خطۂ اعظم گڑھ جسے دیارِ شبلی کے نام سے موسوم کر دینا چاہئے، اس لحاظ سے بہت خوش قسمت ہے کہ اس کی مٹی سے بڑے بڑے ذی علم اٹھے۔ ایک فیضانِ تجلی ہے کہ یہاں سے اٹھنے والا ذرہ بھی نیرِ اعظم بن جاتا ہے۔ انھیں صاحبانِ علم و فضل کا کمال ہے کہ ایک چھوٹی سی جگہ دنیا کے نقشہ پر جگمگا رہی ہے ورنہ شاید کوئی اسے جانتا بھی نہیں۔ عبقری شخصیتوں کے سردار علامہ شبلی نعمانی ہیں اور باقی چمنستانِ شبلی کے گلِ سرسبد ۔ایک زمانہ تھا کہ اعظم گڑھ کے ہر گاؤں میں ایک بڑی شخصیت علم کے موتی بکھیر رہی ہوتی تھی۔ آج حالات ذرا دگرگوں ہیں ۔مٹی کی زرخیزی کم ضرور ہوئی ہے لیکن یہ بالکل بنجر نہیں ہوئی ہے۔کوئی نہ کوئی پودا حکمِ ربانی سے نکل ہی آتا ہے، جس کی اگر صحیح ڈھنگ سے دیکھ بھال اور آبیاری کی جاتی ہے تو وہ ایک چھتنار درخت بن جاتا ہے ۔اخلاق بندوی اسی کڑی کا حصہ ہیں۔ موضع ”بندی“ جو “بندی کلاں“ یا عرفِ عام میں “بڑی بندی“ کے نام سے جانا جاتاہے، وہاں دو اہم علمی شخصیتیں پہلے ہی پیدا ہو چکی ہیں جن کا لوہا دنیا نے مانا۔ ایک تو عبداللطیف اعظمی، جنھوں نے اردو کے تنقیدی ادب پر کئی اہم کتابیں لکھیں، صحافت کے کام سے منسلک رہے اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر کے پی اے کے عہدے سے سبکدوش ہوئے اور دوسرے اخلاق بندوی کے بڑے بھائی پروفیسر شمشاد جو، امریکا کے مشہور شہر نیویارک کی اسٹیٹ یونیورسٹی کے شعبہ فزکس میں پروفیسر کے باوقار عہدے پر فائز ہوئے اور بڑی کامیاب زندگی گزاری۔
اخلاق بندوی پیشہ سے بھی استاد ہیں اور شاعری میں بھی استاد ہیں۔ گاؤں اور مٹی سے شغف کا یہ عالم کہ نام کے ساتھ بندوی کا لاحقہ لگا کر ہمیشہ کے لئے اس کو اپنی ذات کا حصہ بنا لیا ۔سندس شیخ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انھوں نے بتایا کہ” دراصل میرے گاؤں کا نام بندی کلاں ہے، جس سے مجھے بے انتہا محبت ہے. بس اسی نسبت سے میں نے بندوی اختیار کیا ہے“۔محبت کا یہ عالم کہ اپنے گاؤں، آبا و اجداد اور شجرہءِ نسب کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دینے کی غرض سے “دستاویز“ کے نام سے ایک بڑی مفصل کتاب قلم بند کر دی. اس کا تذکرہ ہم بعد میں کریں گے. سرِ دست ان کی زندگی کے اس حصہ کو قارئین کے سامنے لایا جائے جو ان کی سب سے بڑی شناخت ہے اور وہ ہے ان کی شاعری.
ان کے اندر شاعری کے جراثیم کہاں سے آئے، اس کا تذکرہ انھوں نے اپنے مجموعہءِ کلام “لمس” میں بڑے دلچسپ انداز میں کیا ہے. بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اور دیہی معاشرت، معیشت اور لسانی تہذیب کا ذکر کرتے ہوئے. دیکھئے وہ شاعری کے بارے میں کیا لکھتے ہیں :
“شاعری سے البتہ میرے خانوادے کا دور کا بھی واسطہ نہ تھا ۔مدرسہ میں صبح کی دعائیہ مجلس میں پیش ہونے والی حمد، کبھی کبھار پڑھے جانے والے شاہنامہ اسلام کے اقتباسات اور اکثر جمعرات کو منعقد ہونے والی بیت بازی کے علاوہ کسی اور قسم کی شاعری کا کوئی تصور نہیں تھا ۔”
آگے وہ بتاتے ہیں کہ کس وقت وہ اس کی زلفوں کے گرہ گیر ہوئے
“شاعری اور اردو ادب کا میں اس وقت اسیر ہوا جب میں نے گریجویشن کے لئے شہر میں قدم رکھا اور مایہ ناز تعلیمی ادارہ شبلی کالج میں داخلہ لیا اور اپنی تصویر کو ایک بڑے کینوس پر ابھرتے دیکھا. اب اس تصویر میں اپنی پسند کا رنگ مجھے خود بھرنا تھا. اسی دوران شبلی اکیڈمی کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی سیمینار بعنوان “اسلام اور مستشرقین“ کالج کیمپس میں منعقد ہوا، جس میں مندوبین کی میزبانی شعبہ اردو کے ذمہ آئی اور مجھے بحیثیتِ رضا کار ادبی اور مذہبی دنیا کی بڑی بڑی شخصیتوں سے گفتگو کرنے اور ان کے نشست و برخاست کے مشاہدے کا سنہرا موقع مل گیا اور میں نے اس سے بھر پور استفادہ کیا۔دوسرے سال میری تحریری اور تقریری صلاحیتوں کی بنیاد پر “بزمِ اردو” کا جنرل سیکریٹری منتخب کیا گیا. اس سال میری ذات سے کالج میں کئی ادبی اور ثقافتی سر گر میاں عمل میں آئیں. مجھے کالج میگزین کا جوائنٹ ایڈیٹر بھی بنایا گیا اور میرا پہلا مضمون“ غالب طنز ومزاح کے آئینے میں” شائع ہوا۔ اس دوران کالج میں جو سب سے بڑا پروگرام منعقد ہوا وہ دو روزہ “جشنِ جوہر”۔ تھا. کالج کا ایک گروپ اس عنوان کو لے کر مخالفت پر آمادہ تھا کہ مولانا محمد علی جوہر فوت ہو چکے ہیں لہذا ان کے نام سے جشن منایا جانا قطعی نامناسب ہے. ٹائٹل کچھ اور ہونا چاہئے۔ میٹنگ میں میرے استاد ڈاکٹر محمد طاہر صاحب نے یہ کہہ کر سب کو خاموش کر دیا کہ جوہر صاحب مرے نہیں ہیں شہید ہوئے ہیں اور شہید ہمیشہ زندہ رہتا ہے، لہذا اسی عنوان سے مقررین کی تقریریں ہوئیں، طلبہ کے مسابقاتی پروگرام ہوئے اور آخری نشست میں مشاعرے کا انعقاد ہوا۔ یہیں سے میرا کئی معروف شعراء سے رابطہ ہوا اور یہیں سے میری شاعری کا باقاعدہ آغاز بھی.“
اپنے پسِ منظر (background) کو بڑے استعجاب کے عالم میں انھوں اپنے ایک شعر کے قالب میں ڈھالا ہے :
تعجب ہے کہ میں اخلاق شاعر بن گیا کیسے
مرا آبائی پیشہ تھا زمیں پر ہل چلانے کا
لیکن کہانی میں ابھی ایک ٹوسٹ باقی تھا. علی گڑھ میں گزاری ہوئی زندگی نے اس شغل کو ترک کروا دیا. وہ تو بعد میں جب ایک کالج میں بحیثیت انگریزی لیکچرر تقرر ہوتا ہے تو وہ پھر شاعری کی طرف متوجہ ہوتے ہیں. ایک عشرہ زیاں میں گزارنے کے بعد جب وہ اس عمر کو پہنچتے ہیں جس کو قرآن مجید “اربعین سنہ“ کہتا ہے یعنی چالیس کی عمر اور جس کے بارے میں تصور ہے کہ اس وقت آدمی اپنی ذہنی اور تخلیقی صلاحیتوں کے نقطۂ عروج پر ہوتا ہے (آپ صل اللہ کو نبوت بھی چالیس سال کی عمر میں ملی تھی) تو وہ پھر سے اس معشوقۂ ہزار رنگ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور ہنوز اس کے گرفتار ہیں ۔ (یہ بھی پڑھیں خطۂ اعظم گڑھ کی تعلیمی ترقی میں شبلی کا حصہ – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض )
اخلاق بندوی نے گو کہ شاعری دیر سے کی لیکن جب وہ “لمس“ کے ساتھ ادبی افق پر نمودار ہوتے ہیں تو اپنا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور یہ چنداں آسان کام نہیں ہے. شاعروں کے اس غولِ بیابانی میں لوگوں کی توجہ اپنی طرف منعطف کرانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ ان کا شعری مجموعہ انعام یافتہ ہے اور ان کے اشعار تمام فنی محاسن پر پورے اترتے ہیں۔حالانکہ وہ لکھتے ہیں کہ اردو زبان انھوں نے سیکھتے سیکھتے سیکھی ہے۔ گفتگو میں کئی بار اس کابھی ذکر آیا کہ فارسی اور عربی سے نابلد ہیں لیکن اشعار میں کہیں بھی یہ کم مائیگی دکھائی نہیں دیتی ہے اور نہ ہی یہ احساس ہوتاہے کہ شاعر کا دامن تنگ ہے۔ شاعری محض جذبات کے اظہار کا نام نہیں ہے بلکہ حسن بیان، نکتہ آفرینی اور گنجینہء الفاظ سے طلسمی فضا پیدا کر دینا اس کا جزوِ لا ینفک ہے. اگر الفاظ نگینہ کی طرح نہیں جڑے ہیں تو ساری بلند خیالی دھری کی دھری رہ جاتی ہے ۔ اخلاق بندوی کس پائے کے شاعر ہیں اور وہ کیسے خوبصورت اشعار کہتے ہیں ،ملاحظہ فر مائیے
اشک یونہی نہیں پلکوں پہ ستارے ہوئے ہیں
ہم بھی اک عمر محبت میں گزارے ہوئے ہیں
ضد کر رہا ہے چاند ابھی کھولیے نہ آنکھ
سورج کی التجا ہے کہ بستر سمیٹئے
چلو عہدِ جنوں میں عشق کی حد سے گزر جائیں
نہ جانے کب طبیعت مائلِ ادراک ہو جائے
کسی کے لمس کی تاثیر ہے کہ برسوں بعد
مری کتابوں میں اب بھی گلاب جاگتے ہیں
جب نظر اٹھی رخ یار پہ جا کر ٹھہری
جیسے آنکھوں میں کوئی قبلہ نما رکھا ہے
ہمارے خواب بھی برگِ شجر بریدہ ہیں
ہوا کے ساتھ فضا میں بکھرنے لگتے ہیں
میرا دعوی ہے تمہیں بھی بولنا آجائے گا
غور سے کچھ دن مری خاموشیاں سنتے رہو
محبت کس مقامِ بے خودی پر لے کے آئی ہے
مسرت بھی طبیعت پر گراں معلوم ہوتی ہے
تو جو نظروں سے اتارے تو کھلے کون ہوں میں
تودۂ خاک ابھی چاک پہ رکھا ہوا ہے
یہ آرزو ہے ہماری کہ ہم بھی رقص کریں
کسی کے لب پہ کبھی حرفِ آرزو ہوکر
تمام عمر اسے مے کی پھر طلب نہ ہوئی
جو اٹھ گیا ترے پہلو سے ہم سبو ہوکر
کچھ کمی تو ضرور ہے مجھ میں
ورنہ اس آئینے کی جرآت کیا
یہ شعر گوئی ہے ناداں پیمبری تو نہیں
کہ آسماں سے صحیفے اترنے لگتے ہیں
چل خموشی آج ہم تجھ سے ہی کچھ باتیں کریں
کوئی کب تک بے نوائی کے حصاروں میں رہے
یہ چند اشعار تو مشتے نمونے از خروارے ہم نے نقل کر دئے ورنہ ان کے خزانے میں اس قبیل کے اشعار بکھرے پڑے ہیں۔
“لمس“ کے ابتدائی اشعار سے ہی یہ تاثر پیدا ہوجاتا ہے کہ اخلاق بندوی شاعری برائے شاعری کے قائل نہیں ہیں بلکہ ان کے یہاں ایک مقصدیت ہے۔ ان کا خمیر مذہبی روایات سے گندھا ہوا ہے۔ وہ ایک بالغ نظر شاعر ہیں اور ان کے سینہ میں ایک حساس دل دھڑکتا ہے، اس لیے سماج کو آئینہ دکھانا بھی وہ اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں. ”لمس“ کی پہلی غزل کا پہلا شعر ہی یہ ہے:
لازم حصولِ علم ہے جزدان سے نکال
طرزِ حیات پھر اسی قرآن سے نکال
معید رشیدی جو علی گڑھ شعبہ اردو میں اسوسی ایٹ پروفیسر ہیں، ان کی شاعری کے حوالے سے لکھتے ہیں :
“پہلے ہی شعر نے مذہب، تاریخ اور اخلاقیات کا در وا کر دیا. پھر کیا تھا صاحب! کوئی شعر ایسا ہو جو اس حصار سے باہر نکل آئے. کسی نہ کسی صورت میں ان عناصر کی جھلک محسوس ہو جاتی ہے۔مذہبی اقدار، سماجی ضابطے، اخلاقی پیرائے اور ضمیر کی آواز ماضی کو حال سے یوں ہم رشتہ کرتی ہے کہ موازنے کی ایک صورت پیدا ہوجاتی ہے ۔خیر وشر، نور و ظلمت میں جو فرق ہے وہ اخلاق صاحب کے یہاں دھندھلا نہیں پاتا ہے. ان کا موقف صاف ہے. ان کے شعری رویوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ابہام کے زیادہ قائل نہیں ہیں. اسی لئے اکثر اپنی بات دو ٹوک اور بے لاگ انداز میں کہہ جاتے ہیں. پیچیدہ بیانی سے احتراز کرتے ہوئے سادگی کو انھوں نے اسلوب بنا لیا ہے. جب ذہن مصلحت سے پاک ہوتا ہے، نیت صاف ہوتی ہے اور زمانے کی رکاوٹوں اور مقتدرہ سے ٹکرانے کا حوصلہ پیدا ہوجاتا ہے تو اظہار کی سطح پر بھی یہ حوصلہ بدل بدل کر مکروہاتِ زمانہ کو طشت از بام کرتا ہے. اخلاق صاحب کی شاعری اسی حوصلے کے ساتھ نمودار ہوئی ہے:
انسانی اقدار جہاں میں اس حد تک پامال ہوئیں
ہوتی ہے کردار شناسی جبوں سے دستاروں سے
اس گھر کا بچہ بچہ تہذیب کا پیکر ہوتا ہے
جس گھر کو رغبت ہوتی ہے اردو کے اخباروں سے
لاعلمی کے پیکر ہیں دستارِ فضیلت کے حامل
کچھ تو چوک ہوئی ہے اپنے تعلیمی گہواروں سے
زنہار یہ نہ سمجھا جائے کہ چونکہ ان کی شاعری کا موضوع سلگتے ہوئے مسائل ہیں، اس لیے انداز خطیبانہ ہوگا جس کا براہِ راست اثر یہ ہوگا کہ خیالات کی بلندی تو ہوگی لیکن شعریت مجروح ہوگی۔ اخلاق بندوی کا کمال یہی ہے کہ وہ معاشرے کی نبض پر ہاتھ تو رکھتے ہیں. مسائل کو اشعار میں سموتے بھی ہیں، لیکن تغزل کی فضا بر قرار رکھنے میں بھی کامیاب رہتے ہیں. ان کا انداز بلیغانہ ہے، حکیمانہ ہے اور شعریت سے مملو ہے۔ ”لمس“ سے یہ غزل ملاحظہ کیجئے
دامن میں جھوٹ بول کے گوہر سمیٹیے
سچ بولئے تو جائیے پتھر سمیٹیے
آنچل کہیں ہے، زلف کہیں دست و پا کہیں
اٹھیے خدا کے واسطے محشر سمیٹیے
ضد کر رہا ہے چاند ابھی کھولیے نہ آنکھ
سورج کی التجا ہے کہ بستر سمیٹیے
وسعت ہے جتنی رہیے اسی کے حصار میں
پھیلائیے نہ پاؤں نہ چادر سمیٹ
پھر دیجیے گا درسِ اخوت جناب شیخ
پہلے خود اپنا بکھرا ہوا گھر سمیٹیے
شب ہوگئی تمام موذن نے دی اذاں
اخلاق اب تو بادہ و ساغر سمیٹیے
بابر رحمان شاہ نے، جو کہ اورئینٹل کالج، یونیورسٹی آف دی پنجاب، پاکستان سے وابستہ ہیں، ان کے شعری محاسن قدرے تفصیل سے بیان کیے ہیں. وہ لکھتے ہیں:
“اخلاق کے کلام میں رعایتِ لفظی بھری پڑی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شاعر کا مطالعہ بہت گہرا ہے اور الفاظ کو برتنے کا تجربہ بہت وسیع ہے. مثالیں ملاحظہ ہوں:
جرم میرا صرف اتنا تھاکہ میں مجرم نہ تھا
قید تک مجھ کو ثبوتِ بے گناہی لے گئے
شعر پر تاثیر تو ہے ہی مگر جو رعایتوں کا التزام کیا گیا ہے وہ بھی قابلِ تحسین ہے. جرم کی رعایت سے قید، مجرم، ثبوت اور بے گناہی کو برتا گیا ہے
تری قید سے جب رہا ہوگئے ہم
گرفتارِ کرب و بلا ہوگئے ہم
اس شعر میں قید اور رہا ایک دوسرے کی ضد ہیں یعنی صنعتِ تضاد بھی موجود ہے اور قید کی رعایت سے رہا اور گرفتار بھی برتا گیا ہے.
فصلِ گل دشتِ خرد میں ہے اگرچہ موجود
مجھ کو پا بستہءِ زنجیرِ جنوں رہنے دے
اس شعر میں خرد اور جنوں دو متضاد الفاظ کی رعایت سے فصلِ گل اور پابستہءِ زنجیر کا استعمال ان تمام محرکات کو ظاہر کر دیتا ہے جو شعر کی تخلیق کا سبب بنتا ہے
اخلاق کے کلام میں مختلف صنعتوں کا استعمال جا بجا ملتا ہے. صنائع کی کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں. صنعتِ تلمیح انھیں کے کلام میں پائی جاتی ہے جنھیں ادب اور تاریخ کا نہ یہ کہ صرف علم ہوتا ہے بلکہ ادبی اصطلاحوں، اسلامی واقعات کی باریکیوں اور تاریخ ساز ہستیوں کے کردار کا گہرا مطالعہ بھی ہوتا ہے. اخلاق بندوی کے کلام میں تلمیحات) ملاحظہ ہوں:
کہف کے لوگ ہوگئے ہم لوگ
جاگتے ہی نہیں جگانے سے
اور دوسرا شعر دیکھیے
جان کی گر چہ اماں تو بیعتِ باطل میں تھی
یہ شرف بھی کم نہیں ہم زینتِ مقتل رہے
اگر کوئی اصحابِ کہف سے واقف نہ ہو اور بیعتِ باطل اور اس کے تاریخی مفہوم سے نابلد ہو تو ان اشعار سے خاک حظ اٹھائے گا. درجِ ذیل دو اشعار میں صنعتِ تجسیم سے لطف اٹھایا جا سکتا ہے
صبح تک ستاروں نے پھر گرہ کشائی کی
ورنہ گھٹ کے مر جاتا چاند شب کی زلفوں میں
صدا نہیں ہے مگر صرف برف باری کی
ہوا درخت کے پتوں پہ سو گئی شاید
سہلِ ممتنع کی مثالیں ملاحظہ ہوں
اشک آنکھوں میں بھرے بیٹھے ہو
کتنے بزدل ہو ڈرے بیٹھے ہو
کفر بیتاب ہے بیعت کے لیے
اور تم ہو کہ پرے بیٹھے ہو
معرکے یوں کہیں سر ہوتے ہیں
ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہو “
مومن کی طرح اخلاق بندوی نے بھی اپنے نام کو جو ان کا تخلص بھی ہے، کئی جگہوں پر بڑے معنی خیز انداز میں استعمال کیا ہے:
مجھ میں اخلاق ڈھونڈھنے والے
میں الگ تو نہیں زمانے سے
میں ادھر اخلاق کی تقسیم میں مصروف تھا
لوگ ادھر میری ادائے کج کلاہی لے گئے
نام کا عکس بھی آئینہءِ کردار میں رکھ
نام اخلاق سہی نام میں کیا رکھا ہے
اخلاق بندوی چونکہ انگریزی ادب پڑھاتے ہیں، اس لئے ان کی شاعری میں بھی اس کے کچھ اثرات دکھائی دیتے ہیں، مزید برآں انھوں نے کوشش کی ہے کہ انگریزی ادب کے کچھ شہ پارے اردو میں منتقل کر دیں. امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ کی مشہور زمانہ نظم (Stopping by Woods On a Snowy Evening) کی آخری تین لائنیں تو زباں زد خاص عام ہیں
The woods are lovely, dark and deep
But I have promises to keep
And miles to go before I sleep
And miles to go before I sleep
پنڈت نہرو نے ان کو اور مشہور کردیا کہ یہ ان کے ٹیبل کی زینت تھیں ۔
اخلاق بندوی نے اس نظم کو اس خوبصورتی سے اردو کا جامہ پہنایا ہے کہ لگتا ہے یہ اوریجنل ہے ۔یہ اصل میں ترجمہ نہیں ترجمانی ہے اور یہ ان کے قادرالکلام ہونے کی ایک بہترین مثال ہے:
“ مرا خیال بجا ہے یہ دشت کس کا ہے
اگرچہ گاؤں کے اندر ہے آستاں اس کا
اسے خبر بھی نہ ہوگی اگر قیام کروں
کہ دیدنی ہے نیستانِ خُفتگاں اس کا
سمندِناز کا لازم ہے حیرتی ہونا
کہاں قیام کیا ہے اماں کی جا ہی نہیں
یہ برف جھیل یہ جنگل یہ خطہءِ وسطیٰ
مہیب شام ہے ظلمت کی انتہا ہی نہیں
بدن کی لرزشِ پیہم سے بج اٹھے ناقوس
ہے انتباہ کوئی چوک ہوگئی شاید
صدا نہیں ہے مگر صرف برف باری کی
ہوا درخت کے پتوں پہ سو گئی شاید
بہت حسین ہے یہ دشتِ بیکراں لیکن
کہاں کہ نیند کہ ایفائے عہد باقی ہے
ابھی طویل مسافت کی جہد باقی ہے
ابھی طویل مسافت کی جہد باقی ہے”
اخلاق بندوی کی ایک خصوصیت، جس کے بارے میں صرف قریبی، شناسا اور محرمِ راز جانتے ہیں، وہ یہ ہے کہ وہ نثر بھی بڑی استادانہ مہارت سے لکھتے ہیں۔ انکی جادوئی نثر کے یہ دو اقتباسات ملاحظہ کیجئے۔ ”دستاویز” جو بندی کلاں کے تاریخی پس منظر اور شجرہءِ نسب کو ہمیشہ کے لئے محفوظ کر دینے کی ان کی ایک سعیِ جمیلہ ہے، اس میں وہ رقم طراز ہیں:
“بچپن کی آنکھوں میں جھانکتا ہوں تو آج بھی اپنے گاؤں کی کچی سڑکیں، تنگ و تاریک گلیاں، کھپریل مکانات، تعفن زدہ نالیاں، درپردہ خواتین، تھکے تھکے مرد، نیم برہنہ بچے، جنگل جیسی راتیں اور پہاڑ جیسے دن واضح طور پر نظر آتے ہیں. ایسی جگہ بھلا کسی کو کیا پسند آئے گی لیکن وطن کے انھیں ناموزوں حالات میں زندگی بھی تھی اور زندگی کی رمق بھی. کہیں محفلِ بزرگاں میں حقے کی نے پر ساز جاگتے تھے، کہیں نوجوانوں کی بزم گاہوں میں دلوں کے راز، کہیں بچپن کبڈی کبڈی کی صدا پر رقص کرتاتھا، کہیں معصومیت چادر اور تکیے پر پھول کاڑھتی تھی. کہیں جنوں کا قہقہہ تھا، کہیں آگہی کا تبسم، کہیں غرورِ برنائی تھا، کہیں شعورِ پارسائی. جی تو یہی چاہتا ہے کہ ایک بار پھر وہی آنکھیں مل جائیں اور آنکھوں کو وہی منظر مل جائے. لیکن گزرا ہوا وقت پلٹ کر کب آتا ہے“.
شاعرہ تبسم اعظمی پر انھوں نے ” تبسم کی تجسیم “کے نام سے ایک تقریظ لکھی ہے. اس تقریظ سے ایک پیرایہ ملاحظہ فرمائیے اور دیکھیے کہ کیسی جادوئی نثر لکھی ہے:
“پھر ایسا لگتا ہے گویا انھوں نے اپنے کلام میں دوسرا وجود خلق کر لیا ہے. جہاں سماں حسین و دل نشیں ہے، فضا حیات آفریں ہے، چہار سمت نور ہے اور ہواؤں میں سرور ہے. جہاں چاندنی دھرتی کے فرش پر اپنا نور بچھاتی ہے اور شبنم پھول کے کا سے میں موتی لٹاتی ہے، جہاں یقین وعزم کی شمعیں جلتی ہیں، جل پریاں جھرنوں میں رقص کرتی ہیں. کوہساروں سے دلکش ترانے ابھرتے ہیں، چاند بادل سے اٹھکیلیاں کرتا ہے ستارے جھیل میں اترتے ہیں اور رات کی رانی کی بھینی بھینی خوشبو سارے ماحول کو مسحور کر دیتی ہے. صبا کا لمس کلیوں کو قبائے گل عطا کرتا ہے اور تتلیاں پھولوں سے سر گوشیاں کرتی ہیں. ایک ایسا وجود جسے پھولوں کے تبسم سے خراشیں آتی ہیں، جس کے اشک ربِ کائنات سے یوں محوِ گفتگو ہوتے ہیں“ (یہ بھی پڑھیں ’’میں نہ ہوں گا تو کیا کمی ہوگی‘‘(خلیل الرحمن اعظمی ) – ڈاکٹروصیہ عرفانہ )
نثر میں کی گئی اس شاعری کے بعد تبسم کی نظم آتی ہے جو کتنا متاثر کرتی ہے یہ تو قاری ہی بتا سکتے ہیں۔ ہم تو بس اتنا کہہ سکتے ہیں یہ پیرا منظر نگاری اور نثری سحر کا ایک حسین مرقع ہے۔
اخلاق بندوی نے اپنے آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک غزل کہی ہے، جس میں اپنی ذات سے پردہ اٹھایا ہے. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اسے بھی نقل کر دیا جائے کہ اس سے بہتر ان کا کوئی اور تعارف نہیں ہو سکتا ہے:
کیا حال ہے جناب کا اخلاق بندوی
اُس عالمِ شباب کا اخلاق بندوی
سونے کے دفن راز یہ چاندی نہ کھول دے
وقت آگیا خضاب کا اخلاق بندوی
کانٹے ہیں جب نصیب میں کس بات کا ملال
وہ پھول تھا گلاب کا اخلاق بندوی
میں مطمئن ہوں تم ہو مگن وہ ہے شادکام
دریا ہے اک سرابِ کا اخلاق بندوی
غرفے میں آفتاب ہے بستر پہ چاندنی
اک سلسلہ ہے خواب کا اخلاق بندوی
کل التجا ئے دید پر اس شوخ نے کہا
پھر فائدہ نقاب کا اخلاق بندوی
خود بے عمل ہیں اور نصیحت ہے غیر کو
معیار اس خطاب کا اخلاق بندوی
کوئی نہیں علاج بجز ایک وصلِ یار
اِس دل کے اضطراب کا اخلاق بندوی
مرورِ زمانہ کے ساتھ نہ صرف یہ کہ لمس کے شاعر کا حلیہ تبدیل ہوا ہے بلکہ شاعری میں مزید اٹھان آئی ہے۔ امید ہے کہ جب وہ اپنے دوسرے مجموعہ کے ساتھ منظرِ عام پر نظر آئیں گے اردو کی شعری روایات میں نئی جہتوں کا اضافہ ہو گا۔
عبداللہ زکریا
zakabdullah1968@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

