Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

اقبال حسن آزاد کا افسانہ ‘رکشہ والا’ – ڈاکٹر افشاں ملک

by adbimiras ستمبر 9, 2021
by adbimiras ستمبر 9, 2021 0 comment

اقبال حسن آزاد نے جس زمانے میں افسانے لکھنے شروع کیے وہ دور علامت سازی کے طور پر واقعہ کو بیان کرنے کا تھا یعنی علامتی اور تمثیلی افسانے لکھے جا رہے تھے ۔کیونکہ اقبال حسن آزادکے پہلے افسانے’’انقلاب ‘‘ کی سنہ اشاعت ۱۹۷۷ ہے، ہم اس عہد کو جدید تحریک کے اختتامی دورسے معنون کر تے ہیں ۔ویسے میرا معروضہ ہے کہ ادب کے معاملے میں تاریخ سازی کی گنجائش نہیں ہوتی ۔یعنی یہ رویہ کہ ادب میں ترقی پسندانہ رجحانات ۱۹۶۰ میں ختم ہو گئے اور۱۹۶۰ کے بعد جدید تحریک کا آغاز ہواجو ۱۹۸۰ تک قائم رہااور ۸۰ کے بعد یہ رجحان انحطاط پذیر ہو گیا اور مابعد جدیدیت کی نسل ادب کے اسٹیج پر رونما ہو گئی ۔اصل میں یہ تاریخ سازی نہ تو درست ہے اور نہ ہی حقیقت پسندانہ ۔کسی شخص کے بارے میںاس کی پیدائش اور وفات سے تاریخ متعین کی جا سکتی ہے لیکن ادبی تحریکات و رجحانات کے جلو میں یہ معاملات تاریخی اعتبار سے طے نہیں ہو سکتے۔کیونکہ کسی تحریک کے زوال پذیر ہونے کے باوجود اس کے اثرات دیر پا محسوس کیے جاتے ہیں۔بطور مثال جیسے ہم ترقی پسند تحریک کا سنہ آغاز ۱۹۳۰ مانتے لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ۱۹۳۰ سے بہت پہلے ادب میں ترقی پسند تحریک کے خدو خال واضح ہونے لگے تھے ۔یہ اثرات پریم چند کے یہاں بھی تھے اور علامہ اقبالؔ کے یہاں بھی ۔اسی طرح ترقی پسند تحریک کے زوال پذیر ہونے کے بعدجدیدیت کے( عروج کے) دور میں بھی ادب میں ترقی پسندرجحانات جاری رہے اور کچھ فنکار اسی طرز پر افسانے لکھتے رہے ۔ ادب کے لیجینڈاحمد ندیم قاسمی کی مثال سامنے ہے کہ طویل عمری کے سبب ادب کی تمام تحریکات اور رجحانات کے زیر اثر تخلیق ہونے والے ادب پر ان کی گہری نظر تھی لیکن وہ خود دم آخر تک ترقی پسند افسانہ ہی لکھتے رہے ۔اسی طرح جدید یت کے اختتام پذیر ہونے کے بعد ما بعد جدیدفنکاروں کے یہاں بھی ترقی پسندی اور جدیدیت دونوں کے اثرات دیکھے جا سکتے ہیں ۔ یہاںمذکورہ تفاصیل درج کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جس طرح ادب میں کسی تحریک کا تعین کسی مخصوص تاریخ یا سن سے نہیں کرسکتے اسی طرح تخلیق کارکی فنکارانہ صلاحیتوں کا جائزہ بھی کسی مخصوص تحریک ،رجحان یاعہدمیں قید کر کے نہیں لے سکتے۔

یوں تو اس مضمون میں افسانہ ’’رکشہ والا ‘‘کا تجزیہ مقصود ہے لیکن اس سے پہلے ایک نظر اقبال حسن آزاد کے سوانحی کوائف پر ڈال کر ایک مختصر سا جائزہ ان کی افسانہ نگاری کا بھی لے لیتے ہیں کہ تخلیق کو سمجھنے کے لیے تخلیق کار کے فنی نقطہ نظر اور اس کی ادبی کارگزاریوں سے واقفیت ہونا بھی از حد ضروری ہے۔

اقبال حسن آزاد کا آبائی وطن’ ڈمراواں‘بہار ہے لیکن مقام پیدائش ’کھگڑیا‘ (بہار) ہے۔ ابتدائی تعلیم ’لہریا سرائے‘ (دربھنگہ) میں ہوئی اور ہائر سیکینڈری ’ رام موہن رائے سیمینری‘ پٹنہ سے پاس کیا ۔مولانا آزاد نیشنل کالج کلکتہ سے فرسٹ ڈویژن میں بی ۔اے۔ (اردو آنرس ) کرنے کے بعد پٹنہ یونیورسٹی پٹنہ سے اردو میں ایم ۔اے کیا اور گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے ۔بعد ازاں ’ ’اردو نثر میں طنز و مزاح‘‘عنوان سے  بی۔آر ۔امبیڈکر بہار یونیورسٹی،مظفر پور سے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد درس و تدریس سے وابستہ ہوئے اور منصبی مدارج طے کرتے ہوئے جے۔ آر۔ ایس کالج جمال پور مونگیر میں پرنسپل کے عہدے تک پہنچے ۔موصوف سہ ماہی اردو ادبی جریدہ ’’ثالث ‘‘کے مدیر اعزازی ہیں اور اردو ادب کے فروغ میں اپنے حصّے کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں پورٹریٹ – اقبال حسن آزاد )

جیسا کہ میں نے اوپر کی سطور میں درج کیا ہے کہ اقبال حسن آزادکے پہلے افسانے’’انقلاب ‘‘ کی سنہ اشاعت۱۹۷۷ ہے ۔ اس حوالے سے اگر دیکھا جائے تو اقبال حسن آزاد اسّی کی دہائی ختم ہونے سے کافی پہلے بحیثیت افسانہ نگار اردو کے معتبر رسائل میں اپنی جگہ بنا چکے تھے ۔ ان کا یہ پہلا افسانہ شمع ،نئی دہلی میں شائع ہوا تھا ۔( شمع یوں تو ایک فلمی جریدہ تھا لیکن اس کا ادبی معیار اتنا بلند تھاکہ اس وقت کے بڑے ادیبوںکی نگارشات اس میں شائع ہوا کرتی تھیں ) اب تک کے تخلیقی سفر میں اقبال حسن آزاد کے افسانوں کے تین مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ پہلامجموعہ بعنوان ’’قطرہ قطرہ احساس‘‘۱۹۸۷ میں، دوسرا ’’مردم گزیدہ‘‘۲۰۰۵ میں اور تیسرا مجموعہ ’’پورٹریٹ‘‘ ۲۰۱۷ میں شائع ہوکر اردو فکشن(افسانہ) کے ادبی ذخیرے میں  معتبراضافہ کر چکے ہیں۔علاوہ ازیں۲۰۱۴ میں تحقیق پر مبنی کتاب ’’اردو نثر میں طنز و مزاح‘‘ بھی شائع ہو چکی ہے ۔ افسانوں کا ایک مجموعہ ’’اوس کے موتی‘‘زیر طبع ہے ۔

اقبال حسن آزاد کا شمار اسّی کے بعد والی نسل کے سینیئر افسانہ نگاروں میں کیا جاتا ہے ۔اپنے معاصرین میں اقبال حسن آزاد اکا انفراد اور اختصاص یہ ہے کہ انہوں نے سادہ بیانیہ کے سہارے ہی عام موضوعات کو تخلیقی سطح پر برت کرخاص بنا دیا۔اور یہ اس لیے ممکن ہوپایا کہ اقبال حسن صنف افسانہ کی تکنیک ،روایات ،مبادیات اور مطالبات سے بخوبی واقف ہیں۔ایک اور اہم خصوصیت ان کی افسانہ نگاری کی یہ بھی ہے کہ انہوں نے اپنے افسانوں میں ان موضوعات اور کرداروں کو برتا ہے جن سے ان کی واقفیت سنی سنائی نہیں، عملی اور تجرباتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے کردار حقیقی اور ٹھوس سماجی حقائق سے جڑے معلوم ہوتے ہیں ۔ ہر ذہنی رویہ کے کرداروں کواقبال حسن نے اپنے افسانوں میں اس فن کاری سے برتا ہے کہ قاری ان کرداروں اور ان کے ماحول سے بہت جلد مانو س ہوجاتا ہے ۔ قاری اورافسانہ نگارکا یہی اتصال افسانے کی ترسیل کو آسان بناتا ہے ۔

اقبال حسن آزاد کے افسانوں میں نہ علامتیں ہیں ،نہ تجریدیت ہے ،نہ  ان کی زبان استعاراتی ہے ، نہ کردار ماورائی ہیں بلکہ خواب و خیال کی دنیا سے نکلا اور حقیقت کی زمین پر کھڑا یہ وہی افسانہ ہے جسے پریم چند نے متعارف کروایا تھالیکن اس تخصیص کے ساتھ کہ اس روایتی افسانے کو اقبال حسن آزاد نے ذاتی مشاہدے، تخلیقی نظریے اور ادبی کمٹمنٹ کے ساتھ برتا ہے ۔ بظاہراقبال حسن آزاد کے افسانوں میں کچھ بھی نیا نہیںہے ،کچھ چونکانے والابھی نہیںہے لیکن یہ افسانے سماجی حقیقت نگاری کی عمدہ مثال ہیں۔یہ عام زندگی کی عام سی کہانیاں ہیں لیکن بہت خاص ہیںا ور اس لیے خاص ہیں کہ ان کا تعلق انسانی معاشرے سے اور انسان کو درپیش مسائل سے ہے۔ مجموعی طور پر یہ اس زندگی کی کہانیاں ہیں جس کے بہت سارے رنگ ہوتے ہیں اور ہر رنگ کی ایک الگ کہانی ہوتی ہے۔

مضمون طویل نہ ہو جائے اس لیے اقبال حسن آزاد کی افسانہ نگاری پر مزید گفتگو نہ کرتے ہوئے ذیل میں ان کے افسانے ’’رکشہ والا‘‘ کاتفصیلی تجزیہ پیش کیا جا رہا ہے ۔پہلے ایک نظر افسانے کے متن پر۔۔۔۔ !!!

افسانے کا مرکزی کردار ’’ شرفو‘‘ ایک ساٹھ سالہ شخص ہے اور رکشہ چلا کر گزر بسر کرتا ہے ۔وہ جس بستی میں رہتا ہے وہاں زیادہ تر لوگ رکشہ ہی چلاتے ہیں ۔افسانے کا ابتدائیہ اقتباس اس طبقے کے افراد کی زندگی اور رہن سہن کا منظر نامہ یوں پیش کرتاہے :۔

’’رکشے والوں کی اس بستی میں زیادہ تر مکانات مٹّی کے تھے ۔ہر مکان میں ایک آنگن ضرور ہوتا تھا ۔

یہ لوگ مرغیاں اور بکریاں بھی پالتے تھے اور تھوڑی بہت سبزیاں بھی اُگا لیتے تھے ۔بکریاں اس وقت

سو رہی تھیںلیکن مرغیوں کے کڑکڑانے کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔‘‘

مذکورہ اقتباس افسانہ نگار کے مشاہدے کی عمدہ مثال ہے ۔مزدور پیشہ افراد کے گھروںمیں مرغیاں بکریاں وغیرہ آمدنی کا ایک ذریعہ ہوتی ہیں۔اس طبقے میں مرد گھر سے باہر مزدوری کرتے ہیں ، رکشہ چلاتے ہیں یا تعمیراتی ٹھیکے داروں کے ساتھ اینٹ وغیرہ ڈھونے کا کام کرتے ہیں اوران کی عورتیںچھوٹے چھوٹے کابک نما گھروں میں بچوں کے ساتھ ساتھ مرغی بکری بھی پال لیتی ہیں ۔ کچے آنگنوں میں سبزی اُگا لیتی ہیں۔ آنگن چھوٹے ہوں تو گھر کی کھپریلوں یا چھپروں پر لوکی ،ترئی ،کھیرے ،کدّو وغیرہ کی بیلیں چڑھا کر ساگ سبزی کا انتظام کر لیتی ہیں۔ چھوٹے طبقے کا یہی رہن سہن ہے ۔شرفو اسی بستی میں رہنے والا ایک بے ضرر سا انسان ہے اور اپنے کام سے کام رکھتا ہے ۔ رکشے کی کمائی سے ہی اس کا گھر چلتا ہے ۔شرفو بہت صابر انسان ہے ،روکھی سوکھی کھا کر بھی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ خوش اور مطمئن رہتا ہے ۔بہت دین دار نہ ہوتے ہوئے بھی وہ خدا کی یاد سے غافل نہیں ہے۔ اگر اذان سن لے تو مسجد جا کر نماز ادا کر لیتا ہے ۔افسانہ نگار نے شرفو کے معمولات کا بیان ان الفاظ میں کیا ہے  :۔

’’ابھی رات کا ملگجا باقی تھا کہ شرفو کی آنکھ کھل گئی ۔کچھ دیر تک تو وہ یونہی اپنی چار پائی پر پڑا پلکیں جھپکاتا رہاپھر اُٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور مٹّی کے آنگن کو عبور کرتے ہوئے پیشاب خانے کی طرف چلا گیا…فارغ ہونے کے بعد اپنے کمرے میں واپس آیا ۔اس کی بیوی بچے ابھی تک سو رہے تھے ۔وہ دوبارہ  پلنگ پر لیٹ رہا۔تھوڑی دیر بعد پاس والی مسجد سے اذان کی آواز ابھری تو  اس نے چار پائی چھوڑ دی ۔وہ  نماز کا پابند نہیں تھامگر جب کبھی اسے خدا یاد آتا تو وہ خدا کے دربار میں حاضر ہوجاتا ۔آج بھی وہ وضو کرکے  مسجدکے لیے نکل کھڑا ہوا ۔نماز پڑھ کر واپس آیا تو اس کی بیوی بیدار ہو چکی تھی ۔اس نے رات کی بچی ہوئی  روٹی اور گڑ کا ایک ڈھیلا تام چینی کی رکابی میں رکھ کر اس کے آگے کر دیا ۔اس نے پانی اور گڑ کے ساتھ روٹی  کھائی اور رکشہ لے کرکھلی سڑک پر نکل آیا ۔‘‘

افسانہ اپنے اگلے اقتباسات میں بتاتا ہے کہ نوجوانی کے دن شرفو نے بہت اچھے گزارے تھے ۔جب تک اس کا باپ زندہ رہا شرفو کی زندگی موج مستی میں کٹی ،لیکن باپ کی موت کے بعد جب اس کے کاندھوں پرگھر کی ذمہ داریاں آن پڑیں تو اوّل اوّل تو اس کی سمجھ میں ہی نہ آیا کہ اسے کیا کرنا چاہیے ،لیکن جب اس نے ماں کااترا ہوا چہرہ دیکھا تو پھر بغیر کچھ سوچے سمجھے باپ والا پیشہ ہی اختیار کرلیااوراپنی ماں اور بہن بھائیوں کی گزر بسر کے لیے رکشہ چلانے لگا۔ افسانہ نگار نے اس صورت حال پر یوں روشنی ڈالی ہے :۔

’’ شرفو ساٹھ کے لپیٹے میں ایک ایسا شخص تھا جس کی زندگی کا بیشتر حصہ رکشہ کھینچتے گزرا تھا،پہلے اس کا باپ             یہ کام کرتا تھا لیکن جب اس کی عمر بیس سال کی تھی تو اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔اس وقت اس کی بہن  پندرہ سال کی تھی اور چھوٹا بھائی راجو دس برس کا ۔اس زمانے میں وہ ایک دبلا پتلا چھریرے جسم کا سانولا سا نوجوان ہوا کرتا تھا ۔اسے تاش کے پتوں سے دل بہلانے،سنیما دیکھنے اور مٹر گشتی کرنے کا بہت شوق  تھامگر جب اس نے ماں کی آنکھوں کی ویرانی دیکھی تو آنگن میں کھڑے رکشے کو نکال کرسڑک پر آگیا ۔ اس سے پہلے اس نے کبھی رکشہ نہیں چلایا تھا ۔ہاں ،کبھی کبھی شوقیہ دو چار پیڈل مار لیا کرتا تھا۔پہلے دن اس نے اتنے پیسے کما لیے تھے کہ گھر کا چولہا جل سکے۔‘‘ (یہ بھی پڑھیں اقبال حسن آزاد کی افسانہ نگاری – پروفیسر اسلم جمشید پوری)

شرفوکے رکشہ کی کمائی سے گرہستی چل پڑی۔ اب ماں کی خواہش تھی کہ شرفو کی شادی ہو جائے ،اس نے جب شرفو سے اس بابت بات کی تو بظاہر شرفو ٹال مٹول کرتا رہا لیکن جوانی کے تقاضوں اور فطری خواہشوں کو نظر انداز کرنا اس کے لیے آسان بھی نہ تھا ۔ افسانہ نگار نے شرفو کی اس  کیفیت کی عکاسی ان الفاظ میں کی ہے :۔

’’اس کی ماں نے اس پر شادی کا زور ڈالنا شروع کیا ۔پہلے پہل تو وہ ٹالتا رہا لیکن جب راتوں کی تنہائی میں  خون کی روانی سے اس کا جسم سخت اور اس کی بے چین کروٹوں سے پلنگ کی بان ڈھیلی ہونے لگی تو اس نے ماں کی  بات مان لی اور اس طرح گھر میں ایک اور فرد کا اضافہ ہو گیا ۔‘‘

شادی کے بعد بھی شرفو کے معمول میں کوئی تبدیلی نہ آئی ۔ اس کا روزی روٹی کمانے کا ذریعہ سائیکل رکشہ ہی رہا  ! بدلتے وقت کے تقاضوں کو نظر انداز کرتا شرفو اپنی زندگی سے مطمئن نظر آتاتھا۔ بھلے ہی اسے معاشی ناآسودگی کا سامنا رہا ۔ چھوٹا بھائی راجو بھی رکشہ چلانے لگا تھا۔پھر دونوں چھوٹے بہن بھائیوں کی بھی شادیاں ہو گئیں ۔ راجو کی شادی کے کچھ عرصے بعد ماں نے بھی ملک عدم کی راہ پکڑی ۔ ماں کے جاتے ہی گھر کا بٹوارہ ہو گیا ،شرفو اور راجو کی گرہستیاں الگ ہوگئیں۔شرفو دو بچوں کا باپ بھی بن گیا ۔

وقت نے لمبے ڈگ بھرے اورآگے بڑھ گیا ۔ تہذیب ،معاشرت ، روزگار اور پیشے سب بدل چکے تھے۔ سائیکل رکشہ کی جگہ ای رکشہ نے لے لی تھی ۔نہیں بدلا تھا تو شرفو اور اس کی رکشہ ۔ یہاں تک کہ اس کے بھائی راجو نے بھی ای رکشہ لے لی تھی اور وہ اچھی کمائی کرنے لگا تھا ۔ شرفو کی بیوی چاہتی تھی کہ وہ بھی ای رکشہ لے لے لیکن شرفواس کے لیے راضی نہ ہوتا تھا ۔ دراصل اسے اپنے رکشے سے بڑی محبت تھی ۔  ہاںاسے وہ  وقت اکثر یاد آتا تھاجب ای رکشہ نہیں آیا تھا، اسکول کے بچوں کے لیے وین یا بسیں نہیں چلتی تھیں ،گیس ایجنسیاں اپنے گاہکوں کو ہوم ڈلیوری کی سہولت نہیں دیتی تھیں ۔ا س وقت یہ سارے کام سائیکل رکشہ سے ہی ہوتے تھے جس سے رکشہ چلانے والوں کی اچھی کمائی ہوجاتی تھی۔ مگر وقت نے ایسی چال چلی کہ سب کچھ بدل گیا۔ گھر گھر ٹیلیویژن آگئے تو سنیما ہالوں میں فلم دیکھنے کا رواج ختم سا ہی ہو گیا۔ پہلے رکشے بھر بھر کر بھیڑ سنیما ہالوں تک پہنچتی تھی اوررکشہ والے منھ مانگے داموں پر سواریاں لاتے لے جاتے تھے ۔ افسانہ نگار نے اس صور ت حال کی تصویر کشی بڑے خوبصورت انداز میں کی ہے :۔

’’اسے یاد آیا کہ اب سے چالیس سال قبل سنیما ہال آباد تھے ۔اور پہلا دن پہلے شو کا کریز نو جوانوں میں  عام تھا ۔شہر میں پہلے تین سنیما ہال تھے بعد میں دو اور کھل گئے ۔کسی نہ کسی میں کوئی کامیاب فلم لگی ہوتی ۔  وہاں تماش بینوں کی بھیڑ ہوتی ۔رکشے والے شو چھوٹنے سے پہلے وہاں اپنے رکشے لگا دیتے ۔اگر رش  زیادہ ہوتااور مسافر دور کا ہوتا تو منہ مانگا کرایہ بھی مل جاتا…!!!‘‘

یعنی رکشہ والوں کی آمدنی کا یہ ذریعہ بھی ختم ہو گیا۔ اوپر سے اب سواریاںاس لیے بھی سائیکل رکشہ پر بیٹھنے سے گریز کرنے لگی تھیں کہ ای رکشہ پر پیسے کم لگتے تھے اور سائیکل رکشہ والے بہت زیادہ پیسے مانگتے تھے ۔شرفو کو بھی اس صورت حال کا سامنا تھا ۔وہ گھر سے رکشہ لے کر نکلتا اور سواری کے انتظار میں بیٹھا رہتا ۔ کبھی سواری مل جاتی کبھی نہیں بھی ملتی ۔ شرفو پرانے دن یاد کرتا ہواماضی کے سفر پر نکل جاتا اورتبھی واپس لوٹتا جب کوئی سواری رکشے کے پاس آکرا سے چلنے کو کہتی ۔افسانہ نگار نے شرفو کی اس نوسٹیلجک کیفیت کا جواز بڑے حقیقی انداز میں ان الفاظ میں پیش کیا ہے :۔

’’یادیں خواہ صاحب زر کی ہوں یا کسی غریب کی ،وہ اس کی زندگی کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہیں ۔انسان کی عمر جب ڈھلان پر ہو تی ہے اور اس کے آس پاس کی دنیا بدلنے لگتی ہے ،نئی چیزیں اس کی آنکھوں میں اجنبیت پیدا کرنے لگتی ہیںتو یہی پرانی یادیں اس کے جینے کا سہارا بنتی ہیں۔وقت کو گزرنا ہوتا ہے ،گزرجاتا ہے اور گزرتا ہوا وقت یادوں کی فصل اُگاتا ہے…!!!‘‘

یہ کلیہ ہے کہ ہر عہد کا نیا ذہن زمانی تبدیلیوں پر لبیک کہنے میں دیرنہیںلگاتا اور چیلینجزکو قبول کرتا ہوا آگے بڑھنے کی سعی کرتاہے ۔سچ تو یہ ہے کہ اس تبدیلی کو ہی ترقی سے موسوم کیا جاتا ہے۔ یہ تبدیلیاں فطری ہیں اور زندگی کے ہر شعبے میں ہوتی ہیں اور اتنی آہستہ ہوتی ہیں کہ اندازہ نہیں ہوتااور ہم بہت کچھ ترک کر تے ہوئے بہت کچھ نیا اختیار کر تے چلے جاتے ہیں ۔اپنے اجداد کے بہت سے اصول قاعدے ،پیشے ،کھان پان ،لباس رہن سہن ہم کب تبدیل کر چکے ہوتے ہیں احساس بھی نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے بڑی دل چسپ حقیقت یہ بھی ہے کہ اس تغیرکو منفی صورت حال سے اس لیے تعبیر نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ بدلائو اپنے ساتھ سہولتیں بھی لے کر آتا ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان تبدیلیوں کو قبول کرنے یاانہیں اپنانے میں جو معاشرے یا افراد ہچکچاتے ہیں یا وقت کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چلتے وہ ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ شرفو بھی نئے زمانے اور دوسرے پیشوں سے مانوس نہ ہو سکا اور پیچھے رہ گیا جب کہ اس کے کئی ساتھیوں نے اپنے روزگار بدل لیے ،رکشہ چھوڑ کردیگر پیشے اختیار کر لیے۔ افسانے کا اقتباس بتاتا ہے کہ :۔

’’کئی رکشے والوں نے دوسرے کام دھندے اپنا لیے تھے ۔چند ایک سبزیاں اور پھل بیچنے لگے تھے ۔

کچھ محنت مزدوری کرنے لگے تھے اور دو رکشہ والے تو اچھے خاصے باورچی بن گئے تھے اور شادیوں اور

تقریبوں میں پلاؤ ،بریانی ،قلیہ اور قورمہ بنانے لگ گئے تھے …!!!‘‘

شرفو کواپنا سائیکل رکشہ بہت عزیز تھا۔اسے محسوس ہوتا تھاجیسے یہ رکشہ اس کے جنم جنم کا سا تھی ہو ۔ حالانکہ اب یہ رکشہ کافی پرانا ہو گیاتھااور اس میں ویسی چمک باقی نہیں رہی تھی جیسی پہلے تھی لیکن شرفو اس کی صاف صفائی کا اب بھی خاص خیال رکھتا تھا۔جوانی کے دنوں میں توجب شرفواپنے سجے سنورے رکشہ کولے کر نکلتاتھا اور بالخصوص زنانی سواریاں بٹھا کر جس ادا سے وہ رکشہ چلاتا تھا ، افسانے میں اس منظر کشی کو ملاحظہ فرمائیں :۔

’’شرفو کو اپنے رکشے سے پیار تھا ۔پہلے وہ اپنے رکشے کو دولہے کی طرح  سجا سنوار کر رکھتا تھا ۔خوشنما  جھالر اور گھنٹیاںاس کے رکشے کی خاص پہچان تھیں۔جب وہ دھیرے دھیرے رکشہ چلاتا تو ایسا لگتاجیسے فضاؤں میں کوئی مدھر نغمہ گونج رہا ہو اور جب کبھی اس کے رکشے پر جوان زنانیاں سوار ہوتیں تو وہ ہوا سے باتیں کرنے لگتا ۔ایسے میں گھنٹیوں کی تیز آوازیں اور دبی دبی نسوانی چیخیں اسے ایک خاص  لطف و سرور عطا کرتیں۔‘‘

بحیثیت افسانہ نگار اقبال حسن آزاد کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے کردار کے اندرو ن میں اتر کر نہ صرف اس کی تمام حسیات تک رسائی حاصل کر لیتے ہیں بلکہ ان حسیاتی کیفیات اور دلی جذبات کے اظہار بھی قدرت رکھتے ہیں جس سے وہ کردار گزر رہا ہوتا ہے۔پیش نظر افسانے میں شرفو کا زنانی سواریوں کو بٹھا کر رکشہ کو تیز تیز چلانا اور دبی دبی نسوانی چیخوں سے لطف کشید کرنا اسی طرح فطری ہے جیسے ٹیکسی ڈرائیور زنانی سواریاں بٹھا کر کار کے رئیر ویو مرر کو اس انداز سے سیٹ کرلیتے ہیں کہ پیچھے بیٹھی زنانی کا دیدار ہوتا رہے۔اگر عورت یا لڑکی پردے میں ہو تو ان کا یہ تجسس اور بڑھ جاتا ہے ۔دراصل رکشہ والوں کا زنانی سواری بٹھاکر رکشہ تیز دوڑا نا ،یا ٹیکسی ڈرائیور کا آئینے میں زنانیوں کے دیدار کے لیے تگ و دو کرنا ایک فطری فعل ہونے کے ساتھ ہی کیتھارسس کا ذریعہ بھی ہے۔

افسانے میں تحریر کیا گیا یہ تخلیقی جملہ ’’ صرف انسان ہی نہیں مرتے ،تہذیبیں اور زبانیں بھی مرتی ہیں اور پیشے اور روزگار بھی ‘‘ بہت اہم ہے اورموضوع کو پورے طور پر ڈیفائن کرتا ہے ۔افسانہ نگار نے مرکزی کردارشرفواور دیگر ضمنی کرداروں کے ذریعہ چار دہائیوں کا بدلتا ہوا سماجی،معاشی اورتہذیبی منظر نامہ نیزجدید عہد کی مشینی ترقی کے تحت مرتے ہوئے پیشے اور روزگار وغیرہ کو بہترین جزیات نگاری کے ساتھ افسانے میں پیش کیا ہے ۔ضمنی کرداروں سے بھی افسانہ نگار نے خاصہ کام لیا ہے ۔ تقریباََ سبھی کردار متحرک ہیں اور ہر کردار کسی نہ کسی جواز کے ساتھ افسانے میں اپنی موجودگی درج کراتا ہے ۔ مثلاََفضلو میاں کا کردار ہے ،پچاس سال ان کی عمر ہے ،بیوی بچے ہیں نہیں ۔روزی روٹی کا ذریعہ چائے کا ایک کھوکھا ہے جو ایک ہندو شخص سنتوشی کے گھر کی دیوار کے سہارے ٹکا ہوا ہے ۔سنتوشی مر چکا ہے ۔اب اس کا بیٹا فضلو میاں سے وہ جگہ خالی کروانا چاہتا ہے ،حالانکہ سنتوشی کی زندگی میں فضلو میاں سے اس جگہ کی بابت معاملہ طے ہوگیا تھا ۔فضلو میاں نے دکان نہیں ہٹائی کیونکہ ان کی روزی روٹی کا ذریعہ یہی کھوکھا ہے جس میں وہ چائے بیچتے تھے، لیکن سنتوشی کے بیٹے کی نیت میں لالچ آگیا ۔ پھر یوں ہوا کہ ایک رات جب گرمی بہت تھی ،فضلو میاں مچھر دانی میں سو رہے تھے کہ اچانک ان کی چارپائی میں آگ لگ گئی اور جب تک لوگ اکٹھے ہوتے فضلو میاں جل کر خاک ہوگئے ۔پولیس نے تفتیش کی، سنتوشی کا بیٹا پکڑا گیالیکن وہ جلد ہی چھوٹ گیا اور واپس آکر اس نے وہ دکان دُکھن کو دے دی اور فضلو میاں کی جگہ دُکھن کی چائے بکنے لگی۔

افسانے میں فضلو میاں کا قتل (جو سنتوشی کے بیٹے کا ہی کارنامہ ہے )نخوت زدہ نئی نسل کے ہاتھوں مسمار ہوتی ہوئی ملک کی اس گنگا جمنی تہذیب کی طرف اشارہ ہے جہاں سنتوشی فضلو میاں کو اپنی جگہ دے دیتا ہے اور اس کا بیٹا جگہ خالی نہ کرنے پرفضلو میاں کو جلا کر مار دیتا ہے اور اس کا بال بھی بیکا نہیں ہوتا ۔اس معاملے میں سیاست اور انتظامیہ کا مکروہ چہرہ بھی ہمارے سامنے آجاتا ہے کہ سنتوشی کا بیٹا گنہگار ہوتے ہوئے بھی دندناتا پھر رہا ہے اور کوئی بھی اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔افسانہ نگار نے مذہب کے نام پر نئی نسل کے دلوں میں پنپتی نفرت اور انتہائی اقدام کی طرف صرف اشارہ کیا ہے ۔کوئی نعرہ ،کوئی ہنگامہ نہیں اور ابلاغ مکمل ۔ایک اچھے افسانے کا حسن یہی ہوتا ہے کہ بغیر شور شرابا کیے افسانہ نگار وہ کہہ دے جس کے لیے اس نے افسانہ لکھا ہے ۔

جزیات نگاری سے منظر میں جان ڈال دینے کے ہنر سے واقف اقبال حسن آزاد نے اس افسانے میں جزیات نگاری کے سہارے چار دہائیوں کی بدلتی معاشرت ،دم توڑ چکے روز گار اور پیشوں کی جگہ لینے والے نئے کام دھندوں کو سادہ بیانیہ میں بڑی  فنکاری سے پیش کیا ہے ۔ افسانہ نگار کا مشاہدہ اور عمیق نگاہی لائق تحسین ہے۔زبان کی اگر بات کی جائے تو اقبال حسن بہت عمدہ زبان استعمال کرتے ہیں لیکن اس افسانے میں  انہوں نے زبان کے متروک ہو چکے الفاظ مثلاََ کھٹیا ،رکابی،تا م چینی ،اُکڑوں وغیرہ وغیرہ کا استعمال کیا ہے ،جو خوش آئند ہے۔ مرتی ہوئی زبان کو اس طرح ہی زندہ کیا جا سکتا ہے کہ ترک کیے گئے الفاظ کو استعمال کیا جائے ۔آج کی نسل لکھنا تو دور ان الفاظ سے زبانی طور پربھی واقف نہیں ہے ۔

مجموعی طور پر یہ افسانہ ایک عہد کے سماجی ارتقائ کی داستان ہے ۔ نہ یہ کسی تہذیب کے مٹنے کا نوحہ ہے نہ ہی اقبالؔ کے مصرعے کا نصف حصہ’’طرز کہن پہ اڑنا‘‘اس پر صادق آتاہے ۔ نہ ہی یہ صرف ہندوستانی مسلمانوں کی ابتری کی علامت ہے ۔ یوں بھی کسی فرد واحد کو پوری قوم کا نمائندہ نہیں سمجھنا چاہیے۔جائزہ لیں توکوئی نہ کوئی شرفو دلتوں میں بھی موجود ہے ،ہریجنوں میں بھی مل جائے گا اورپچھڑی ذاتوں میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔دراصل محدود وسائل ،پیسے کی قلت اور ترقی کی چکا چوندھ سے سہمے ہوئے یہ شرفو اپنی دنیا سے باہر نکلتے ڈرتے ہیں۔یہاں میرا مقصد شرفو کی وکالت کرنا نہیں ہے بلکہ میرا معروضہ ہے کہ کیا یہ ذمہ داری ریاستوں کی نہیں ہے کہ کمزور معیشت کا عتاب جھیلتے تمام شرفوئوں کو ہاتھ بڑھا کر باہرنکال لیا جائے جس سے ان کی ’’ریں ریں ‘‘بند ہو سکے۔

دیکھا جائے تو افسانہ’’ رکشہ والا ‘‘ نہ ہمیں چونکاتا ہے ،نہ ہمارے اندرسنسنی پیدا کرتا ہے ،نہ ہی اس کا اختتام ایسا ہے کہ دل میں کچھ کچھ ہونے لگے، نہ ہی اس میں رومانس کا تڑکا ہے اور نہ ہی اس کا موضوع کچھ نیا ہے ،تو پھر سوال یہ ہے کہ اس افسانے کو کس زمرے میں رکھا جائے اور قاری اسے کیوں پڑھے ؟ اس افسانے کے حوالے سے یہ سوال اٹھائے جا سکتے ہیں ۔تو میرے پاس اس کا فوری جواب تو یہ ہے کہ پھر کرشن چندر کا کالو بھنگی بھی کوئی کیوں پڑھے ؟ کردار بیسڈ افسانے زبان و بیان کے زور پر ہی لکھے جاتے ہیں اگر افسانہ نگار کے فن میں قوت ہو۔ اقبال حسن آزاد نے شرفو کو مرکزی کردار بنا کر فن کاری کا ثبوت دیا ہے ۔ افسانے کے حوالے سے اوپر کی سطور میں اٹھائے گئے سوالوں کے جواب میں ڈاکٹر جمیل جالبی کے مضمون کا یہ اقتباس بہت اہم ہے ،ملاحظہ فرمائیں:۔

’’ہماری چھپی ہوئی خواہش اب یہ ہے کہ ادب بھی آج وہی کام کرے جو ائیر کنڈیشنر کرتا ہے ،جو پانی

کو ٹھندا کر کے ریفریجریٹر کرتا ہے یا جو ہمارے کپڑوں کی شکنیں ،سلوٹیں دور کرکے استری کرتی ہے

اور چونکہ ادب ہماری اس خواہش کو پورا نہیں کرتا اس لیے کہ یہ اس کا منصب نہیں ہے تو ہم زندگی میں

ادب کی بنیادی اہمیت سے منکر ہو جاتے ہیں ۔ادب کا کام دراصل وہ ہے ہی نہیں جس کی آپ اس سے

توقع کررہے ہیں۔ادب کا کام تو زندگی میں معنی تلاش کرنا ہے اور ان کا رشتہ ماضی سے قائم کرکےمستقبل

سے جوڑ دینا ہے ۔ادب کا حوالہ تو خود زندگی ہے اور وہ اسے ہی آگے بڑھاتا ہے ۔ادب تو انسانی تجربے

کے مکمل علم و آگاہی کا نام ہے اور یہ علم و آگاہی وہ غیر معمولی مرتب و منظم صلاحیت ہے جس کے اظہار   کی

صلاحیت صرف باشعور و درد مند انسان کے پاس ہے ۔وہ انسان جو نہ صرف اس کے اظہار پر قدرت رکھتا

ہے بلکہ جس کا اظہار سچا بھی ہے اور حسین بھی ،مکمل بھی ہے اور موثر و مثبت بھی ۔

(کلچر اور مسائل ،از ڈاکتر جمیل جالبی ،صفحہ ۱۹)

٭٭٭

 


(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

افشاں ملکاقبال حسن آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ضدی لڑکے/ ارہان اسفل – ہندی سے ترجمہ: ایس ایم حسینی
اگلی پوسٹ
ماہ صفر منحوس نہیں – انصار احمد معروفی

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں