عرفان صدیقی: حیات، خدمات اور شعری کائنات / عزیز نبیل، آصف اعظمی – ڈاکٹر نوشاد منظر
عرفان صدیقی جدید اردو غزل کا ایک نہایت اہم نام ہے۔ عرفان صدیقی کی شاعری کو کسی بندھے ٹکے اور روایتی جملوں میں قید نہیں کیاجاسکتا۔عرفان صدیقی کی غزل گوئی کے حوالے سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق ریسرچ اسکالر بسمل عارفی نے ایم فل کا مقالہ تحریر کیا ہے اس کے علاوہ کئی اہم ماہنامہ رسائل کا خاص نمبر اور کئی رسالوں میں گوشہ بھی شائع ہوچکا ہے۔تفہیم عرفان صدیقی کے اس سلسلے کی نہایت ہی اہم کڑی ’’عرفان صدیقی: حیات، خدمات اور شعری‘‘ہے۔
زیرتبصرہ کتاب ’’عرفان صدیقی: حیات، خدمات اور شعری‘‘ دورحاضر کے ممتاز شاعر عزیز نبیل اور اپنے علمی کاموں میں ہمہ تن گوش مصروف آصف اعظمی کی مشترکہ کوشش سے تیار کردہ ایک اہم کتاب ہے۔ مرتبین نے عرفان صدیقی پر اب تک لکھی گئی اہم تحریروں کو یکجا کرنے کے ساتھ ساتھ کئی نئے مضامین بھی تحریر کروائے ہیں۔ اس کتاب میں اردو کے ممتاز ادیب ونقاد پروفیسر شمیم حنفی صاحب سے لے کر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے فعال ریسرچ اسکالرشاہ نواز فیاض تک کی تحریروں کو اس ترتیب کے ساتھ شامل کیا گیا ہے کہ عرفان صدیقی کی شاعری اور تنقیدی کاموں کا بھرپور احاطہ نظر آتا ہے۔ مرتبین نے اس کتاب کو چار حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ کتاب کے پہلے حصے ’’یادعرفان‘ یادیں، ملاقاتیں، خاکے‘‘ کے عنوان سے پروفیسر شمیم حنفی، ملک زادہ منظور، سید محمد اشرف، عظیم اختر، عابد سہیل اور اقبال اشہروغیرہ جیسے شاعر وادیب کے تاثرات کو شامل کیا گیا۔ پروفیسر شمیم حنفی نے ’’میں اک کرن تھا شب تارسے نکل آیا ‘‘ کے عنوان سے عرفان صدیقی سے اپنی آخری ملاقات کا ذکر کیا ہے، گرچہ یہ ایک تاثراتی مضمون ہے باوجود اس کے جن اشعار کو بطور نمونہ شمیم حنفی نے پیش کیا ہے اس سے بھی عرفان صدیقی کی شعری خوبیوں کا احساس ہوجاتا ہے۔
عابد سہیل نے عرفان صدیقی کے عادتوں واطوار کا ذکر کرتے ہوئے ان کی سگریٹ نوشی کا ذکر بھی کیا ہے۔عابد سہیل کا مضمون ’’عرفان صدیقی‘‘ ہے، یہ بھی تاثراتی مضمون ہے اس مضمون میں عابد سہیل نے آل انڈیا ریڈیو میں منعقدہ ایک مذاکرے کا ذکر کیا ہے، جس میں دونوں حضرات شامل تھے اور مذہب اور ’’دھرم‘‘ کے استعمال پر دونوں میں خاصی بحث بھی ہوئی تھی۔( یہ بھی پڑھیں مظہرامام کانظمیہ متن – پروفیسر کوثر مظہری )
زیر تبصرہ کتاب کا دوسرا حصہ ’’تفہیم عرفان: نقدونظر‘‘ ہے۔ اس حصے میں شمس الرحمن فاروقی، مظہرامام، اسعد بدایونی، وارث کرمانی، مجاور حسین رضوی کے علاوہ شہپررسول، آفاق عالم صدیقی، شاہین عباس، راشد انور راشد، جاوید رحمانی، عمیر منطر اور بسمل عارفی وغیرہ کے مضامین شامل ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے ’’سات سماوات‘‘ کے عنوان سے عرفان صدیقی کے مجموعہ کلام کا جائزہ پیش کیاہ ے۔ ’’سات سماوات‘‘ دراصل عرفان صدیقی کے شعری مجموعہ کا نام بھی ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کا خیال ہے کہ بعض علامتیں اور پیکر جن کا تعلق اسلامی تاریخ بالخصوص معرکہ کربلا عرفان صدیقی کے یہاں سب سے زیادہ اشعاراتی قوت کے ساتھ استعمال ہوئے ہیں۔ وہ مزید لکھتے ہیں عرفان صدیقی کے یہاں فارسی کا رنگ غیرمعمولی چمک دمک کا رنگ ہے، ان کی شاعری کی زمینیں اکثر نئی ہیں لیکن یہ نیاپن چونکاتا نہیں ہے۔ شمس الرحمن فاروقی کا خیال ہے کہ عرفان صدیقی کی غزل میں استعارے سے زیادہ پیکر اور براہ راست جذبات سے زیادہ مضمون کی تازگی نظر آتی ہے۔
کتاب میں شامل مظہرامام کا مضمون ’’عرفان صدیقی: مجاز اور حقیقت کا سنگم‘‘ بھی ایک اہم مضمون ہے۔ مظہر امام کا خیال ہے کہ عرفان صدیقی کی شاعری میں نازک خیالی، ڈکشن کی نفاست، شعور حیات کی رعنائی اور تصور عشق کی تہذیب نظر آتی ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں چند اشعار بھی درج کیے ہیں۔ مظہرامام نے عرفان صدیقی کی ان غزلوں پر خاص طور پر گفتگو کی ہے، جن کی ردیفوں میں بقول ان کے وزن کی رائج اصول کا خیال نہیں رکھا ہے، عرفان صدیقی نے گجرات فساد اور انسانیت کشی کے پس منظر میں غزل کہی بقول مظہرامام اس سے بہتر کوئی تخلیق سامنے نہیں آئی جو نشتر کی طرح رگ وپے میں اترتی چلی جائے۔
’’عرفان صدیقی کی غزلیں‘‘ کے عنوان سے اسعد بدایونی کا مضمون عرفان صدیقی کی غزلیہ شاعری کا احاطہ کرتی ہے۔ ‘‘ اسعد بدایونی لکھتے ہیں کہ عرفان صدیقی کا لہجہ دعاؤں کے گداز سے تشکیل پاتا ہے۔ یہاں احتجاج کی لے اتنی تیز نہیں کہ چیخ وپکار معلوم ہو۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ عرفان صدیقی کی غزل میں عورت کے روپ بڑے دلکش اور پرتاثیر انداز میں ضرور آئے ہیں مگر دوسرے شعرا کی طرح یہ ان کی غزل کا حوالہ نہیں بنی۔
کتاب کے دوسرے حصے کی اہم خوبی یہ ہے کہ اس میں نئے لکھنے والوں کی تحریروں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ میری مرادشاہ نواز فیاض، ساجد ذکی فہمی، حسین عیاض اور شائشہ پروین سے ہے، اس میں شاہ نواز فیاض کے علاوہ سب نے عرفان صدیقی کی شاعری کو محور ومرکز بنایا ہے۔ شاہ نواز فیاض نے ’’عرفان صدیقی اور ربط عامہ‘‘ کے عنوان سے ایک خوبصورت مضمون تحریر کیا ہے۔ عرفان صدیقی کو عموماً لوگ شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں مگر شاہ نواز فیاض مبارک باد کے مستحق ہیں کہ ان کی نظر عرفان صدیقی کی صحافت نگاری پر گئی،اور انہوں نے عرفان صدیقی کی صحافت نگاری پر اپنا مضمون تحریر کیا۔
زیرنظر کتاب کا تیسرا حصہ ’’عرفان صدیقی کی شاعری، انٹرویو اور نثری تحریریں‘‘ ہیں۔ میری نظر میں یہ کتاب کا سب سے اہم حصہ ہے کیوں کہ انٹرویو اور مذاکرے سے ہم تخلیق کار کی تخلیقی محرکات کو بھی جان سکتے ہیں۔تخلیق کار کا متن تو اہم ہوتا ہی ہے مگر انٹرویو اور مذاکرے سے تخلیق کار کی ذہنی ارتقا اور محرکات کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔ عرفان صدیقی سے گفتگو کرنے والوں میں نیرمسعود اور محمد مسعود شامل ہیں ۔جہاں تک مذاکرے کا تعلق ہے تو اقبال پر ہوئے مذاکرے میں عرفان صدیقی کے ساتھ شمس الرحمن فاروقی اور نیرمسعود بھی شامل رہے۔ مرتبین نے اس حصے میں عرفان صدیقی کی نثری تحریروں کا ایک انتخاب بھی پیش کیا ہے، جس میں شکیب جلالی پر لکھی گئی تحریر کے علاوہ روزنامہ ’’صحافت‘‘ کے لیے تحریر کیے گئے چند اداریے بھی شامل ہیں۔ مرتبین نے عرفان صدیقی کے تدون کلام کے علاوہ ان کے شعری مجموعات کینوس، شب دریا، سات سماوات، ہوئی دشت ماریہ سے انتخاب بھی شامل کیا ہے۔ اس کے مطالعے سے عرفان صدیقی کی شعری کائنات کا نہ صرف پتہ چلتا ہے بلکہ ان کی شعر گوئی کی خوبیوں کا معترف بھی ہونا پڑتا ہے۔
کتاب کا آخری حصہ ’’آئینہ عرفان: کوائف، شجرہ، تصاویر‘‘ کے عنوان سے ہے۔ کتاب کے اس حصے میں عرفان صدیقی کی زندگی اور ان کے شجرہ نسب کو پیش کیا گیا جس میں ان کی شخصی صورت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں بارہ قباؤں کی سہیلی: عذرا پروین – ڈاکٹر وصیہ عرفانہ )
مجموعی طور پر مذکورہ کتاب عرفان صدیقی کی شخصیت اور فن کا بھرپور احاطہ کرتی ہے۔اس کتاب کے مرتبین عزیز نبیل اور آصف اعظمی اس لیے بھی مبارک باد کے مستحق ہیں کیوں کہ انھوں نے عرفان صدیقی کے فن پر ایک خوبصورت کتاب ترتیب دی، اس کتاب کی اہمیت دستاویز کی ہے۔کتاب کی طباعت دیدہ زیب ہے۔
ناشر : گلوبل میڈیا پبلی کیشنز، نئی دہلی
اشاعت : 2015،
قیمت : 400/-روپئے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
بہت خوب ۔کتاب پڑھنے کا اشتیاق بڑھ گیا