آؤ سائنسی خط پڑھیں۔ / عبدالودود انصاری – انصار احمد معروفی قاسمی
اردو زبان میں سائنسی مضامین ذرا کم ہی لکھے جارہے ہیں۔ نیز بچوں کے لیے تو اور بھی کم تحریر کئے جاتے ہیں۔ کیونکہ بچوں کی خاطر لکھنے کے واسطے بچوں کے مزاج اور ان کی فہم کی سطح تک خود کو لانے کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ جو ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہوتی ۔ مگر کچھ لوگوں کو الله تعالٰی اس طرح کے کام کرنے کے لیے منتخب کرلیتا ہے جو بچوں کی افتاد طبع اور ان کی نفسیات سے واقف ہوکر سائنس جیسے لطیف اور مشکل موضوع پر جب قلم اٹھاتے ہیں تو اسے اس قدر سہل اور پرلطف بنادیتے ہیں کہ بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی اسے مزے لے کر پڑھتے ہیں اور اس کو سائنس نہ سمجھ کر قصہ اور کہانی کے طور پر پڑھ لیا کرتے ہیں اور اس طرح نہایت آسانی سے ان کی معلومات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اور غیر شعوری طور پر ان کا مزاج سائنس سے ہم آہنگ ہوجاتا ہے۔
یہ کسی بھی اچھے قلم کار کی مقبولیت کی علامت ہوا کرتی ہے کہ بچے اس کی ان تحریروں کے گرویدہ بن جائیں جو سائنس کے موضوع پر لکھی گئی ہوں۔ (یہ بھی پڑھیں اُردونظم میں نامیاتی وحدت ایک مطالعہ – عمیر یاسر شاہی )
ہندوپاک میں اب بچوں کے لیے ماشاءاللہ سائنس کے موضوع پر بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔ جن سے بچے استفادہ کررہے ہیں۔ ہندوستان میں تقریبا تیس سال سے جناب عبدالودود صاحب انصاری بچوں کے لیے سائنسی مضامین متواتر لکھ رہے ہیں اور اردو کے نامور رسائل میں ان کی تحریریں اہتمام سے شائع کی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ سائنسی مجلوں میں بھی محترم کے مضامین طبع ہوتے رہتے ہیں۔ ہندوستان کے سب سے بڑے سرکاری اردو ادارہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے انصاری صاحب کے اندر مستور علوم کی قدر دانی کرتے ہوئے اسے منظر عام پر لانے کے لیے قدم بڑھایا۔ اور ان کی سائنسی علوم پر مشتمل کئی کتابوں کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا۔ چنانچہ محترم کی نئی کتاب۔ آؤ سائنسی خط پڑھیں۔ ابھی حال میں شائع کی۔ اس سے پہلے 2017 ۔ میں آپ کی کتاب۔ آؤ سائنسی خط لکھیں۔۔ اسی ادارہ نے شائع کی۔ نیز سائنسی مکالمہ نگاری پر آپ کی کتاب۔ باتوں باتوں میں سائنس۔ کی بھی اشاعت عمل میں آئی۔ محترم سائنس کی اہمیت کے متعلق لکھتے ہیں ۔۔ آج سائنس کا دور ہے اور ہمارے بچوں کو بھی اس کے شانہ بشانہ چلنا ہے۔ اب بچوں کو راجا رانی۔ بھوت پریت اور پریوں کی کہانی سنانے کے بجائے سائنسی سوچ دینی ہوگی۔ آگے وہ مشہور نقاد حقانی القاسمی۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ۔ کے حوالے سے رقم طراز ہیں۔۔ آج کا بچہ دنیا کو اپنی مٹھی میں دباۓ ہم سے آگے کی دنیا دیکھ رہا ہے۔ جسے سمجھانا اب اتنا آسان نہیں رہا جتنا ہم سمجھ رہے ہیں۔ بدلتے زمانے کے ساتھ بچوں کی نفسیات بھی گڑبڑائ ہیں اور ادیب کی دشواریاں بھی بڑھی ہیں۔ بچوں کا ادب تخلیق کرنا جو پہلے بھی آسان کام نہیں سمجھا جاتا تھا۔ لیکن جتنا دشوار ہوتا جارہا ہے اتنا دشوار بھی نہ تھا۔ ( آؤ سائنسی خط پڑھیں۔ مقدمہ )
بچوں کا سائنسی مزاج بنانے اور انھیں سائنس جیسے خشک موضوع سے قریب کرنے کے لیے اساتذہ کے علاوہ سائنس نگار حضرات مختلف قسم کی کوششیں کرنے میں مصروف ہیں۔ قلم کار حضرات کبھی عام اور سادہ مضمون لکھ کر بچوں کے ذہن میں سائنسی معلومات کا ذخیرہ بھرتے رہتے ہیں۔ کبھی اسی مضمون کو دلچسپ بنانے کی خاطر کہانیوں کا سہارا ڈھونڈھتے ہیں۔ تو کچھ لوگ سائنسی مضامین کو اشعار کے قالب میں ڈھال کر بچوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ سوال اور جواب کی صورت بھی اختیار کی جاتی ہے۔
مگر مبارک باد کے قابل ہیں جناب عبد الودود انصاری صاحب جنہوں نے مکتوب نگاری کے ذریعے اس مضمون کو آسان زبان میں پیش کرکے ایک نئی جہت بخشی۔
مکتوب نگاری کیا ہے؟ ۔ دو شخص کے درمیان جو ایک دوسرے سے دور رہتے ہیں ان کے درمیان خط کے ذریعے رابطہ کو خطوط نگاری کہتے ہیں۔
خطوط نگاری کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ اگر چہ آج کے دور میں فون اور سوشل میڈیا کے عام ہوجانے کی وجہ سے اس کی جانب سے لوگوں نے اپنی توجہ ہٹالی ہے۔ جس کے باعث مکتوب نگاری کی صنف سے لاعلمی بڑھتی جارہی ہے۔ اگر یہی حال رہا تو ایسا لگتا ہے کہ نسل نو خط کی اہمیت تو کجا اس کی تعریف سے بھی نابلد ہوجائے گی،۔ شکیل احمد نے مکتوب نگاری کی اہمیت کے متعلق لکھا ہے۔۔
خطوط نگاری انسان کے تعلیم و تربیت یافتہ ہونے کا احساس بھی کراتا ہے اور اس کی عقل و دانش کی دلیل بھی بنتا ہے۔
اردو میں خطوط نگاری کی جب بات کی جاتی ہے تو ایک ایسی صنف کا تصور آتا ہے جو اپنے تئیں مضبوط بھی ہے اور کشاں کشاں بڑی اصناف ادب میں بھی شمار کی جاتی ہے بلکہ اسے اردو میں ادب میں باقاعدہ ایک فن یا ادب لطیف کی حیثیت حاصل ہے۔فنون لطیفہ میں تو اس کا شمار پہلے دن سے ہی ہے۔ خطوط میں ،خط نگار، مکتوب الیہ سے اپنے ذاتی حال احوال بیان کرتے کرتے موجودہ سیاسی، سماجی، موسمی اور فطری کیفیات کا اظہار کرنے لگتا ہے اور پھر اس کے مطابق مکتوب الیہ کے تمام احوال و کیفیات موصو ل کرتا ہے۔ یعنی خطوط نگاری اور خطوط موصولی، شخصی اظہار کا ایک بھروسے مند اور لازوال ذریعہ ہے۔ بے شمار کلام فکر، خطوط کے ذریعے احباب و متعلقین تک چلے جاتے ہیں اور ان کے جواب حاصل ہوجاتے ہیں۔
خطوط غالب اور غبار خاطر کو خطوط نگاری میں خاص مقام حاصل ہے۔
خطوط میں انسان اپنے دل کی بات بغیر لاگ لپیٹ کے آسان بناکر مخاطب کو پیش کرتا ہے۔ آج کے دور میں مکتوب نگاری کی مردہ صنف کو زندہ کرنے اور پھر بچوں میں سائنس سے محبت اور قربت کے لیے عبد الودود انصاری۔ نے۔ آؤ سائنسی خط پڑھیں۔۔ کتاب کی تصنیف کی۔ جسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نے بہترین کاغذ پر معیاری انداز میں شائع کیا ہے۔ قومی کونسل ترجیحی طور پر سائنسی کتابوں کو شائع کرتی ہے۔ تاکہ اردو زبان کے ذریعے سائنسی تحقیقات سامنے آئیں اور بڑوں کے ساتھ ساتھ بچے بھی استفادہ کریں۔
اب تک میرے علم میں سائنس نگاری کے میدان میں بچوں کے لیے کوئی کتاب سامنے نہیں آئی تھی۔ البتہ خود مصنف نے ایک کتاب 2017 میں۔ آؤ سائنسی خط لکھیں۔ لکھی جو قومی کونسل سے اشاعت پذیر ہوئی۔ جس میں قرآن اور سائنس سے لے کر برف بادل کریڈٹ کارڈ۔ جوار بھاٹا۔ ہمنگ برڈ۔ شتر مرغ۔ تربوز چھچھوندر سمیت مسلمان سائنس دانوں کی خدمات۔۔ تک اہم موضوعات پر مکاتبتی انداز میں روشنی ڈالی گئی تھی۔ زیر نظر کتاب۔ آؤ سائنسی خط پڑھیں۔ کے مصنف عبد الودود انصاری صاحب نے 105 صفحہ کی کتاب کو دو حصوں میں منقسم کیا ہے۔ جس کے اول حصہ میں۔ مسلمان بادشاہوں۔ مغل بادشاہوں اور نوبل انعام یافتہ مسلمان سائنس دانوں کی خدمات کے ذکر کے ساتھ ریاضی۔ صفر کی خصوصیات۔ سائنسی میلہ کنویں کا پانی۔ بلند ترین آواز کا کیڑا۔ پجاری کیڑا وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اور کتاب کے دوسرے حصہ میں بادل اور بارش۔ روٹی کیسے پکتی ہے؟ چاند کا گھٹنا اور بڑھنا۔ خون۔ نوری ترکیب۔ سورج اور چاند گہن۔ کلپنا چاولہ۔ اوزون پرت اور گلوبل وارمنگ جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں 1980کے بعدکی نظموں کا تہذیبی تناظر: اخترالایمان، آنند نرائن ملا ،اور احمد فراز کے حوالے سے – بلا ل احمد بٹ )
اس دوسرے حصہ میں مصنف نے اپنے مضامین کو کچھ سائنسی شعرا کی نظموں سے بھی مدلل کیا ہے۔
اس کتاب کا ایک مضمون۔ روٹی کیسے پکتی ہے؟ ہے۔ آئیے مصنف کے طریقۂ تحریر سے لطف اٹھانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھیں کہ روٹی کا نچلا اور اوپری حصہ موٹا اور پتلا کیوں رہتا ہے؟
مصنف مکتوب الیہا کو مخاطب بناکرلکھتے ہیں۔۔ عظمیٰ۔ جب روٹی کو توے پر ڈالتے ہیں تو اس کے نچلے حصہ میں موجود پانی فوراً بھاپ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ بھاپ چونکہ ہلکی ہوتی ہے اس لیے یہ اوپر کی طرف چلی جاتی ہے۔ روٹی میں گزرتی ہوئ جب یہ گرم بھاپ روٹی کی اوپری سطح پر پہنچتی ہے تو یہ اوپری سطح ایک دم گرم ہوکر سخت ہوجاتی ہے اور بھاپ کے ساتھ اوپر اٹھ آتی ہے۔ اس وجہ سے روٹی پھولتی ہوئی نظر آتی ہے۔ بھاپ میں چونکہ پوشیدہ حرارت Latent Heat ہوتی ہے اس لیے یہ اوپری سطح کو تیزی سے گرم کردیتی ہے۔ آٹے میں موجود اسٹارچ ایک دم سوکھ کر پرت بنا دیتا ہے۔ جو پتلی ہوتی ہے۔ اس طرح روٹی کی اوپری پرت پتلی اور نچلی پرت موٹی ہوتی ہے۔ صفحہ 85۔
خطوط کے انداز میں لکھی گئی یہ کتاب بچوں کو لاکر دینی چاہیے۔ جس کے مطالعے سے بچے خطوط نگاری سے واقفیت کے پہلو بہ پہلو سائنسی مضامین اور سائنسی نظموں سے بھی مستفید ہوتے رہیں گے۔ یہ کتاب قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی کے پتہ سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
Puramaruf baluwa po kurthijafarpur distt Mau up. 8853214848.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
محترم مدیر ادبی میراث
آؤ سائنسی خط پڑھیں۔ مصنف عبدالودود انصاری صاحب پر لکھے گئے میرے تبصرے کی اشاعت پر بہت بہت مبارک باد۔ ان شاءاللہ بندہ انصار احمد معروفی قاسمی۔ ادبی میراث کے ذریعے وقتاً فوقتاً اپنی تحریر ارسال کرے گا۔ شکریہ۔