’’گرد ِراہِ یار ‘‘ :قصہ یادوں کا – ڈاکٹر فیضان حسن ضیائی
جناب ملیح بدر سے میری پہلی ملاقات ’’ گرد ِراہِ یار ‘‘ کی رسم اجرا میں ہوئی تھی ۔ مقام تھا فیاض ملن ہال، سہسرام ۔میرے ذہن میں ایم۔زیڈ۔خان اور ملیح الزماں خان کا نام محفوظ تھا ۔لیکن کتاب کے سر ورق پر ان کے ایک اور قلمی نام ’’ملیح بدر‘‘ سے بار اول واقفیت ہوئی ۔میں تقریب میں تاخیرسے پہنچاتھا۔ہال میں شائقین ادب کی اطمینان بخش تعداد موجود تھی اور محفل پر جوش نظر آرہی تھی ۔میری نگاہیں تقریب کے اختتام تک ملیح بدر کی شخصیت کا مشاہدہ کرتی رہیں ۔میں نے محسوس کیا کہ فراخ پیشانی پر بکھرتے بالوں کو سنوارتا یہ شخص محسوسات کی دنیا کا پروردہ معلوم ہوتا ہے جس نے عام روش سے ہٹ کر اپنے ذاتی تجربات و مشاہدات کی بنا پر حلقہٗ احباب کی خوبصورت یادوں کو کتابی شکل عطا کی ہے ۔
محبت اور دوستی ایک فطری جذبہ ہے جو کم وبیش ہر انسان میں یقینی طور پر پایا جاتا ہے ۔فرق صرف یہ ہے کہ اس کے اظہار کے لیے مختلف وسائل و ذرائع اپنائے جا سکتے ہیں ۔انسان جس قدر حساس ہوتا ہے، جذبہ دوستی کی فراوانی بھی اسی قدر ہوتی ہے اور یہ فراوانی اس کے گرد ایک دائرہ اور وسیع حلقہ بناتی ہے ۔ملیح بدر کا خلوص اور ان کی عقیدت و محبت جو کچھ بھی شاہد جمیل کے تئیں ہے ،یہ ان کی علم دوستی ، حق شناسی اور وفا شعاری سے تعبیر کیا جانا چاہئے جس کا بر ملا اظہار انہوں نے اس کتاب میں کیا ہے:
’’کالج لائف سے ریٹائرمنٹ لائف تک ان اڑتالیس برسوں کے درمیان میری اور شاہد کی دوستی وقت اور زمانے کے سرد وگرم سے بے نیاز ،تمام عصبیتوں سے پاک، تمام رشتوں سے بلند رہی ہے ۔‘‘ (گرد راہ یار:ص ۱۲۷)
اس کتاب کے مطالعے سے یہ بات بھی وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ شاہد جمیل کی قربت نے ملیح بدر کے ادبی ذوق کو پروان چڑھانے اور ادبی حلقوں میں روشناس کرانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے ۔
’’ گرد ِراہ ِیار ‘‘میں ملیح بدر نے اڑتالیس سالہ روداد کو تیس دلچسپ عنوانات کے تحت (’سرگوشیاں‘ اور ’اختتامیہ‘ کے علاوہ) اپنی یادوں کو تازگی بخشی ہے ،جہاں زندگی کے تلخ وشیریں واقعات و حادثات کے مختلف شیڈس نظر آتے ہیں ،بلکہ مٹھی بھر خاک میں ایک جہان تازہ معلوم ہوتا ہے ۔ان یادوں میں شاہد جمیل ایک مرکزی کردار کی حیثیت رکھتے ہیں ۔علاوہ ازیں ادبی ذوق و شوق کے حامل دیگر ہم جماعتی ،جوان یادوں کا حصہ رہے ہیں، ان میں آفاق عثمانی، واثق ،ابرار، نول ، توحید اعظم علیگ،احتشام، مظفر حسن عالی ؔ، ارمغان ساحل ، عشرت علوی ،ذوالفقارانور، افتخار، ششی کانت، اور نثار وغیرہ کے ہمراہ یادوں کا کارواں پورے طمطراق کے ساتھ قاری کے ذہن میں دلچسپی پیدا کرتا ہے،جہاں اسے کسی قسم کی اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی ۔کتاب میں شاہد جمیل کے حوالے سے جو مخصوص عنوانات قائم کیے گئے ہیں ان میں بیتے لمحوں کا ہمسفر :شاہد جمیل، شخصیت اور فن، کالج کی دھماچوکڑیاں ، شادی ، شاہد کی رانچی آمد، رشتوں کی پاسداری ،تعلیمی سرگرمیاں ، گردش دوراں ، اور فیئر ویل فنکشن کے تحت شاہد جمیل کے مذاق و مزاج اور ادبی زندگی کے عروج و استحکام سے واقفیت ہوتی ہے ۔ملیح بدر نے یادوں کے نہاں خانے سے حلقہ احبا ب کی ایسی یادوں کو بھی منجمد کیاہے ،جہاں ہم بے ساختہ قہقہے لگانے پر مجبور ہوجائیں گے۔شاہد جمیل کی پر مزاح طبیعت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: (یہ بھی پڑھیں دلی کے بزرگ دوست:سلیم شیرازی- ڈاکٹر عمیر منظر )
’’ بذلہ سنجی اور ظرافت شاہد کی فطرت ثانیہ میں شامل تھی ۔بات بات پر قہقہے لگانا ،دوستوں کی نقل اتارنا اور ان کا نام بگاڑنا یعنی ادبی اصطلاح میں تقطیع کرنا ،الفاظ سے کھیلنااس کی عادت میں شامل تھا ۔ارمغان کی احمقانہ حرکتوں کے لیے شاہد اسے’ احمق اعظم‘ کہتا تھا ،ابرار کو اس کی رنگین مزاجی کے لیے ’محبوب اعظم‘، آفاق عثمانی کی جان لیوا سنجیدگی کی وجہ کر’ آفات آسمانی‘ یا ’احمقاق‘ اور ایک سیاہ فام دوست کو بی۔بی۔ڈی( بلیک بن ڈمرو) جیسے ناموں سے یادکرتاتھا۔‘‘ ( گردِ راہ ِ یار:ص۵۸)
اس کتاب میں شاہد جمیل صاحب کا وہ شعر بھی شامل ہے، جو ان کے حلقہئ احباب میں اب بھی مشہور ہے ۔اور میں نے بھی بارہا والد ِگرامی سے سن رکھا ہے ۔در اصل یہ شعر ان کے عزیز دوست ارمغان ساحل اور ان کی اہلیہ کے حوالے سے ہے:
رعنا ؔ کا، ارمغاں پہ اثر کچھ نہیں ہوا
ساحل پہ گل کھلا تھا، مگر کچھ نہیں ہوا
(گرد ِراہ ِیار :ص۸۲)
دیگر موضوعات جو سہسرام کے ادبی و ثقافتی پس منظر کا احااطہ کرتے ہیں، مثلاً سہسرام کی ادبی فضا،سہسرام ادب کا ایک مرکز، سہسرام کے اخبارات ورسائل ، سہسرام کا محرم ، محرم کی نعل ، سہسرام کا فساد اور چشمے اور پہاڑ کا تذکرہ قارئین کے لیے خاصے کی چیز ہے ۔ نوجوانان سہسرام کے لیے محرم کا چاند نو روز کے مانند ہے ۔پردیس میں زندگی بسر کرنے والے بزبان خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ عید کی سوئیاں اور قربانی کا گوشت ہمارے دل و دماغ میں وہ للک پیدا نہیں کرتا جو محرم کی نویں ، دسویں اور گیارہویں کی سحر انگیز فضا کرتی ہے ۔ یہاں کی ایک خاص چیز نعل کا نکلنا ہے جس کا تذکرہ میں نے ہندوستان کے کسی حصے میں نہیں سنا ۔ ملیح بدر نے سہسرام کے ثقافتی پس منظر میں’ نعل ‘پر تفصیلی گفتگو کی ہے ۔مجھے حیرت ہوئی کہ سہسرام کا ایک علمی اور ادبی حلقہ بھی اس میں زور آزمائش کر چکا ہے ۔ جن ناموں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں کیف سہسرامی ،مخمور سہسرامی ، ناظم میواتی سہسرامی ، پروفیسر حسن آرزو،سلطان اختر، سیف سہسرامی، پروفیسر حسین الحق ، شاہین سہسرامی ، شگفتہ سہسرامی اور مسرور اور نگ آبادی وغیرہ کے علاوہ میرے ذہن میں حافظ ہلال ، حافظ صدام ، حافظ مشاہد ، حافظ شاکر ، حافظ سلطان اور حافظ نوشاد محفوظ ہیں ۔نعل کی تاریخ ،بڑی نعل ، چھوٹی نعل کی شرائط، سکریٹری نعل کمیٹی کے اختیارات ، نعل کی شرائط میں ترمیمات اور تعزیہ داری کا تفصیلی تذکرہ محرم کے دیوانوں کے لیے علمی اضافے کی حیثیت رکھتا ہے ۔
سہسرام کے تفریحی مقامات بھی زمانہئ قدیم سے توجہ کا مرکز رہے ہیں ۔یہاں کی سر سبز و شاداب وادیاں ،پہاڑوں میں بہنے والے ندی ،نالے، آبشار،جھرنے ، کنڈ اہل سہسرام کے لیے ہی نہیں بیرون سہسرام کے شائقین کے لیے بھی توجہ کا مرکز رہے ہیں ۔ ان تمام قدرتی عناصر کی کیفیت موسم برسات میں دو بالا ہو جاتی ہے۔ لوگ بڑی بے صبری سے اس موسم کا انتظار کرتے ہیں۔ملیح بدر نے چھوٹے اور بڑے پہاڑ کے نمائندہ مقامات کا تجزیاتی مطالعہ پیش کیا ہے جن میں بارہ مسیا، چندتن شہید پیرپہاڑ، درگاہ تلا، محبوب کنڈ، چندن جھرنا ، چھ مسیا، چھریاہی ، بھنور کھوہ ، شاہ برج، بھوتیا، بوڑھن ، چرکا ، ترپکھنا بروادہ،دھوبر، ماجر کنڈ، سورج کنڈ، موتی کنڈ، پھسلی کنڈ، سیتا کنڈ اور دھواں کنڈ کے علاوہ شکار گاہ کے اہم مقامات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔
ملیح بدر نے بڑی محنت اور دلجمعی سے اپنی یادوں کو منجمد کیا ہے ۔ کالج کے ابتدائی زمانے سے لے کر ادبی ذوق و شوق کی تلاش و جستجو میں ابن صفی کو پڑھنے کی دیوانگی کا قصہ ہو یا دیگر ادبی اور غیر ادبی سر گرمیاں ہوں، ہر موڑ پر شاہدجمیل جیسی دلنواز شخصیت کا ساتھ ملیح بدر کے لیے فخر و انبساط کا حامل نظر آتا ہے۔موضوع کی وضاحت اور اس کے پس منظر میں جو قصے بیان کیے گئے ہیں، وہاں زبان و بیان کی سادگی و صفائی کا پورا خیال رکھا گیا ہے ۔ ان کی عبارت بوجھل ہونے کے بجائے چست اور دلکش نظر آتی ہے تا کہ قاری تک اس کے ابلاغ میں کوئی بات حائل نہ ہو ۔ اس کتاب کے حوالے سے شاہد جمیل اور ملیح بدر تا دیر یاد رکھے جائیں گے ۔٭٭٭
ڈاکٹر فیضان حسن ضیائی
محلہ بارہدری، سہسرام(بہار)
(76318-87356)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

