کے نزدیک زوجین کا جنسی تعلق ناپائیدار تعلق نہیں ہوتا _ وہ اسے بہت زیادہ استحکام بخشتا ہے _ مردوں (یعنی شوہروں) کو عورتوں( یعنی بیویوں) کا ‘قوّام’ بنایا گیا ہے _ (النساء :34) قوّام کے معنیٰ ہیں : محافظ ، نگراں ، ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے والا _ مسلمان شوہر اپنی بیوی سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہیں رہتا ، بلکہ نکاح کے بعد آئندہ زندگی کے ہر لمحے میں اسے تحفّظ فراہم کرتا ہے اور اس کی چھوٹی بڑی تمام ضرورتیں پوری کرتا ہے _ اس کی سرپرستی میں عورت فکرِ معاش سے بے پروا ہوتی ہے اور شوہر پر اس کی اور بچوں کی کفالت لازم ہوتی ہے _ شوہر عورت کا ‘باڈی گارڈ’ ہوتا ہے ، جو اسے سیکورٹی فراہم کرتا ہے _ آج کل سیکورٹی کے نام پر بہت پیسے خرچ کیے جاتے ہیں _ گارڈ بھاری فیس لے کر صرف اپنے فرض نبھاتا ہے ، جس کو سیکورٹی دیتا ہے اس سے محبت نہیں کرنے لگتا ہے _ اسلام عورت کو شوہر کی شکل میں مفت سیکورٹی فراہم کرتا ہے ، اسے ایسا باڈی گارڈ فراہم کرتا ہے جو صرف اس کی سیکورٹی کے فرائض نہیں ادا کرتا ، بلکہ اس سے محبت بھی کرتا ہے اور اس پر اپنی جان نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتا ہے _ (یہ بھی پڑھیں عورت :کتنی ٹیڑھی؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )
کتنی بے وقوف ہیں وہ عورتیں جو نکاح کے ادارہ کے خلاف بولتی ہیں ، اسے کم زور کرنے کی کوشش کرتی ہیں اور اس کے مقابلے میں صرف پارٹنر بن کر زندگی گزارنے کی وکالت کرتی ہیں _
اسی طرح کتنی نادان ہیں وہ عورتیں جو نکاح ہوجانے کے بعد معمولی معمولی باتوں پر شوہروں سے روٹھ جاتی ہیں ، ان سے الگ تھلگ رہنے لگتی ہیں اور تنازع اتنا بڑھالیتی ہیں کہ بالآخر بات علیٰحدگی (طلاق یا خلع) تک جا پہنچتی ہے _
انہیں جان لینا چاہیے کہ نکاح ایک سائبان ہے ، جس میں عورت کو سکون ملتا ہے _ ایک سیکورٹی ہے ، جس سے اسے تحفظ حاصل ہوتا ہے _ ایک سرپرستی ہے ، جس میں رہ کر وہ اطمینان و سکون سے نسلِ انسانی کی پرورش کا کام انجام دیتی ہے _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

