ہم تو یوں شرمسار ہو جاتے
تم اگر درکنار ہو جاتے
آپ آتے نہیں اگر گھر میں
یاد میں ہم بیمار ہو جاتے
چوم لیتے اگر ہونٹ میرے
پل بھی وہ یادگار ہو جاتے
ساتھ سچ کا جو ہم نہیں دیتے
بد عا کا شکار ہو جاتے
ساتھ ماں باپ کا نبھاتے تم
آدمی شاندار ہو جاتے
کام اچھے ظفر کیے ہوتے
خوش تو پروردگار ہو جاتے
(ظفر صدیقی)
(لکھنؤ)

