حکومتِ انگلیشہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی جارحانہ بالادستی نے بالآخر ہندوستانیوں کو احتجاجی رویہ اختیار کرنے پر مجبور کیا، جس کی عملی صورت کے طور پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا۔ جامعہ کے قیام کا مقصد ہندوستان کے مسلمانوں کی آئندہ زندگی کے نقشے کو سامنے رکھ کر بچوں کی تعلیم و تربیت اور اسے حسنِ اخلاق سے آراستہ و پیراستہ کرنا تھا۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے جدید و قدیم تعلیمی نظریے یعنی علم محض روزی اور علم محض علم کے اُصول سے اجتناب برتتے ہوئے علم کو زندگی کی خاطر سکھانا جامعہ کے لائحۂ عمل کا اٹوٹ حصہ قرار پایا۔ جس کے وسیع دائرے میں مذہب و ملت، حکمت و سیاست، اور صنعت و معیشت غرض کہ سب کچھ آجاتا ہے۔ جامعہ ہمیشہ اپنے مقاصد کے پیشِ نظر خوبصورت مہکتے پھولوں کو چُن چُن کر اپنے دامن میں ٹانکتی رہی۔ چنانچہ اس کے ارتقائی سفر میں مختلف علوم فنون سے وابستہ ممتاز شخصیتیں جڑیں اور ایک کارواں کی صورت میں آگے بڑھنے کو اپنا شعار جانا۔ وابستگانِ جامعہ میں شعبۂ زندگی کے گوشوں پر دسترس رکھنے والوں کے علاوہ فنونِ لطیفہ کے قدر دانوں کی بھی کمی نہیں تھی۔ ان اکابرین کی سعیِ مسلسل نے وہ کارہائے نمایاں انجام دیے کہ جن کی تحسین دنیا جہان میں ہوئی ۔ اسی اہلِ شوق کی بستی میں شعر و ادب کے ذریعے زندگی کی الجھی ہوئی زلفوں کو سلجھایا اور اس کے تلخ و شریں کو بہتر طور پر آشکار کیا گیا،ان قلمکاروں میں کچھ ایسے بھی تھے، جن کے قلم کی سیاہی ادبِ اطفال کے لیے مختص تھی۔ صدرِ جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین کی بچوں سے والہانہ محبت نے انہیں نثر و نظم کی تخلیق کی جانب مائل کیا۔ انہوں نے بچوں کی آبیاری کے لیے خوبصورت کہانیاں اور مضامین لکھے تو ان کی درسی ضروریات کے پیشِ نظر مختلف موضوع پر کتابیں بھی ترتیب دیں۔ وہ اچھے نثر نگار کے ساتھ عمدہ شاعر بھی تھے، انہوں نے نونہالوں کے لیے کئی نظمیں بھی کہیں، لیکن وہ مقبولیت حاصل نہ ہوسکی جو ان کی کہانیوں اور مضامین کے حصّے میں آئی تھی۔ البتہ بچوں کے ادب سے ان کی دلچسپیوں نے ایک ایسا چراغ جلایا کہ جامعہ میں بچوں کے کئی ادیبوں کے دیے نہ صرف روشن ہوگئے بلکہ ننھے منّے ذہنوں تک روشنی پھیل گئی۔ جامعہ میں بچوں کی شاعری کے لحاظ سے شفیع الدین نیّر، سطوت رسول، بزمی بھارتی، مظفر حنفی اور حنیف کیفی اپنی تخلیقی تابناکیوں کی چمک برقرار رکھنے میں کامیاب ہوئے۔ان کی نظمیں ہند و پاک کی درسی کتابوں میں تو پڑھائی ہی جاتی ہیں، انفرادی طور پر بھی بچے ان کی تخلیقات بڑے ہی شوق سے پڑھتے ہیں۔ ( یہ بھی پڑھیں ہندوستانی مسلمان اور سائنسی علوم – پروفیسر اخترالواسع)
شفیع الدین نیر شفیق رہنما ڈاکٹر ذاکر حسین کی دعوت پر ماڈرن اسکول کی اچھی خاصی نوکری چھوڑ کر 1945 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں معلم کے طور پر بحال ہوئے۔ ماڈرن اسکول کے مقابلے میں جامعہ سے انہیں نصف تنخواہ ملتی تھی۔ گویا ہر لحاظ سے گھاٹے کا سودا تھا، جسے انہوں نے خندہ پیشانی سے قبول کیا۔ جامعہ میں آنے سے قبل وہ بچوں کے ادیب کے طور پر مشہور ہوچکے تھے۔ وہ ماڈرن پبلک اسکول سے اپنی قربتوں کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” ماڈرن اسکول کی زندگی اور ساتھیوں کی ہمت افزائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ میرے کام کی سمت مقرر ہوگئی۔ میں اپنی زندگی میں بچوں کے ادب اور زبان اردو کی جو تھوڑی بہت خدمت کرسکا ہوں، تو میں اسی ادارے کی دین سمجھتا ہوں” ۔
جامعہ میں بھی انہوں نے اپنی سابقہ مصروفیتوں کو جاری رکھّا اور درس و تدریس کے علاوہ انہماک کے ساتھ بچوں کا ادب تخلیق کرتے رہے۔ انہوں نے نہ صرف بچوں کے لیے کثیرتعداد میں نظمیں لکھیں بلکہ کہانیوں کی درجنوں کتابیں منظرِ عام پر آئیں اوران کے لکھے ہوئے مضامین بچوں کی چھُپی ہوئی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے میں معاون ثابت ہوئے۔کہانیوں پر مشتمل ان کی کتابوں میں ریڈیو کا بھوت، بونے کا انصاف، گھر کا آئینہ، انوکھی چھتری، نئی کہانیاں، یادگارانگوٹھی، مدھو کی بیوی اور غالب کی کہانی وغیرہ نے بچوں کی ذہنی تربیت اس ڈھنگ سے کی کہ انہیں زندگی کرنے کا سلیقہ آگیا۔اسی طرح مختلف موضوعات پر مبنی نظموں کی کئی کتابیں آئیں، جن میں بچوں کا تحفہ )حصہ اول اور دوم(، اچھی چڑیا، عید کھلونے، گھی شکر، منّی کے گیت اور وطنی نظمیں )حصّہ اول اور دوم( کے علاوہ درجنوں دوسری کتابوں نے معصوم ذہنوں کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔ نیّر صاحب کا اپنا ایک نظریہ تھا، جس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
” میرا جی بس یہ چاہتا ہے کہ ہر بچّہ بچپن ہی سے محنت کی عادت ڈالے۔ وہ دشواریوں میں ہمت نہ ہارے تاکہ وہ اپنی، اپنے کنبے ، اپنی قوم اور وطن کی خدمت بہتر سے بہتر انداز میں کرسکے” ۔
نیّر صاحب کبھی محنت و مشقت سے جی نہیں چراتے تھے بلکہ وہ پوپھٹتے ہی دل جمعی کے ساتھ روزانہ کے معمولات میں لگ جاتے اور رات گئے تک ادب تخلیق کرنے میں اپنے آپ کو مشغول رکھتے۔ محنت و مشقت کی یہی خصوصیات وہ بچوں میں بھی دیکھنا چاہتے تھے، جس کے پیشِ نظر انہوں نے موضوعات کے تنوع کے ساتھ کثیر تعداد میں نظمیں لکھی۔ ان نظموں کی تخلیق میں بچوں کی عمر کے مدارج اور اُن کی جبلّی ضروریات کا خاص خیال رکھا گیا۔ چنانچہ یہ نظمیں اثر انگیزی کے لحاظ سے دوبالا ہوگئیں۔ ان نظموں کی قرأت بچوں کی ذہنی و فکری تربیت میں معاون ہیں اور انہیں اخوت و مساوات کے علاوہ اخلاقیات کا درس بھی دیتی ہیں۔ڈاکٹر ذاکر حسین نے نیّر صاحب کی نظموں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:
” ان میں بچوں کے ذہن کو سمجھنے اور ان سے محبت کرنے کی وہ صفت ہے جو پیدائشی معلم کا جوہر ہے۔ نیّر ذوقِ ادب اور ذوقِ جمال کی سمت بچوں کی رہنمائی کے لیے جس صلاحیت کی ضرورت ہے، وہ ان میں بدرجۂ اَتم موجود ہے۔ بچوں کے لیے جو نظمیں انہوں نے لکھی ہیں وہ ایک پیش رو کی حیثیت سے ان کا نہایت ہی بیش قیمت کارنامہ ہے۔انہوں نے وہ میدان سر کیا ہے، جسے سر کرنے کی بہت کم اصحاب نے جرأت کی ہے۔ ان کی نظموںنے تعلیم کے خشک کام کو خوشگوار بنا دیا ہے”۔
ہرانسان فطری طور پر کسی خاص صفت کا حامل ہوتا ہے، اسی لحاظ سے وہ اپنی عملی زندگی کے لیے راہوں کا انتخاب کرتا اور اسے حسن و خوبی کے ساتھ عبور کرتا ہے۔ نیّرصاحب میں بھی یہ صفت بدرجہ ٔ اَتم موجود تھی، انہوں نے سوچ سمجھ کر اپنی راہ کا انتخاب کیا اور کامیاب و کامران بھی ہوئے۔ وہ بچوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے لیے پیدا اہوئے تھے، جسے انہوں نے آخری دم تک نبھایا۔ ان کی نظمیں خوشگوار حیرتوں سے دوچار کراتی ہیں، جن میں ایسی روانی ہے کہ بچّے بغیر کسی رکاوٹ کے بہتے چلے جاتے ہیں، زبان سادہ اور عام فہم ایسی کہ بچوں کے علاوہ علم سے نابلد لوگوں کی سمجھ میں بھی آسانی کے ساتھ آجائیں۔اِن نظموں میں خیالات سیدھے سادے تو ہوتے ہی ہیں، نیّرصاحب سچّی باتوں کے بیان میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جہاں تک ہوسکتا ہے، وہ حتی المقدور مبالغہ آرائی سے اجتناب برتے ہیں۔ علاوہ ازیں مترنم بحروں کا انتخاب بھی نظموں کو رواں دواں اور ان کی اثر انگیزی میں اضافے کا باعث ہوا ہے۔ یہی سبب ہے کہ بچہ قاری کی زبان میں لکنت پیدا نہیں ہوتی بلکہ ایک فطری بہاؤ کے ساتھ نظموں کے اختتام پر پہنچتا ہے تو اُس کے سادہ سے ذہن پر ان نظموں کا بنیادی تصور نقش ہوچکا ہوتا ہے۔ اس سطح پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مصنف نے جس دل جمعی کے ساتھ اپنی پوری تخلیقی توانائی نظم کہنے میں جھونک دی تھی، ننھے قاری نے بھی اس کی سعیِ مسلسل کو رائیگاں نہیں ہونے دیا۔ یہ نظمیں غیر محسوس طور پر بچوں کے ذہن و دماغ کو کشادہ اور ہر سطح پر ان کی تربیت میں معاون ہوتی ہیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ نیّر صاحب کی کچھ نظموں کو اپنے مطالعے کا حصّہ بنایا جائے۔ "حمد” کی صورت میں ان کی ایک خوبصورت نظم دیکھئے:
اے دنیا کی شان کے مالک
جسم کے مالک جان کے مالک
دُکھ سکھ میں کام آنے والے
بگڑی بات بنانے والے
سورج، چاند بنائے تو نے
باغ میں پھول کھلائے تو نے
پھولوں کو رنگینی بخشی
خوشبو بھینی بھینی بخشی
تو نے دیے آکاش کو تارے
دور سے جو کرتے ہیں اشارے
ان کی مدد سے بھولے بھٹکے
رستہ چلتے ہیں بے کھٹکے
ٹھنڈی ہوائیں تو نے بھیجیں
کالی گھٹائیں تو نے بھیجیں
ابر سے تو نے مینہ برسایا
کھیت میں تو نے اناج اگایا
بھینس بنائی، گائے بنائی
کھانے کو دی دودھ ملائی
جب یہ ساری نعمتیں پائیں
گُن ہم تیرے کیسے نہ گائیں
اس نظم میں مالکِ حقیقی کی صناعیوں کا اثبات کرتے ہوئے ، ان کے اوصاف کا بیان خوبصورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اِسے پڑھتے ہوئے ننھے قارئین محظوظ تو ہوتے ہی ہیں، ان کے ذہن کی سادہ تختی پر تمام حروف خدا کی تخلیقی توانائیوں کا اثبات کرتے ہوئے اس طور ثبت ہوجاتے ہیں کہ وہ خدائے واحد کو اپنے جسم و جاں کے علاوہ دنیا کی شان و شوکت کا مالک تصور کرنے لگتے ہیں۔ یہ ساری چیزیں اسی مالک نے بنائی اوراس سے ہی ساری نعمتیں حاصل ہوئیں تو پھر اس کی تعریف و توصیف کیسے نہ کی جائے۔اسی طرح چھوٹی اور مترنم بحر میں لکھی ہوئی نیّر صاحب کی ایک اور نظم "آؤ چندا ماموںآؤ” ہے۔ ان کی دوسری نظموں کی طرح اس میں بھی ہلکے پھلکے بالکل سامنے کے لفظوں کو تخلیقی طور پر اس انداز میں استعمال کیا گیا ہے کہ نظم کی سحر کاری میں اضافہ ہوگیا ہے:
آؤ چندا ماموں آؤ
آؤ میرا جی بہلاؤ
دل کی کلیاں کھل کھل جائیں
ایسا کوئی گیت سناؤ
اپنی سُنہری ناؤ میں لے کر
مجھ کو فلک کی سیر کراؤ
پھول ستاروں کے چُن چُن کر
میرے لیے اک ہار بناؤ
پیارا پیارا ہار یہ ماموں
میرے گلے میں پہنا جاؤ
اپنی سونے کی تھالی میں
میٹھے میٹھے میوے لاؤ
پاس مرے تم آکر بیٹھو
میں بھی کھاؤں، تم بھی کھاؤ
کھیلیں گے سب آنکھ مچولی
تاروں کو بھی لیتے آؤ
نیّر کی نظمیں گا گا کر
میرے من کی جوت جگاؤ
میں چھوٹا تھا تو آسمان کی وسعتوں میں مسکراتے ستاروں کے درمیان چمکتے ہوئے چاند کو دیکھ کر بالکل ایسے ہی ارمان دل میں کسمسانے لگتے تھے۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا تھا کہ لب ہلتے اور دل کے ارمان لفظوں کی صورت اختیار کرنے میں پس و پیش نہیں کرتے۔ مجھے نہیں معلوم کہ ان لفظوں کی رسائی چندا ماما تک ہوپاتی تھی کہ نہیںالبتہ اتنی بات وثوق کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ چندا ماما کو دیکھ کر بالکل ایسے ہی ارمان دوسرے بچوں کے دلوں میں بھی انگڑائی لیتے ہوں گے۔ یہ وہی موضوع ہے جو دل سے نکلتا ہے تو سیدھے دل میں گھر کر جاتاہے۔ نیّرصاحب بچوں کی دلی کیفیات سے واقف ہیں، وہ نظم کی تخلیق کے وقت خود بھی بچہ بن کر اُن کیفیات کو محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے ان کی میں بچوں کو اپنی جانب ملتفت کرنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ یہی خصوصیات ایک سچے فنکار کو شہرت و مقبولیت سے ہمکنار کرتی ہیں۔ بلاشبہ نیّر صاحب سچے اور فطری شاعر تھے، جن کی متعدد نظموں نے ان کے نام کو ایسا تابندہ کیا کہ بچے دور سے انہیں پہچان جاتے ہیں۔ انہی خصوصیات کے حامل اُن کی نظم”اپنی جگہ کوئی بھی چھوٹا نہیں” بھی ہے۔ اس نظم میں کُل چار شعر یعنی آٹھ مصرعے ہیں، لیکن ان آٹھ مصرعوں میں نیّر صاحب نے کائنات کی رنگارنگی کا اظہار جس ہنر مندی سے کیا ہے، اس کا اندازہ آپ بھی لگا سکتے ہیں:
تَری نے جب کھری باتیں سنائیں
تو بی خشکی بھی پھر تو سِٹ پٹائیں
مگر وہ اس طرح بولیں سنبھل کر
کہ اس حالت میں بھی ہوں تجھ سے بہتر
ہے پانی بھی وہیں، خشکی جہاں ہو
نہ ہوں میں تو بھلا پھر تو، کہاں ہو
سُنی یہ بات نیّر نے، تو جانا
نہیں اپنی جگہ کوئی بھی چھوٹا
نیّر صاحب کی نظموں میں شاعری کی باریکیاں یا کوئی شاعرانہ نکتہ ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے اور نہ ہی کوئی نادر تشبیہات یا کوئی انوکھا استعارہ نظر آئے، لیکن ان کی بیشتر نظموں میں طرزِ ادا کی جدّت اور انداز بیان میں ندرت ضرور ہوتی ہے۔ انہوں نے موضوعات کی گوناگونی کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے جس تواتر کے ساتھ نظمیں بلکہ عمدہ نظمیں لکھی ہیں، وہ ان کا ہی حصہ ہے۔ ان کے نام کی شمولیت کے بغیر ادبِ اطفال کی دنیا سونی سونی سی دکھائی دے گی۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ بچوں کی تعلیم و تربیت کے جس مشن کے ساتھ آگے بڑھی تھی، اس کی تعبیر و ترقی کے لیے کئی اقدام کیے گئے۔ مکتبہ جامعہ کا قیام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اس ادارے سے "کتاب نما” اور "پیامِ تعلیم” جیسے موقر رسالے جاری ہوئے۔ "کتاب نُما” بڑوں کے لیے اور "پیامِ تعلیم” چھوٹے اذہان کے لیے مختص ہے۔ "پیامِ تعلیم” کی ادارتی ذمے داری سنبھالنے والوں میں کئی نام ایسے ہیں، جنہوں نے "بچوں کے ادب” کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ان میں ولی شاہ جہاں پوری اور بزمی بھارتی کا نام بہت ہی اہم ہے۔ ولی شاہ جہاں پوری نے بچوں کے لیے عمدہ کہانیاں اور مضامین لکھے تو بزمی بھارتی نے تواتر کے ساتھ نظمیں کہیں۔ ان کی نظموں میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ادبی روایت کی گہری چھاپ ملتی ہے، جس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خلیل الرحمن اعظمی لکھتے ہیں:
"بزمی بھارتی نے بچوں کی بڑی پیاری نظمیں لکھی ہیں۔ ان نظموں پر جامعہ ملّیہ کی اس ادبی روایت کی گہری چھاپ ہے، جس کے سائے میں بعض لکھنے والوں نے بچوں کی نفسیات کو ملحوظ رکھ کر انہیں کی سادہ اور معصوم زبان میں شاعری کی ہے”۔
خلیل صاحب کا اشارہ جامعہ کی اس ادبی روایت کی طرف ہے، جو ڈاکٹر ذاکر حسین سے شروع ہوئی اور شفیع الدین نیّر سے ہوتے ہوئے بزمی بھارتی تک پہنچی۔بزمی بھارتی نے بچوں کی نفسیات ، ذہنی اور جبلی تقاضوں کے تحت دل چسپ اور مفید نظمیں لکھی ہیں۔ ان کی نظموں میں مترنم بحور، صحتِ زبان، آسان و دل کش طرزِاظہار اور موضوعات کی مانوسیت کے باعث رنگارنگی اور سحرانگیزی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے، علاوہ ازیں ان نظموں میں حقیقی تخیل اور اختراع کے جو عناصر پائے جاتے ہیں وہ بچوں میں مطالعے کی شدید خواہش پیدا تو کرتی ہی ہیں ، ان کی تربیت کے ساتھ تخلیقی قوت کو فروغ بھی دیتی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ بچوں کا وہی ادب کامیاب ہے، جو عمداًتخلیق کیا جائے اور جس میں کیفیت کو بدلنے اور مطالعے کی نوعیت کو تبدیل کرنے کی قدرت بھی پائی جائے۔ اس لحاظ سے بزمی بھارتی کافی حد تک اپنے مقصد میں کامیاب ہیں۔بچوں کے ادب پر مشتمل بزمی بھارتی کا ایک ہی مجموعہ "دھَنک” کے نام سے شائع ہوا، لیکن اس میں شامل تمام نظمیں اعلیٰ معیار کی ہیں۔جس کے مطالعے سے یقینا بچوں کی ذہنی اور اخلاقی تربیت ہوگی۔ ان کی ایک دلکش نظم "سبق” اس مجموعے میں شامل ہے ، ملاحظہ کیجئے:
ٹواِنکل ٹواِنکل لٹل اسٹار
ہاؤ آئی ونڈر وھٹ یو آر
ٹواِنکل ٹواِنکل لٹل اسٹار
ننھے منے، راج کمار
تیری باتوں کی جھنکار
میری خوشیوں کا سنسار
چندا کھیلے میرے دوار
جگ مگ جگ مگ در دیوار
یوں مہکا ہے سب گھر بار
جیسے پھولوں کا بازار
میں ہوں نیّا، تو پتوار
تیرے ابّو کھیون ہار
تجھ پر یوں برساؤں پیار
جیسے برکھا رُت کی پھوار
ٹواِنکل ٹواِنکل لٹل اسٹار
میرے اچھے راج کمار
درج بالا نظم کا پہلا بند ہے، اس بند میں ایک ماں اپنے بچے کو پیار کرتے ہوئے اُسے "ننھے منے راج کمارــــ” کہہ کر پکارتی ہے اور اس کی باتوں کو ایسی جھنکار بتاتی ہے، جس سے اس کا گھر خوشیوں کے سنسار میں تبدیل ہوگیا ہے۔ وہ اپنے بچے کی صورت میں چندا کو دیکھتی اور پھولوں کی مہک کو محسوس کرتی ہے۔ اسی بند میں ماں خود کو نیا، بچے کے والد کو کھیون ہار اوربچے کو پتوار سے تشبیہ دے کر رشتے کی معنویت کو بھی اجاگر کرتی جاتی ہے۔ یہ باتیں عمومی ضرور ہیں، جو اپنے نونہالوں کے تعلق سے ہر ماں کے دل میںامڈتی رہتی ہیں، لیکن بزمی بھارتی نے خوبصورتی کے ساتھ انہیں نظم میں پروکر تازگی اور کیفیت کو دوبالا کردیا ہے۔ اس بند کو پڑھتے ہوئے ماں کی نفسیات اور اس کی بے لوث محبت کا پتہ تو چلتا ہی ہے، ساتھ ہی ان خوابوں کی تعبیر کا دھندلا سا عکس بھی نظر آتا ہے، جن کو ایک ماں اپنے بچے سے وابستہ کر کے دیکھتی ہے۔ اس نظم کا دوسرا بند دیکھئے۔ سابقہ بند کے مقابلے میں یہاں بچہ مکالمہ کرتا ہوا ملے گا۔ اس لحاظ سے نظم ڈرامائی کیفیت سے دوچار ہوگئی ہے۔ ڈراما کرنا بچوں کی جبلت میں شامل ہے، چنانچہ نظم میں بچوں کو اپنی گرفت میں لینے کی خصوصیات انتہا کو پہنچ جاتی ہے:
اور میں امّی کیا کیا ہوں
چڑیا، توتا، مینا ہوں
میری اچھی امّی جی
مجھ کو پڑھنے بھیجو گی
جب میں پڑھ کر آؤں گا
میں بھی لکھ کر لاؤں گا
پڑھیے امی پھر اک بار
ٹواِکل ٹواِنکل لٹل اسٹار
ہاؤ آئی ونڈر وھٹ یو آر
ہاؤ آئی ونڈر وھٹ یو آر
ماں کی باتوں کو سُن کر بچے میں تجسس کی کیفیت پیدا ہوتی ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ماں اسی طرح تعریف کاپُل باندھتی رہے، لیکن وہ خاموش ہوجاتی ہے تو بچہ بول اٹھتا ہے کہ ماں میں اور کیا کیا ہوں، کیا میں چڑیا، توتا اور مینا بھی ہوں۔ ماں کی امیدوں کا پاس بھی اسے رکھنا ہے، اس لیے سوالیہ انداز میں پوچھتا ہے کہ کیا وہ اسے پڑھنے بھیجے گی۔ میں پڑھ کر آؤں گا تو ٹواِنکل ٹواِنکل لِٹل اسٹار، ہاؤ آئی ونڈر وھٹ یو آر لکھ کر لاؤں گا۔اس طرح کی خصوصیات بزمی بھارتی کی دوسری نظموں میں بھی ہیں۔ ان کی نظموں میں حبّ الوطنی کا جذبہ اور تعمیری ذہن کا خمیر کے ساتھ رجائیت اور صحت مند فکر بھی ملتی ہے۔ ظاہر ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت اور اس کے مستقبل کے لیے یہ چیزیں بے حد اہم ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نقوشِ بزرگاں روشن ہیں، جو ہمیشہ متاخرین کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ان نقوش کی رہنمائی میں متعدد شعرا و ادبا نے اپنا سفر شروع کیا اور راستے کے گرد و غبار سے گزرتے ہوئے منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ ان میں ایک نام سطوت رسول کا بھی ہے۔ان کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے شمیم حنفی لکھتے ہیں:
"بچوں کے بعض بزرگوں نے بچوں کے ادب کی اشاعت اور فروغ میں جو قابلِ قدر خدمت انجام دی ہیں، انہیں جامعہ کی ادبی روایت اور تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ سمجھنا چاہیے۔ سطوت رسول صاحب اس روایت کے امین بھی ہیں اور اسے آگے بڑھانے کا جتن بھی کررہے ہیں۔”
سطوت رسول نے جس دلجمعی کے ساتھ بچوں کی نظمیں لکھ کر قابلِ قدر خدمت انجام دی ہے، وہ بلاشبہ جامعہ کی ادبی روایت اور تعلیمی سرگرمیوں کا حصہ ہی ہے۔ وہ اس روایت کے امین تھے اور اسے آگے بڑھانے کے لیے ہمیشہ کوشاں بھی رہے۔سطوت رسول جامعہ کی ڈاکٹرذاکرحسین لائبریری سے وابستہ تھے۔ ان سے میری پہلی اور اس کے بعد کئی ملاقاتیں اسی لائبریری میں ہوئیں۔ وہ سیدھے سادے اور کم سخن تھے، لیکن روئے سُخن بچوں کا ادب ہوتا تو بلا تامّل بولتے چلے جاتے اور چندمنٹوں میں ہی ادبِ اطفال کا گوشہ گوشہ روشن ہوجاتا تھا۔ انہوں نے بچوں کے جمالیاتی ذوق، ذہانت اور حسّیاتی پہلوؤں کے پیشِ نظر پابند، معرّا اور آزاد نظمیں لکھیں۔ یہ نظمیں بچوں پر کسی قسم کا کوئی علمی یا اخلاقی جبر مسلط نہیں کرتیں بلکہ ان کے وجدان اور شعور کی قوّتوں کے تحفظ اور تعمیر کی بالواسطہ نیز آہستہ کار کوشش کا پتہ دیتی ہیں۔انہوں نے اپنی نظموں کے متعلق لکھا ہے:
"میری شاعری نو بہ نو اور رنگارنگ خیالات پر مشتمل ہے۔ نئے نئے موضوعات پر نئے نئے پیرائے سے نظمیں کہنا میرا دل چسپ مشغلہ ہے۔ میں نے بچوں کی نفسیات کو ہمیشہ سامنے رکھا ہے۔ ان نظموں میں بیشتر نظمیں ایسی ہیں، جن میں میرے بچپن کی یادیں شامل ہیں”
ان کی نظموں میں موضوعات کی بوقلمونی کا شدید احساس، ان کے دعوے کو صحیح ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے نئے نئے موضوعات پر نظمیں کہنا اپنا مشغلہ بنا رکھا تھا۔ ان کی نظمیں مختلف ایج گروپ سے تعلق رکھتی ہیں۔ زیادہ تر نظمیں نرسرتی سطح کی ہیں، جن میں لفظوں کا استعمال کم سے کم کیا گیا ہے۔ یہ نظمیں چونکہ بچوں کی نفسیات کو سامنے رکھ کر لکھی گئی ہیں، اس لیے بچوں کی معصومیت میں رنگ بھرنے کا کام تو کرتی ہی ہیں،بڑوں کو اُن کے بچپن کی یاد بھی دلاتی ہیں۔ ان کی نظموں پر مبنی کئی کتابیں دستیاب ہیں۔ ان میں ایک کتاب "کٹھ پیلی:ایک تماشہ” کے عنوان سے بھی ہے۔ اس کتاب کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ اس میں سب نظمیں موضوعاتی ہیں۔ سطوت رسول نے کٹھ پتلی کو موضوع بناکر ایک ہفتے ہیں کُل بائیس نظمیں کہیں، جو بعد میں کتابی صورت میں آئیں۔ اس سلسلے کی پہلی نظم "کٹھ پتلی:ایک تماشہ” کے عنوان سے لکھی گئی، جو رسالہ "پیامِ تعلیم” میں شائع ہوئی۔ جو ڈرامے کی صورت کچھ منظروں پر مشتمل ہے۔ اس نظم کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:
کٹھ پتلی نے ناٹک کھیلا/ننھی منّی گڑیا رانی/سَر پر چنُدریا/دھانی دھانی/بولو رانی/بولو رانی/باتوں میں تاروں کو گوندھے/دوُر جانے کیا سوچے/پیر میں گھنگرو چھم چھم چھم/کان کے بالے چم چم چم/پہنے وہ لال شَکوکا/دوُر سے چمکے آگ کا ٹوکا/غصّہ چہرے پر جب آئے/ہوجائے گی/لال بھبُوکا
کٹھ پتلی کا تماشہ کثرت کے ساتھ گاؤں اور قصبوں میں اسٹیج کیا جاتا تھا۔ اس کھیل میں مخصوص لباس میں ملبوس ایک شخص کھٹ پتلی کی ڈور انگلیوں سے تھامے پردے کے پیچھے کھڑا ہوجاتا ہے اور تماشا شروع ہوتے ہی اپنی انگلیوں کو حرکت دیتا ہوا مکالمے ادا کرتا رہتا ہے۔ اس کی انگلیوں کی جنبش پر کٹھ پتلیاں پوری توانائی کے ساتھ تھرکتی اپنی آنکھوں کو مٹکاتی اور مکالموں کے ساتھ لبوں کو جنبش دیتی ہوئی فطرت کے بالکل قریب دکھائی دیتی ہے۔ یہ کھیل اتنا دلچسپ ہوتا کہ تماشائی مبہوت بنا آخر تک محظوظ ہوتا رہتا ہے۔ سطوت رسول نے کٹھ پتلی کے اسی کھیل کو ذہن میں رکھتے ہوئے اس نظم کی تخلیق کی ہے۔ اس نظم نما ڈرامے کے پہلے منظر میں شاعر نے کردار یعنی کٹھ پتلی کو متعارف کراتے ہوئے بچوں کی نفسیات و استعداد کے مدِ نظر لفظوں کا تخلیقی استعمال کیا ہے۔ ان نظم میں ایسا کوئی لفظ نہیں جو بچوں کو غیر مانوس لگے بلکہ ان لفظوں کے سہارے کٹھ پتلی کا سَراپا اور اس کے ہاؤ بھاؤ کو پیش کرتے ہوئے نظم جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، بچوں کا تجسّس بھی اسی لحاظ بڑھتا جاتا ہے۔ پہلے منظر کے اختتام کے ساتھ ہی دوسرا منظر شروع ہوجاتا ہے:
کٹھ پتلی نے ناٹک کھیلا/ہاتھوں میں مہندی کی لالی/گوری گوری، کالی کالی/باتیں اس کی/تیکھی تیکھی/روکھی روکھی/پھیکی پھیکی
اس منظر میں بس اتنا بتایا گیا ہے کہ کٹھ پتلی جو ناٹک پیش کر رہی ہے، اس کے ہاتھوں میں مہندی کی لالی خوشنما لگ رہی ہے۔ وہ اپنے گورے بدن کو کالے کپڑے سے ڈھکے ہوئی ہے۔ اس کی باتوں کا ذکر کرتے ہوئے شاعر نے لہجے کے تیکھے، روکھے اور پھیکے پن کو اجاگر کیا ہے۔ اس نظم میں بھاری بھرکم موضوعات کی ضرورت بھی نہیں تھی کہ بچہ کا چھوٹا سا دماغ انہیں قبول نہیں کرسکتا تھا۔ پہلے بند کی طرح اس نظم کا دوسرا بند بھی ننھے قارئین/ ناظرین کی تفریح کا مکمل سامان مہیا کرانے میں پوری طرح کامیاب ہے۔ اس کے بعد نظم کا تیسرا اور آخری منظرکچھ ایسے شروع ہوتا ہے:
کٹھ پتلی نے ناٹک کھیلا/ ہنستے ہنستے سب دکھ جھیلا/ چوُں، چوُں، چوُں/ چَن، چَن، چنَ/ جھُوں، جھُوں، جھُوں/ جھَن، جھَن، جھَن/گھَن، گھَن، گھَن/ سَن، سَن، سن/َٹَن، ٹَن، ٹَن/ گھنٹہ بولا/ گھِر آئی پھر شام کی بیلا/ کٹھ پتلی نے ناٹک کھیلا
ان تینوں مناظر میں "کٹھ پتلی نے ناٹک کھیلا” ٹیپ کے مصرعے کے طور پر آیا ہے، جو نظم کی معنویت میں اضافے کا باعث ہوا ہے۔ اس نظم کا آخری منظر اتنا خوبصورت اور دل نشیں ہے کہ کٹھ پتلی کی طرح قارئین/ ناظرین کے چہرے پر تھکن کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ شاعر نے بتانے کی کوشش کی ہے کہ کٹھ پتلی تو اشارے کی محتاج ہے، جو اس کی کربناکی کا سبب بنتا ہے، مگر وہ ہنستے ہنستے اپنے سارے دکھ سہہ لیتی ہے، چنانچہ ہمیں کٹھ پتلی کی طرح ہنستے ہوئے اپنے دکھ درد سہنا چاہیے۔ اس منظر کے اختتام پذیر ہونے سے پہلے ایک ہی جھنکار کے مختلف الفاظ کانوں کو بھلے معلوم ہوتے ہیں اور آخر میں گھنٹہ کے ٹن ٹن بجنے کے ساتھ شام ہوجاتی ہے او نظم نما ڈرامہ اپنے ننھے قارئین کو ایک دھاگے میں باندھے ہوئے آخر کار اختتام کو پہنچ جاتا ہے۔ ننھے قارئین کے سادہ ذہن پر نظم کا خوشگوار اثر ہوتا ہے، وہ دیر تک کٹھ پتلی اور نظم میں پیش کئے گئے مختلف واقعات پر غوروفکر کرتا رہتا ہے، جس سے اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت نکھرنے لگتی ہے۔ سطوت رسول اپنی زیادہ تر نظموں میں ایک ڈرامائی کیفیت پیدا کردیتے ہیں، جو بہر حال بچہ قارئین کی دلچسپی کا سامان ہوتا ہے۔
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ اس معنی میں امتیازی حیثیت رکھتا ہے کہ یہاں کے بیشتر اساتذہ نثر و نظم کی زیادہ تر اصناف کے مصنف، نقاد اور محقق کے طور پر احترام کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں، جنہوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز بچوں کا ادب لکھ کر کیا۔ ان میں ایک نام مظفر حنفی کا ہے۔ مظفر حنفی 1976 میں شعبۂ اردو کا حصہ بنے اور 1989 تک درس و تدریس کے فرائض بحسن و خوبی نبھاتے رہے۔ بچوں کے ادب پر ان کی کئی کتابیں شائع ہوئیں۔ ان میں کہانیاں، ڈرامے اور مختلف ایج گروپ کو سامنے رکھ کر لکھی گئیں نظموں کی کتابیں بھی ہیں۔ بچوں کی نظموں پر مشتمل اُن کی کلیات ” بول میری مینا” کے نام سے شائع ہوچکی ہے، جس میں سبھی ایج گروپ یعنی چار سے سات، آٹھ سے دس، گیارہ سے چودہ اور آخر میں پندرہ سے اٹھارہ برس تک کے بچوں کے لیے نظمیں شامل ہیں۔انہوں نے بچوں کی نفسیات اور ان کے ذہنی و فکری تقاضوں کے مدِّ نظر نظمیں لکھی ہیں۔جن میں عمر کے لحاظ سے موضوع و مواد اور زبان و بیان کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔ انہیں لفظی تصویر بنانے میں بھی مہارت حاصل ہے، چنانچہ ان کی نظموں کو پڑھتے ہوئے آنکھوں کے سامنے مخصوص مناظر تیرنے لگتے ہیں۔ جو یقینا بچوں کے لیے موئثر اور ان کی ذہنی کشادگی اور فکری وسعتوں کو جلا دینے میں کامیاب ہیں۔نرسری رائمز یعنی چار سے سات برس تک کے نونہالوں کے لیے لکھی گئی نظموں کے زمرے میںایک خوبصورت نظم "اکّڑبکّڑ” شامل ہے۔ آئیے اس نظم کا مطالعہ کرتے ہیں:
اکّڑبکّڑ بمبے/بجلی کے دو کھمبے/ دُبلے/ ماموں جیسے/ بھیّا جیسے لمبے/ کھمبوں پر دو کوّے/آئے/ چڑھا کر پوّے/ مل کر گنتے گنتی/ ستّر اسّی نوّے
بلاشک و شبہ نظم تخلیقی معیار کے انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ اس میں نرسری کے بچوں کی فکری سطح، ذہنی استعداد، ان کی لفظیات اور نفسیاتی تقاضوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ اس نظم کو پڑھتے ہوئے نہ صرف بچوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا بلکہ کندن کی طرح اسے نکھرنے کا موقع بھی ملے گا، لیکن "آئے چڑھا کر پوّے” کو ذہن میں رکھیے۔ یہ پوّا کیا ہے، اگر کوئی بچہ نظم کی قرأت کے دوران پوچھ لے تو اس کا جواب کیا ہوگا۔ مظفر حنفی کی زیادہ تر نظمیں رواں دواں ہوتی ہیں، جس سے یقینا بچوں کی تہذیب و تزئین کی جاسکتی ہے، لیکن بعض جگہوں پر ایسے الفاظ یا مصرعے آجاتے ہیں کہ بچوں کے سادہ ذہن کے لیے مضر ہوسکتے ہیں، اسی طرح مظفر صاحب لفظوں کو توڑ پھوڑ کر ایسا بنادیتے ہیں کہ ان کا سمجھنا بچوں کے لیے تو کُجا بڑوں کے بس کی بات بھی نہیں۔ وہ اپنی ان چند خامیوں پر قابو پالیں تو ان کا شمار بچوں کے بڑے ادیبوں میں ہونے لگے گا۔
جامعہ سے وابستہ ادبِ اطفال کے لکھنے والوں میں حنیف کیفی کا شمار بھی ہوتا ہے۔ انہوں نے 1972 سے 1999 تک شعبۂ اردو میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ وہ بنیادی طور پر نقاد ہیں، لیکن انہوں نے شاعری بھی اسی شوق و شغف کے ساتھ کی ہے۔ انہیں بچوں کے ادب سے بھی خاص دلچسپی ہے۔ جس کا بیّن ثبوت "بچپن زندہ ہے مجھ میں” ہے، جو کہ چند سال پہلے ہی منظرِ عام پر آئی ہے۔ "حقیقت اس کتاب کی” کے عنوان سے وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"اس مجموعے کو پیش کرتے ہوئے اس حقیقت کا اعتراف کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ نہ تو میں بچوں کا شاعر ہوں اور نہ میرا ایسا کوئی دعویٰ ہے۔ اس کی بیشتر نظمیں اپنے بچوں اور پھر بچوں کے بچوں کی فرمائش پر اور ان کی خوشنودی کے لیے وقتاًفوقتاً لکھی گئی ہیں”۔
خود کو بچوں کا شاعر نہ سمجھنا میں حنیف کیفی کا محض انکساری تصور کرتا ہوں۔ واقعہ یہ ہے کہ بچوں کی دلچسپیوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کی مختلف سطحات اور استعداد کے مطابق زبان کے تخلیقی استعمال کی حتی الامکان کوششوں نے انہیں بچوں کے ادیبوں کی فہرست میں قد آور بنا دیا ہے۔ انہوں نے اپنی بعض نظموں میں ضمناًنصیحتیں اتنی خوبصورتی کے ساتھ شامل کی ہیں کہ انہیں پڑھتے ہوئے کسی قسم کا بوجھ یا بے لطفی کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ یہ نصیحتیں نظموں کی اثرانگیزی میں اضافے کا باعث ہوئی ہیں۔ حمد و نعت کے علاوہ حنیف کیفی نے بچوں کی ترجیحات اور ان کی دلچسپیوں کے مدِنظر موضوعات کا انتخاب کیا ہے،علاوہ ازیں انہوں نے زیادہ تر نظمیں اپنے بیٹوں کے ساتھ ساتھ پوتے پوتیوں کی فرمائش پر بھی لکھی ہیں، جو اتنی بااثر ہیں کہ دیر تک مسحور مبہوت کیے رہتی ہیں۔ ان کی ایک خوبصورت نظم "ننھی منی لامعہ” ہے، اس کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:
ننھی سی وہ بچی ہے
لامعہ سیدھی سچی ہے
ٹھمّک ٹھمّک چلی ہے
گرتی اور سنبھلتی ہے
تیز چلے تو گِر جائے
سیٹی بجاؤ اٹھ آئے
اس کے رنگ ہیں البیلے
ارشد چاچا سنگ کھیلے
ہنستی ہے وہ متوالی
سُن کر ارشد کی تالی
جب کچھ لینا وہ چاہے
کرے اشارے انگلی سے
کان سے فون لگاتی ہے
بات کہاں کر پاتی ہے
ہاں آواز سنا دے گی
اپنا رنگ دکھا دے گی
آتے جاتے کرے سلام
اللہ کا اس پر انعام
آدھی جھک کر پڑھے نماز
اللہ اس کی عمر دراز
یارب ہو وہ باکردار
نیک نصیب اور نیک شعار
اس نظم میں وہ تمام خوبیاں موجود ہیں، جو بچوں کی دلچسپی کے ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ انہوں نے سلام کرنے اور نماز پڑھنے جیسی نصیحتیں اس انداز میں کی ہیں کہ بوجھل پن کا احساس تک نہیں ہوتا بلکہ ان مصرعوں کو نکال دیا جائے تو نظم کے فطری بہاؤ میں رخنہ پڑنے کا اندیشہ لاحق ہوتا ہے۔ اسی رو میں آخری دو مصرعے بھی آتے ہیں، جو دعائیہ کلمات پر مبنی ہیں۔ حنیف کیفی نے بلاشبہ بچوں کی خوبصورت اورپُراثر نظمیں کہی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہی نظمیں بامعنی اور بچوں کے درمیان مقبول ہوتی ہیں، جو بچہ بن کر، بچوں کے لیے اور ان کی زبان میں لکھی جائیں نیز ان نظموں کا متکلم بھی بچہ ہو، لیکن حنیف کیفی کی بیشتر نظموں کا متکلم بچہ نہیںبلکہ خود شاعر ہوتا ہے، جس کی بنا پر بعض نظموں میں زبان و بیان کی ناہمواری اور تسلسل کے فقدان کا احساس ہوتا ہے۔ وہ اپنی نظموں میں ایسے موضوعات بھی باندھ دیتے ہیں، جو بچوں کے لیے بلاشبہ سودمند ثابت نہیں ہوسکتے۔ مثال کے طور پر ایک نظم سے چند مصرعے دیکھئے :
ماما کو پھر غصّہ آیا
مردوں والا رعب دکھایا
اک موٹا سا ڈنڈا لائے
تان کے دو اک ہاتھ دکھائے
ان دو مصرعوں میں گھریلو تشددکو موضوع بنا یا گیا ہے، جو ننھے اذہان کی نشو و نما کے لیے مہلک ترین سیرپ کی حیثیت رکھتا ہے۔ نظم کچھ آگے بڑھتی ہے تو مداری سمجھاتے ہوئے بندریا سے کہتا ہے:
اٹھ بیٹا مت کر نادانی
کام سمجھ سے لے دیوانی
گھر جا ورنہ پچھتائے گی
تیری سوتن آجائے گی
بندریا جو ظلم و ستم کا نشانہ بن رہی ہے، اسے ہی سمجھ سے کام لینے کی تلقین اور دوسری صورت میں سوتن کے آنے کی دھمکی دینا کیا ادبِ اطفال کا موضوع ہوسکتا ہے؟ نہیں تو بلاشبہ ایسا ادب بچوں کی جبلی اور نفسیاتی تقاضوں کو پورا کرتا ہے اور نہ ہی ان کی ذہنی و فکری کُشادگی میں معاون ہوسکتا ہے۔ حنیف کیفی نے بچوں کے لیے ہائیکو بھی تواتر کے ساتھ کہیں ہیں۔ جس میں ان کا فن پوری طرح شباب پر دکھائی دیتا ہے۔ تین مصرعوں کی اس نظم میں انہوں نے حمدو مناجات، آس پاس کی عام زندگی، روز مرہ کے تجربوں، حالات اور واقعات، موسموں اور منظروں وغیرہ سے متعلق مضامین کو موضوع بنایا ہے۔ زبان میں سادگی اور عام بول چال کے لفظوں نے سحرانگیزی کا کام کیا ہے۔ مثال کے طور پر بس ایک ہائیکو درج ہے:
ڈھونڈیں ہر ہر چھوڑ
آنکھ مچولی کھیلیں یار
جو پکڑا وہ چور
شعبۂ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے دوسرے اساتذہ میں شہپررسول اور کوثرمظہری نے بھی نثر و نظم ہر دو سطح پر بچوں کا ادب پیش کیا ہے۔ شہپررسول کی کئی نظمیں اور کہانیاں اپنے زمانے کے موقر رسائل و جرائد میں پابندی کے ساتھ شائع ہوئیں، جن کی تعداد پچاس سے ساٹھ کے ہندسے کو تجاوز کرتی ہیں۔ سانیٹ کی طرز پر لکھی گئی ان کی ایک خوبصورت اور معنویت سے بھرپور نظم "بلب” مہاراشٹر کے اسکول کی درسی کتاب میں شامل ہے۔ اسی طرح کوثر مظہری نے بھی بچوں کے لیے بہترین کہانیاں اور نظمیں لکھی ہیں جو بچوں کے معتبر رسالوں میں شائع بھی ہوئیں۔ مذکورہ دونوں ادیبوں میں بچوں کی نفسیات ، فکری اور ذہنی سطح پر ان کی ترجیحات کو سمجھنے کا مادہ نسبتاً زیادہ ہے۔ وہ ترجیحاتی طور پر نہ سہی گاہِ بہ گاہِ بھی بچوں کے لیے نظمیں یا کہانیاں لکھنا بھی اگر جاری رکھتے تو بچوں کی تہذیب و تربیت تو ہوتی ہی، بچوں کے ادب میں بیش بہا اضافے کا باعث بھی ہوتا۔
جن مقاصد کے لیے جامعہ کا قیام عمل میں آیا، ان مقاصد کی تعبیر و تشریح میں وابستگانِ جامعہ نے اپنے طور پر پیش رفت کرتے ہوئے ایسی مثالیں پیش کیں کہ آج جامعہ ملیہ اسلامیہ دنیا کی چند بہترین یونیورسیٹیوں میں شمار کی جاتی ہے۔ جامعہ شروع ہی سے اصنافِ شعرو ادب کے مداحوں میں رہی ہے، چنانچہ اس سے وابستہ کئی ادیبوں نے اس جانب پیش رفت کی اور اپنی تخلیقات سے جامعہ کا نام روشن کرنے کی سعی کی۔ ان میں بچوں کے ادبا و شعرا بھی ہیں۔ ان لوگوں نے بچوں کا ادب جس تواتر اور دلجمعی کے ساتھ لکھا وہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک اور بیرونِ ملک میں بچوں کے لیے کوئی بھی کتاب ترتیب دی جاتی ہے تو اس میں جامعہ کے ادیبوں کی شمولیت ناگزیر ہوجاتی ہے۔ جامعہ میں بزرگوں کی قائم کی ہوئی شعروادب کی روایت کے نقوش آج بھی روشن ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

