یہاں پر کوئی خدا نہیں ہے
کوئی کسی سے جدا نہیں ہے
ہوا بھی سب کی ایک سی ہے
غذا بھی سب کی ایک سی ہے
دلوں کی دھڑکن ایک سی ہے
خون کی رنگت بھی ایک سی ہے
تو پھر غر ور کیوں کر ہوا ہے دل کو
انا کے بادل نے کیوں چھوا ہے دل کو
یہ چلن نہیں روا ہے دل کو
کچھ بھاتا نہیں خدا کے سوا ہے دل کو
اسی کی ہے شانِ کبر یائی
اسی کے لئے ہے سب ربا عی
بنو سب اسی کے داعئ
اسی میں ہے سب کی رہا ئی
چلو پھر سب ایک ہو جائیں
ایک دوسرے کے کام آئیں
ظلمتوں کو ہم مل کر ہٹا ئیں
دوسروں کے دکھوں کو کھائیں
یہاں پر کوئی خدا نہیں ہے
کوئی کسی سے جدا نہیں ہے
شیبا کوثر ( آ رہ، بہار )انڈیا ۔

