Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

تخلیقی نثر کے فروغ میں جامعہ کا حصّہ – حقانی القاسمی

by adbimiras ستمبر 3, 2021
by adbimiras ستمبر 3, 2021 1 comment

اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا کردار بہت اہم ہے کہ اس ادارے نے ابتدا ہی سے اردو کو اپنا ذریعہ تعلیم بنایا ۔ اس کے مقاصد میں اردو کی خدمت بھی شامل ہے۔ اسی لیے ابتدائی دور میں جامعہ میں دفاتر کی زبان اردو تھی۔ایجنڈہ ،خط وکتابت اور مراسلت اردو میں کی جاتی تھی ۔اردو جامعہ کی تہذیب کا حصہ تھی۔فروغ اردو کے لیے جامعہ نے بہت سے ایسے اقدامات کیے جن کے ثمر بخش نتائج برآمد ہوئے ۔ پیامِ تعلیم، جوہر جیسے رسالوں کی اشاعت اور مشاعروں کے انعقادنے ادبی ذوق و شوق کو مہمیزکیا اور ترجمے کے ذریعے اردو زبان کی وسعتوں میں اضافہ بھی ہوا۔اردو زبان کے تعلق سے  جامعہ کی ایک بڑی خدمت یہ تھی کہ مدرسہ شبینہ کے ذریعے اردو زبان کو ان افراد تک بھی پہنچایا جو ناخواندہ یا نیم خواندہ تھے ۔جگہ جگہ اردو کے مراکز قائم کیے گئے اور پوسٹر، پمفلٹ کے ذریعے لوگوں کو بیدار کیا گیا ۔ اس طرح دیکھا جائے تو اردو کی جڑوں کو مضبوط کرنے میں جامعہ ملیہ کا ناقابل ِ فراموش اور مثالی کردار رہا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں جامعہ ملیہ  اسلامیہ:دیار شوق میرا- قرۃ العین )

جامعہ سے وابستگان کی ایک بڑی تعداد ایسے افراد کی رہی ہے جنھیں اردو زبان و ادب سے جنون کی حد تک عشق رہا ہے اورشاید اسی عشق کا ثمرہ ہے کہ جامعہ نے بہت سے اردو مصنفین  پیدا کیے جن میں سے کچھ افراد کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شہرت اور شناخت حاصل ہے خاص طور پر علمی نثر کے میدان میں دیکھا جائے تو یہاں ایک کہکشاں نظر آتی ہے ۔ کئی بڑے نام علمی نثرکے حوالے سے سامنے آتے ہیں ۔ڈاکٹر ذاکر حسین ، پروفیسر محمد مجیب، ڈاکٹر سید عابد حسین ، مولانااسلم جیراج پوری ،نور الرحمٰن، مولانا عبد الحئی، مشیر الحق، ضیائ الحسن فاروقی، عبد اللطیف اعظمی، شمس الرحمٰن محسنی، منظر اعظمی، سعید انصاری ،وقار عظیم، گوپی چند نارنگ، تنویر احمد علوی،عنوان چشتی، مظفر حنفی، حنیف کیفی، قاضی عبیدالرحمن ہاشمی، وہاج الدین علوی، شمس الحق عثمانی، عظیم الشان صدیقی، پروفیسر محمد ذاکر وغیرہ۔مگر تخلیقی نثر کے حوالے سے نام زیادہ نہیں ہیں۔شاید جامعہ کا ارتکاز علمی نثر پر زیادہ رہا اسی وجہ سے جامعہ میںتخلیقی نثر پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ۔ اس کی ایک وجہ پروفیسر مجیب رضوی کے درج ذیل اقتباس سے سمجھ میں آتی ہے :

’’جامعہ کے قیام کے وقت اردو‘‘ صحافت کی زبان تھی لیکن اس سے تبلیغ کا ہی کام لیا جاتا تھا۔ اس زبان میں خطابت اور ولولہ انگیزی کا زور تھا، مذہب کے میدان میں مناظرے کے لیے اردو استعمال ہو رہی تھی۔ مجلسوں اور جلسوں میں قصیدے کی زبان رائج تھی۔ شعر پر ستی کی لت کی بدولت نثر میںبھی جابجا اشعار استعمال کیے جاتے تھے اور شعر کے مصرعے اور ان کے ٹکڑوں کے جوڑ سے نثر نگاری کی جاتی تھی، شعر ا کی گڑھی ترکیبوں اور استعمال کیے ہوئے استعاروں کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا جاتا تھا۔ اس طرح اردو غلو اور لفاظی سے پر تھی لیکن جامعہ کو ابلاغ کی زبان درکار تھی کیوں کہ انھیں عوام تک علم کی روشنی پہنچانی تھی۔ اس لیے ضروری تھا کہ اردو نثر کو شعرپرستی سے نجات دلائی جائے۔ اسے مبالغہ سے پاک کر کے اس میں Exactness پیدا کی جائے، الفاظ کا غیر ضروری استعمال ترک کیا جائے اور انھیں خاص مطالب کے اظہار کے لیے استعمال کیا جائے‘‘

جامعہ میں ابلاغ کی زبان پر زیادہ زور رہا اس لئے تخلیقی نثر جامعہ کے ترجیحی دائرے میں نہیں آسکی کہ تخلیقی نثر میں تشبیہ و استعارے ،رمز و کنائے کا استعمال زیادہ ہوتا ہے اور اس میں لطفِ بیان اور جمالیاتی حظ پر بھی زیادہ توجہ دی جاتی ہے ۔ تاثیرمیں شدت پیدا کرنے کے لیے جذبے اور تخیل سے بھی کام لیا جاتا ہے۔ اس طرح کی تخلیقی نثر سے جامعہ کا زیادہ اعتنا نہیں رہا کہ جامعہ کا بنیادی مقصدتعقل اور تفکر رہا ہے ۔ جامعہ نے زبان کے افادی پہلو کو مرکزیت دی ہے اسی لیے جامعہ میں تخلیقی نثر کو اس طور پر فروغ نہیں مل سکا۔ اس خالص نثر پر زیادہ زور رہا جس کی معاشرے اور سماج کو ضرورت تھی۔ تخلیقی نثر شاید جامعہ کے مزاج سے زیادہ ہم آہنگ بھی نہیں تھی کہ بنیادی طور پر بقول پروفیسر منظر عباس نقوی ’’یہ غیر خالص اور مخلوط نثر ہے‘‘۔وہ اپنے مضمون ’نثر نظم اور شعر‘ ’’میں لکھتے ہیں :

’’ نثر کی غیر خالص یا مخلوط صورتیںکئی ہیں اگر نثر نگار کا ذہن شعریت کی طرف مائل ہے تو لا محالہ نثر میں بھی انھی تمام طریقوں سے کام لے گا جو شاعری میںرائج ہیں مثلاً تشبیہیں، استعارے ،تلمیحات وغیرہ اور نتیجتاً لازمی طور سے اس کی نثر میں ایک شاعرانہ رنگ پیدا ہو جائے گا۔ یہی وہ نثر ہوتی ہے جس کو ہم بغرض ِ سہولت شاعرانہ نثر کہہ سکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی نثر نگار اپنی تحریروں میں خطابت کی تکنیک سے کام لیتا ہے مثلاً استفہامیہ جملے، مترادفات، فقرات کے در و بست میں توازن یا تضاد وغیرہ کا اہتمام تو اس کی نثر خطابت نہ ہوتے ہوئے خطیبانہ نثر کہلائے گی۔ نثر کی انہی غیر خالص یا مخلوط صورتوں کو بالعموم تخلیقی نثر کا نام دیا جاتا ہے۔ یقینا یہ نثر شعری یا خطیبانہ عناصر کے امتزاج سے خالص نثر کے مقابلے میں زیادہ با مزہ اور زیادہ با کیف ہوتی ہے اس کے باوجود ہم یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتے کہ آج اردو زبان کے فروغ اور اس کے وزن و وقار میںاضافے کے لیے ہمیں جس نثر کی ضرورت ہے وہ بس وہی ہے جس کو ہم نے خالص نثر سے تعبیر کیا ۔‘‘

پروفیسر شہناز انجم نے بھی اپنی کتاب ’’ادبی نثر کا ارتقا‘‘میں تخلیقی نثر کے حوالے سے لکھا ہے کہ :

’’تخلیقی نثر کی زبان میں سادہ ادبی نثر کے مقابلے میںزیادہ شیرینی ،گھلاوٹ اور کیف پایا جاتا ہے۔ یایوں کہئے اس میں جمالیاتی عناصر کی فراوانی ہوتی ہے۔ شاعرانہ زبان کے عناصر اور خطیبانہ بیانیہ نثر کے اجزا بھی پائے جاتے ہیں ۔ اس میںلطیف آہنگ اور تسلسل بھی موجود ہوتا ہے۔ ‘‘

شمس الرحمٰن فاروقی بھی کہتے ہیں کہ:

’’تخلیقی نثر میں اجمال اور موزونیت کو چھوڑ کر شعر کے دوسرے خواص ہوتے ہیں۔‘‘

پروفیسر مرزا خلیل بیگ نے بھی تخلیقی نثر کے حوالے سے بڑی اہم بات کہی ہے کہ:

’’ادب میں چوں کہ اطلاع رسانی سے زیادہ اظہار پر زور ہوتا ہے۔اس لیے اظہار میں طرح طرح کی جدتیں پیدا کی جاتی ہیں۔نئے نئے تلازمات اختیار کیے جاتے ہیں اور بیان کے نت نئے انداز ڈھونڈے جاتے ہیںجس سے زبان مروجہ ڈگر سے ہٹ جاتی ہے۔ اسی کو ممتاز ماہرِ اسلوبیات انکوسٹ نے ’’نارمل سے انحراف‘‘(Deviation from a norm)  کہا ہے۔ زبان کے مروجہ استعمال یا عام قاعدے سے ہٹا ہوا کوئی بھی لفظ یا فقرہ زبان کے تخلیقی استعمال کے دائرے میں آسکتا ہے اور کسی لفظ کے نئے ، انوکھے اور چونکا دینے والے استعمال کو زبان کے تخلیقی استعمال سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ زبان کے اسی استعمال ’کو فورگرواونڈنگ‘(Foregrounding) بھی کہا گیا ہے جس کی بہترین مثالیں شاعری میں دیکھنے کو ملتی ہیں، اگر نثر میں بھی یہی خوبی پیدا ہو جائے تو یہ نثر تخلیقی نثر کہلائے گی۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں جامعہ میں بچوں کی شاعری – ڈاکٹرعادل حیات )

یہ تمام باتیں قابل توجہ ہیں مگر در اصل سارا معاملہ نثر کی غیر منطقی تقسیم کا ہے ، نثر کے اسالیب اور اقسام میں اتنا خلط مبحث اور کنفیوزن ہے کہ جس کی وجہ سے نثر کی صحیح تعریف اور تقسیم بھی نہیں ہو پائی ہے۔ آج جب کہ شعر اور نثر کی سرحدیں مٹتی جا رہی ہیں تو ایسے میں کیا تخلیقی نثر کو غیر خالص یا مخلوط کہناصحیح ہوگا؟ اس پر غورو فکر کی ضرورت ہے اور یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ اردو میں کس صنف نے اپنے خالص پن (Purity) کو برقرار رکھا ہے حتیٰ کہ اب غزل جیسی خالص صنف بھی کئی خانوں میں بٹ گئی ہے ۔

تخلیقی نثر سے جامعہ کی زیادہ قربت نہ سہی مگر اتنی دوری بھی نہیں ہے کہ اس کے حوالے سے گفتگو نہ کی جا سکے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ جا معہ کے وابستگان میں تخلیقی نثر لکھنے والے تو مل جاتے ہیں مگر متعلمین ،فارغین یا فیض یافتگانِ جامعہ میں تخلیقی نثر لکھنے والوں کی تعداد کم ہے۔ جامعہ کے ارکانِ ثلاثہ ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر سید عابد حسین، پروفیسر محمد مجیب کا مزاج خالصتاً علمی رہا ہے پھر بھی تخلیقی نثر کے فروغ میں ان تینوں کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ گو کہ ان تینوں کی تحریروں میں تخلیقیت کے اعلا عناصر نہیں ہیں اور نہ ہی تخلیقی وفور اور جمالیاتی حظ سے ان کی نثر معمور ہے اور نہ ہی زبان کے وہ تخلیقی امکانات ہیں جو خالص تخلیقی نثر لکھنے والوں کے یہاں پائے جاتے ہیں پھر بھی ان کی تحریروں میں کہیں کہیں تخلیقیت کی موجیں یا زیریں لہریں نظر آتی ہیں، ان تینوں سے اعلیٰ و ارفع تخلیقیت کی توقع یوںبھی عبث ہے کہ ان میں سے ڈاکٹر ذاکر حسین سابق صدر جمہویہ ہند کا میدان معاشیات ہے ، پروفیسر محمد مجیب کا تعلق تاریخ سے ہے اور ڈاکٹر عابد حسین فلسفے سے وابستہ رہے ہیںپھر بھی یہ کم بڑی بات نہیں ہے کہ ان تینوں نے ان اصناف میں بھی طبع آزمائی کی ہے جو تخلیقی نثر کے زمرے میں آتے ہیں یعنی افسانے اور ڈرامے وغیرہ۔

ڈاکٹر ذاکر حسین (8؍فروری1897۔3مئی؍1969)کی پہچان ایک ماہر تعلیم اور معاشیات کی ہے۔ معاشی اور تعلیمی مسائل و مباحث پر ان کی کتابیں بھی ہیں۔ معاشیات: مقصد اور منہاج (ہندوستانی اکیڈمی یوپی) ان کی ایک گراں قدر تصنیف ہے۔ تعلیمی خطبات ایک بیش قیمت مجموعہ ہے۔ تعلیم و معاشیات کے علاوہ ادبیات سے بھی بہت گہری دلچسپی رہی ہے۔ شیکسپیئر، گوئٹے، سعدی، حافظ، عرفی، نظیری، غالب، جلال، اصغر و جگر، ان کے مطالعے کا حصہ رہے ہیں۔ اور ان کے پسندیدہ فنکاروں میں شامل ہیں۔ جرمن شعر و ادب کا بھی مطالعہ کیا تھا۔ انتخاب غالب (غالب کے فارسی کلام کا انتخاب ) حالی محب وطن ان کے شستہ و شائستہ ادبی ذوق کے نمونے ہیں۔ ان کا شمار ادبِ اطفال کے معماروں میں ہوتا ہے۔ ماہنامہ پیام تعلیم نئی دہلی میں ان کی کہانیاں شائع ہوتی رہی ہیں۔ کچھ کہانیاں معصوم بیٹی، رقیہ ریحانہ کے نام سے بھی شائع ہوئیں۔ ان کی کہانیوں کا ایک مجموعہ ’کچھوا اور خرگوش ‘کے عنوان سے نیشنل بک ٹرٹ آف انڈیا نئی دہلی سے شائع ہوا ہے جس میں ایم ایف حسین جیسے ممتاز مصور نے اپنی فنکاری کے جوہر دکھائے ہیں۔ ان کی کہانی ’ابو خاں کی بکری‘ بہت مشہور ہے۔ جس میں ان کی نثر کا الگ ہی انداز ہے۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’کچھ دیر جب گزر گئی تو بھیڑیا بڑھا۔ چاندنی نے بھی سینگ سنبھالے اور وہ حملے کئے کہ بھیڑئیے کا جی جانتا ہوگا۔ دسیوں مرتبہ اس نے بھیڑئیے کو پیچھے ریل دیا۔ ساری رات اسی میں گزری۔ کبھی کبھی چاندنی اوپر آسمان کی طرف دیکھ لیتی اور ستاروں سے آنکھوں آنکھوں میں کہہ دیتی اے کاش اسی طرح صبح ہو جائے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں جامعہ ملیہ اسلامیہ،رِیل اورپرانے کیمرے کی کہانی – محمد علم اللہ )

آل احمد سرور نے ذاکر حسین کی ادبی خدمات کے عنوان سے اپنے مضمون مشمولہ: فکر روشن میں لکھا ہے:

’’عام زبان سادہ ہے مگر جابجا دلکش ترکیبیں مرصع فقرے دل میں اتر جاتے ہیں اور رہ رہ کر یاد آتے ہیں۔ جذبات کا طوفان موجزن ہے مگر اظہار پر مکمل قابو ہے۔ خیالات کی بازی گری نہیں ہے۔ علم کی نمائش نہیں ہے۔ فکر انگیز خیالات اس طرح چھلکتے ہیں جیسے مینا سے آتش سیال ابل جائے۔ ‘‘

ذاکر حسین کا اپنا الگ اسلوب ہے بقول پروفیسر گوپی چند نارنگ ’ان کی نثر اردو کے بنیادی اسلوب کی مثال ہے‘۔ان کا ایک خوبصورت اقتباس دیکھئے:

’’استاد کی کتاب زندگی کے سر ورق پر علم نہیں لکھا ہوتا محبت کا عنوان ہوتا ہے۔ ‘‘

پروفیسر محمد مجیب بی۔اے۔ آکسن(1902-1985) کی شناخت ایک ممتاز مورخ اور دانشور کی حیثیت سے ہے۔ انگریزی میں جہاں ان کی بہت اہم تصنیفات ہیں۔ وہیں اردو میں تاریخ فلسفۂ سیاسیات، روسی ادب، دنیا کی کہانی، تاریخ تمدن ہند’غالب اردو کلام کا انتخاب‘  اور ’نگارشات‘ قابل ذکر ہیں۔ ان کی انگریزی تصنیفات کے ترجمے پروفیسر محمد ذاکر نے کئے ہیں۔ جن میں ہندوستانی سماج پر اسلامی اثر اور دوسرے مضامین ،تعلیم اور روایتی قدریں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ ’ہندوستانی مسلمان‘ بھی ان کی ایک تصنیف ہے۔جس کا ترجمہ محمد مہدی نے کیا ہے۔ ڈاکٹر ذاکر حسین کی سوانح بھی انہوں نے لکھی ہے۔ جس کا ترجمہ محمد طیب جامعی نے کیا ہے۔ جامعہ کے سابق وائس چانسلر، پدم بھوشن پروفیسر محمد مجیب نے افسانے اور ڈرامے لکھے ہیں۔ ان کے ڈراموں میں ’کھیتی‘ ’انجام‘ ’ہیروئن کی تلاش‘ ’دوسری شام‘ ’آزمائش‘ ’آؤ ڈرامہ کریں‘ ’حبہ خاتون‘ اور ’خانہ جنگی ‘بہت مشہور ہیں۔ ’خانہ جنگی‘ میں سرمد کی سزائے موت کو موضوع بنایا گیا ہے ۔ ’حبّہ خاتون‘ ان کا شاہکار ڈراما ہے ۔مگر ان کے ڈراموں میں بہت طویل مکالمے ہیں اور لطفِ زبان کی کمی بھی کھٹکتی ہے ۔ ان کے افسانوں کا ایک مجموعہ ’کیمیا گر‘ کے عنوان سے شائع ہوا جس میں آٹھ افسانے (کیمیا گر‘ ’خاں صاحب‘ ’نیا مکان‘ ’باغبان‘ ’باغی‘ ’چراغ راہ‘’ پتھر‘ ’اندھیرا‘)ہیں مگر زیادہ تر افسانے خشک ہیں۔ کہیں کہیں شگفتگی کی رمق دکھائی دیتی ہے۔’خانہ جنگی ‘سے کچھ اقتباسات :

’’شاہ جہاں: دارا، تم جانتے ہو کہ میں ہر طرح تمہاری مدد کر رہا ہوں مگر میں نے جو کچھ کیا ہے اسے میں کافی نہیں سمجھتا۔ میں چاہتاہوں کہ اس میدان میں جہاں تم تلوار سے فیصلہ کرنا چاہتے ہو میں جا کر مروت اوروفاداری سے فیصلہ کراؤں۔ میرے نمک خوار میرے خلاف کبھی ہاتھ نہ اٹھائیں گے، اور میں کہوں گا تو وہ سب میری وصیت پر عمل کا عہد کر لیں گے، خانہ جنگی کو کبھی گوارا نہ کریں گے۔

دارا:     خداوندِ عالم، مجھے یقین ہے کہ اورنگ زیب کی ریاکاری، آپ کی مروت اور امرا کی وفاداری پر غالب آجائے گی۔ اس نمازی کے فتنوں کا علاج صرف تلوار کر سکتی ہے۔ اگر آپ کی ذرا بھی خواہش ہے کہ میں آبرو کے ساتھ حکومت کروں تو مجھے تلوار سے اپنا حق حاصل کرنے دیجئے۔ آپ اورنگ زیب کو پوری سلطنت کا حق دار مانتے ہوں تو مجھے حکم دیجئے،میں ابھی جا کر اپنا سر اس کے قدموں پر رکھ دوں۔ حق دار کو اس کا حق مل جائے گا اور آپ کے وفاداروں کا خون نہ بہے گا۔

شاہ جہاں:         (بڑی مایوسی کے لہجے میں) اچھا دارا! جاؤ لڑو، خدا تمہیں کامیاب کرے۔

دارا:     خداوند عالم! آپ مایوس ہیں، میرے دل میں اُمیدیں موجیں مار رہی ہیں۔ آپ کے اقبال سے میں نے ایسی فوج جمع کی ہے جسے دیکھ کر اورنگ زیب کانپ اٹھے گا۔ آپ نے تمام عمر اس کی حوصلہ افزائی نہ کی ہوتی تو اس وقت وہ دارالسلطنت پر چڑھائی کرنے کی جرأت نہ کرتا، اس نے ایسی گستاخی کی ہے تو میں اسے اس کا مزا چکھاؤں گا۔ میں نے بھی سپہ گری کی تعلیم حاصل کی ہے، آپ کی عنایت سے سپہ سالاری کے مشکل سے مشکل فرائض خوبی کے ساتھ انجام دیے ہیں۔

شاہ جہاں:         دارا! اورنگ زیب بڑا ہوشیار، بڑا مستعد ہے۔ تم نے جو زمانہ اہل علم اور اہل فن کی صحبت میں گزرا ہے اس میں وہ سپاہیوں کے ساتھ رہا۔ اہل علم تمہاری قدر کرتے ہیں، سپاہی اس پر جان دیتے ہیں۔ اسے حقیر سمجھوگے تو پچھتاؤگے۔ اب بھی میری بات مان لو، مجھے اپنے ساتھ لے چلو۔

دارا:     خداوندِ عالم! آپ جس قدر اپنا مطلب واضح کرتے ہیں میرا ارادہ پختہ ہوتا جاتا ہے۔ میں اورنگ زیب سے لڑوں گا، یہ دکھانے کے لیے لڑوںگا کہ میں حق پر ہوں، یہ دکھانے کے لئے لڑوں گا کہ حق باطل پر غالب آتا ہے، یہ دکھانے کے لئے لڑوں گاکہ جنگ کے فن میں اورنگ زیب کا بڑا بھائی ہوں۔ ‘‘

اس میں ساختی متوازیت’’یہ دکھانے کے لئے لڑوں گا ۔۔۔۔۔۔‘‘ کی وجہ سے ذراسا حسن پیدا ہوگیا ہے۔

ڈاکٹر صادقہ ذکی نے ان کے اسلوب نثر کے حوالے سے لکھا ہے کہ :

’’مجیب صاحب کے اسلوب میں کہیں کہیں شگفتگی اور رنگینی کی کیفیت بھی ملتی ہے۔ تخیل کی پرواز میں وہ بات کو تشبیہات میں ظاہر کرتے ہیں۔ یہ تشبیہات یا تو کسی کردار کی نفسیات کی قدرتی مناظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ تخیل کی رنگینی اور زندگی کی ترجمانی نے ان تشبیہوں میں حسن کاری کی شان پیدا کر دی ہے۔ ‘‘

وہ یہ بھی لکھتی ہیں کہ :

’’علمی موضوعات کی سادہ، رواں اور سلیس زبان میں کہیں کہیں یہ تخلیقی نثر پارے ریگستان میں نخلستان کا سا لطف پیدا کرتے ہیں۔‘‘

مجیب صاحب کی نثر کاایک اور نمونہ دیکھئے:

’’ہر طرف سے انہیں اندھیرا گھیرے ہوئے تھا۔ ایسا اندھیرا جس میں ستاروں کی نازک شرمیلی روشنی زمین سے کہیں اوپر ہی رہ جاتی ہے۔ جیسے تیر گھنے درختوں کی شاخوں میں اَٹک جاتا ہے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں مولانا محمد علی جوہر: تعلیمی نقطۂ نظر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (آخری تحریر)- ایم نسیم اعظمی )

ڈاکٹر عابد حسین (1896-1978)کا شمار ممتاز دانشوروں اور مفکروں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت ہمہ جہت اور متنوع تھی۔ ان کی تصانیف میں’عالم اسلام میں تجدد کی تحریکیں‘ ’ہندوستانی مسلمان آئینۂ ایام میں‘ ’ہندوستانی قومیت اور قومی تہذیب کا مسئلہ‘ ’گاندھی کا ہندوستان‘ ’مکالمات افلاطون‘ ’تلاش حق‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ادبیات کے ذیل میں ان کی کتابوں میں ’بزم بے تکلف‘ ’رہ نوردِ شوق‘ ’انشائیات‘ ’اقبال کا تصور خودی‘کے نام لئے جا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر عابد حسین نے ڈرامے اور انشائیے بھی لکھے ہیں۔ ان کے ڈراموں میں ’پردۂ غفلت‘ ’معدے کا مریض‘ ’حساب اور رومان‘ قابلِ ذکر ہیں لیکن ان میں بھی فلسفہ حاوی نظر آتا ہے۔ ڈرامہ ’پردۂ غفلت ‘سے اقتباسات :

’’احمد حسین: شیخ جی، آپ کو کسی بات کا حس بھی باقی رہا ہے یا بالکل عقل نے جواب دے دیا۔ غضب خدا کا سادات کی آبرو جارہی ہے، بزرگوں کا نام مٹ رہا ہے اور آپ اسی بے فکری سے مذاق کر رہے ہیں۔

شیخ جی:   سادات کی آبرو چند بیگھہ زمین میں نہیں ہوا کرتی۔ اس کے مخزن ان کے سینے ہیں۔ اگر سیادت کا خیال ہے تو صبر اختیار کیجئے جو آپ کے بزرگوں کا شعار ہے۔

احمد حسین:                  بس باتیں بنانا آپ سے سیکھ لے۔ دوسرے کی مصیبت پر صبر کرنا بہت آسان ہے۔ آپ کو کبھی ایک بیگھہ زمین بھی نصیب ہوئی ہوتی اور پھر وہ اس طرح سربازار نیلام ہوتی تو البتہ قدر ہوتی۔۔۔ کل تک میرے نام سے اسامی تھراتے۔۔۔ صورت دیکھ کر کانپتے تھے اور اب؟ اب کوئی بات بھی نہ پوچھے گا بلکہ مجھ پر ہنسا کریں تو کوئی تعجب نہیں ہے اور تو اور یہ بینی پرشاد جس نے میری طرف سے سیکڑوں اسامیوں کی قرقیاں کیں۔۔۔ بڑی بڑی رقمیں لیں، دعوتیں چکھیں اب آج وہ میری قرقی کرنے آیا ہے۔ میں ہمیشہ سمجھا کرتا تھا کہ بڑا بھلا مانس ہے مگر معلوم ہوگیا دنیا غرض کی ہے کسی کا اعتبار نہیں۔

ڈاکٹر سید عابد کا لسانی اظہار مختلف ہے۔ ان کے اسلوب نثر کے حوالے سے قاضی عبیدالرحمن ہاشمی کی رائے بڑی اہم ہے کہ:

’’ان کے یہاں سادگی ہے مگر سپاٹ پن نہیں ہے۔ وہ نہ لفظوں کے زیاں کے قائل ہیں اور نہ پرستش کے۔ البتہ مافی الضمیر کے اظہار کے لئے ان کے یہاں لسانی انتخابیت کا عمل بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

( سید عابد حسین، ساہتیہ اکیڈمی، نئی دہلی۔1995ص۔70-71)

انور صدیقی نے اپنے مضمون ’نثر کاعارف‘ میں لکھا ہے کہ:

’’عابد صاحب کا اسلوب عالمی نثر کے معیاروں سے آج کا اسلوب ہے مگر اردو کے تناظر میں مستقبل کا اسلوب ہے۔ ‘‘

صالحہ عابد حسین کی بھی رائے ہے کہ عابد حسین نے اردو نثر کو ایک نیا اسلوب بخشا ہے۔

سید عابد حسین کی نثر میں جگہ جگہ تخلیقی ارتعاشات محسوس کئے جاسکتے ہیں۔ خاص طور پر ان کے مزاحیہ مضامین کے مجموعہ ’بزم بے تکلف‘ میں ان کے تخلیقی جوہر کھل کر سامنے آتے ہیں۔ وہ انتخاب الفاظ میں موزونیت اور برجستگی کا خاص خیال رکھتے تھے۔اس حوالے سے قاضی انیس الحق کا خیال یہ ہے کہ :

’’عابد صاحب کی سب سے بڑی کامیابی اور خوبی ان کا اسلوب بیان ہے۔ انہیں زبان پر بڑا عبور ہے اور زبان و بیان سے ظرافت پیدا کرنے میں کوئی دقت محسوس نہیں کرتے۔ اس کے نتیجے میں ان کی تحریر میں قدم قدم پر حاضر جوابی، ضلع جگت، فقرے اور لفظوں کا اُلٹ پھیر اور اسی وضع کے بے شمار دوسرے حربوں سے پیدا شدہ مزاح کے بے شمار کامیاب نمونے ملتے ہیں۔‘‘ (ڈاکٹر سید عابد حسین کے مضامین میں طنز و مزاح)

ان ارکانِ ثلاثہ نے اردو نثر کو نیا طور و طرز دیا ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور کی یہ رائے بہت بلیغ ہے :

’’عابد صاحب کی نثر میں حکمت، ذاکر صاحب کی نثر میں شعریت اور مجیب صاحب کی نثر میں ایک بلاغت ہے۔‘‘

(مجیب صاحب:شخصیت اور اسلوب مشمولہ: مجیب صاحب احوال و افکار)

ارکانِ ثلاثہ کے علاوہ تخلیقی نثر کے حوالے سے جو چند نام اہم ہیں ان میںیوسف حسین خان، مسعود حسین خان ،شمیم حنفی، مظفر حنفی، صغریٰ مہدی،شفیع الدین نیّر ،حسین حسّان، عبد الغفار مدھولی، خواجہ عبد المجید، عارف نیازی ، احسان الحق، آزاد رسول،فیاض احمد، عباس احمد، غضنفر ،صادقہ ذکی وغیرہ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کاجامعہ سے تعلیمی تو کچھ کا تدریسی رشتہ ہے ۔ تخلیقی نثر لکھنے والوں میں موجودہ عہد میں جو جامعہ کے فیض یافتگان ہیں ان میں نگارعظیم،رخشندہ روحی، نعیمہ جعفری پاشا، خالد جاوید ،کوثر مظہری،قمر سلیم، ناظمہ جبیں کے نام لیے جا سکتے ہیںکہ ان لوگوں نے جامعہ سے ہی پی ایچ ڈی کی ڈگریاں لی ہیں۔

تنقید کے میدان میں شمیم حنفی کا نام اور مقام مستحکم ہے مگر تخلیقی نثر کے باب میں بھی ان کی الگ پہچان ہے۔ انھوں نے بہت سے ڈرامے لکھے ہیں اور خاکے بھی ۔آپ اپنا تماشائی، مٹی کا بلاوا، مجھے گھر یاد آتا ہے، زندگی کی طرف، بازار میں نیند ان کے ڈراموں کے مجموعے ہیں ۔ ان ڈراموں میں انھوں نے تخلیقی زبان کا ہنر مندانہ استعمال کیا ہے۔ اسی طرح خاکوں کے مجموعے( ہم نفسوں کی بزم میں) میں تخلیقی نثر کے عمدہ نمونے ملتے ہیں۔ یہاں ان کی زبان ’جدیدیت کی فلسفیانہ اساس ‘ ’نئی شعری روایت ‘سے بالکل الگ نظر آتی ہے جو ان کا کمال ِ ہنر ہے ۔جہاں تنقیدی زبان میں ان کے یہاں قطعیت نظر آتی ہے وہیں تخلیقی زبان میں لطافت ،رعنائی اور زیبائی ملتی ہے۔ پروفیسر محمد مجیب کے حوالے سے لکھتے ہیںتوان کی تخلیقی نثر تخیل کاایک نیا جہاں آباد کرتی ہوئی نظر آتی ہے :

’’ ٹوٹی ہوئی طنابیں اور بجھی ہوئی آگ گزرے ہوئے قافلوں کی خبر دیتی ہوئی، وقت کے فاصلے کتنی ہی سچائیوں کو غبار آلود کر دیتے ہیں۔ ایسی ہی ایک سچائی شہر دلی کے ایک ویرانے میں جامعہ کا قیام تھا ۔ اس قافلے میں شامل بہت سے چہرے منظر ،موسم رخصت ہوئے کچھ آج بھی جیتے ہیں مگر تھکن سے چور اور نڈھال اپنے آپ میں گم اور بے حال دلی کتنی بار بسی اور اجڑی اور اب یہ بستی روز بہ روز پھیلتی جا رہی ہے اسی تناسب سے اجڑ بھی رہی ہے۔‘‘

غلام ربانی تاباں پر لکھتے ہوئے ان کے تخیل کی رعنائی کچھ یوں رنگ بکھیرتی ہے:

’’ بھری پری بستیوں میں تو خیر شام یوں چپکے سے آتی ہے جو اپنے بارے میں کچھ نہیں بتاتی، سورج ڈوبنے سے پہلے ہزاروں برقی قمقمے روشن ہو جاتے ہیں لیکن نیم آباد علاقوں میں شام ایک الگ تجربہ ہوتی ہے۔ ایک مہیب سائے کی صورت دھیرے دھیرے اترتی ہے تو زمین پر بکھرے ہوئے سائے ایک ایک کر کے غائب ہوتے جاتے ہیں۔تاباں صاحب جس بستی کے مکینوں میں ہیں وہاں وقت کی ہر ساعت صبح دوپہر، شام رات، حواس پر ایک تجربے کی مثال وارد ہوتی ہے اور اپنی پہچان رکھتی ہے‘‘

مظفر حنفی بھی شاعر اور تنقید نگار کی حیثیت سے زیادہ شہرت اور شناخت رکھتے ہیں مگر تخلیقی نثر سے بھی ان کا گہرا رشتہ ہے۔ ڈرامے اور افسانے لکھتے رہے ہیں چوں کہ بنیادی طور پر تخلیق کار ہیں اس لیے تخلیقیت ان کی سرشت کا حصہ ہے ۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’ اینٹ کا جواب ‘‘1967ئ میں مرکزِ ادب بھوپال سے شائع ہوا تھا جس میں مولانا منّے ،اینٹ کا جواب ،دل کے آئینے میں ہے ‘ جیسے عمدہ افسانے تھے ۔ اس مجموعے کے پیش لفظ میں فراق گورکھ پوری نے لکھا تھا کہ:

’’ اُن کے افسانوں میں زندگی کے کئی پہلوئوں کی عکاسی ہے۔ بیان نہایت سلجھا ہو اہے۔ ان میں نیا پن ہے، ان کا انداز دل کش ہے ۔ مکالمے فطری ہیں اور پلاٹ میں جدت ہے‘‘۔ افسانوں کا دوسرا مجموعہ ’دوغنڈے‘ کے عنوان سے شائع ہوا جس میں ’ستاروں کا کھیل اور الماس کا محبوب جیسے عمدہ افسانے بھی ہیں ۔ اس کا پیش لفظ کرشن چندر جیسے معتبر افسانہ نگار نے لکھا تھا اور ان کے افسانوں کی ستائش کرتے ہوئے یہ بات کہی تھی کہ:

’’ مظفر حنفی کو بات کہنے کا ڈھب آتا ہے اور افسانے کی تخلیق کے سارے لوازم معلوم ہیں۔ ‘‘

افسانوں کا ایک اور مجموعہ ’دیدۂ حیراں‘ کے عنوان سے شائع ہوا جس کا پیش لفظ کنہیا لال کپور نے لکھا اور ان کے اسلوب بیان کی داد دی اور یہ اعتراف کیا کہ ان کی سادگی میں بھی غضب کی پرکاری ہے۔ بقول ذوق:

ہے ان کی سادگی بھی تو کس کس پھبن کے ساتھ

سیدھی سی بات بھی ہے تو اک بانکپن کے ساتھ

مظفر حنفی کا ایک مشہور افسانہ ’مول گنج کی صبحیں‘ہے جو تخلیقی نثر کا بہترین نمونہ ہے۔ ایک اقتباس :

’’یہ ہے آپ کا مول گنج۔ آپ ناراض ہوں گے لیکن کہنے والی بات کہنے میں آتی ہے۔ آپ قطعاً ناوقت تشریف لائے ہیں یہاں۔ کیا ملے گا اس وقت اس جگہ؟ ہر شکل اجڑی ہوئی نظر آئے گی۔ صبح کا وقت اس چمن کا عہد خزاں ہے۔ اس گلشن میں کچھ خرام ہی کو بہار آتی ہے۔ حسین مکھڑے، رنگین آنچل، مخمور نگاہیں، دلکش ادائیں، دل پھینک لوگ اور دل رُبا نظارے تو کچھ اسی وقت مل سکتے ہیں۔ یہ بس سمجھئے کہ عشق کا بازار گرم ہوتا ہے یہاں سرشام سے جس کے گاہک نیم شب تک رخصت ہو جاتے ہیں یہاں سے اور دوکاندار صبح کاذب ہوتے ہوتے اپنی دوکان بڑھا دیتے ہیں۔‘‘

صغریٰ مہدی ناقد و محقق بھی ہیں اور فکشن نگار بھی۔ اکبر کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ ، اکبر الہ آبادی، اردو ناول میں عورت کی سماجی حیثیت ان کے اہم تنقیدی و تحقیقی مطالعات ہیں۔ دھند، پروائی، راگ بھوپالی، جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو ان کے ناول ہیں۔خواتین افسانہ نگاروں میں ان کامقام بہت بلند ہے ۔پتھر کا شہزادہ، جو میرے وہ راجہ کے نہیں، پہچان اور پیش گوئی ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ ان کے افسانوں کا موضوعاتی کینوس بہت وسیع ہے اور زبان بھی شگفتگی کا عنصر لیے ہوئے ہے۔ وہ تخلیقیت کے لوازمات کا خیال رکھتی ہیں،محاوروں اور استعاروں کا فنکارانہ استعمال کرتی ہیں۔انھوں نے آج کی زندگی کے مسائل اور موضوعات کو بڑی ہی خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ’بن باس ‘کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ماں جی کے الفاظ اس کے کان میں گونج رہے تھے۔۔۔ رام چندر جی نے اپنے ملک میں رہ کر دکھ اٹھائے ، تکلیفیں سہی، اس کی خدمت کی، ایسا راج جو ’رام راجیہ‘ کہلایا جو آج بھی ترقی یافتہ زمانے میں حکومتوں کا آئیڈیل ہے اور تم عباس ماجد یہاں پڑے ہو۔ زندگی کی آسائشیں حاصل کرنے کو، پیسہ بٹورنے کو، اپنے بچوں کا مستقبل بنانے کو۔۔۔ اس نے گھبرا کر چاروں طرف نظریں دوڑائیں ۔ سب کھڑکیاں دروازے بند تھے۔ کمرے میں زیرو بلب کی مدھم روشنی پھیلی ہوئی تھی۔ د ن بھر کی شدید محنت سے چور اس کی بیوی بے خبر پڑی سو رہی تھی اور بچے؟ اسے لگا جیسے بچے اس کے پاس کھڑے ہیں اس سے سوال کر رہے ہوں کہ رام کو بن باس کیکئی نے دیا اور ہمیں ؟‘‘

پروفیسر خالد محمود کی شناخت ایک شاعر اور ناقد کی حیثیت سے مستحکم ہے ۔’اردو سفر ناموں کا تنقیدی مطالعہ‘ ان کی بیش قیمت تحقیق ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے تخلیقی نثر سے بھی اپنا رشتہ جوڑے رکھا ہے۔’شگفتگی دل کی ‘ ان کی شگفتہ طبعی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے ۔ تنقیدی ذہن کی صلابت کے ساتھ ساتھ اس طرح کی خوش طبعی بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے مگر خالد محمود نے اپنی تحریروں میں تنقید اور تخلیق کے توازن کو قائم رکھا ہے ۔جہاں ان کی تنقید میں فکر و  فرہنگ ہے وہیں ان کی تخلیق میں جذبہ و ترنگ ہے ۔ انھوں نے جو خاکے اور انشائیے لکھے ہیں ان میں اپنی تنقیدی شخصیت سے  قدرے دوری بنائے رکھی ہے۔ عبد اللطیف اعظمی کا خاکہ لکھتے ہوئے اپنی شوخی اور شگفتگی کا مکمل ثبوت پیش کیا ہے۔وہ لکھتے ہیں :

’’ یہ تمام ہستیاں مولانا محمد علی سے لے کر پروفیسر محمد مجیب تک جامعہ میں تو اب موجود نہیں لیکن لطیف صاحب کے اندرون میں بہر حال موجود ہیں ۔ سب کی روحیں عالم ارواح کو چلی جاتی ہیں۔ ان حضرات کا عالمِ ارواح لطیف صاحب ہیں‘‘۔ اسی طرح صغریٰ مہدی کے حوالے  سے انھوں نے جو لکھا ہے اس میں بھی شگفتگی اور برجستگی نمایاں ہے :

’’صغریٰ آپا کی شوخیاں اور شرارتیں جامعہ بھر میں مشہور ہیں ۔ صغریٰ آپا اور عذرا باجی کی جوڑی کو خدا سلامت رکھے۔ ایک زمانے میں قیامت بپا کر رکھی تھی۔ کون تھا جو ان کی زدسے بچا ہو، مشاعروں میں یہ دونوں پیچھے بیٹھ کر جو ہوٹنگ کرتیں کہ اللہ میاں بھی شاعروں کا ساتھ چھوڑ دیتا۔ مرنے کے بعد شاعروں کو دوزخ میں جانا ہی ہے۔ مشاعروں میں یہ دونوں ان کی زندگی بھی دوزخ بنا دیتی ہیں‘‘

خاکے کے علاوہ ان کے انشائیوں میں بھی یہی ظریفانہ اور تخلیقی رنگ و آہنگ ہے۔

اردو دنیا کو پانی ، کینچلی ، کہانی انکل، مم، دویہ بانی ، مانجھی،وش منتھن،فسوں جیسے فکشن دینے والے غضنفر کا بھی تدریسی رشتہ جامعہ ملیہ سے رہا ہے ۔ ان کے یہاں تخلیقی نثر کے جملہ لوازم اور اوصاف ملتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیشتر ناولوں میں علامتی اور ستعاراتی اسلوب سے کام لیا ہے ۔ ان کے یہاں جو اسلوب کی شگفتگی و ندرت ہے وہ ان کی تخلیقی نثر کو اور زیادہ پر کیف بنا دیتی ہے۔ انھوں نے اپنے تمام ناولوں اور افسانوں میں زبان و بیان کے عمدہ تجربے کیے ہیں اور کہیں کہیں تو ان کی نثر میں شاعرانہ نغمگی بھی پیدا ہو گئی ہے خاص طور پر ’دویہ بانی‘ میں انھوں نے شعری اظہار سے کام لیا ہے اور بیشتر باتیں شاعرانہ رنگ میں کہنے کی کوشش کی ہے ۔وہ تشبیہیں ، استعارے جو تخلیقی نثر کا شناس نامہ ہیں، وہ ان کی بیشتر عبارتوں میں ملتا ہے۔ ذرا ان کی نثر کا یہ آہنگ دیکھئے:

’’ جیسے جیسے بالیشور کی بند آنکھوں کا عمل طویل ہوتا گیا، ویسے ویسے کائنات کے اسرار کھلتے گئے۔ فطرت بے نقاب ہوتی گئی۔ مٹی، ہوا، پانی، آگ، سورج، چاند، تارے ، سمندر، صحرا، جنگل، پہاڑ سبھی کے اوپر سے پردہ اٹھتا گیا۔ اپنے دامن میں گلستاں۔۔۔ بیاباں، میدان،کوہسار، مرغ زار، ریگ زار ،دریا، آبشار ، کھیت، چرا گاہ بسانے والی،اپنی کوکھ سے پیڑ پودا، پھول، کانٹا، گلاب، کیکڑا، گیہوں جوار، برگد، ببول، نیم ، شہتوت، ساگ سبزی، گھاس پھوس، اگانے والی مٹی اسے اپنی طرف کھینچنے لگی‘‘

نگار عظیم تخلیقی نثر کا ایک معتبر نام ہے انہوںنے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے سعادت حسن منٹو پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ ’منٹو کا سرمایہ فکر و فن‘ ان کی تنقیدی کتاب ہے۔ بہادر شاہ ظفر پر ان کا ایک مونوگراف بھی شائع ہو چکا ہے۔ ان کے افسانوں کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ عکس، گہن اور عمارت ، ان تینوں مجموعوں میں ان کے بہت سے عمدہ افسانے ہیں جن میں تخلیقیت کا جمال بھی ہے اور لطفِ بیان کا کمال بھی۔ ان کے بیشتر افسانوں میں جہاں موضوعی سطح پر تازگی ہے وہیں زبان و بیان کی سطح پر روانی اور رعنائی بھی ہے ۔ لطافت اورسلاست بھی ہے ۔ ’عکس‘ ان کا بہت مشہور افسانہ ہے جس میں ایک باپ محبوب میں بدل جاتا ہے اور اس طرح لاشعوری دنیا کی بہت سی سچائیاں سامنے آجاتی ہیں۔ عکس کا آغاز اس طرح ہوتا ہے:

’’اُف میرے خدا یہ میں نے کیا دیکھ لیا۔ میرا وجود پارہ پارہ ہو کر لرزنے لگا ہے۔ دل کی گھٹن بڑھتی جا رہی ہے ، کاش میں نے یہ سب کچھ نہ دیکھا ہوتا ۔‘‘

نگار عظیم نے ’مادری زبان‘ جیسی کہانی بھی لکھی ہے اور ’ابارشن‘ جیسا افسانہ بھی۔ انھوں نے مرد اساس معاشرے میں ہونے والے جبر و استحصال کے خلاف احتجاج بھی کیا ہے اور جنسی واردات پر مبنی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ان کی زیادہ تر کہانیاں اپنے ماحول سے جڑی ہوئی ہیں۔کھوکھلی اخلاقیات سے انھیں سخت نفور وبے زاری ہے۔ وہ گھر کی کہانیاں بھی لکھتی ہیںتو اس میں عالمی مسائل کا بیان ہوتا ہے۔ وہ خود ایک جگہ لکھتی ہیں اور بہت اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتی ہیںکہ:

’’ گھر کے اندر عالمی مسائل سے بھی بڑے مسائل پنپ رہے ہیں جس کے سبب گھر اور سماج کی بنیادیں اندر ہی اندر کھوکھلی ہوتی جا رہی ہیں۔ گھر ہی تو ہے جہاں بہو جلائی جاتی ہے، گھر ہی تو ہے جہاں غربت و معمولی شکل و صورت کی وجہ سے کنواریوں کو گہن لگ جاتا ہے۔‘‘

الفاظ کے حسن و آہنگ اور علامت کے خوبصورت تخلیقی استعمال کا ایک نمونہ دیکھیے۔‘‘

’’کرنل صاحب بہت اچھا لگا آپ سے ملاقات کرکے۔ واقعی طبیعت خوش ہوگئی۔ آپ کا گھر بھی بہت اچھا ہے۔ بہت خوبصورتی سے سجایا ہے آپ نے۔ بہت بہت خوبصورت ہے آپ کا گھر۔ آپ تشریف رکھیں میں چلتی ہوں۔ یکایک ان کے جملے نے میرے مڑتے قدم جامد کر دیئے۔

’’گھر‘‘۔۔۔۔۔۔؟ گھر کہاں یہ تو بس ایک عمارت ہے۔‘‘

مشہور فکشن نگار نورالحسنین کی رائے ہے:

’’نگار عظیم نے اپنے افسانوں میں تکنیک کے تجربے کم کئے ہیں۔ ان کے زیادہ تر افسانے تخلیقی بیانیے ہی کی نمائندگی کرتے ہیں۔ زبان و بیان پر انہیں قدرت حاصل ہے۔ ان کے افسانوں میں علامتیں اور تشبیہات بھی ملتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے ان کے افسانے گنجلک نہیں ہو جاتے بلکہ ترسیل میں معاونت کرتے ہیں۔

(نگار عظیم کی افسانہ نگاری مشمولہ اردو کی خواتین فکشن نگار آزادی کے بعد مرتبہ ڈاکٹر نعیم راہی۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی۔2018)

موجودہ عہد کے معتبر فکشن نگار ڈاکٹر خالد جاوید کا تعلیمی اور تدریسی رشتہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ہے ۔ گو کہ یہ فلسفے کے طالب علم رہے ہیں مگر 2006ئ میں انھوں نے جامعہ سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ہے۔برے موسم میں ،آخری دعوت،تفریح کی ایک دوپہر ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔ ’موت کی کتاب اور نعمت خانہ‘ ان کے مشہور ناول ہیں جن کی پذیرائی عالمی سطح پر ہوئی اور صرف اردو ہی نہیں بلکہ دیگرزبانوں میں بھی ستائش ہوئی۔ موت کی کتاب کاانگریز ی اور ہندی میں ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کی کئی کہانیاں مختلف یونیورسٹی کے نصابات میں شامل ہیں ۔ خالد جاوید کے افسانوںاور ناولوں کے حوالے سے معتبر ناقدین کی اتنی تحریریں شائع ہو چکی ہیںکہ اب ان پر مزید گفتگو تکراراور اعادہ ہی کہلائے گی بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ ا آج کے عہد میں جامعہ سے جڑے ادیبوں میں تخلیقیت کے اجزا اور افاعیل سے مرکب اور ممزوج نثر دیکھنی ہو تو خالد جاوید کے ناول بطور مثال پیش کیے جا سکتے ہیں ۔ ان کے فکشن میں تخلیقیت کی اتنی لہریں ہیں کہ ان کا شمار بھی مشکل ہے۔ جذبے اور تخیل کا اتنا خوبصورت امتزاج بہت کم ناولوں میں نظر آتا ہے۔ چند اقتباسات سے اس کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

’’چہرہ بالکل گول تھا۔ کسی چپاتی کی طرح جس پر چیچک کے جابجا نشانات تھے۔ بالکل چپاتی پر لگی ہوئی چپٹیوں کی مانند۔

ایک ایسا میدان جنگ جس میں انسان ایک دوسرے سے اپنے اپنے دانتوں ، اپنے جبڑوں اور اپنی آنتوں کے ذریعے لڑتے ہیں۔‘‘

کوثر مظہری کا جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیمی رشتہ بھی ہے اور تدریسی تعلق بھی۔ انھوں نے اسی ادارے سے 2000ئ میں ’جدید نظم حالی سے میرا جی تک ‘ کے عنوان سے پی ایچ ڈی کی ہے۔ شاعر ،نقاد اور مترجم کے علاوہ ان کی ایک حیثیت تخلیقی نثر نگار کی بھی ہے ۔ انھوں نے’ آنکھ جو سوچتی ہے‘ کے عنوان سے ایک ناول لکھا ہے جو فرقہ وارانہ فساد سے متعلق ہے ۔سیتا مڑھی فساد کے پس منظر میں انھوں نے فساد کے موضوع پر بہت عمدہ ناول لکھا ہے اور رضوان جیسے مرکزی کردار کے ذریعے بہت سے سوالات قائم کرنے کی کوشش کی ہے، ایک اقتباس دیکھئے :

’’یہ نیوز تم نے پڑھی ہے؟

ہاں پڑھی ہے مگر تم اتنے پریشان کیوں ہو‘‘

فساد ہو گیاہے۔۔۔ لوگ مر رہے ہیں۔۔۔ اور تم اتنی سرد مہری سے کہہ رہی ہو کہ ’’ہاں پڑھی تو ہے‘‘

ری لیکس۔۔۔ یہ کون سی نئی نیوز ہے۔ لوگ تو دنیا میں مرتے ہی رہتے ہیںاور یہ Communal Roitsکا ہونا تو اس دیس میں عام سی بات ہے۔ گویا روز مرہ میں شامل ہے اور جیسا کہ معلوم ہے روز مرہ کے واقعات نیوز نہیں کہلاتے(زیبا)

سیتا مڑھی کے بارے میں کوئی نیوز پڑھی تم نے؟

ہاں ،پڑھی مگر کیوں؟ خیریت؟

ارے وہاں فساد ہو گیا ہے اور تم  پوچھتے ہو کیوں؟

ایسا تو لائف میں ہوتا ہی رہتا ہے۔

زیبا تم آسمان پر چمکتے ان ستاروں کو دیکھ رہی ہو؟

ہاں میں دیکھ رہی ہوں مگر کیوں؟

کتنی خوبصورت ہے ان ستاروں کی دنیا اور کتنی بد صورت ہے ہماری دنیا کاش ہم بھی ستارے ہوتے؟‘‘

تخلیقی نثر نگاروں میں ایک اہم نام نعیمہ جعفری پاشاکا بھی ہے۔ جو جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تربیت یافتہ ہیں۔ نعیمہ صاحبہ نے جامعہ سے فرہنگ کلیات نظیر اکبر آبادی کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کیا ہے ۔ وہ آگرہ کے ایک ممتاز علمی و ادبی خانوادے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا پورا خانوادہ شعر و ادب سے جڑا ہو ا ہے۔ ان کے نانا مولانا انوارالر حمٰن بسمل جے پوری بہت مشہور و معروف ادیب و شاعر تھے جن کی بہت سی تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کے والد سید احمد علی شاہ جعفری گو کہ آئی اے ایس آفیسر تھے مگر شعر وادب کا عمدہ ذوق رکھتے تھے ۔شاعر اور نثر نگار کی حیثیت سے بھی ان کی پہچان مسلم ہے ۔ ان کے تایا علامہ میکش اکبر آبادی بہت مشہور شاعر و ادیب رہے ہیں اور والدہ نجمہ جعفری بھی صاحب ِ دیوان شاعرہ رہی ہیں۔ گویا ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ ایسے ہی علمی و ادبی ماحول میں نعیمہ جعفری کی پرورش ہوئی۔جس کا اثر ان کی شخصیت اور تخلیق میں بھی نظر آتاہے۔ وہ مختلف اصناف میں طبع آزمائی کرتی رہی ہیں خاص طور پر ان اصناف میں جن کا رشتہ تخلیقی نثر سے ہے۔ ان کے افسانوں کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’ٹوٹا ہوا ٓدمی، دھوپ کے ساتوں رنگ، حقیقت سے فسانے تک ‘اور فکشن میں ’ مانو یا نہ مانو، نازشِ جنوں ‘ قابلِ ذکر ہیں۔ ان کے خاکوں کا مجموعہ ’شجرِسایہ دار کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے جس میں ایک خاکہ پروفیسر شمیم حنفی پر بھی ہے اور’ یادِ رفتگاں‘ کے نام سے ان کی خود نوشت بھی ہے۔ نعیمہ جعفری فکشن کے آداب سے آگاہ ہیں ،ایجاز و اختصار کے ساتھ ساتھ ان کی زبان بھی پر کشش ہے ۔تخیل اور جذبے کی وہ زبان جس میں قاری کے ذہن کو متحرک اور مہمیز کرنے کی قوت ہوتی ہے ۔ان کا اسلوب دل کش ہے  موضوعی سطح پر انھوں نے اپنی کہانیوں کو تانیثیت میں محصور نہیں رکھا ہے بلکہ معاشرے کے اہم موضوعات کو انھوں نے اپنی تخلیق کا محور بنایا ہے۔ ذات کا کرب، تنہائی ،بے حسی، مادیت پرستی ان کے افسانوں کے موضوعات رہے ہیں ۔ شائستہ ماحول کی پر وردہ نعیمہ جعفری نے اپنی تحریروں میں شستہ زبان استعمال کی ہے۔ ممتاز ناقد پروفیسر شمیم حنفی نے ان کی زبان و بیان کی خوبیوں کی داد دیتے ہوئے لکھا ہے کہ

’’ زبان و بیان کے رموز و امکانات پر ان کی نظر گہری ہے اور سب سے اہم بات یہ کہ نعیمہ کو کہانی کے اسلوب اور آہنگ کی تعمیر کا سلیقہ بھی خوب ہے ۔‘ ‘

ان کے افسانے کا ایک اقتباس دیکھئے:

’’ بی اماں کا کتربیونتی دماغ وہیں جاکر پھنسا۔ نہ آگے ناتھ نہ پیچھے پگا۔ بہت مناسب جوڑ تھا جیسے لال ٹول میں لٹھے کا نیفہ۔ بی اماں نے جھٹ شیخ ناصر علی کو بلوا بھیجا ، ساتھ یہ بھی کہلوادیا کہ نہ آئو تو میرا مرامنہ دیکھو۔ناصرعلی کبریٰ کی میت پر بھی نہیں آئے تھے، لیکن اس پیغام پر رکتے جھجھکتے آہی پہنچے۔ بی اماں نے حمیدہ کو شربت لانے کا حکم دیااور انہیں اندر والی کوٹھری میں لے گئیں۔ حمیدہ نے نیاز کے بچے ہوئے بتاشے گھول کر شربت بنایا اور لے کر چلی تو اندر سے آنے والی آوازیں سن کر سہ دری کے کھمبے کی آڑ میں ہی رک گئی۔ بی اماں ہچکیوں اور سسکیوں کے درمیان ناصرعلی کے سامنے گھگھیارہی تھیں ’’ناصر علی تمہیں مشکل کشا کا واسطہ میری حمیدہ کو اپنا لو ورنہ ہم دونوں ماں بیٹی کا خون ناحق تمہاری گردن پر ہوگا۔‘‘ حمیدہ کے قدم زمین نے پکڑ لیے۔ اس کا جی چاہا کہ ابھی زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائے۔ آنگن میں پھیلے ہوئے دھوپ کے قتلے اسے خون کے سرخ قتلے لگے، جن میں اس کی تمنائوں، آرزوئوں اوربی اماں کی عزت نفس کا خون شامل تھا۔

ناصر علی کی ندامت میں ڈوبی ہوئی آواز آئی ’’آپا آپ مجھے شرمندہ نہ کریں۔ خدارا اپنا یہ پاک دوپٹہ میرے گناہ گار پیروں پر سے ہٹالیں۔ میری مجبوری کو سمجھیں۔ میں آپ کی بیٹی کو کوئی خوشی نہ دے سکوں گا۔ قدرت نے مجھے اس جوہر سے محروم رکھا ہے جو عورت کی زندگی میں رنگ بھرتا ہے۔ لوگوں نے مجھ پر بہت الزام لگائے مگر میں خاموش رہا۔ آپ کی بے بسی سے مجبور ہوکر یہ راز آشکار کررہا ہوں۔‘‘

اسی دم حمیدہ شربت کا گلاس لیے اندر داخل ہوئی ’’ناصر علی صاحب مجھے مرد ذات سے نفرت ہے۔ میں نے مرد کا وہ گھنونا روپ دیکھا ہے کہ اگر میری بدنصیبی نے یہ گل نہ کھلایا ہوتا تو وہ خدا کی قسم کبھی مرد کی طرف تھوکتی بھی نہیں۔ مجھے آپ سے کوئی خوشی نہیں چاہیے۔ صرف ایک چھت کا آسرا اور اپنے بچے کو باپ کا نام چاہیے۔ میں اپنی بیوہ اور بدنصیب ماں کے سفید سر پر کالک نہیں دیکھ سکتی۔ آپ مجھے نوکرانی سمجھ کر رکھیے۔ مجھے کوئی شکایت نہیں ہوگی۔‘‘

قمر سلیم نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے آٹھویں جماعت سے لے کر بی اے، ایم اے اور ایم ایڈ تک کی تعلیم حاصل کی ہے۔ ’اشاریہ دلگداز‘ ان کا اہم تحقیقی کام ہے۔ مضمون نگار کے علاوہ افسانہ نگار کی حیثیت سے بھی ان کی پہچان مسلم ہے۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’کچھ درد سوا ہوتا ہے‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے۔ بچوں کے لئے بھی انہو ںنے بہت سی کہانیاں لکھی ہیں۔ ان کے افسانوں میں زبان کی نزاکت و لطافت محسوس کی جا سکتی ہے۔ تخلیقیت سے معطر اور منور نثر کا یہ نمونہ ملاحظہ کیجئے:

’’رجنیش کی آنکھ اس وقت کھلی جب اسے احسا س ہوا کہ کوئی اس کا ماتھا چوم رہا ہے اور اس کے بالوں میں نازک سی انگلیاں رینگ رہی ہیں ۔ اس کے اوسان خطا ہو گئے ۔وہ اٹھنا چاہ رہا تھا لیکن نہیں اٹھ سکا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی نے اسے جکڑ لیا ہو۔ڈر کے مارے اس کا برا حال تھا ،اس کے ہونٹ تھر تھر کانپ رہے تھے۔وہ کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا بڑی مشکل سے اس نے ٹارچ جلائی اور کمرے میں اس کی روشنی ادھر سے ادھر گردش کرنے لگی۔آج رونے اور چیخنے کی آوازیں نہیں آئی تھیں۔ اس کا حلق سوکھ رہا تھا۔ وہ ہمت کرکے اٹھا اورفرج کی طرف قدم بڑھائے اسے محسوس ہوا کوئی دبے پائوں اس کا تعاقب کر رہا ہے۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا ۔ اس نے فرج سے پانی کی بوتل نکالی اور برقی رفتار سے اپنے بستر پر لوٹ آیا۔ ہیبت میں غٹ ۔غٹ کرکے پوری بوتل خالی کر دی۔ وہ بری طرح ہانپ رہاتھا مانو، میلوں سفر طے کرکے آیا ہو۔ ‘‘

(افسانہ: نمبر ۱۳۔کچھ درد سوا ہوتا ہے)

مشہور افسانہ نگار رخشندہ روحی کا رشتہ بھی جامعہ سے ہے۔ انھوں نے جامعہ ہی سے ہندی میں ’نرگُن ساہتیہ پرمپرا میں الکھ داس شیخ عبدالقدوس کا یوگدان‘ جیسے اہم موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ اور یہیں سے ان کا تدریسی رشتہ بھی ہے۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے’مگر ایک شاخِ نہالِ غم‘ اور ’مانسون اسٹور‘ شائع ہو چکے ہیں۔ ان کا ہر افسانہ تخلیقیت کے لوازمات سے معمور ہے ، زبان و بیان میں بڑی شگفتگی و رعنائی ہے۔ تخلیقی نثر کے جو اوصاف ہیں وہ ان کے بیشتر افسانوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کے عنوانات میں بھی تخلیقیت نظر آتی ہے۔ مثلاً آج کی رات تو خوشبو کا سفر لگتی ہے، کہاں ہے منزلِ راہِ تمنا، یاد کے بے نشان جزیرے، کہیں چاندنی کے دامن میں۔ان کی محبت رنگ کہانیوں میں  جذباتیت بھی ہے، حساسیت بھی۔ ان کی بیشتر کہانیاں مسلم خواتین کے درد وکرب کے ارد گرد گھومتی ہیں ۔ ان کے یہاں مظلوم عورتوں کی آہ و پکار ہے اور یہ احساس ہے کہ مرد معاشرہ عورت کے جسم سے تو آشنا ہے مگر اس کی روح کے کرب سے واقف نہیں۔ان کے ایک افسانہ ’مانسون اسٹور‘ کا اقتباس دیکھئے :

’’وہ میرے قریب آئی۔

اس کے سنہرے بال میرے شانے پر آگرے۔ وہ میرے پیچھے سے میری کمر میں اپنے پتلے اور سڈول اور اتنی ٹھنڈ میں بھی بالکل گرم گرم بازو حمائیل کرکے اپنے گہرے گلابی رخساروں کو میری گردن سے لگا کر پوچھ رہی ہے۔

’’تمہاری گردن کا پچھلا حصہ میری محبت کی گواہی دے رہا ہے۔۔۔۔۔‘‘ اس نے میرے بالوں میں اپنی انگلیاں پرودیں۔۔۔۔۔

وہ مجھے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔

وہ اپنی آنکھوں میں بھر آئے جدائی کے احساس کو چھپاتی رہی۔

ہم کیوں ہیں سمندروں کی طرح عمیق اور لہروں کی طرح پرشور اور۔۔۔۔ ساحل کی طرح خشک۔ اور ریت کی طرح گرم اور چاندنی کی طرح بے التفات اور۔۔۔۔ ڈبل چہروں والے۔ میں نے اس آخری لمحہ کو سوچا۔

’’ساگر ساگر۔۔۔۔‘‘ وہ مجھے شدت سے چمٹ گئی۔ اینوکو میں نے بے احد احتیاط سے اپنی بانہوں میں لے لیا۔ سورج ڈوب گیاتھا۔ رات کے نو بج گئے۔

میرے ہاتھوں نے اس کے دہکتے ہاتھوں کو اپنی مرتعش انگلیوں سے دھیرے سے چھوا۔۔۔۔ میرے جسم کے ہر حصے پر اس کے تپتے ہونٹوں اور اس کی لرزتی پلکوں کے چراغ جل اٹھے۔ ’’تم اپنا۔۔۔۔ بہت خیال رکھنا‘‘ اس کی آواز شدت جذبات سے بھاری ہونے لگی۔‘‘

اس میں تخلیقیت کی جو لہر ہے وہ قاری کو تصور کی ایک نئی دنیا میں بہا کر لے جاتی ہے۔ لفظوں کا بہت ہی متوازن اور متناسب تخلیقی استعمال کیا گیا ہے۔

سہیل جامعی نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کے تین افسانوی مجموعے ’لکیر‘، ’دہلیز‘، زیرِ لب‘ کے عنوان سے شائع ہو چکے ہیں۔ ایک کامیاب افسانہ نگار کی حیثیت سے ان کی شناخت ہے۔ انہوںنے معاشرتی اور نفسیاتی مسائل پر خوبصورت افسانے تحریر کئے ہیں۔ تخلیقیت کے جملہ لوازمات ان کے افسانوں میں موجود ہیں۔

ناظمہ جبیں نے بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے عزیز احمد پر ایم فل کی ڈگری لی ہے اور علامتی افسانہ: ’تنقیدی تحقیقی مطالعہ‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ وہ بھی موجودہ عہد میںتخلیقی نثر کے حوالے سے الگ پہچان رکھتی ہیں ۔ ان کے افسانوں کا مجموعہ ’رائیگاں بلندی ‘کے عنوان سے چھپ چکا ہے۔ ان کے افسانوں میں خیال کی رعنائی اور زبان کی زیبائی ملتی ہے ۔ان کے افسانوں میں واقعی بڑی کشش اور قوت ہے ، جذباتی اظہار بیان کی وجہ سے ان کی نثر اور بھی خوب صورت ہو جاتی ہے۔گیلی ریت، یوم خواتین، بند گلی، رائیگاں بلندی، رہائی، بازار، ان کے اہم افسانے ہیں جس میں انہوں نے عورتوں کی نفسیات ، خواہشات،رومانی تعلقات اور دیگر متعلقات کو بڑی فنکارانہ ہنرمندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ ان کے افسانے کے دو اقتباسات ملاحظہ فرمائیں جن میں نفاست بھی ہے، لطافت بھی:

’’اس کو کسی چیز کی چاہت نہیں۔ ارمان نہیں۔ بس وہ دیوانہ ہے تو صرف عورت کا۔ اس کی سب سے بڑی کمزوری عورت ہے۔ عورت، ہاں! عورت۔ اس مرد کو اپنے بطن سے پیدا کرنے والی عورت ہی اس کی کمزوری تھی۔‘‘

٭

ارجمند ایک بھرپور دوشیزہ تھی۔ امڈی جوانی۔ انگ انگ سے جیسے کرنیں پھوٹ رہی ہوں، جسم کا گداز نگاہوں کے لئے لذت بخش تھا۔ بالکل جیسے رس بھرا انگور۔ رنگ بھی عناب کی طرح چمپئی، گندمی، شتابی سرخ و سپید کا عجیب امتزاج تھا۔ ہرنی جیسی بڑی بڑی غلافی آنکھیں، بس ایک پیکر تھا جسے اکرم بھائی نہارتے رہ گئے۔‘‘ (بازار)

ایم نصراللہ نصر نے ناظمہ جبیں کی افسانہ نگاری کا جائزہ لیتے ہوئے لکھا ہے کہ:

’’ان کے افسانوں میں عام زندگی کی جھلک نمایاں ہے۔ غریبی، مفلسی، فسادات، بغض و عناد، معاشرے کے ناپسندیدہ کردار کی احاطہ بندی اور رومانیت کا اظہار غرض سب کچھ ہے ان کے افسانوں میں۔ رضیہ سجاد ظہیر اور آمنہ ابوالحسن کے علاوہ دیگر خواتین افسانہ نگاروں کی طرح ناظمہ جبیں کے افسانوں میں بھی خاندانی اور گھریلو زندگی کے کردار، واقعات اور حادثات کا اظہار خوب خوب ہوا ہے۔‘‘

(اذکار ادب، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دہلی۔2020)

سفر نامے اور خود نوشت کو بھی تخلیقی نثر کے زمرے میں رکھا جاتا ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو تخلیقی نثر کے حوالے سے کئی اہم نام جامعہ سے جڑ سکتے ہیں۔ ڈاکٹر یوسف حسین خان، پروفیسر مسعود حسین خان،پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر مظفر حنفی،صغریٰ مہدی، پروفیسر شعیب اعظمی، نگار عظیم، پروفیسر صادقہ ذکی ، نگار عظیم یہ وہ نام ہیں جن کا جامعہ سے رشتہ رہا ہے۔ ان میں یوسف حسین خان اور مسعود حسین خان دو شخصیتیں ایسی ہیں جوجامعہ کے فارغین میں ممتاز حیثیت کی حامل ہیں ۔

یوسف حسین خان قائم گنجی نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی پری یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور یہیںسے گریجویشن کیا۔ ان کے ہم جماعتوں میں شفیق الرحمٰن قدوائی، سعید انصاری، عبد القادر سیالکوٹی، عبد القادر جونپوری، محبوب علی وغیرہ قابلِ ذکر ہیں۔ اردو دنیا میں وہ مورخ اور نقاد کے طور پر مشہور ہیں ۔ پدم بھوشن یوسف حسین خان نے اردوزبان وادب کی ثروت میں گراں قدر اضافے کیے ہیں۔ فرانسیسی ادب ، غالب اور اقبال کی متحرک جمالیات، حسرت کی شاعری، روحِ اقبال، اردو غزل، غالب اور آہنگِ غالب، حافظ اور اقبال، کاروانِ فکر، تاریخ ِ دکن کے علاوہ ان کی ایک خود نوشت ’یادوں کی دنیا‘ ہے۔ یہ خود نوشت گو کہ سادہ ادبی نثر میںہے مگر کہیں کہیں اس خود نوشت میں بھی تخلیقیت کا رنگ نظر آتا ہے۔شاید یہ ذہنی موسم کی تبدیلی یا ماحول اور منظر کا اثر ہوگاکہ یوسف حسین خان تخلیقیت کی ر و میں بہتے چلے گئے۔ اپنی آپ بیتی میں لکھتے ہیں:

’’ مجھے تولون میں جس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ بڑے بڑے جنگی جہاز نہ تھے بلکہ نسوانی حسن تھا ۔ میں نے ایسا باغ و بہار حسن اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔جنوبی فرانس کی عورتیں نہایت حسین ہوتی ہیں۔ ان کے حسن میں مجھے کچھ مشرقیت محسوس ہوئی۔ رنگ گورا ،آنکھیں اور بال سیاہ، قد بوٹا سا۔ لڑکیاں اور بعض ادھیڑ عمر والیاں بھی رخساروں پر غازے اور ہونٹوں پر روز لگاتی ہیں جن سے ان کا حسن دو بالا ہو جاتا ہے ۔‘‘

مسعود حسین خان بھی جامعہ کے ممتاز طلبا میں سے تھے۔ انہوں نے جامعہ اسکول کے دار الاقامہ میں رہ کر 8ویں تک تعلیم حاصل کی ۔ اخلاق الرحمٰن قدوائی ان کے روم فیلو تھے ۔ جامعہ کی شش سالہ زندگی نے ان کی ذہنی اور ادبی تربیت میں بہت اہم رول ادا کیا ہے۔مسعود حسین خان اردو کے ممتاز محقق اور ناقد کی حیثیت سے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں ۔ماہر لسانیات اور اسلوبیاتی تنقید کے بنیاد گزاروں میں سے ہیں ۔ اردو کے آغاز سے متعلق ان کا لسانی نظریہ بہت مشہور ہے’ مقدمہ تاریخ زبانِ اردو ‘ ان کی بہت اہم کتاب ہے۔ اقبال کی نظری اور عملی شعریات پر انھیں 1984ئ میںساہتیہ اکادمی کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ انھوں نے تدوین و ترتیب کا بھی بہت عمدہ کام کیا ہے ۔ بکٹ کہانی، پرت نامہ، قصہ مہر افروز و دلبر، دکنی اردو کی لغت، ابرہیم نامہ ، عاشور نامہ ان کے اہم مدونات ہیں۔ یوسف حسین خان جامعہ اردو علی گڑھ کے شیخ الجامعہ بھی رہے اور جس اسکول کے وہ طالب علم رہے وہیں 3 نومبر 1973ئ کو وائس چانسلر کے عہدے پر سرفراز ہوئے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کی حیثیت سے انھوں نے بڑی اہم خدمات انجام دی ہیں ۔ان کی خود نوشت ’ورودِ مسعود ‘کے نام سے مشہور ہوئی۔ جس میں جامعہ کا بھی تفصیلی ذکر ہے۔ مسعود حسین خان چوں کہ شاعر بھی تھی ۔ مختلف اصناف میں انھوں نے طبع آزمائی بھی کی ’دو نیم‘ ان کا شعر ی مجموعہ ہے۔ اس لیے ان کی طبیعت میں شاعری رچی بسی تھی مگر لسانیات جیسے عمرانی علم کے رشتے کے وجہ سے وہ خواب و خیال کی دنیا سے دور ہوتے گئے پھر بھی شاعری ایسی چیز ہے کہ چھوٹتی نہیں ہے منھ سے یہ کافر لگی ہوئی۔ اسی لیے ’وردوِ مسعود‘ میں کہیں کہیں شاعرانہ رنگ بھی ہے اورتخلیقیت کا وفور بھی ۔ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

ؔؔ’’اس مہرو ِ وفا کی دیوی کے صبر و تحمل نے بل آخر کام کیا اور یہ کندہ نا تراش پٹھان بچہ رفتہ رفتہ رام ہوتا گیا۔ وہ انتظار کرتی رہی کہ اس و حشی ٔ رمیدہ پر کبھی تو فتح حاصل ہوگی۔ عمر کے ساتھ ہم دونوں کی محبت رفاقت سے مل کر دو آتشہ ہو گئی اور اب من تو شدم تو من شدی کا مقام ہے ۔وہ یقیناً میری نصف ِ بہتر ہے اور میں اس کا نصفِ کم تر ‘‘

ایک اور اقتباس:

’’جہاں کسی دوست نے آنکھیں بدلیں میں نے راہیں بدل لیں ۔ دوست داری کے مسلک کے سلسلے میں مجھے رحیم خانِ خاناں کا یہ دوہا بہت پسند آتا ہے

رحیمن دھاگا پریم کا مت توڑو چٹکائے

ٹوٹے سے پھر نہ جڑے گانٹھ پڑ جائے

اسی لیے ساری عمر میرا سفر ہجوم سے تنہائی کی طرف رہا ہے‘‘

پروفیسر گوپی چند نارنگ کا جامعہ سے تدریسی تعلق رہا ہے۔ اردو دنیا میں وہ نظریہ ساز نقاد ، محقق اور ماہر لسانیات کی حیثیت سے مشہور ہیں۔ ان کا سفر نامہ ’’سفر آشنا ‘‘کے عنوان سے شائع ہوا ہے ۔ جس میں جرمنی ، ناروے، امریکا، کنیڈا اور انگلستان کے اسفار کا احوال ہے۔ یہ ایک مقصدی سفر تھااس میں انھوں نے بیرونِ ممالک کی ادبی و لسانی صورتِ حال پر اپنے آپ کو زیادہ مرکوز رکھاہے ۔ اس سفر نامے میں ان کا اسلوب اطلاعی ہے لیکن کہیں کہیں ان کے اس سفر نامے میں تخلیقیت کی چمک بھی ملتی ہے۔ خوب صورت منظر نگاری اور جزئیات کے ذریعے بیان میں دل کشی پیدا ہو گئی ہے ۔ نارنگ نے اس میں اپنے حقیقی اور فطری اسلوب سے تھوڑا انحراف کیا ہے:

’’موسم میں عجیب سرشاری اور لطافت تھی۔ اٹلی ،شام ، روم ، چین،جاپان ،سوئیڈن، ناروے، ہانگ کانگ، ہر چہرے کا اپنا منظر تھا۔ بدن کے چمن دہکتے معلوم ہوتے تھے۔ کون سا ملک تھا جس کے باشندے چہروں اور رنگوں کی ریل پیل میں نظر نہ آئے ہوں، طرح طرح کے نقش، طرح طرح کی رنگتیں اور طرح طرح کی بولیاں۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں جامعہ کے شعبۂ اردو کی شعری کائنات – پروفیسر کوثر مظہری )

پروفیسر مظفر حنفی کا سفر نامہ ’’ چل چنبیلی باغ  میں‘‘ برطانیہ کے سفر پر مشتمل ہے ۔ اس میں انھوں نے اپنے ذاتی جذبات و احساسات کی ترجمانی کی ہے اور اس سفر نامے میں انھوں نے کہیں کہیں تخلیقی نثر کا جادو جگا کر قاری کے جذبے کو مہمیز بھی کیا ہے ۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

’’سیاہ رنگ موٹے ہونٹ اور گھنگھریالے بالوں والے افریقی لڑکو ں اور لڑکیوں کی کمی نہیں تھی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایشیائیوں کی بہ نسبت افریقی لڑکیوں کی بانہوں میں انگریز لڑکیاں اور برطانوی نژاد لڑکوں کے ساتھ افریقہ کی حسینائیں زیادہ تھیں ۔ لمبی تڑنگی اکثر فربہی مائل ‘‘

اس سفر نامے میں مظفر حنفی نے زبان و بیان کی چاشنی کو قائم رکھا ہے اور پر کشش اسلوب سے قاری کے ذہن پر اچھا تاثر قائم کیا ہے۔

صغریٰ مہدی کے دو سفرنامے ہیں ’سیر کر دنیا کی غافل‘ اور ’میخانوں کا پتہ‘ ۔’سیر کر دنیا کی غافل‘ دلچسپ سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامے میں کہیں کہیں صغریٰ مہدی نے اپنی تخلیقیت کے جوہر دکھائے ہیں۔ یہ دیکھئے کتنی خوبصورت منظر نگاری ہے:

’’مونٹریال میں سڑکوں کے کنارے اوپن ایئر ریستوراں بہت ہوتے ہیں۔ خوبصورت رنگ برنگی چھتریوں کے نیچے بیٹھے لوگ کھاتے پیتے رہتے ہیں۔ میک گل سے واپسی کے وقت گھر کے پاس ایسے ہی ایک ریستوراں میں چائے پینے بیٹھ گئے۔ رات کا ایک بجا تھا مگر شہر کی گہما گہمی میں کوئی فرق نہیں تھا۔ اکثر لوگ شراب میںمدمست تھے۔ سڑکیں، عمارتیں، کلب روشنیوں سے جگمگا رہے تھے۔ اور شمع اپنی نظم سنا رہی تھیں۔

اجنبی شہر نازاں نہ ہو

ہم غریب الوطن تیرے دامن میں آئے تو ہیں

تیرے عاشق ہیں

جگمگاتی ہے تیری جبیں ہم کو اقرار ہے

تیری رونق سے کب ہم کو انکار ہے

ہم نے بیچے ہیں سب اپنے علم و ہنر سندیں

دل کو سونپا نہیں

تیرے ماتھے کے برقی ستارے بہت خوبصورت سہی

جانے کیوں ہر قدم پر یہ احساس ہے

اک نئی کار بینکوں کے قرضے کیا یہی اپنی میراث ہے

اپنی تہذیب ،مذہب ،زباں

ہاتھ میں خالی کشکول تھامے ساتھ چلتے ہیں کیوں

اک خلش دل میں رہتی ہے کیوں

اور جانے کیا کیا وہ سناتی رہی اور ہم اجنبی شہر کی روشنیوں میں کھوئے اور ان لوگوں کے بارے میں جو اس اجنبی شہر میں رہ کر طرح طرح کی الجھنوں میں مبتلا ہیں۔ سوچتے ہوئے پتھر قلعہ کی لابی پہنچے تو ایک بوڑھی صوفے پر ایک چھوٹے سے سفید کتے کو لے کر بیٹھی اس کا منہ چوم رہی تھیں۔‘‘

جامعہ ملیہ سے صادقہ ذکی کا تعلیمی اور تدریسی دونوں رشتہ رہا ہے ۔ انھوں نے ’محمد مجیب حیات اور اردو خدمات‘ پر جامعہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری لی ہے۔ یہ تحقیقی مقالہ شائع ہو چکا ہے۔ ان کی اہم کتابوں میں’ ادب خواتین اور سماج‘ اور’جستجو کیا ہے‘ کے علاوہ مولانا سید عبدالحی حسنی کا سفرنامہ ’دہلی اور اس کے اطراف ‘کی ترتیب و تدوین قابل ذکر ہیں۔ان کا ایک سفر نامہ’ خیموں کے شہر میں ‘کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے ۔ جس میں وہ ایک تخلیقی فن کار کی حیثیت سے سامنے آتی ہیں۔ صاف ستھری شگفتہ زبان اور اسلوب میں بھی روانی ہے لیکن یہ روانی ہر جگہ یا ہر مقام پر نہیں ہے۔تخلیقیت صرف کہیں کہیں اپنا جلوہ دکھاتی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’مسافرانِ حج جب مکہ مکرمہ کی پہاڑی سرنگوں سے گزر کو حدودِ منیٰ میں داخل ہوتے ہیں تو اچانک سفید خیموں کا ایک شہر ان کا استقبال کرتا نظر آتا ہے ۔ خشک پہاڑی سلسلوں کے درمیان کشادہ وادی میں یہ شہرچند روز کے لیے آباد ہوتا ہے۔ پہاڑی ڈھلانوں پر سفید خیمے پرندوں کی طرح پر پھیلائے نظر آتے ہیں۔‘‘

پروفیسر شعیب اعظمی کا تعلق جامعہ ملیہ کے شعبۂ فارسی سے رہا ہے۔ فارسی ادب بعہد سلاطین تغلق ان کی بیش قیمت تحقیقی کتاب ہے۔ ’صحبت یار آخر شد‘ ان کا سفرنامۂ ایران ہے۔ اس میں اتنی شگفتگی روانی اور رعنائی ہے کہ پڑھنے والے اکتاہٹ یا بوریت محسوس نہیں کرتا۔

نگار عظیم کا سفرنامہ ’گرد آوارگی‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ ازبکستان کا سفرنامہ ہے۔ اس سفرنامے کی خاص خوبی یہ ہے کہ ازبکستان کا قدرتی حسن و جمال ان کی کتاب کی سطر سطر میں سمٹ آیا ہے۔ اس لئے قاری یہ سفرنامہ پڑھتے ہوئے سکر اور سرشاری کی کیفیت سے گزرتا ہے۔ شاداب اور شگفتہ نثر کا اک نمونہ دیکھئے:

’’طیارہ ہکچولے کھا رہا تھا۔ میں نے باہر کا منظر دیکھنے کی کوشش کی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ میری آنکھیں رات کی گہری تاریکی میں اتنا خوبصورت منظر دیکھیں گی۔۔۔۔ تاروں کا ایک جال بچھا ہوا تھا۔ شاید طیارہ پاکستان کی سرحد اور برفیلی پہاڑیوں سے گزر رہاتھا۔ سارا شہر جمگمگا رہاتھا۔ میری آنکھیں محوِ حیرت تھیں۔ اپنی سرزمین سے جگمگاتا آسمان تو ہزار بار دیکھا تھا۔ لیکن آسمان سے جگمگاتی دھرتی پہلی بار دیکھی۔ بالکل تاروں بھرے جگمگاتے آسمان کی طرح۔ ‘‘

٭

’’اور اب جب میرے قدم ازبکستان کی سرزمین پر اتر چکے تھے۔ یقین نہیں آرہا تھا وہاں کی نرم و نازک نشیلی البیلی ہواؤں نے میرے رخساروں کو چوم چوم کر میرا استقبال کیا تھا۔ میری نگاہیں دور آسمان کی وسعتوں میں کہیں کھو گئی تھیں۔ پو پھٹ گئی تھی اور سنہرا سنہرا سورج مشرق سے اُگ رہا تھا۔ سارا منظر سنہرے مہین لباس میں لپٹا ہوا تھا۔ ‘‘

گردِ آوارگی میں نشیلی البیلی ہواؤں کا اتنا اثر ہے کہ قاری اس کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے اور یہ اس سفرنامے کا ایک امتیازی وصف ہے۔

جامعہ میںتخلیقی نثر نگار ضرور ہیں مگر اس کے تعلق سے یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ تخلیقیت ایک کیفیت کا نام ہے۔ بہت سے افسانوں اور ناولوں میں بھی تخلیقیت نہیں ہوتی ان میں صرف سپاٹ بیانیہ ہوتا ہے۔ وہ لطافت او ررعنائی، رنگینی و روانی جو تخلیقی نثر سے مخصوص ہے اس سے وہ تخلیقات  محروم ہوتی ہیں حتیٰ کہ بسا اوقات شاعری بھی تخلیقیت سے محروم ہوتی ہے اسے آپ منظو م یا موزوں کلام کہہ سکتے ہیں۔ اس میں تخلیقیت کی جستجو کار عبث ہے یہی معاملہ تخلیقی ادب کی مختلف شاخوں کا ہے ۔جنھیں تخلیقی نثر کے زمرے میں تو رکھا جاتا ہے مگر اس میں تخلیقی نثر کے اوصاف، امتیازات، یا تشخصات نہیں پائے جاتے۔

جامعہ میں تخلیقی نثر لکھنے والوں کا یہ مختصر سا جائزہ ہے۔ یقینی طور پر جامعہ کے فیض یافتگان اور فارغین میں کچھ ایسے بھی ہوں گے جنھوں نے تخلیقی نثر میں اپنے جوہر دکھائے ہیں مگر ان تک ہماری رسائی نہ ہوپائی ۔ بہت سے گمنام فن کار بھی ہوں گے جن کا جامعہ سے رشتہ رہا ہوگاکہ جامعہ کے قیام کو تقریباً سو سال پورے ہونے کو ہیں ۔ 29؍ اکتوبر 1920 کو اس کا قیام عمل میں آیا تھا۔ اتنے طویل عرصے میں یقیناً بہت سے افراد نے جامعہ سے فیض حاصل کیا ہوگا اور ان میں سے بہتوں میں تخلیقی صلاحیت بھی ہوگی۔ ان کی تلاش و جستجو بہت ضروری ہے تاکہ تخلیقی نثر کے حوالے سے جامعہ کا مکمل اور مبسوط منظر نامہ سامنے آسکے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ’ناموران علی گڑھ‘ کی طرز پر ناموران جامعہ سیریز کا بھی آغاز کر نا چاہیے تاکہ ادب کا عام قاری بھی جامعہ کے ابنائے قدیم، فارغین اور فضلا کے کارناموں سے روشناس ہو سکے ۔

 

۔

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

جامعہجامعہ اور ادب اطفالجامعہ صدیجامعہ کی خدماتحقانی القاسمی
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شعبۂ اردو میں یک روزہ عالمی ویبینار و سیمینار کا انعقاد
اگلی پوسٹ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

1 comment

Azra Naqvi ستمبر 4, 2021 - 1:40 صبح

بہت بھر پور مضمون ہے ۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں