خواجہ میردرد نے کیا خوب کہا ہے :
درد د ل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھےکروبیاں
تخلیق انسانیت پرغور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے بنانے والے نے ایک دوسرے کے ساتھ دکھ درد بانٹنے کے لیے پیدا کیا۔ انسان ایک دوسرے کا غم خوار ہوتا ہے، اس کے اندر ایک دوسرے کے لیے ایثار اور قربانی کا جذبہ پایا جاتا ہے۔ وہ ہر خوشی اور غم میں ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے ہیں۔یہی پیار، محبت ،ایثار،قربانی اور مروت ایک مستحکم معاشرے کی بنیاد ڈالتے ہیں اور انسان کو صحیح معنوں میں انسان بناتے ہیں ۔خواجہ میر درد نے بھی اپنے کلام میں انہی باتوں کو کہنے کی کوشش کی ہے۔ کرّوبی کی جمع کروبیاں ہیں جس کے معنی فرشتوں کے ہیں جو عالم بالا میں خدا کی حمد و تسبیح میں مشغول ہیں ۔آخر کیا ضرورت تھی انسانوں کو پیدا کرنے کی جب کہ فرشتوں جیسی مخلوق پہلے سے موجود تھی؟ اس سرزمین پر انسان ہی ایک ایسی مخلوق ہے جو دوسرے کےدرد اور تکلیف کو محسوس کرتا ہے۔ سامعین!جب کسی معاشرے میں پیار، محبت ،ایثار،قربانی اورمروت کا فقدان پایا جاتا ہے تواس معاشرے میں دھیرے دھیرے انسانیت ختم ہونے لگتی ہے ، اور دھیرے دھیرے وہ معاشرہ صحیح معنوں میں انسان نما بھیڑیوں کی شکل اختیار کرنے لگتا ہےجو معاشرے سے امن و سکون ختم کرنے کی فراق میں رہتا ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں مولانا ابو الکلام آزادؔ کی نگاہ میں عورت کا مقام – ڈاکٹر شیخ نگینوی )
جب انسان کے اندر انسانیت ختم ہوجاتی ہے تو اس کے اندر جانوروں جیسی صفت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر صحیح اور غلط کا شعور ختم ہو جاتا ہے۔وہ ناجائز اور جائز میں تمیز بھول جاتا ہے، وہ حق اور باطل میں فرق نہیں کر پاتا،ایسے جانور نما انسان اپنی جائز اور ناجائز ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے کسی بھی انسان کو قتل کرنے کے در پہ ہو جاتا ہے، اسے ازیتوں میں مبتلا کر دیتا ہے، اس کی زندگی اجیرن بنا دیتا ہے۔ان کے گھروں میں آگ لگا دیتا ہے، عورتوں اور لڑکیوں کو اپنی حوس کا شکار بنا لیتا ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا ہے:
بس کی دشوار ہے ہر کا م کا آساں ہونا
آدمی کو بھی مسیر نہیں انساں ہونا
انسانیت کی تعریف کیا ہوسکتی ہے؟
انسانیت کی مختصر تعریف ہم یوں کرسکتے ہیں کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوئے ہیں اور انہیں آزاد رہنے اور جینے کا مکمل حق حاصل ہے۔ تمام انسانوں کے حقوق مساوی ہیں ہرفرد کو اپنی جان و مال کی حفاظت کا پورا حق حاصل ہے۔یعنی Fundamental Rights ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔اگر یہ بنیادی حقوق کسی انسان کو نہیں مل رہے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اسے انسان ہی نہیں سمجھ رہے ہیں۔ اگر ہم قوموں کے عروج و زوال کا مطالعہ کریں تو معلو ہوتا ہے کہ کوئی بھی دور ایسا نہیں گزرا جس میں انسانوں پر ظلم و بربیت کا پہاڑ نہ توڑا گیا ہو۔ انگریزی سامراج کے دور میں ہندوستانیوں اور افریقی ممالک کے کالے لوگوں پر جو ظلم ہو ا تاریخ کے صفحات ان ظلم کی داستانوں سے بھرے ہیں۔روم میں ایسے اوپن ائیر تھیٹر تھے جہاں جانوروں اور انسانوں کو لڑوا کر امرا وعوام لطف اندوز ہوتے تھے۔مسولینی اور ہٹلر کی داستانوں سے انسانیت شرم سار ہے۔
جگر مراد آبادی نے بڑے خوبصورت الفاظ میں کہا تھا:
آدمی کے پاس سب کچھ ہے مگر
ایک تنہا آدمیت ہی نہیں
تہذیب یافتہ قومیں یہی سمجھتی رہیں کی جیسے جیسے آدمی تعلیم یافتہ ہوتا جائے گا اس کے اندر انسانیت بیدار ہوتی جائے مگر نتیجہ بالکل برعکس نکلا۔دور حاضر میں جو انسان جتنا تعلیم یافتہ ہے اس کے اندر انسانیت کا مادہ اتنا ہی کم ہے ۔ ایک انسان ماہرانجنیئر ہے مگر وہ اس سے ایسے آلات حرب بناتا ہے جس سے انسانوں کی پوری کی پوری آبادی ختم ہو جاتی ہے۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے ایسے پل تعمیر کرتا ہے جو ایک سال بھی کھڑا نہیں رہ پاتا اور انسان جانی و مالی نقصان سے دور چار ہوتا ہے۔ایک انسان ماہر ڈاکٹر ہے پر وہ خدمت خلق کے بجائے خلق خدا کا خون پسینہ چوسنے پر لگا ہوا ہے۔ وہ ناجائزطریقے سے سستی دواؤں کو مہنگی بیج کر، غیر ضروری ٹیسٹس کروا کر اور دسرے طریقے اختیار کر کے انسانوں کو تکلیف پہنچاتا ہے۔ ایک انسان بہترین جج ہے پر پر وہ انسانیت کو بالائے طاق رکھ کر اپنے ذاتی مفاد کی خاطر غلط فیصلے دیتا ہے۔ ایک انسان پولیس آفیسر ہے ، جس کے ذمہ عوام کی حفاظت اور معاشرے کی اصلاح ہے وہ عوام پر ظلم زیادتی کرتا ہے، ایک انسان بہترین استاد ہے ، پر وہ اپنی تدریس سے سماج میں بے اطمینانی پیدا کرتا ہے ۔ طلبا کے اندر اونچ نیچ اور بھید بھاؤ کو فروغ دیتا ہے۔ ایک انسان بہترین منتظم ہے ، پر وہ ملک کا ایسا نظام چلاتا ہے جس سے ملک کی تمام عوام پریشان ہیں ۔ ایک انسان بہترین وزیر ہے ،پر وہ اپنے مفا د کے لیے عوام کی زندگیوں کو داؤ پر لگا دیتا ہے ، یعنی جو آدمی جس میدان کا ماہر ہے وہ اپنی مہارت کا استعمال انسانوں کی فلاح کے بجائے ان پر ظلم زیادتی کرنے کے لیے کرے تو ایسی تعلیم اور ایسے تعلیم یافتہ لوگوں سے قومیں متمدن نہیں ہوتیں۔ ایسے لوگو ں سے انسانیت شرم سار ہوتی ہے۔
دور حاضر میں جن عناصر نے انسانیت کے رشتے کو تار تار کیا ہے ان میں سے چند کی نشان دہی آپ کے سامنے کرتا چلوں۔
1۔ مذہب
2۔ قوم
3۔ رنگ
4۔ نسل
5۔ زبان
6۔نظریات وغیرہ
جہاں تک مذہب کا تعلق ہے ہر انسان کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے کی آزادی اور اس کی نشرو اشاعت کرنے کی آزادی ہے۔ پر کسی کو اس بات کی آزادی نہیں ہے کہ وہ اپنا مذہب کسی پر تھوپ دے۔ مذہب اسلام نے بھی اس کی نفی کی ہے ، قرآن میں کہا گیا لااکرہ فی الدین ( دین میں زور زبردستی نہیں ہے)۔ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ وہ جس مذہب کی پیروی کرتا ہے اسی کا بول بالا ہو ۔ اس معاملہ میں جب وہ زور زبردستی کرنے لگتا ہے تو تشدد پر اتر آتا ہے۔دنیا کافی متمدن ہوگئی پر اس کے باوجود روزانہ اخباروں میں ایسے واقعات کی بھر مار ہوتی ہے جس میں مذہبی تشدد کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ کسی بھی انسان کو اس بات کی آزادی نہیں ہے کہ وہ دوسرے مذاہب کو برا بھلا کہے۔مذہب اسلام نے بھی اس بات سے روکا ہے۔ سورہ انعام میں اللہ فرماتا ہے: وہ لوگ جو خدا کو چھوڑ کر دوسرے معبودوں کو پکارتے ہیں ، ان کو برا بھلا نہ کہوکیوں کے اس کے جواب میں نادانی کے ساتھ ناحق یہ خدا کو گالیاں دیں گے۔ (انعام:۱۱۳)
جہاں تک قوم کا تعلق ہے رسول اللہ کی واضح ہدایات ہمارے پاس موجود ہیں ۔ رسول اللہ کا ارشاد ہے جس کا مفہوم یہ کہ کسی عربی کو کسی عجمی پر نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر، کسی کالے کو کسی گورے پر اور نہ کسی گورے کو کسی کالے پر کوئی فوقیت ہے۔ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیز گار ہو۔
رنگ اور نسل کے نام پر دنیا میں قتل و غارت گری کا بازار گرم رہا ہے۔ سفید فام لوگو ں ہمیشہ اپنے آپ کو برتر و اعلی سمجھتے رہے اور کالے لوگوں پر اس طرح ظلم کیا کہ انسانیت بھی شرم سار ہوگئی ۔ رنگ اور نسل کے نام پر چھوا چھوت جیسی بیماری نے ہمارے معاشرے میں جنم لیا۔رنگ اور نسل کے نام پر انسانوں کی آبادیاں الگ کر دی گئیں ، لوگوں کے پہناوے ،کھانے اور پینے کے طریقے الگ ہو گئے۔کچھ اشراف ہوگئے اور کچھ ارذال ہوگئے ۔ آج بھی تعلیم یافتہ سماج میں اونچ نیچ کا یہ پیمانہ ہے کہ چھوٹی ذات کا آدمی مونچھ نہیں رکھ سکتا، گھوڑے پر سورا نہیں ہوسکتا وغیرہ وغیرہ۔لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ تمام انسان ایک مرد اور عورت سے پیدا کیے گئے ہیں ۔رہبر انسانیت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے یوں بیان کیا کہ ‘‘تم سب آدم علیہ السلام کی اولاد ہو اور آدم علیہ السلام مٹی سے بنائے گئے تھے ۔’’
دور حاضر میں زبان کی بنیادوں پر بھی لوگوں میں تعصب پایا جاتا ہے۔تعصب بہت ہی بری چیز ہے وہ انسان کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح کھا جاتی ہے، سرسید احمد خان تعصب پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں:
انسان کی خصلتوں میں سے تعصب ایک بدترین خصلت ہے ۔ یہ ایسی بدخصلت ہے کہ انسان کی تمام نیکیوں اور اس کی تمام خوبیوں کو غارت اور برباد کرتی ہے ۔ متعصب گو اپنی زبان سے نہ کہے ، مگر اس کا طریقہ یہ بات جتلاتا ہے کہ عدل وانصاف اس میں نہیں ہے ۔ متعصب اگر کسی غلطی میں پڑتا ہے تو اپنے تعصب کے سبب اس غلطی سے نکل نہیں سکتا ، کیونکہ اس کا تعصب اُس کے برخلاف بات سننے،سمجھنے اور اُس پر غور کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر وہ کسی غلطی میں نہیں ہے ، بلکہ سچی اور سیدھی راہ پر ہے تو اس کے فائدے اور اس کی نیکی کو پھیلنے اور عام ہونے نہیں دیتا۔
ہمارا ملک کثیر المذاہب ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ساری علاقائی زبانوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔اس معاملے میں دنیا کے ممالک شاید ہی ہندوستان کا مقابلہ کر پائیں فاروق طاہر اپنے مضمون ہندوستان میں اقلیتی زبانوں کا دستوری موقف میں لکھتے ہیں:
ہندوستان میں نہ صرف رہن سہن ،غذا ئی عادات ،تہوار، رنگ روپ، لباس اور رسم و رواج وغیرہ میں تنوع پایا جاتا ہےبلکہ زبانوں کے معاملے میں یہ بات اوربھی اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔تمام ہندوستان میں لسانی تنوع ایک عام بات ہے۔ شمالی ہندوستان میں آرین زبانوں اور جنوبی ہندوستان میں دراوڈین زبانوں کو فروغ حاصل ہوا۔دستور ہند کی آٹھویں شیڈول(جدول) میں سرکاری زبانوں(قومی زبانوں) کی صراحت کر دی گئی ہے۔دفعہ 344(1)اور دفعہ 351کے تحت 22زبانوں کو دستوری موقوف دیا گیا ہے۔
اردو،ہندی، گجراتی،مراٹھی ،پنجابی،بنگالی، کشمیری، ملیالی، تمل اور بھی بہت ساری علاقائی زبانیں ہمارے ملک میں بولی جاتی ہیں ۔ سفر کی آسانی اور ضروریات زندگی کو پورا کرنے کرنے کے لیے ایک ہندوستانی ایک صوبہ سے د وسرے صوبے میں نقل مکانی کرتا ہے تاکہ وہ اور اس کے اہل خانہ ایک اچھی زندگی گزار سکیں ، مگر زبان کی بنیاد پر ان کے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے۔ آئے دن اخباروں میں ایسے واقعات پڑھنے میں آتے ہیں کہ ایک خاص زبان سے تعلق رکھنے والوں نے دوسری زبان بولنے والوں کے ساتھ بہت ہی برا سلوک کیا۔انہیں ذلیل کیا ، ان کی دکانیں جلا دیں ، ان کے مال و اسباب کو لوٹ لیا، انہیں وہاں سے بھاگنے پر مجبور کیا وغیرہ وغیرہ۔ شر پسند عناصر نے نام ونمود اور وقتی مناصب کی خاطر سماج کے تانے بانے کو تار تار کر دیاہے۔
سامعین ! جہاں تک نظریا ت (Ideology)کا تعقلق ہے، اس سے انسانیت کو فائدہ کم نقصان زیادہ ہوا ہے ۔نظریہ کیا ہے؟ نظریہ کی تعریف ہم یوں کر سکتے ہیں کہ نظریہ وہ مستحکم سوچ ہے جو انسان کو عملی زندگی میں قدم اٹھانے پر مجبور کریں۔سوچ اچھی بھی ہو سکتی ہے اور بری بھی۔ اگر نظریہ کی اساس اچھی سوچ پر ہے تو اس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے اگر نظریہ کی بنیاد بری سوچ پر ہے تو اس کے نتائج بہت ہی برے ہوں گے۔نظریہ کو ہم اس طرح بھی سمجھ سکتے ہیں کہ در پیش مسائل میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر "یک قومی نظریہ” اور "دو قومی نظریہ ” ۔
جب برٹش حکومت نے ہندوستان کی آزادی کیلئے سیاسی جماعتوں سے بات چیت شروع کی تو اس معاملے میں کانگرس کا نظریہ تھا کہ "ہندوستان میں صرف ایک قوم رہتی ہے اور وہ ہے ہندوستانی ۔۔۔ اس لیے ہندوستان کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے” مسلم لیگ کی طرف سے محمد علی جناح کا اس بارے میں یہ نظریہ تھا کہ ‘‘ہندوستان میں دو بڑی قومیں آباد ہیں جو اپنے طرز معاشرت ، اپنے عقائد ، اپنے رسوم و رواج غرضکہ ہر لحاظ سے دو الگ قومیں ہیں۔ اس لیے ہندوستان کی تقسیم لازمی ہے”
دیکھا آپ نے ایک نظریے کی بنیاد پر اس عظیم ملک کےدو ٹکڑے ہوگئے۔ کتنے گھر اور کتنی بستیاں اجڑ گئیں، کتنی جانیں گئیں، نہ جانے کتنی ماؤں اور بہنوں نے اپنی عزتیں گوائیں،ہندو مسلم فسادات پھوٹ پڑے، تاریخ نے بٹوارے کی وہ حولناکیاں دیکھیں جس سے انسانوں کی روح لرز جاتی ہے۔ یہ سب نظریے کی ہی دین ہے۔
آج دنیا میں ہر طرف جنگ کا دور دورہ ہے ۔اس تہذیب یافتہ دور میں جس طرح انسانیت کا سر کچلا جا رہا ہے اسے دیکھ کر آسمان بھی پھٹ پڑنے کو ہے۔ جس طرح عورتوں ، بچوں ، نوجوانوں اور بوڑھوں کا قتل عام کیا جا رہا ہے اس نے انسانیت کو شرم سار کر دیاہے۔ معصوموں پر بم گر اکر ایک ہی جھٹکے میں تمام حقوق انسانی کو پامال کر دیا جاتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں اور شک کی بنیادوں پر ایک انسان کو بھیڑ کے ذریعے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور اسے قتل کر دیا جاتا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کے ناحق قتل کو تمام انسانوں کا قتل قرار دیا: اسی وجہ سے بنی اسرائیل کو یہ فرمان لکھ دیا تھا کہ جو کوئی کسی کو قتل کرے جب کہ یہ قتل نہ کسی اور جان کا بدلے لینے کے لئے ہواور نہ کسی کے زمین میں فساد پھیلانے کی وجہ سے ہو تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جو شخص کسی کی جان بچالے تو یہ ایسا ہے جیسے اس نے تمام انسانوں کی جان بچالی۔ (سورۃ المائدہ ۳۲)
مذہب اسلام نے دورانِ جنگ بے قصور ، نہتے اور کمزور لوگوں کے قتل کی سختی سے ممانعت کی ہے ، بچوں ، عورتوں ، بوڑھوں اور خلوت نشیں عابدوں ، زاہدوں سے ہرگز تعرض نہ کیا جاتا ، دورانِ جنگ بے قصور لوگوں کے قتل کو تو رہنے دیجیے ، اسلام نے سرسبز وشاداب کھیتوں ، پھل دار درختوں اورباغات کو بھی نقصان پہنچانے سے روکا ہے ، ایک روایت میں ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ نے فرمایا : کمزوربوڑھوں ، چھوٹے بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کیا جائے (ابوداوٴد:باب دعوة المشرکین إلی الإسلام : حدیث:۸۴۹)اور ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو جو ملکِ شام ایک مہم کے لیے روانہ ہوا تھا،انھیں اس قسم کی ہدایات دی تھیں کہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں ، کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائیں، کسی ضعیف بوڑھے کو نہ ماریں ، کوئی پھلدار درخت نہ کاٹیں، کسی باغ کو نہ جلائیں ( موٴطا مالک : ۱۶۸)
ہمارے سامنے سوال یہ ہے کہ ہم انسانیت کو کیسے فروغ دیں؟
انسانیت کو فروغ دینے کے لیے ہمیں بہت بڑے بڑے عمل کرنے کی ضرور نہیں ہے۔ہم اپنے چھوٹے چھوٹے عمل سے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 1۔سلام (Greetings)کو عام کریں ۔جب بھی کسی سے ملیں خوش اسلوبی سے ملیں ، اچھے ناموں سے اسے مخاطب کریں۔2۔ جب آپ کا پڑوسی یا بھائی بیمار پڑے تو اس کی عیادت کریں ۔ پڑوسی میں مذہب کی تفریق نہیں ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ اپنا ہم مذہب آدمی ہے تو ہم ہاسپٹل جاکر اس کی تیمار داری کر لیتے ہیں پر بیمار آدمی کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہے تو ہم اس کی عیادت نہیں کرتے۔3۔آپ کا پڑوسی یا بھائی آپ کی دعوت کرے تو اسےقبول کریں اور آپ بھی بلا تفریق مذہب و ملت کے اپنے پڑوس کے لوگو ں کی دعوت کریں۔4۔ کسی کی موت ہو جاتی ہے تو اس کے غم میں شریک ہوں، یہاں بھی اکثر دیکھا گیا ہے کہ مرنے والا مسلم ہے تو پوری قوم کھڑی رہتی ہے اور مرنے والا پڑوسی اگر دوسرے مذہب کا ہے تو کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی۔5۔حسب استطاعت ضرورت مندوں کی مدد کریں۔6۔ کچھ اچھا پکائیں تو اپنے پڑوسی کو بھی کھلائیں۔ 7 ۔ اچھے کاموں میں ایک دوسرے کا تعاون کریں۔ 8۔ ایک دوسرے کے سماجی اجتماعات میں شرکت کریں۔ وغیرہ وغیرہ
دور حاضرمیں برادران وطن ایک دوسرے سے شدید غلط فہمیوں کا شکار ہیں۔سوشل میڈیا،پرنٹ اور الیکٹڑانک میڈیا نے ان غلط فہمیوں اور بد گمانیوں کو اور ہوا دی ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف نفرت اور تعصبات کو فروغ دیا جا رہاہے۔ ایک دوسرے کے درمیان دوریوں کو بڑھا یا جا رہا ہے ۔ ایسے ماحول میں ہماری ذمہ داری بتی ہے کہ ہم جہا ں رہتے ہیں،جہاں کام کرتے ہیں ، جہاں اٹھتے بیٹھے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ اچھے روابط بنائیں ، ان کے ذہنوں میں اٹھنے والے سوالوں اور الجھنوں کا حکمتوں سے بھرا ہوا تسلی بخش جواب دیں۔ سلجھے ہوئے اور امن پسند لوگوں کو پیش پیش رکھیں۔غلط فہمیوں اور بدگمانیوں کا ازالہ کریں۔
اسٹنٹ پروفیسر(گیسٹ)
شعبہ اسلامک اسٹڈیز،
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]