نوجوانوں میں قرآن مجید سے کیسے دل چسپی پیدا کی جائے؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

by adbimiras
1 comment

آج جماعت اسلامی ہند ، شعبۂ تربیت ، حلقۂ اترپردیش (مشرق) کی طرف سے ایک آن لائن خصوصی لیکچر کا اہتمام کیا گیا ، جس میں پورے حلقہ سے ارکان و کارکنان نے شرکت کی _ اس میں خواتین کی بھی خاصی تعداد شریک تھی اور SIO کے نوجوان طلبہ اور GIO کی طالبات بھی _ بھائی محمد شریف فلاحی ، اسسٹنٹ سکریٹری تربیت کی دعوت پر مجھے خطاب کا موقع ملا _ میری گفتگو کے نکات درج ذیل تھے :

* نوجوان دنیا کی آبادی کا بہت بڑا حصہ ہیں _
* قوموں کے عروج میں نوجوانوں کا اہم اور کلیدی رول رہا ہے _
* قرآن مجید نے نوجوانوں کا ذکر بہت اہمیت کے ساتھ کیا ہے _ اصحابِ کہف اور قوم موسیٰ کے نوجوان اس کی روشن مثالیں ہیں _
* موجودہ دور میں نوجوانوں کی صورت حال اطمینان بخش نہیں ہے _
* مسلم نوجوانوں کی بھی بہت بڑی تعداد اپنے مقصدِ زندگی سے ناآشنا ہے ، صرف کیریر بنانے میں مصروف ہے ، ان کے نزدیک تعلیم کا مقصد صرف پیسہ کمانا رہ گیا ہے ، وہ اخلاقی تربیت سے محروم ہیں ، انتہا پسندی اور جذباتیت کا شکار ہیں _
* نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کی تربیت ضروری ہے _
* قرآن مجید کے بارے میں نوجوانوں کے تصورات عام مسلمانوں کے تصورات سے مختلف نہیں ہیں _
* وہ سمجھتے ہیں کہ جس طرح دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی مذہبی کتابیں ہیں ، اسی طرح قرآن مسلمانوں کی مذہبی کتاب ہے _
* ان کے نزدیک محض ثواب کمانے کے لیے کبھی کبھی قرآن پڑھ لینا کافی ہے _
* وہ قرآن کا مصرف صرف یہ سمجھتے ہیں کہ حصول برکت کے لیے اس کا ایک نسخہ گھر کے کسی طاق پر رکھا ہو ، مکان یا دوکان کے افتتاح کے موقع پر قرآن خوانی کرلی جائے ، کسی کے مرنے پر ایصال ثواب کی نیت سے جمع ہوکر قرآن ختم کرلیا جائے اور کسی تنازع کو سلجھانے کے لیے قرآن پر ہاتھ رکھ کر قسم کھالی جائے _
* ان کے نزدیک قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کی ضرورت نہیں ، اس کے لیے تو 14 علوم ضروری ہیں ، ان علوم میں مہارت کے بغیر قرآن کو سمجھنے کی کوشش کی جائے تو صرف گم راہی ہاتھ آئے گی _
* حالاں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا ہدایت نامہ ہے ، جس میں دنیا میں زندگی گزارنے کا طریقہ بتایا گیا ہے _ وہ کائنات ، انسان اور خالق کے باہمی تعلق کو واضح کرتی ہے _ قرآنی تعلیمات پر عمل کرکے دنیا کے سنگین اور پیچیدہ مسائل حل کیے جاسکتے ہیں _ (یہ بھی پڑھیں کیا خواتین کی عقل کم ہوتی ہے اور دین بھی؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )

* قرآن کے بارے میں عام مسلمانوں اور خاص طور پر نوجوانوں کے مذکورہ بالا تصورات کو بدلنے کی ضرورت ہے _
* ان کو بتایا جائے کہ قرآن مجید کو سمجھ کر پڑھنا ضروری ہے _ یہ بات انہیں سمجھانی بہت آسان ہے _ وہ کتابیں پڑھتے ہیں _ ان سے پوچھا جائے کہ کیا آپ کوئی کتاب بغیر سمجھے بوجھے پڑھتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر قرآن ہی کو بے سمجھے بوجھے کیوں پڑھا جائے ؟
* انہیں بتایا جائے کہ قرآن پر عمل بھی مطلوب ہے _ یوں تو قرآن کو پڑھنے اور سمجھنے کا کام دیگر مذاہب کے لوگوں ، خاص طور پر مستشرقین نے کیا ہے ، لیکن وہ عمل سے محروم رہے ہیں _
* انہیں بتایا جائے کہ قرآن سے تعلق کا تقاضا ہے کہ اس کی تعلیمات کو عام کرنے کی کوشش کی جائے _

آخر میں میں نے اصل موضوع پر گفتگو کی اور بتایا کہ نوجوانوں کو قرآن مجید سے قریب کرنے کے لیے کیا ذرائع اختیار کیے جاسکتے ہیں؟
1_ نو عمر لڑکوں کو قصوں کہانیوں سے دل چسپی ہوتی ہے _ انہیں ایسی کتابیں دی جائیں جن میں قرآنی قصے اور واقعات آسان زبان میں بچوں کی نفسیات کو پیش نظر رکھ کر لکھے گئے ہیں _
2_ بچوں کے لیے قرآن کوئز کی کتابیں فراہم کی جائیں _ یہ بھی بچوں کی دل چسپی کی ہوتی ہیں _ ان سے ان کی قرآنی معلومات میں اضافہ ہوگا _
3_ بچوں کو آثارِ قدیمہ سے دل چسپی ہوتی ہے _ انہیں مقاماتِ قرآنی کے ویڈیوز دیے جائیں تو وہ انہیں شوق سے دیکھیں گے اور گزشتہ اقوام کے بارے میں انہیں تاریخی معلومات بھی حاصل ہوں گی _
4_ قرآن اور سائنس نوجوانوں کی دل چسپی کا موضوع ہے _ باٹنی ، زولوجی ، فزکس ، کیمسٹری ، امبریولوجی ، فلکیات اور دیگر سائنسی علوم کی کتابیں وہ پڑھتے ہیں _ انہیں ایسی کتابیں فراہم کی جائیں جن میں بتایا گیا ہو کہ ان علوم کے اشارات قرآن مجید میں پائے جاتے ہیں تو وہ انہیں شوق سے پڑھیں گے _
5_ نوجوانوں کو قرآن سننے کا عادی بنایا جائے _ عالمی شہرت کے حامل قاریوں کی تلاوت کے آڈیوز اور ویڈیوز موجود ہیں ، جن میں ہر آیت کے بعد اردو یا مقامی زبانوں میں ترجمہ بھی شامل کیا گیا ہے _
6_ نوجوانوں کو قرآن سے قریب کرنے کے لیے سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال کیا جائے _ قرآنی موضوعات پر مختصر ویڈیو کلپس تیار کیے جائیں _ جو موجود ہیں وہ انہیں فراہم کیے جائیں _
7_ قرآنی تعلیمات پر مبنی لکچرس ریکارڈ کروائے جائیں اور ان کے ویڈیوز تیار کرواکے انہیں عام کیا جائے _
8_ نوجوانوں کے لیے خصوصی طور پر اجتماعی مطالعۂ قرآن کی مجلسیں منعقد کی جائیں _
9_ پابندی سے کچھ کچھ وقفہ سے گھریلو اجتماعات منعقد کیے جائیں ، جن میں بچوں اور نوجوانوں کو شریک کیا جائے _
10_ بڑوں کو چاہیے کہ بچوں اور نوجوانوں کے سامنے قرآن مجید سے تعلق کا عملی نمونہ پیش کریں _ بچے بڑوں کو دیکھ کر ان کی نقل کرتے ہیں _ بڑے قرآن مجید سے شغف رکھیں گے تو بچوں اور نوجوانوں پر بھی اس کا اثر ہوگا _

(یہ بھی پڑھیں عورتیں تو کھیتی کے مثل ہیں – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی )

You may also like

1 comment

خدا ہے - ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی - Adbi Miras جون 8, 2021 - 2:30 شام

[…] تعلیم […]

Reply

Leave a Comment