اپنے گلدان کی زینت کو بڑھانے کے لیے
تم نے جو پھول چنے
ان کی نکہت پہ، تبسم پہ نہیں جاؤں گا
نہ ہی انگشت اٹھاؤں گا کبھی رنگت پر
سب کو معلوم ہے یہ پھول کہاں سے آئے
یہ جو قطرے سے نظر آتے ہیں پنکھڑیوں پر
عضو بیمار کے ناگاہ تقاطر کی طرح
جن کو شبنم، کبھی موتی بھی کہا ہے تم نے
در حقیقت یہ عرق ہاے انفعال ہیں سب
جی حضوری میں جو ماتھے پہ ابھر آئے ہیں
وادی گل میں بھٹکتے ہوئے گمراہی سے
تم نے بس پھول چنے وہ جو سر دامن سے
خار کی طرح چمٹ جائیں، سر راہ بچھیں
خود بخود اٹھ کے تری گردن مینائی میں
ڈال دیں ہار، برس جائیں گھٹا کی صورت
سوچئے آپ نے گلدان میں جو پھول رکھے
واقعی آپ نے رکھے ہیں یا خود آے ہیں؟
یا کسی جبر نے رکھوائے ہیں کمزوری میں؟
ہاں اگر آپ نے رکھے ہیں تو کیا ہی کہنا
کتنے معصوم مرے یار کے پیرائے ہیں
تم نے گلدان کی بے آب زمیں کے اندر
خوب سے خوب، بہت خوب گل کھلائے ہیں
فیضان الحق
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئ دہلی

