مولانا ابو الکلام آزادؔ کی نگاہ میں عورت کا مقام – ڈاکٹر شیخ نگینوی

by adbimiras
1 comment

فنِ خطابت کے تاجدار، میدان ِ سیاست کے شہسوار، جدید تاریخ کے ہیرو، اولو العزم رہنما، صاحبِ طرز ادیب، جید عالمِ دین، بہترین ماہر تعلیم ،عالم، مفکر، مجاہد ، مدبرّ، عہد آفریں شخصیت محی الدین ،فروز بخت یعنی امام الہند مولانا ابو الکلام آزادؔ نے متحدہ اور جمہوری ہندوستان کی تشکیل میں ایک غیر فانی کردار ادا کیا ہے۔ جنگِ آزادی کے دوران بھی ان کے کاندھوں پر بڑی ذمہ داری تھی اور ہندوستان کے آزاد ہو جانے کے بعد بھی نئی راہیں تلاش کیں۔ مولانا ابو الکلام آزاد کے کام کرنے کا دائرہ محدود نہیں تھا۔ مولانانے ہندوستانی عوام کو اپنا ہم خیال بنانے کی کوشش کی۔ پرانے قیود و رسوم توڑنے کے کام کے ساتھ ساتھ نئے مسائل سے نبرد آزما ہونے کا سبق بھی دیا۔ مذہبی تعصب، منافرت اور فرقہ واریت کے مصنوعی اصنام کو توڑنے کی تعلیم دی اور معاشی، اقتصادی اور قومی محاذوں پر مجاہدانہ عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی دعوت دی ۔مولانا آزادؔ مشرقی کلچر کے دلدادہ عربی و فارسی ادب اور اسلام کے علوم کے شیدائی ہونے کے ساتھ ساتھ حریت آزادی اور ترقی کے طالب تھے۔

مولانا آزاد اپنی فطری افتاد، اپنے فکر و تصور، اپنے رجحانات و میلانات و ذہنی التسابات کے لحاظ سے شعر و ادب، مذہب و حکمت، صحافت و سیاست کا ایک ایسا حسین گلد ستہ تھے کہ اپنے فضل و کمال، وسعت مطالعہ ، پاکیزہ جمالیاتی ذوق اور عالمانہ رکھ رکھاؤ کے ایک دلکش ترین امتزاج میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ مولاناؔ ازحد نفاست پسند اور عالی دماغ انسان تھے۔ چاہتے تھے کہ جو کچھ ہو بہتر سے بہتر اورا علیٰ سے اعلیٰ ہو لیکن مصائب اور آزمائش کے دنوں میں صبر تحمل اور قوتِ برداشت کا ایک کوہ وقار بن جاتے تھے۔ یہاں تک کہ ان خشک دنوں میں ان کی ظرافت عروج پر پہنچ جاتی ہے۔  ( یہ بھی پڑھیں شعر غالب کے انگریزی تراجم – پروفیسر کوثر مظہری )

مولانا آزاد ایسی شخصیت تھے جس میں ہماری تہذیب کی تمام اچھی قدروں نے اپنا نشیمن بنا لیا تھا۔ اسی کے ساتھ ساتھ وہ مشرق و مغرب کے ایک حسین ترین سنگم بھی تھے۔ ان میں ایک طرف مشرق کی سکون پسندی، گہرائی رواداری، انسانیت اور روحانی بصیرت تھی اور دوسری طرف مغرب کی روشن خیالی، ذہنی جرأت ،انسان دوستی اور عملیت کا جذبہ بھی کار فرما تھا۔ وہ ایک زبر دست عالمِ دین تھے۔ لیکن ملاّ کی تنگ نظری سے آزاد تھے۔

زمانہ ٔقدیم میں ہندوستان مادرانہ نظام کے تحت تھا اور عورت مالک و مختار تھی۔ لیکن تہذیب وتمدن کے ارتقاء کے ایک مرحلے میں جب کاشت کاری کا آغاز ہوا تو نظامِ کاشت نے سماج میں عورتوں کے مقابلے میں مردوں کی طاقت کو استحکام بخشا اور رفتہ رفتہ سماج کی زمام عورتوں کے ہاتھو ں سے نکل کر مردوں کے ہاتھ میں چلی آئی۔ آہستہ آہستہ عورتیں محکوم ہو گئیں، سماج کی قیادت کے مورچہ پر وہ پیچھے دھکیل دی گئیں اور عورت غلام، لونڈی بن کر رہ گئی، عورت کو کبھی زندہ دفن کیا جانے لگا تو کہیں ستی کیا گیا۔ تعلیم سے محروم ہونے پر وہ ہر شعبے میں پسماندہ ہو تی گئی۔

صنعتی انقلاب نے جب یورپ کو ترقی اور خوش حالی کے نئے راستے دکھائے تو عورت کو کچھ آگے بڑھنے کے مواقع ملے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں دنیا میں جمہوریت کا آفتاب طلوع ہو رہا تھا ،تب ہی تعلیم کے یکساں مواقع اور برابری کے لئے جذبات ابھر نا شروع ہوئے۔ لیکن مذہبی قدامت پسندوں نے تعلیم نسواںکو غیر ضروری قرار دیا۔ لیکن مولانا ابو الکلام آزادؔ نے نہ صرف مذہب کو غیر ضروری قرار دیا بلکہ جدید تعلیم کو سماج کو سدھارنے کی وکالت بھی کی۔ مولانا آزادؔ مرد اور عورت کو الگ الگ اکائی سمجھے جانے کے بھی خلاف تھے۔ ان کا کہنا تھا۔  ( یہ بھی پڑھیں حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات – ڈاکٹر یاسمین خاتون )

’’انسان فطرتاً آزاد ہے اور اس فطری آزادی میں کوئی خصوصیت ثابت نہیں ہوتی۔ پھر وہ کون سا معیار ہے جس کی بنا پر انسانوں کا ایک گروہ تو اس آزادی سے فائدہ اٹھائے اور دوسرا گروہ محروم دکھائی دے۔‘‘

مولانا آزاد عورتوں کو مردوں کے مساوی تسلیم کرتے ہیں اور تعلیم کو لے کر دونوں کے درمیان جو تعصب برتا جاتا ہے، اس کی مولانا نے کھلی مخالفت کرتے ہوئے لکھا ہے۔

’’جب انسانی قویٰ کی عقلی نشو و نما تمدنی وشائستہ  زندگی کے لیے ضروری ہے توپھر اس کی کیا وجہ ہے کہ عورتیں اس عقلی نشو و نما سے محروم رکھی جائیں؟اوّل تو انہیں تعلیم دی ہی نہیں جاتی اور اگر کسی کا نرم دل اس کے مظلومانہ حال پر متاسف ہوتا بھی ہے تو صرف معمولی تعلیم ان کے لیے کافی خیال کی جاتی ہے۔ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ کیا ان میں دماغی قوتیں موجود نہیں ہیں؟ اگر جواب اثبات میں ہے تو کیا یہ صریح ظلم نہیں ہے کہ علمی دنیا کے شائستہ مشاغل سے انہیں یک لخت محروم کر دیا جائے؟(’’مسلمان عورت صفحہ ۱۱‘‘)

مولانا آزادؔ نے عورتوں کی دفاع میں سب سے پہلے سائنسی تاویلات پیش کیں اور’’مسلمان عورت‘‘ میں تحریر کیا ہے۔’’اس وقت تک عورتیں علمی لذت سے محض ناآشناہیں اور یہ تمام تمدّ نی میدان کُل کا کلُ مردوں کے قبضے میں رہا۔ اس لیے یہ کہنا بھی صحیح نہیں کہ ان میں مردوں کی طرح دماغی ترقی کی صلاحیت نہیں ہے ،کیو نکہ اس وقت تک انہیں ترقی کا موقع کب دیا گیا؟ یورپ نے آج علم تشریح اور فزیا لوجی کی تحقیقات سے یہ ثا بت کر دیا ہے کہ مرد اور عورت دماغی قوتوں میں بالکل برابر ہیں۔‘‘

مولانا آزاد عورتوں کو پورے مشرق میں برابری کا درجہ دینے میں جو بنیادی رکاوٹیں تھی ان پر اپنی نظر رکھے ہوئے تھے اور یورپ میں عورتوں کو جو عزت حاصل تھی، وہ عزت وہ مشرق میں بھی دیکھنا جاہتے تھے۔ ان کے مضمون کے یہ جملے ملاحظہ فرمائیں۔

’مشرق میں جو ظالمانہ رائے عورتوں کے متعلق زمانۂ جہالت میں قائم کی گئی تھی، وہ اس وقت تک اس پر قائم ہے۔ مسلمان عام طور پر عورتوں کو ناقصات العقل والدّین اورفتنہ و فساد کی جڑ سمجھتے ہیں۔ بر خلاف اس کے یورپ عورتوں کی غیر معمولی عزت اور احترام کرتا ہے اور مردوں سے کسی امر میں کم نہیں سمجھتا۔‘‘

مولانا آزاد نے تعلیم نسواں کی پرزور وکالت کی ہے اور عورتوں کی تعلیم کے بارے میں ہمیشہ مستعد رہے۔ نومبر 1903ء کے علی گڑھ میگزین کے شمارے میں مولانا آزاد نے ’’تعلیم نسواں‘‘ عنوان پر جو مضمون لکھا ہے ، اس میں عورتوں کی تعلیم کے بارے میں پوری حوصلہ مندی کے ساتھ غور و فکر کرکے مولانا نے مستقبل کے راستوں کی نشاندہی کی ہے۔

’’آج کل قوم کو اس ضروری مسئلے کی طرف زیادہ توجہ ہو گئی ہے اور اصول مسلمہ کی طرح مسٹرامیر علی کے ہم زبان ہو کر یہ تسلیم کر لیا گیا ہے کہ قوم کا سنورنا بگڑنا تعلیم نسواں کے ہونے نہ ہونے پر موقوف ہے۔ بیشک یہ تو جہ ہمارے مستقبل کی ترقیوں کی بنیاد ہے اور ثابت کرتی ہے کہ قوم کو اب اپنی ضرورتوں کا احساس ہو گیا ہے۔‘‘

’’تعلیم نسواں سے متعلق اس وقت تک جتنی رائیں شائع ہوئی ہیں، ان کا ماحصل یہ ہے کہ پرائیوٹ مکاتب جاری کیے جائیں یا ہر خاندان کے لیے علاحدہ علاحدہ مکتب بنا دیے جائیں۔ ہم پوچھتے ہیں کہ اس قسم کی تعلیم سے عورتوں کو کون سا فائدہ حاصل ہوگا؟ اس تعلیم سے جس قدر لیاقت عورتوں کو حاصل ہوگی اس سے بدر جہا اچھی لیاقت قدیم خاندانوں کی خواتین میں موجود ہے۔ خود ہمارے خاندان میں ہر لڑکی کے لیے اردو ،فارسی اور دینیات کا پڑھنا لازمی ہے لیکن نہ اس سے وہ فائدہ حاصل ہوتا ہے جس کی ہمیں تمنّا ہے، نہ ان کے دماغ روشن ہوتے ہیں، نہ ان کی اولاد پر اچھا اثر پڑتا ہے، نہ وہ اس کے دست و باز و ہو سکتی ہے۔‘‘(علی گڑھ منتھلی صفحہ 173)

عورتوں کے مسائل پر جب گفتگو ہوتی ہے تو پردے کا سوال ضرور اٹھتا ہے۔ مولانا آزاد کا پردہ کو لے کر بڑا صاف موقف رہا ہے۔

’’ہم صاف صاف کہہ دیتے ہیں اور اسے  فیصلۂ قطعی سمجھ لو، اصول مسلمہ کی طرح ما ن لو کہ جب تک متعارف پردہ ہندوستان سے نہ اٹھے گا، تب تک عورتوں کو جائز آزادی اوروہ آزادی ،جس کا اسلام مجوز ہے، نہ دی جائے گی، غلامی میں رکھ کر اور پردے کی تقلید کے ساتھ تعلیم دینی نہ صرف فضول بلکہ مضر اور اشد مضر ہے۔‘‘

عورتوں کے تعلق سے مولانا آزاد کے تصورات جاننے کا ایک بہترین وسیلہ ’’ترجمان القران‘‘ ہے سورۃ النساء کی تفسیر میں مولانا کے تصورات دیکھے جا سکتے ہیں۔

’’وہ کہتا ہے کہ خدا نے نوع ِانسان کو مرد اور عورت کی دو جنسوں میں تقسیم کر دیا ہے اور دونوں یکساں طور پر اپنی ہستی، اپنے اپنے فرائض اور اپنے اپنے اعمال رکھتی ہیں۔ کارخانۂ معیشت کے لیے جس طرح ایک جنس کی ضرورت تھی، ٹھیک اسی طرح دوسری جنس کی بھی ضرورت تھی۔ انسان کی معاشرتی زندگی کے لیے دو مساوی عنصر ہیں جو اسی لیے پیدا کیے گئے ہیں کہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ایک مکمل زندگی پیدا کر دیں۔ البتہ اللہ نے دنیا میں ہر گروہ کو دوسرے گروہ پر خاص خاص باتوں میں مزیت دی ہے۔ اور ایسی ہی مزّیت مردوں کو بھی عورتوں پر ہے۔ مر دعو رتوں کی ضروریاتِ معیشت کے قیام کا ذریعہ ہیں، اس لیے سر براہی اور کارفرمائی کا مقام قدرتی طور پر انہیں کے لیے ہو گیا۔‘‘ــ

مولانا آزادؔ نے عورت اور مرد کی برابر کی پیروی کی ہے اور سورۃ النساء کی تفسیر میں پوری روشن خیالی کے ساتھ لکھا ہے۔

’’جہاں تک معیشی اور مالیاتی استقلال کا تعلق ہے، قرآن نے اس سے صاف انکار کر دیا ہے کہ یہ استقلال صرف مردو ں ہی کے حصے میں آیا۔ اس نے قطعی لفظوں میں اعلان کر دیا کہ مرد کی کمائی مرد کے لیے ہوگی، عورت کی کمائی عورت کے لیے۔ عورت بیٹی ہو کر  باپ سے الگ، بہن ہو کر بھائی سے الگ، بیوی ہو کر شوہر سے الگ مستقلاً اپنی کمائی کا انتظام کر سکتی ہے اور اس کی مالک ہو سکتی ہے۔‘‘

عورت اور مرد کی برابری کے موضوع پر مولانا ابو الکلام آزادؔ کا واضع خیال تھا کہ۔

’’جس طرح مسلم و مومن ہیں ،اسی طرح مسلمہ اور مومنہ ہیں۔ جس طرح مردوں میں قانت مرد ہیں اسی طرح عورتوں میں بھی قانتہ عورتیں ہیں۔ جس طرح مردوں میں صادق مرد ہیں اسی طرح عورتوں میں بھی صادقہ عورتیں ہیں۔ جس طرح مردوں میں اللہ کا خوف رکھنے والے اور بکثرت ذکر کرنے والے ہیں ،اسی طرح عورتوں میں بھی اللہ کا خو ف رکھنے والیاں اور بکثرت ذکر کر نے والیاں ہیں اور پھر جس طرح مردوں میں ایسے پاکباز ہیں کہ نفسیاتی خواہشوں کے غلبہ سے اپنی حفاظت کرتے ہیں ،اسی طرح عورتوں میں بھی ایسی پاکباز ہستیاں ہیں جو اپنی حفاظت سے کبھی غافل نہیں ہوتیں۔ غور کرو کسی وصف میں بھی تفریق نہیں، کسی فضیلت میں بھی امتیاز نہیں۔ کسی برائی میں بھی عدم مساوات نہیں۔‘‘

ملک کو آزاد کرانے اور اس کی تعمیر نو کرنے ،ترقی کی نئی راہیں نکالنے میں مولانا ابو الکلام آزاد ؔکی قربانیاں ، کاوشیں، جدو جہد کسی طور پر کم نہیں۔ خواتین کو انکا جائز حق اور مرتبہ دلانے، انہیں ناخواندگی کی اندھیری کوٹھری سے نکال کر تعلیم کی روشنی میں لاکر کھڑا کرنے کا کام سماجی طریقے سے بھی اور مذہبی نقطہ نظر سے بھی مولانا ابو الکلام آزادؔ نے انجام دیا ہے ۔ آج خواتین کی تعلیم ، سیاسی، سماجی، مذہبی شعبوں میں عورتوں کی برابری حاصل کرنے کے پیچھے مولانا ابو الکلام آزادؔ کی کوششوں اور جدو جہد کا نتیجہ ہے۔ مولانا ابو الکلام آزادکی  نگاہ میں عورتوں کا مقام  ہر شعبے میں مردوں کے برابر ہے۔

 

٭٭٭٭٭

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

You may also like

1 comment

Leave a Comment