میرٹھ ــ: 2؍ ستمبر2021
’’اردو ادب میں چاہے مرثیہ ہو یا قصیدہ ،غزل ہو یا دیگر اصناف ادب۔ ہر صنف میں واقعۂ کربلا کے عناصر ملتے ہی نہیں بلکہ ہما رے ذہنو ں کو جھنجھوڑتے بھی ہیں۔اقبال،غا لب ،میر نسیم ،سودا،ذوق وغیرہ ہر ایک نے اپنے کلام میں لوگوں کوقربانی دینے کا درس دیا ہے۔‘‘یہ الفاظ تھے ڈا کٹر تقی عابدی کے جو شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن( آیو سا) کے زیر اہتمام یک روزہ عالمی ویبینارو سیمینار بعنوان’’ واقعہ کربلا کی ادبی اور عصری معنویت ‘‘پر منعقد ویبینار میں کلیدی خطبہ پیش کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ’’ اقبال کی نظم اٹھائیے یا دیگر شعرا کے مرثیے و قصائد کا مطالعہ کیجئے آ پ کو جا بجا میدان کربلا کے عناصر اور حق و باطل کی مزید جھلکیاں نظر آئیں گی۔‘‘ محترم عارف نقوی نے واقعہ کربلا کے سانحہ پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج کے نوجوان ادبا و شعرا کی تخلیقات میں بھی جھوٹ اور سچ کے نقوش مل رہے ہیں جن کا تعلق واقعۂ کربلا سے جاکر ملتا ہے۔ہمیں واقعہ کربلا کو یاد کرتے ہوئے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔اس سے قبل پہلے سیشن کا آغاز سعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ صدارت کے فرائض معروف ادیب محترم عارف نقوی،جرمنی (سرپرست،آیوسا) نے اداکیے جبکہ استقبالیہ ڈاکٹر شاداب علیم اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر عابد حسین حیدری نے انجام دیے۔مہمان ذی وقار کے بطور پروفیسر ناشر نقوی، امروہہ شامل رہے۔
دوسرا سیشن12:00؍بجے سے1:30 بجے تک آن لائن جاری رہا اور دوسرے سیشن کی مجلس صدارت پر پروفیسر غلام ربانی،ڈھاکہ یونیورسٹی، بنگلہ دیش،پروفیسر کوثر مظہری ،جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی،پرو فیسر انور پاشا،جے این یو،دہلی پرو فیسر شبنم حمید، الہ آباد یو نیورسٹی اور فہیم اختر،لندن رونق افروز رہے۔ اور مقررین کے بطور پروفیسر ریاض احمد،جموں یونیورسٹی،مولا نا اطہر کاظمی، میرٹھ، مولا نا عباس باقری،حیدر آباد شریک رہے ۔دوسرے سیشن میں استقبالیہ اور نظامت کے فرائض باالترتیب ڈاکٹر شاداب علیم، ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور فرح ناز نے بخوبی انجام دیے۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مولانااطہر کاظمی نے کہا کہ اردو ادب سے کربلا کو نکال دیں تو اخلاقی احکام ختم ہو جائیں گے۔انسانی قدرے ختم ہو جائیں گی۔مولا نا باقری نے کہا کہ مرثیوں اور قصیدوں میں واقعۂ کربلا کے نقوش لوگوں کو ہمیشہ انسانیت کا درس دیتے رہیں گے۔
پروفیسر انور پاشا نے کہا کہ زندگی کے ہر لمحے کے لیے واقعۂ کربلا کی معنویت برقرار رہے گی۔ باضمیر لوگ اس واقعے سے لوگوں کے ضمیر کو جگانے کا کام کرتے ہیں۔انسانوں کی جما عت میں واقعہ کربلا کی روشنی ملتی رہے گی۔
لندن سے فہیم اختر نے کہا کہ واقعۂ کربلا کا پیغام شعبوں سے نکل کر عوام تک جانا چاہئے اور آج کے پس منظر میں تو یہ اور بھی ضرور ی ہو جاتا ہے کیونکہ آج حق اور باطل میں فرق ختم ہو تا جارہا ہے۔
بنگلہ دیش سے پروفیسر غلام احمد ربانی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ ہمیں واقعۂ کربلا سے درس لینا چاہئے خواہ کیسے بھی حالات آئیں حق و باطل میں تمیز کرتے ہوئے حق اور سچ کے لیے قربانی کے لیے تیار رہنا چاہئے۔ پرو فیسر شبنم حمید نے کہا کہ ہم واقعۂ کربلا کی تعلیم و تاریخ کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور اس واقعہ سے صبر کر نے کی عادت کو عام کرنا چاہئے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پروفیسر کوثر مظہری نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ واقعۂ کربلا ایک ایسا حادثہ ہے جس کے کرداروں میں حوصلہ اپنا اہم کار نامہ انجام دیتا ہے۔ہر زمانے میں کوئی نہ کوئی کردار ہو تا ہے۔کربلا کے سانحہ کے کردار بھی انسانی ہمدردی کی تعلیم دیتے ہیں۔
تیسرا سیشن2:30؍بجے سے 4:00بجے تک شعبۂ اردو ،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی، میرٹھ کے پریم چند سیمینار ہال میںآف لائن منعقد ہو ا جس کی مجلس صدارت پر پرو فیسر اسلم جمشید پوری،صدر شعبہ اردو،پروفیسر نوین چندر لوہنی،ڈین فیکلٹی آف آرٹس،ڈاکٹر جمال احمد صدیقی،ڈپٹی لائبریرین جلوہ افروز ہوئے ۔مہمانان ذی وقار کے بطور ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی،بھارت بھوشن شرما نے شرکت کی جب کہ مقالہ نگاروں میں ڈاکٹر فرحت خاتون نے’’ اسلم جمشید پوری کے افسانوں میں واقعات کربلا‘‘،ڈاکٹر عفت ذکیہ، اسماعیل گرلز ڈگری کالج،نے ’’منظر کاظمی کے افسانے ایک کجلائی ہوئی شام میں علامات کربلا‘‘ اورشوبی زہرا نقوی، ریسرچ اسکالر، سی سی ایس یو، نے’’جدید اردو غزل میں عصر حاضر کی عکاسی کربلا کے خصوصی حوالے سے‘‘ عنوانات پرپُرمغز مقالات پیش کیے۔
پروگرام کے آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر ہاشم رضا زیدی نے کہا کہ کربلا ایک ایسی لکیر ہے جو حق و باطل کے معرکے کا ایک نشان بنا رہے گا۔ اسلام میں تحقیق واقعہ کربلا کے بعد ہی شروع ہوئی۔ ہمیں اس واقعے سے حق اور باطل کے فرق کو محسوس کر نا چاہئے
مقالات پر اپنے خیا لات کا اظہار کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا۔ آج کے زمانے میں ہر ظا لم جب ظلم کرتا ہے تو یزید یاد آتا ہے جب بھی مظلوم پر ظلم ہو تا ہے تو واقعۂ کربلا کو یاد کر نا چاہئے۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہمیں حق بات کہنے کا بھی حوصلہ رکھنا چاہیے۔ یہی وقت کا تقا ضا ہے۔آخر میں ریسرچ اسکالر گلناز نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اس مو قع پر ڈاکٹر ہما مسعود،ڈاکٹر عابد زیدی، ایڈ وکیٹ سر تاج احمد ،مدیحہ اسلم اور طلبہ و طالبات موجود رہے۔

