Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
شاعری کے مختلف رنگ

منور رانا : ماں کا غزل میں پرچار کرنے والا شاعر – ایس معشوق احمد

by adbimiras اگست 1, 2021
by adbimiras اگست 1, 2021 0 comment

اردو  شاعری میں جو استجابت اور مرغوبیت صنف  غزل نے پائی وہ کسی اور صنف کو نصیب نہ ہوئی۔غزل میں ہر دور میں شعراء نے مختلف موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔میر ہو یاغالب ،اقبال ہو یا حسرت ،جگر ہو یا فراز ہر شاعر نے عمدہ غزلوں کی تخلیق کے ساتھ ساتھ نئے موضوعات،تجربات،احساسات  اور جذبات  کو اس میں داخل کیا ہے۔غزل صرف عورتوں سے باتیں کرنا یا محبوب کا تذکرہ کرنے  تک  محدود نہ رہی بلکہ اس میں تاریخ  ،فلسفہ ،مذہب ،روزمرہ کے مسائل غرض من کی دنیا سے لے کر  سنسار کے معاملات تک کو  جمال و کمال سے   پیش کیا گیا۔اردو شاعری میں تو ماں کا تذکرہ بہت سارے شعراء نے کیا ہے۔کسی نے مثنوی میں اپنے ماں کو خراج تحسین پیش کیا تو کسی نے نظم میں اس ہستی کی عظمت کے گن گائے  ۔کلاسکی شعراء ہوں یا ادبی دنیا کے نئے منظر نامے پر ابھرنے والے شعراء کم و بیش ہر شاعر نے ماں کی عظمت ،الفت ،محبت اور تقدس کا اظہار اپنی شاعری میں کیا ہے لیکن اردو غزل میں کم ہی شعراء ایسے ہیں جہنوں نے ماں کے مقدس وجود کی مختلف جہات کو غزل میں برتا ہے۔منور رانا ان شعراء میں ہیں جہنوں نے اردو غزل میں کثرت سے ماں کا ذکر کیا ہے۔ان کے یہاں غزلوں میں  دیگر موضوعات کے علاوہ  کثیر تعداد میں ایسے اشعار ہیں جن میں  ماں جیسی متبرک ہستی کو موضوع بنا کر ان کیفیات و جذبات کا اظہار ملتا ہے جو ایک ماں کے دل میں اپنے بچوں کے تئیں موجزن ہوتے ہیں۔ اول اول میں تو ان کی اس جدت پر اعتراضات کئے گئے لیکن اعتراضات سے قطع نظر جن خوبیوں کے ساتھ انہوں ماں کے کیفیات، دعاؤں ، عظمت، تقدس ،بڑائی کا ذکر کیا اس کو سراہا گیا۔

منور رانا کے شعری مجموعے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں چھپ کر منظر عام پر آئے ہیں۔ان کے ہندی شعری مجموعوں میں غزل گاؤں (1981ء)، پیپل چھاؤں (1984ء)، مور پاؤں (1987ء)، سب اس کے لیے (1989ء)، نیم کے پھول ( 1991ء) ، بدن سرائی(1996ء)، پھر کبیر (2007ء) ، شادابہ ( 2012ء) اور سخن سرائی (2012ء) چھپ کر لوگوں میں مقبولیت حاصل کرچکے ہیں۔ان کے اردو کے شعری مجموعوں میں کہو ظل الہی سے (2000ء)، جنگلی پھول ( 2008ء) اور منور رانا کی سو غزلیں( 2008ء) چھپ چکے ہیں۔جو شعری مجموعے ہندی اور اردو دونوں زبانوں میں چھپ چکے ہیں ان میں  گھر اکیلا ہوگیا ( 2008ء)، ماں (2005ء)، نئے موسم کے پھول ( 2009ء) اور مہاجر نامہ (2010ء) شامل ہیں۔شاعری کے علاوہ ان کی نثر میں بھی جان اور نیا پن ہے۔ان کی شاعری کے دیوانے ان کی نثری کتابوں کو بھی سر آنکھوں پر رکھتے ہیں۔انہوں نے خوبصورت نثر ، دلکش اسلوب  اور حسین انداز میں جو برزگوں کے مرقعے کھینچے  وہ  لاجواب ہیں۔ان کی نثری تصانیف میں بغیر نقشے کا مکان (2000ء) ، سفید جنگلی کبوتر (2005ء)، چہرے یاد رہتے ہیں (2008ء) اور تین شہروں کا چوتھا آدمی (2010ء) شامل ہیں۔( یہ بھی پڑھیں   امید اور حوصلے کا شاعر __ اشہر اشرف – ایس  معشوق احمد )

منور رانا کے مختلف  شعری مجموعے جو  منظر عام پر آئے ہیں ان میں ماں کے بارے میں اشعار ملتے ہیں لیکن ان کا ایک شعری مجموعہ ماں کے عنوان سے 2005 ء  میں شائع ہوا۔یہ کتاب  ” ہر اس بیٹے کے نام جسے ماں یاد ہے” کے نام کی گئی  ہے۔اس مجموعے کی محور و مرکز ماں ہے اور پورے مجموعے میں ماں ،بہن ،بھائی کے رشتوں کو شاعری میں پرویا گیا ہے۔شعراء جس دور میں غزل میں  محبوب کی جدائی، وصال ،بے وفائی ،دنیائی مسائل اور سیاست کا ذکر کر رہے تھے اور  سائنسی کی ایجادات سے لے کر معاشرے کے بدلتے ہوئے رویوں تک  نئے نئے موضوعات کو غزل میں بیان کر رہے تھے وہیں منور رانا  ماں کی عظمت،دعاؤں کا اثر ،بیٹے کے تئیں شفقت، بچوں کی نگہداشت کرنے والی شخصیت  کا بیان عمدہ پیرائے میں کر رہے تھے۔

انسانی رشتوں میں سب سے مقدس ،پاکیزہ اور مضبوط رشتہ ماں کا ہے۔ماں زمین پر اللہ کی رحمت خداوندی کا نمائندہ خاص ہے۔ماں اپنے بچے کے لیے کیا نہیں کرتی خود تکالیف اٹھاتی ہے ،دایہ بن کر بچے کی پرورش کرتی ہے،باورچن اور خادمہ کا روپ دھارن کرلیتی ہے تاکہ اپنے بچوں کا خیال اور نگہداشت کرسکے۔اپنا پیٹ کاٹ کر بچے کی خوراک کا انتظام کرتی ہے۔یوں ہی ماں کے پیروں تلے جنت نہیں ہے۔ اللہ نے قرآن میں تاکید کی ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آؤ۔ماں کا حق بہت زیادہ ہے۔اللہ نے ان تکالیف کا بھی تذکرہ کیا ہے جو ماں اپنے بچے کے سلسلے میں برداشت کرتی ہے۔ولادت کے وقت جان کنی کی مانند تکالیف سے دوچار ہوتی ہے، پیدائش کے بعد اسے دودھ پلاتی ہے، اس کی تربیت کرتی ہے، اس کے آرام کے خاطر اپنا آرام قربان کرتی ہے،اسی لیے ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے۔اس دنیا میں سب سے بڑی نعمت ماں اور اس کی دعائیں ہیں۔حضرت موسی علیہ السلام انظاکیہ سے شام جا رہے تھے۔چلتے چلتے تھک گئے تو اللہ نے وحی فرمائی میرے کلیم اس پہاڑی وادی میں میرا ایک خاص بندہ ہے اس سے سواری طلب کر۔آپ نے ایک بندے کو نماز پڑھتے دیکھا جب وہ فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: اے خدا کے بندے مجھے سواری چاہیے۔اس نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی تو بادل کا ٹکڑا آتا دکھائی دیا۔اس نے کہا نیچے آ اور اس انسان کو یہ جہاں جانا چاہتا ہے پہنچا دے۔حضرت موسی سوار ہوئے اور چل دیے۔اللہ نے فرمایا اے میرے کلیم  تمہیں معلوم ہے کہ اس کو یہ مرتبہ کیسے حاصل ہوا۔میں نے اسے یہ مرتبہ اپنی ماں کی خدمت کے صلے میں دیا ہے۔اس کی ماں نے بوقت اجل دعا مانگی تھی کہ  الہی اس نے میری ضرورت کا خیال رکھا تیرے حضور میری دعا ہے کہ تجھ سے یہ جو بھی طلب کرے عطا فرمانا۔اے موسی اگر یہ مجھ سے آسمان کو زمین پر الٹ دینے کی بھی درخواست کرے گا تو میں وہ بھی منظور کرلوں گا۔منور رانا ماں کی عظمت ،مرتبے اور  اسلامی تعلیمات سے واقف نظر آتے ہیں۔ماں کی عظمت کا بیان جو اسلامی تعلمات میں در آیا ہے اس بنیاد پر ماں سے محبت اور عقیدت رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ منور رانا نے  ماں کی محبت ،عقیدت ، مرتبے ، حرمت کی زرخیز   زمین  پر اپنی شاعری کا محل کھڑا کیا ہے۔

انسان میں کمیاں اور خامیاں ہو سکتی ہیں۔چونکہ شاعر بھی انسان ہے خلاف قیاس نہیں کہ اس کے کلام میں بھی کمیاں اور خامیاں ہوں۔کسی شاعر کے یہاں یہ دعوی نہیں ملتا کہ اس کا کلام حرف آخر ہے اور تمام فنی خامیوں اور کوتاہیوں سے پاک ہے۔ناقدین اور معترضین کسی بھی شاعر کے کلام پر اعتراضات اٹھاتے ہیں۔بعض اعتراضات حق بجانب ہوتے ہیں اور بعض مجذوب کی بڑ ثابت ہوتے ہیں۔منور رانا جب غزل میں ماں کی پرستش  اور اس کی عظمتوں اور محبتوں کو بیان کر رہے تھے تو ان  پر   بھی تنقید  ہوئی اور یہ کہہ کر تنقید کا نشانہ بنائے گئے کہ غزل کے معنی محبوب سے باتیں کرنا
ہیں،  جس کے جواب میں وہ اپنے شعری مجموعے ماں  میں” اپنی بات” کے عنوان سے ان خیالات کا اظہار کرتے  ہیں کہ____
” ہر خاص و عام لغت کے مطابق غزل کا مطلب محبوب سے باتیں کرنا ہے۔اگر اسے سچ مان لیا جائے تو محبوب ‘ ماں” کیوں نہیں ہوسکتی! کیا دنیا کے سب سے مضبوط ،سدابہار اور پاکیزہ رشتے کو غزل بنانا گناہ ہے، کیا تقدس کے ‘ پھول بستر’ پر غزل کو سلانا جرم ہے۔میری شاعری پر اکثر زیادہ پڑھے لکھے لوگ جذباتی استحصال کا الزام لگاتے رہے ہیں۔اگر اس سے درست مان لیا جائے تو پھر محبوب کے حسن و شباب، اس کے تن و توش،اسکے لب و رخسار ،اس کے رخ و گیسو، اس کے سینے اور کمر کی پیمائش کو عیاشی کیوں نہیں کہا جاتا ہے۔
اگر میرے شعر
emotional blackmailing  ہیں تو پھر __
” جنت ماں کے پیروں کے نیچے ہے”
موسی اب تو تیری وہ ماں بھی رہی جس کی دعائیں تجھے بچا لیا کرتی تھیں”
” اگر مرد کو سجدہ کرنے کی اجازت ہوتی تو ماں کے قدموں پر ہوتی”
” میدان حشر میں تمہیں تمہاری ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا”
جیسے جملے کیا بے معنی ہیں۔
میں پوری ایمانداری سے اس بات کا تحریری اقرار کرتا ہوں کہ میں دنیا کی سب سے مقدس اور عظیم رشتے کا پرچار  صرف اس لئےکرتا ہوں کہ اگر میرے شعر پڑھ کر کوئی بھی بیٹا اپنی ماں کا خیال کرنے لگے، رشتوں کی نزاکت کا احترام کرنے لگے تو شاید اس کے اجر میں میرے کچھ گناہوں کا بوجھ ہلکا ہوجائے۔”

مجموعہ ماں__ اپنی بات  از منور رانا

غزل کا دامن اتنا وسیع ہے کہ اس میں ہر موضوع کو سمایا جا سکتا ہے شرط سلیقہ اور طریقہ ہے جس سے منور رانا واقف ہیں۔اب محبوب کے لب و رخسا ر،گیسو و عارض ، کمر ،قد ،ہجر و وصال ،جدائی اور ملن کی روداد ہی غزل میں بیان نہیں ہوتی بلکہ اب تو غزل کے موضوعات میں  ساری کائنات کے علاوہ ہماری ،تمہاری بات بھی شامل  ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ منور رانا نے دیگر موضوعات جن پر ان کے معاصرین خامہ فرسائی کر رہے تھے کو اپنی غزلوں میں نہیں برتا۔غزل کے موضوعات کو وسعت دینے اور نئے نئے مضامین کو اچھے ڈھنگ سے برتنے میں منور رانا کا جواب نہیں۔جہاں انہوں نے سماجی ، سیاسی ،معاشی ، معاشرتی مسائل کی عکاسی کی وہیں ایک خاص اضافہ موضوع کے اعتبار سے یہ کیا کہ ماں کے حوالے سے مختلف موضوعات جو بن سکتے تھے ان کو صحفہ قرطاس پر اتارا۔ان کے چند اشعار دیکھیں جن میں دیگر موضوعات کو برتا گیا ہے__ ( یہ بھی پڑھیں 1980کے بعدکی نظموں کا تہذیبی تناظر: اخترالایمان، آنند نرائن ملا ،اور احمد فراز کے حوالے سے – بلا ل احمد بٹ )

چمن میں گھومنے پھرنے کے کچھ آداب ہوتے ہیں

ادھر ہرگز نہیں جانا ادھر صیاد رہتا ہے

 صرف تاریخ بتانے کے لیے زندہ ہوں

 اب مرا گھر میں بھی ہونا ہے کلنڈر ہونا

آپ کو چہرے سے بھی بیمار ہونا چاہئے

عشق ہے تو عشق کا اظہار ہونا چاہئے

ایرے غیرے لوگ بھی پڑھنے لگے ہیں ان دنوں

آپ کو عورت نہیں اخبار ہونا چاہئے

اب بڑے لوگوں سے اچھائی کی امید نہ کر

 کیسے ممکن ہے کریلا کوئی میٹھا کر لے

 خود اپنے ہی ہاتھوں کا لکھا کاٹ رہا ہوں

 لے دیکھ لے دنیا میں پتا کاٹ رہا ہوں

 خون رلوائے گی یہ جنگل پرستی ایک دن

 سب چلے جائیں گے خالی کر کے بستی ایک دن

اللہ کی طرف سے خاص اور نرالا تحفہ ماں ہے۔جس کی کوکھ سے عظیم، معتبر ،بزرگ، نجیب اور افضل ترین انسانوں نے جنم لیا۔اللہ کو جب اپنی رحمتوں ،شفقتوں،عظمتوں اور رفعتوں کا جلوہ دکھانا مقصود ہوا تو انہوں نے ماں جیسی ہستی کا چناؤ کیا جو نہایت مہربان ،شفیق اور محبت کی انتہائی پاکیزہ مثال کا مجسمہ ہے۔اس کی آغوش درسگاہ ہے اور خوشنودی باعث نجات۔دنیا کی کسی دوا میں وہ تاثیر نہیں جو اس کی دعا میں ہے۔ہر دکھ کا مداوا، ہر پریشانی کا حل، ہر مصیبت کی نجات اور ہر کرب سے چھٹکارا اگر کوئی چیز دلا سکتی ہے تو وہ ماں کی دعا ہے۔ہر مذہب میں اس کا احترام اور عظمت مسلم ہے۔اس کی عزت وشرف ،حرمت اور توقیر سے کسی کو انکار نہیں کہ یہ سراپا اخلاص  اور محبت کا پیکر ہے۔ماں ہی ہے جو اپنے اولاد کے لیے سو تکلیفیں اٹھاتی ہے۔خود اذیت برداشت کرتی ہے لیکن اپنی اولاد کو ایذا میں نہیں دیکھ سکتی۔اولاد کے لیے منتیں کرتی ہے ،خدا کے حضور رو رو کر دعا کرتی ہے اور حتی الامکان کوشش کرتی ہے کہ اپنی اولاد کو غموں ،مصیبتوں، پریشانیوں اور دھوپ چھاؤں سے محفوظ رکھ سکے۔اس کی دعا میں اثر اور تاثیر ہے جو اولاد کی دنیا اور آخرت سنوارنے کی طاقت رکھتی ہے۔واقعہ ہے کہ اللہ تعالی نے  حضرت سیلمان علیہ السلام سے فرمایا کہ سمندر کی طرف جائیں۔آپ نے اپنے وزیر حضرت آصف کو ساتھ لیا اور سمندر کے قریب پہنچے پر کچھ نظر نہ آیا۔حضرت سیلمان علیہ السلام نے آصف کو حکم دیا کہ سمندر میں غوطہ لگائیں۔انہوں نے حکم کی تعمیل کی تو انہیں سمندر میں عجیب و غریب گنبد نظر آیا۔اس عمارت میں چار دروازے موتی، یاقوت، جواہر اور زبرجد کے  بنے ہوئے پائے اور سبھی کھلے پڑے ہیں لیکن قطرہ بھر پانی بھی اندر نہیں جاتا۔اس عمارت کے اندر ایک حسین و جمیل نوجوان عبادت میں مصروف پایا۔حضرت سیلمان علیہ السلام اس کے پاس گئے اور حال معلوم کیا۔نوجوان نے بیان کیا کہ حضور میرا باپ اپاہچ اور والدہ اندھی تھی۔میں نے سات سال تک ان کی خوب خدمت کی۔میری والدہ نے انتقال سے قبل میرے لیے دعا کی کہ الہی اس کو اپنی عبادت کے لیے طویل عمر عطا کر اور ایسی جگہ عطا کر جو نہ زمین میں ہو نہ آسمان میں۔ یہ سب ماں کی دعا کی برکت ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں وحید الہ آبادی کی غزلوں میں حسن و عشق – مہر فاطمہ )

ہر بچے کو اپنی ماں سے لگاو ہوتا ہے اور  ماں کا اپنے بچے  سے انس و محبت رکھنا فطری ہے۔ماں اپنے بچے پر جی جان وارتی ہے ،اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتی ہے۔جب بچہ پیدا ہوتا ہے اس وقت سے ہی اپنی دعاؤں کے سائے اس پر کئے رکھتی ہے۔بچہ اٹھا کھڑا ہوجائے تو دعا اور بیٹھ جائے تو دعا،سفر پر جانا ہو یا کسی کام کی شروعات کرنی ہو ماں کی زبان دعائیں دیتے دیتے نہیں تھکتی۔
چونکہ ماں اپنے بچہ کی شفیق اور مہربان ہوتی ہے وہ اپنے اولاد کے لیے دل سے دعائیں کرتی ہے اور دل سے کی ہوئی دعائیں بارگاہ الہی میں جلدی قبول ہوجاتی ہیں۔ماں کی دعا سے ہر مصیبت اور مشکل ٹل جاتی ہے۔اولاد کی قسمت سنور جاتی ہے۔ماں کی دعا اپنے بچے کے لیے برکتوں  اور رحمتوں کے نزول کا سبب بنتی ہے۔منور رانا نے اپنی غزلوں میں ان دعاؤں کو موضوع بنایا جو ماں اپنے اولاد کے لیے مختلف وقتوں میں کرتی ہے۔ماں کی دعائیں مصیبتوں  ،حادثوں، بلاؤں اور تکلیفوں کے سامنے ڈٹ کر انہیں پسپا کرتی ہیں۔یہ دعاؤں کا حصار ہر بلا اور مصیبت سے حفاظت کرتا ہے__

بھیجے گئے فرشتے ہمارے بچاؤ میں
جب حادثات ماں کی دعا میں الجھ پڑے

جب کشتی میری سیلاب میں آجاتی ہے
ماں دعا کرتے ہوئے خواب میں آجاتی ہے

گھیر لینے کو مجھے جب بھی بلائیں آگئیں
ڈھال بن کر سامنے ماں کی دعائیں آگئیں

حادثوں کی گرد سے خود کو بچانے کے لیے
ماں ہم اپنے ساتھ بس تیری دعا لی جائیں گے

ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ نہیں ہوگا
میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

ماں بچوں کی خوشی سے خوش اور ان کے غم  سے غمگین ہوتی ہے۔ماں کی حقیقی خوشی اپنے لخت جگر کو خوش اور پر مسرت دیکھ کر ہوتی ہے۔وہ اپنے بچے سے ناراض نہیں ہوتی نہ ہی اس کے لیے بددعا کرتی ہے ۔وہ اپنے سارے غم اپنے بچے کو دیکھ کر بھول جاتی ہے۔منور رانا نے ان تمام کیفیات کو اپنے اشعار میں پرویا ہے جن کو ماں محسوس کرتی ہے جب اس کا بیٹا اس کے سامنے اور خوش و شادماں ہو۔اس کی تھکن مسرت میں بدل جاتی یے جب ماں اپنی اولاد کو دیکھتی ہے۔

دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے
مقدس مسکراہٹ ماں کے ہونٹوں پر لرزتی ہے
کسی بچے کا پہلا سپارا ختم ہوتا ہے

لبوں پہ اس کے کبھی بد دعا نہیں ہوتی
بس ایک ماں ہے جو مجھ سے خفا نہیں ہوتی

ماں سے گھر کی رونق ہوتی ہے۔گھر میں چہل پہل اور حقیقی خوشی اسی سے ہے۔وہ گھر پر رونق ہوتا ہے جس گھر میں ماں کی ممتا اور وجود ہو۔وہ گھر غموں کے اندھیر سے دور اور خوشیوں کی روشنی سے قریب ہوتا ہے ۔ماں کے وجود سے گھر میں اجالا اور تابندگی ہوتی ہے۔اولاد جب تک گھر نہیں لوٹتی ماں اس کے لیے دعا گو رہتی ہے۔

اے اندھیرے دیکھ لے منہ تیرا کالا ہوگیا
ماں نے آنکھیں کھول دی گھر میں اجالا ہو گیا
یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
میں جب تک گھر نہ لوٹوں ماں سجدے میں رہتی ہے

ماں کی دعائیں ڈھال بن کر ہی بچے کی حفاظت نہیں کرتی بلکہ  خود ماں بھی اپنی اولاد کی ہر مصیبت سے حفاظت کرتی ہے۔خود پریشانیاں سہتی ہے لیکن بچے کو اپنے آنچل میں چھپا کر ممتا کے سائے تلے آرام  پہنچاتی ہے اور ہمشیہ اپنے اولاد کا ساتھ ہر دکھ سکھ میں دیتی ہے۔

ہوا دکھوں کی جب آئی خزاں کی طرح

مجھے چھپا لیا مٹی نے مری ماں کی طرح

اب بھی چلتی ہے جب آندھی کبھی غم کی رانا
ماں کی ممتا مجھے بانہوں میں چھپا لیتی ہے
مصیبت کے دنوں میں ماں ہمشیہ ساتھ رہتی ہے
پیمبر کیا پریشانی میں امت کو چھوڑ سکتا ہے۔

بچے جب بڑے ہوجاتے ہیں۔ان کی شادیاں ہوجاتی ہیں اور نوبت یہاں تک آن پہنچتی ہے کہ گھر  تقسیم ہوجاتا ہے تو  ماں اکثر چھوٹے بھائی کے حصے میں آتی ہے۔یہ اس کے لیے رحمت کا سبب ہے اور  باقی بھائیوں کے لیے طنز کہ___
کسی کو گھر ملا حصہ میں یا کوئی مکاں آئی
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا میرے حصے میں ماں آئی

اولاد کو بھی اپنی ماں سے محبت اور شفقت ہوتی ہے۔ماں کی صورت دیکھنا جنت کے دیدار کے برابر لگتا ہے۔اس کیفیت کو منور رانا نے اس انداز میں بیان کیاکہ  

مجھے بس اس لیے اچھی بہار لگتی ہے

کہ یہ بھی ماں کی طرح خوشگوار لگتی ہے

مختصر یہ کہ منور رانا نے اپنی شاعری کے ذریعے ماں کی ممتا، دعاؤں ، کیفیات، جذبات اور رشتہ شفقت کو بڑے موثر انداز میں پیش کیا ہے۔ان کی شاعری کو پڑھ کر ماں سے عقیدت اور محبت میں اضافہ ہوتا ہے ۔جو ماں کی ممتا اور  قربانیوں کو بھول گیا ہے اگر وہ ان  کی شاعری کو پڑھے گا تو یقینا وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوگا۔موجودہ دور میں جہاں ماں باپ کے ساتھ ناروا سلوک کیا جاتا ہے وہاں ایسی شاعری  کی قدر و منزلت اور بڑھ جاتی ہے جو سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین اخلاقی اقدار کا پرچار کرتی ہو۔ ( یہ بھی پڑھیں اُردونظم میں نامیاتی وحدت ایک مطالعہ – عمیر یاسر شاہی)

آنکھوں سے مانگنے لگے پانی وضو کا ہم

کاغذ پر جب بھی دیکھ لیا ‘ ماں ‘ لکھا ہوا

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

ایس معشوقمنور رانا
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
محمد عالم قاسمی
اگلی پوسٹ
غزل – ظفر صدیقی

یہ بھی پڑھیں

 اردو شاعری میں سہرا نگاری اور’’ضیائے حنا‘‘ کا...

دسمبر 7, 2025

کوثر مظہری کے شعری ابعاد – محمد اکرام

نومبر 24, 2024

سہسرام کی سلطنتِ شاعری کا پہلا شاعر (سولہویں...

ستمبر 22, 2024

جگر شناسی کا اہم نام :پروفیسر محمد اسلام...

ستمبر 13, 2024

شاعری اور شخصیت کے حسن کا سنگم  :...

اگست 22, 2024

شاعری اور عریانی – عبادت بریلوی

مارچ 21, 2024

سلیم انصاری کا شعری رویہ – ڈاکٹر وصیہ...

مارچ 12, 2024

آصف شاہ کی شاعری میں انسان کا شناختی...

دسمبر 2, 2023

علامہ اقبال کی حب الوطنی اور قومی یکجہتی –...

نومبر 8, 2023

صبیحہ سنبل کا شعری نگارخانہ – حقانی القاسمی

نومبر 7, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں