سوال یہ ہے کہ اردو افسانے کے بنیادی ڈھانچے کو زیر بحث لاتے ہوئے کیا حقیقت واقعہ اور کردار نگاری اہم ہیں یا اسلوب بیان اور تکنیک ؟ یا ان میں سے کوئی ایک ؟
اس سوال پر غور کیے بغیر ہمارے ہاں عمومی طور پر اردو افسانے سے متعلق تنقیدی مباحث میں حقیقت واقعہ اور کردار نگاری کے مقابلے میں اسلوب بیان اور تکنیک بہت کم زیر بحث آتے ہیں۔
جبکہ فن پارے کے باہم گتھے اور رچے ہوئے عناصر ترکیبی کا کامل تجزیہ اسلوب بیان اور تکنیک کو زیر بحث لائے بغیر ممکن ہی نہیں۔
میرا خیال ہے کہ اردو کے پہلے افسانہ ’نصیر اور خدیجہ ‘ از راشد الخیری مطبوعہ ’مخزن‘ دسمبر 1903 تا حال کے دورانیہ پر مشتمل اردو افسانے کے ایک سو دس سالہ سفر میں بروئے کار لائے جانے والے اسالیب بیان اور تکنیک کا جائزہ ہی ہمیں آنے والے کل کے لیے اس بہترین کا چناؤ کرنے کے قابل بنا سکتا ہے، جس کی خواہش ہمیشہ سے کی جاتی ہے۔
آج اس خصوص میں غورو فکر کی ضرورت اس لیے بھی ہے کہ 20ویں صدی عیسوی کے چھٹے اور ساتویں دہے کے افسانہ نگار کا ہدف موجود سے پرے کا علاقہ بھی رہا ہے۔ یوں موجود اور واضح کے مقابل غیر واضح، شعور کے مقابل لا شعور اور اجتماعی لا شعور، حقیقت اور رومانیت کے مقابل شک، اور خارجیت کے مقابل داخلی الجھیڑے اہمیت اختیار کرتے گئے اور حقیقت واقعہ اور کردار نگاری جسے افسانے کا جوہر اور توانائی کا مرکز تصور کیا جاتا تھا کی اہمیت بدرجہ ہا گھٹتی گئی۔ نتیجے میں آدرشک، مینی فیسٹو کے پابند اور رومانی یک رخے بیانیہ کی جگہ علامتی، استعاراتی، تجریدی اور کیوبسٹک اظہار بیان نے اہمیت حاصل کی۔ بے شک کسی بھی نوع کی بڑی ہلچل کا پہلا فیز ایسے ہی متحارب میلانات سے ظہور پاتا ہے۔
سوال : پیچھے جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ چودھری محمد علی ردولوی نے داستانوی بیان کو قدرے مختلف انداز سے برت کر ایک نیا لہجہ تراشا ۔ یہ نیا پن ان کے ہاں قلم کے شوخ و شنگ Strocks اور مزاج کے بانکپن سے پیدا ہوا نیز انھوں نے متناقص الخیالی (Paradoxes) سے داستان کی نثری روایت میں اضافے کیے۔ کوئی کہے کہ گناہ کا خوف میں شامل افسانے محض سادہ بیانیہ ہے۔
’’راستے میں چھوٹا پھول کھلا تھا کہ مسافروں کو دیکھے گا۔ گدھا آیا اور اس کو چر گیا۔‘‘
(’کشکول محمد شاہ فقیر‘ سے اقتباس)
بعد از اں زبان کے ورتارے کی اس روایت میں قاضی عبد الستار کا نام ابھر کر سامنے آیا اور اس خصوص میں جملہ امکانات مکمل کر گیا۔ قاضی عبد الستار کا ’پیتل کا گھنٹہ‘ اس اسلوب کا بام عروج ہے۔ اس کے پیہم کروٹیں لیتے ہوئے بیانیہ کی داد کون دے گا؟
پریم چند کے اولین افسانوی مجموعے ’سوزِ وطن‘ میں شامل داستانوی اسلوب کے حامل افسانوں کے بعد عزیز احمد نے حقیقت واقعہ کو افسانے کا جوہر اور توانائی کا مرکزہ خیال کرتے ہوئے ’زریں تاج‘ ، ’شعلہ زارِ الفت‘ ، ’میرا دشمن میرا بھائی‘ ، ’مدن مینا اور صدیاں‘ ، نیز ’آب حیات‘ جیسے تاریخ سے متعلق افسانے لکھتے ہوئے داستانوی اسلوب بھی برتا اور’ تصورِ شیخ‘ قلم بند کرتے ہوئے ملفوظاتی اور علامتی پیرایۂ اظہار بھی اختیار کیا۔ بیسویں صدی کے چھٹے دہے میں انتظار حسین کا ’آخری آدمی‘ اور ’زرد کتا‘ اسی روایت میں لکھے گئے افسانے ہیں پھر یہ کہ ایک بھر پور اسلوبیاتی روایت نے چیخوف اور مارس میترلنک کے عالمگیر اثرات کے تحت اردو افسانے میں جنم لیا اور خوب پھلی پھولی۔ یہ زبان کے تخلیقی امکانات اور بیان میں علامتی ابعاد پیدا کرنے کی روایت ہے، جس کے تحت راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس اور سید فیاض محمود نے افسانے لکھے اور یہ اسلوبِ اظہار ظاہر میں باطن کی جھلک دیکھنے اور دکھانے کے تخلیقی عمل کی ضرورت ٹھہرا۔ زمینی بوباس اور ہندوستانی اساطیر کی اٹوٹ سپلائی لائین اس میں بیدی کی انفرادیت ہے۔ جس کی بہترین مثال افسانہ ’گرہن‘ کا اختتامیہ ہے۔ غلام عباس اور سید فیاض محمود کے ہاں اس اسلوب اظہار کی نرم و لطیف مڑتی ہوئی اور آپس میں باہم الجھتی ہوئی راہداریاں انوکھے لحن کو جنم دیتی ہیں۔ سنہ ساٹھ اور ستر کے دہے کے چیدہ افسانہ نگاروں نے انھیں جم کر پڑھا اور اپنے لیے یکسر منفرد اسالیب اظہار وضع کیے۔ ایسا بھی نہیں کہ یہ کام سنہ ساٹھ یا ستر کے دہے میں ہی ہوا، اس کی ابتدائی امثال سینئر افسانہ نگاروں کے ہاں بھی دیکھنے کو مل جاتی ہیں، جیسے منٹو کا ’پھندے‘ ، ’کرشن چندر کے ’غالیچہ‘ ، ’مردہ سمندر‘ ’ہاتھ کی چوری‘ ’گڑھا‘ ’بت جاگتے ہیں‘ ’الٹا درخت‘ اور ’نیکی کی گولیاں‘ ’میرزا ادیب کے ’دلِ ناتواں‘ اور ’درونِ تیرگی‘ حیات اللہ انصاری کا ’چچا جان‘ ’اختر حسین رائے پوری کا قبر کے اندر‘ خواجہ احمد عباس کا ’تین عورتیں‘ سراج الدین ظفر کا ’تنازعہ‘ اور قرۃ العین حیدر کا ’آہ دوست‘ اور اختر اورینوی کا ’کیچلیاں اور بالِ جبریل‘ یادگار تجریدی اور علامتی افسانے ہیں۔ پھر یہ کہ انگارے ’ مرتبہ‘ احمد علی (1932) میں شامل سجاد ظہیر اور احمد علی کے افسانوں میں یادوں کے دھارے سے مطابقت رکھنے والی سرریلسٹک تدبیر کاری اور آزاد تلازمۂ خیال کی تکنیک بے معنی نہ تھی۔ (یہ بھی پڑھیں سریندر پرکاش کا افسانہ ’بجوکا‘ – نثارا نجم )
دیکھیے، یہ جو کہا جاتا ہے کہ قدیم فکشن ماضی کے اس انسان کی آئینہ دار تھی جس کی حیثیت محض ٹائپ کی ہے ، تو کچھ غلط نہیں کہا جاتا۔ انسان کا یہ قدیمی ٹائپ کردار، جنگل کے اس اکیلے درخت کی مانند تھا جو اپنی انفرادیت جنگل میں ضم کر دیتا ہے۔ لیکن وہ بیتا ہوا کل تھا اور عہد نو کے تصادمات کچھ اس نوعیت کے ہیں کہ جنھیں اس طرح Share نہیں کیا جا سکتا۔ اب افسانہ نگار کو محض اپنے اوپر وارد شدہ یکسر جدا گانہ روحانی اور جذباتی واردات ہی رقم نہیں کرنا بلکہ اپنے عہد کی بے رنگی کو بھی سمیٹنا ہے۔ اس جوکھم کا سامنا سنہ ساٹھ کے دہے میں سر ندر پرکاش ، انور سجاد، بلراج مین را اور خالدہ حسین نے بھی کیا اور ستر کے دہے میں میرے ساتھی افسانہ نگاروں نے بھی۔ یوں ساٹھ اور ستر کے دہوں کے چیدہ افسانہ نگاروں کا اسلوبیاتی تنوع آج نئے افسانہ نگار کی توجہ کا طالب ہے۔
سریندر پرکاش کے افسانے یقین اور رجائیت کی انتہائی زیریں لہروں سے تشکیل پاتے ہیں اور ان میں ماورائیت کا احساس پختہ تہذیبی اور تاریخی شعور کا پیدا کردہ ہے۔ یہ ان کے اسلوب بیان کی خوبی ہے کہ تہذیبی اور تاریخی شعور امیجری اور آوازوں کے Distort ہو جانے پر بھی اس خاص نوع کی ماورائی کیفیت کو برقرار رکھتا ہے۔ انور سجاد اور بلراج مین را نے ہر سودندناتے ہوئے شر کی چہرہ نمائی اس فرق کے ساتھ کی جو Sublimation اور Elevation کا فرق ہے۔ انور سجاد کے لہجے کی کرختگی ، اوس بورن کے ’Look Back in Anger‘ سے ملتی جلتی ہے۔ بیان کی تیزابیت اور زبان کا ایسا ورتارا، جیسے کوڑے برس رہے ہوں اور کھال ادھڑ رہی ہو۔ جب کہ بلراج مین را کے ہاں ایک خاص نوع کی کو ملتا، جو اس کی Ethereal کردار نگاری سے مطابقت رکھتی ہے۔
خالدہ حسین کے افسانوں میں پایا جانے والا احساس عدم تحفظ ، ان سے مخصوص اسلوب بیان کے سبب خوف، نفرت، اذیب اور تشکیک کی چہرہ نمائی کرتا ہے اور یوں خالدہ حسین کے ہاں جانے پہچانے کردار تجریدی اور ماورائی فضا میں سانس لیتے ہوئے زندگی کے وسیع تر تناظر میں سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔
رشید امجد نے سادہ بیانیہ کی گردن مروڑ کر شعر اور نثر کی حد بندیاں توڑ دینے والا ایسا ردمک تشبیہاتی اور علامتی اسلوب وضع کیا جو ستر کے دہے میں حد درجہ مقبول ہوا اور رشید امجد کے زیر اثر یہی اسلوب منشا یاد، اعجاز راہی، احمد داؤد اور حمید سہروردی کے ابتدائی افسانوں میں اپنی پہچان کرواتا ہے۔ البتہ 1980 تک آتے آتے منشا یاد اور احمد داؤد کے ہاں تشبیہ کی جگہ علامت او ر تجرید کی جگہ ٹھوس واقعیت نے لے لی۔
اسد محمد خاں کے ہاں نفسیاتی الجھاؤں اور کرخت معروضی صورتِ حالات کا علامتی اظہار کہیں تو شدید طنز اور درشت لب و لہجے کا طالب ہوا اور کہیں اسلوبیاتی سطح پر مجرد کی تجسیم اور مجسم کو مجرد میں ڈھالنے کی صورتیں دکھائی دیں۔
پھر شفق اور احمد جاوید ہیں، جنھوں نے معاصر صورت حال کا مطالعہ تاریخ کے تناظر میں کرتے ہوئے تمثیل نگاری کی۔ ایسے میں شفق کا داستانوں سے کشیدکردہ لہجہ اور احمد جاوید کے بیانیہ میں علامات تراشتے ہوئے بات کو دہرانے کاعمل دو الگ الگ اسالیب بیان کا باعث بنا۔ جب کہ قمر احسن، سلام بن رزاق، ذکاء الرحمن، انور قمر، علی تنہا اور انور سن رائے نے الجھی ہوئی نفسی کیفیتوں سے متعلق علامت نگاری کرتے ہوئے کہیں تو حجاب اور سرگوشی سے کام لیا اور کہیں بیانیہ کو شعور کی رو کے تحت اپنے اپنے طور پر برت کر اک دوجے سے یکسر الگ اسالیب تراشے۔
لیکن یہ سارا کام سادہ بیانیہ کو ترک کر کے ہی کیا گیا۔ جس سے ہوا یہ کہ گزشتہ پانچ دہائیوں کے ٹکڑوں میں بٹے ہوئے بے چہرہ انسان کی ذہنی پژ مردگی اور احساساتی تناؤ کو افسانوی بیان میں جگہ ملی۔ (یہ بھی پڑھیں اردو افسانوں میں ہندو اساطیر – ڈاکٹر ابوبکر عباد )
جب ایک تسلسل میں یہ کام کیا جا رہا تھا تو نا محسوس طور پر قاری کی تربیت بھی ہوتی چلی گئی۔ سب ٹھیک جا رہا تھا کہ سنہ 80 کے اواخر میں ہمارے ہاں جمیل جالبی اور بھارت میں گوپی چند نارنگ اور قمر رئیس، افسانے سے کہانی پن کے اخراج کا رونا کچھ اس شد و مد سے روئے کہ نئے افسانہ نگار کی راہ کھوٹی کر گئے۔ ادھر اور کوئی نئی راہ بھی نہیں سوجھتی تھی۔ لے دے کر ایک ہی راستہ انھیں سجھائی دیا کہ سادہ بیانیہ اور حقیقت واقعہ کی طرف لوٹ چلیں، جسے سنہ ساٹھ اور ستر کے دہے میں تج کر ہی نرول کام کیا گیا تھا۔ یوں ستر کے بعد اسی اور نوے کی دو دہائیوں، بشمول اکیسویں صدی کے ان تیرہ برسوں میں ہاتھ کیا آیا ؟
اسی کے دہے کے نیر مسعود، ’سیمیا ‘ ’عطر کا فور‘ ’طاؤس چمن کی مینا‘ اور ’گنجفہ‘ کے افسانوں کے ساتھ اور لکڑ بگھا سیریز جیسے چونکا دینے والے افسانوں میں ’بادِ صبا کا انتظار‘ کے خالق سید محمد اشرف یا غضنفر کا ایک افسانہ ’کڑوا تیل‘۔
بیسویں صدی کے نویں دہے میں خالد جاوید ’برے موسم میں ‘ اور ’تفریح کی ایک دو پہر‘ میں شامل افسانوں کے ساتھ …… یا ہمارے ہاں …… امجد طفیل کے …… ’انٹیک شاپ‘ اور’ مچھلیاں شکار کرتی ہیں‘ دو افسانے، اور دو افسانے میں عاصم بٹ کے ’تیز بارش میں ہونے والا واقعہ‘ اور ’انکار‘ ۔ یا انھی کے ساتھ کے بھارت کے افسانہ نگاروں میں صدیق عالم کے دو افسانوی مجموعوں ’آخری چھاؤں‘ اور ’لیمپ جلانے والے ‘ اور طارق چھتاری کے افسانوی مجموعے ’باغ کا دروازہ‘ میں شامل چند قابل توجہ افسانے ۔ مجمل طور پر ہاتھ کیا آیا ؟ محض جدیدیت کے نام گالی کا اندراج ؟ ‘ ’شب خون‘، الٰہ آباد، ’اوراق‘ لاہور اور ’جواز‘ مالیگاؤں کی مساعی کو رد کرنا؟
چلیے یہی سہی۔ لیکن ان تینتالیس برسوں میں ہم نے جو پایا، وہ آپ کے سامنے ہے۔ پھر ایک افتاد اور پڑی۔ علاقائی زبانوں اور بولیوں سے مخصوص لفظیات کے اردو میں در آنے کے علاوہ کلکتہ، ممبئی اور کراچی کی بندرگاہوں اور بڑے شہروں میں جنم لینے والا عامی اور غیر مہذب لب و لہجہ نرول زبان پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ خاص طور پر بھارت میں کچھ عرصہ قبل ہندی کو عمومی بول چال بنانے کے حوالے جو کچھ اردو سے ہندی نے مستعار لیا تھا،اب ہندی وہی کچھ قدرے بگڑے ہوئے تلفظ اور غلط املا کے ساتھ اردو کو لوٹا رہی ہے۔
خود ہمارے ہاں پاکستان میں پنجابی، بلوچی، سندھی ، سرائیکی، پوٹھو ہاری، شنا، ہندکو، اور پشتو لفظیات کو تن آسان افسانہ نگار بلا کسی تخلیقی جواز کے بے دریغ برت رہے ہیں۔
جب کہ اس نوع کی زبان اور لب و لہجے کا ورتارا کردار نگاری سے مطابقت کے حوالے سے مکالماتی سطح پر تو جائز ہے جیسا کہ ممبئی کے ساجد رشید کے ہاں دکھائی دیتا ہے لیکن اگر افسانہ نگار کا بیانیہ بھی اس عامی لفظیات اور لب و لہجے سے آلودہ ہونے لگے تو یہ ایک لمحۂ فکریہ ضرور ہے۔
میں یہ بات ممبئی ، کلکتہ ، کراچی ، بہار علاقہ سرحدی، بلوچستان اور سرائیکی بیلٹ سے متعلق بہت سے افسانہ نگاروں کے نام لیے بغیر کر رہا ہوں۔
اگر یہ انحطاط ہے، تو بھی کوئی بات نہیں۔ بقول محمد حسن عسکری، انحطاط پر تعجب، حیرت اور غصہ بھی انحطاط ہی کی ایک قسم ہے۔ صحت مند رویہ تو انحطاط سے خوشگوار تعلقات استوار کرنا ہے۔ اگر نئے افسانہ نگار سے ایسا کچھ ممکن ہے تو اس طرزِ احساس کی تبدیلیاں محسوس کرنا ہوں گی نیز موجود اسلوبیاتی روایت سے کامل آگہی اس لیے ضروری ہے کہ رد اور اختیار بڑا نازک کام ہے۔ اسی سے اسالیب بیان کی زندہ روایت میں پھیلاؤ کی گنجائش نکلتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں مرزا حامد بیگ کے افسانوں میں روایت کی بازیافت – ڈاکٹر شہناز رحمن )
ہمیں ذہنی طور پر پسماندہ قاری اور بودے نقاد کی ’آہ‘ اور ’واہ‘ سے بے نیاز ہو کر کام کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ پیش منظر بہت دھندلا ہے۔ اور اس دھند میں عہد موجود کا حریص، منافق اور آبرو باختہ انسانی کردار سوالیہ نشان بنے کھڑا ہے۔ اس از حد ٹیڑھے کردار کے نفسی بحران اور چال چلن کو روایتی بیانیہ میں سمیٹنا کسی طور پر ممکن نہیں۔ لہٰذا افسانے کی فارم اور زبان کے ورتارے کی سطح پر تبدیلیوں کا جتن کرنا ہوگا۔ نئے لسانی پیرایۂ اظہار وضع کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آج حسیات کی حدود لا محدود ہیں۔ اب اول درجے کی بصری اور سماعی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ اس میں مشکل صورتِ حال وہاں درپیش ہوگی جب بصارت اور سماعت کا تجربہ لامسہ اور ذائقہ کی حدود میں داخل ہو رہا ہو اور ہمیں اس کا اظہار کرنا پڑ جائے تو کیا کریں گے ؟ ایسے میں محض اشارہ یا تشبیہ سے مرصع بیانیہ کی یک رخی طرح داری سے کام نہیں چلے گا۔ پھر کیوں نہ استعارہ اور علامت کی معرفت ہمہ جہت معنوی تلازموں کی جستجو کریں۔ کچھ تو کرنا ہوگا۔ مستقبل کے افسانہ نگار کے ہاں نئے اسالیب بیان کی تلاش کا عمل جاری رہنا چاہیے۔
اس ضمن میں نئے افسانہ نگاری کا کوئی واہمہ ہو تو ہو، میں نہیں سمجھتا کہ اس راہ میں کوئی بھاری پتھر دکھائی دیتا ہے۔
Mirza Hamid Beg
225, Nashtar Block
Allama Iqbal Town, Lahore (Pakistan)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

