غالب کے کاغذی پیرہن نے اس روئے زمین پر طاقت و قوت کے کیسے کیسے عظیم الشان مظاہرے کیے ہیں کہ قلم اس کے بیان پر عاجز ہے۔ چند برس پہلے تک سینہ گیتی حضرت انسان کی چمک دمک اور دھمک سے لرز رہی تھی ۔محسوس ہورہا تھا کہ وسیع و عریض کائنات کو کچل کر ہی دم لیں گے ۔سائنس نے مسافت، اور مسافرت کو بے معنی بنا دیا تھا پھر بھی ارباب لغت نے دوری کا لفظ محفوظ کررکھا تھا تاکہ کبھی وقت ضرورت کام آسکے اور لوگ اس کے معنی سے دور نہ ہوجائیں ۔ایسا لگتا تھا کہ انسانی ترقیات کے سامنے سب کچھ ہیچ ہے ۔سائنسی آلات نے اپنے کمالات کو سربلند کررکھا تھا جب کہ دیگر بہت سی چیزیں سرنگوں ہوکر رہ گئی تھیں۔ بیماری پر علاج بھاری تھا۔ انسان مجبور محض ہو کربھی آن بان شان کا مظاہرہ کر رہا تھا کہ یکایک چین کے شہر اووہان سے نکلنے والے ایک وائرس سے پوری دنیا کی چمک دمک ماند پڑگئی اور زندگی کی تمام رونقیں یک لخت ختم ہوگئیں۔ دیکھتے دیکھتے شہر ویران ہونے لگے، سڑکیں سنسان اور فضا سے آلودگی کا قہر ختم ہوتا دکھائی دینے لگا،سائنس وٹیکنالوجی کی کرشمہ سازیاںبے رونق ہونے لگیں ۔ آراستہ وپیراستہ دنیا کے لیے یہ صورتحال بہت بڑا چیلنج ثابت ہوئی ،راستہ صرف اور صرف تحفظ اور بچاؤ کا رہ گیا اس طرح آن بان اور شان والے حضرت انسان گھرکی چار دیواری میں قید ہو گیا۔
انسانی زندگی نے آسائش وتعیش کا جوبرق رفتار سفر گز شتہ چند دہائیوں کے دوران کیا تھا ۔اس سے شہری زندگی کا جوخاص منظر نامہ مرتب ہوا تھا وہ سب دیکھتے دیکھتے ہواہو گیا اور انسان ایک مجبورمحض کی تصویر بن کر رہ گیا ۔ وبا نے موت کی ارزانی کی درد ناک تصویریں ہی نہیں پیش کیں بلکہ اس نے آسائش و نعمت کے کیسے کیسے دسترخوان بھی اٹھا لیے ۔اور دیکھتے دیکھتے پوری دنیا دوا او ر علاج تک سمٹ کر رہ گئی ۔
اپریل ۲۰۲۱ میں وبا نے شدت اختیار کی اور دیکھتے دیکھتے لاشوں کا انبار لگ گیا ۔ ہندوستان میں دوسری لہر نے تباہی اور بربادی کا جو نقشہ پیش کیاہے اسے صدیوں تک فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ کیسے کیسے صاحبان علم وکمال رخصت ہوگئے۔ چند دنوں کے اندر ایک بھرا پرا معاشرہ خالی ہوگیا ۔ رخصت ہونے والوں میں کچھ بین الاقوامی شخصیت کے مالک تھے تو کچھ قومی شناخت رکھتے تھے ۔اپنے خطے میںبعض ایسے لوگ بھی تھے جو اپنے مناصب اور عہدوں کے تئیں انتہائی فعال اور ذمہ دار شخص تھے۔ان کے ہونے سے امید و یقین کے چراغ روشن تھے ۔نہ جانے کتنے لوگوں کا وہ سہارا تھا اور کتنوں کے تئیں ان کے دل میں جگہ تھی ۔کس کس کا ماتم کیا جائے اور کس کا نوحہ پڑھا جائے ۔دلی کے رخصت ہونے والے ادیبوں میں بہت سے ایسے تھے جن سے نہ صرف تعلق تھا بلکہ ان سے بے شمار یادیں جڑی ہوئی ہیں ۔دلی کے ابتدائی دنوں میں جن لوگوں سے تعلق قائم ہوا اور بہت سے مواقع ان کی بدولت مجھے حاصل ہوئے ۔ان میں ایک نام ڈ اکٹر مسعود ہاشمی کا بھی شامل ہے ۔
ڈاکٹر مسعود ہاشمی(1942۔2021) سے باقاعدہ ملاقات تو آل انڈیا ریڈیو میں ہی ہوئی ۔آل انڈیا ریڈیو کی اردو سروس جانے کا سلسلہ 1996سے ہی شروع ہوگیا تھا ۔ پہلی بارایک مذاکرے میں مجھے بلایا گیا تھااس کا موضوع غالباً ’ریگنگ‘ تھا۔ اس وقت ثروت عثمانی صاحب اس پروگرام کو دیکھ رہے تھے۔ اس کے بعد عام طور پر’نئی نسل نئی روشنی‘ پروگرام میں شاعر کی حیثیت سے مدعو کیا جانے لگا۔ چوں کہ آل انڈیا ریڈیومیں اسکرپٹ باقاعدہ دیکھتے ہیں۔ ایک بار ریکارڈنگ کے لیے گیا تو ایک صاحب نے میرا کلام مسعود ہاشمی صاحب کے سامنے رکھا کہ اسے ذرادیکھ لیں ۔ ان کی نگاہ جیسے ہی مجھ پر پڑی فوراََ میں نے سلام کیاتو جواباََ انھوں نے کہا کہ اگر یہ کلام ان کا ہے تو دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے میں انھیں جانتا ہوں۔ ڈاکٹر تابش مہدی صاحب کے توسط سے ڈاکٹر مسعود ہاشمی سے ملاقات ہوئی تھی۔ ابتدا میں تو یہی معلوم تھا کہ آل انڈیا ریڈیو سے وابستہ ہیں ،لغت کے ماہر ہیں۔ اور نہایت شریف آدمی ہیں۔ شرافت تو ان کے چہرے بشرے اور چال ڈھال سے ٹپکتی تھی۔آل انڈیا ریڈیو کا وہ زمانہ جب ملک اور ملک سے باہر بھی اس سروس کی دھوم تھی ۔خبروں کے علاوہ ادبی وتہذیبی پروگرام خاصے کی چیز ہوا کرتے تھے نہ جانے کتنے لوگوں کو اس کے ذریعہ سننے کا موقع ملا ۔اسی زمانے میں میری بعض چیزیں نشر ہوئیں تو احباب نے بڑی پذیرائی کی ۔ریڈیو کے اس ز مانے میں مسعود ہاشمی بڑی نپی تلی گفتگو کرتے تھے، سب پر اس قدر نہیں کھلتے تھے، لیکن اپنے حلقہ احباب میں کم سخن ہونے کے باوجود دلچسپ اور پر لطف گفتگو کرتے تھے۔ تھے تو دھان پان کے ہی مگر علمی وجاہت نے شخصیت کو پروقار اور روشن بنارکھا تھا۔
آل انڈیا ریڈیو میں جب بھی انھیں دیکھنے کا مو قع ملااپنی میز پر مصروف کار ہی دیکھا۔ رفتہ رفتہ ان سے ملاقات کا سلسلہ بڑھا تو پتا چلا کہ وہ گوناگوں صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ترجمہ نگاری کے میدان میں انھیں بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا ۔ ان کی عام شہرت بھی اسی سے تھی۔خبروں کے فی الفور ترجمے میں انھیں بڑی مہارت حاصل تھی ۔اس کے علاوہ آل انڈیا ریڈیو کے بعض اہم پروگرام بھی انھوں نے عرصہ تک اس طرح ترتیب دیا کہ اس سے بین الاقوامی معاملات میں ان کی مہارت کا لوگوں کو قائل ہونا پڑا۔دراصل ان پروگراموں کی ترتیب میں صرف حالات حاضرہ کا ہی ادراک ضروری نہیں تھا بلکہ زبان کی چاشنی اور مہارت بھی درکار تھی تاکہ حریفوں پر زبانی کمندیں ڈ النے میں کسی طرح کی معذوری نہ سامنے آئے ۔ ان پروگراموں کے توسط سے بین الاقوامی سطح پر بھارت پر نظر رکھنے والے ایک شخص کے مقابلے میں متعدد آدمیوں کو مامور کرنے پر مجبور ہوں۔حالانکہ انھیں دیکھ کر ایسا نہیں لگتا تھا کہ وہ بین الاقوامی صورت حال پر اس قدر گہری نگاہ رکھتے ہوں گے ۔آل انڈیا ریڈیو کی بین الاقوامی سرو س کے تین اہم پروگرام ’جہاں نما‘،’تبصرہ‘ اور’ آج کی بات‘ کے نام سے نشر ہوتے تھے ۔یہ پروگرام دراصل بین الاقوامی صورت حال پر سیاسی تبصرے کی حیثیت رکھتے تھے ۔اسے ہندستان کی سیاسی پالیسی کا بھی نام دیا جاسکتا ہے۔پوری دنیا میں اردو جاننے والے حلقوں کے لیے یہ پروگرا م بہت اہم ہوتے اور اس سے ہندستان کی سیاسی پالیسی کا بھی خاطر خواہ اندازہ ہوتا تھا ۔پروگرام ’جہاں نما‘ میں اخبار کے تراشوں سے ایک نیا پروگرام اس طرح ترتیب دیا جاتا تھا کہ وہ حالات کی ترجمانی بھی کرتا اور ایک نیا منظرنامہ بھی پیش کرتا یعنی حسن ترتیب کے کمال کا منہ بولتا ثبوت بھی اسے کہہ سکتے ہیں ۔ریڈیو پروگراموں پر نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ ان پروگراموں کی حیثیت بنیادی اور کلیدی ہوتی تھی ۔اور ساری تیاری اسی لیے ہوتی تھی ان پروگراموں کے لیے چاق و چوبند رہنا بہت ضروری تھا۔ (یہ بھی پڑھیں خان محبوب طرزی شخصیت اور سوانح – ڈاکٹر عمیر منظر )
مسعود ہاشمی تین دہائیوں تک ریڈیو سے وابستہ رہے اور اس کے پروگراموں کو اپنی فن کاری ،ہنر مندی اور بے پناہ صحافتی رہنمائی کے توسط سے انجام دیتے رہے ۔انھوں نے ایک لمبی مدت ان پروگراموں کے ساتھ گذاری ۔ان پروگراموں کی نوعیت کو سامنے رکھیے اور مسعود ہاشمی کے حلیہ اور انداز گفتگو کودیکھیے تو یہ باور کرنا مشکل ہوگا کہ آخر اتنا اہم پروگرام اس جیسا شخص کیسے انجام دے رہا تھا ۔ان کے قریبی احباب اس بات کی گواہی دیں گے کہ شاید ہی انھوں نے کبھی کسی سے بلند آواز میں بات کی ہو۔دلی میں بین الاقوامی سیاسی صورت حال کے ماہرین کا اپنا ایک الگ ہی ڈھب اور کروفر ہے مگر مسعود ہاشمی نے دلی میں رہتے ہوئے ریڈیو کے علاوہ کسی دوسرے پر یہ ظاہر نہیں ہونے دیا کہ انھیں بین الاقوامی سیاسی صورتحال پر دسترس حاصل ہے۔دوران ملازمت انھوں نے نہ جانے کتنے سرد و گرم حالات دیکھے ہوں گے اور کیسی کیسی ہنگامہ خیز صورتحال کا سامنا کیا ہوگا مگر ان مسائل کو جس سلیقے سے انھو ںنے حل کیا ہوگا وہ انھیں کیا حصہ کہا جاسکتا ہے ۔دراصل مسعود ہاشمی کو زبان وبیان پر بڑا عبور حاصل تھااور اس نوع کی تحریروں میں زبان وبیان کا کردار بہت اہم ہوتا ہے کہ کس طرح بات کہی گئی ہے اور کس طرح اپنا موقف بغیر کسی ہچکچاہٹ کے پیش کیا گیا ہے ۔
مسعود ہاشمی نے دہلی میں رہتے ہوئے اس کی چکا چوند اور رنگینی پر شاہد ہی کبھی توجہ دی ہو ۔بلکہ اس پر خاک ہی ڈالی۔ کبھی متاثر نہیں ہوئے۔ جاہ ومنصب کے ہنگاموں سے خود کو بچائے رکھنا بھی ان کا ایک بڑا کمال تھا ۔ان کی قناعت پسندی کو بطور مثال پیش کیا جاسکتاہے۔ کیونکہ اپنی صلاحیتوں کے سبب دیگر اعلیٰ مناصب تک تھوڑی سی کوشش کے بعد پہنچ سکتے تھے۔ دانش گاہوں میں بھی ان کے لیے مواقع تھے مگر انھوں نے ریڈیو کا ساتھ نہیں چھوڑا۔ ایسا لگتا ہے کہ ان کے دل کا کوئی تارریڈیو سے اس طرح جڑ گیا تھا کہ اس کی دوری کی کوئی صورت انھیں گوارا نہ تھی۔
ملازمت کے جھمیلوں سے آزاد ہونے کے بعد امید تھی کہ شاید وہ اپنا کچھ وقت ادبی کاموں کے لیے فارغ کریں اور کچھ مزیدکام لغت کے حوالے سے انجام دیں۔ ممکن ہے مطالعہ کے کچھ اور پہلو سامنے آئیں ، مگر ایسا ممکن نہ ہوسکا۔ قبل اس کے کہ وہ کاروبار دنیا کی دیگر مصروفیتوں میں خود کو شامل کرتے اس سے پہلے بلاوا آگیا۔
مسعود ہاشمی نے اس آب و گل میں 1942میں قدم رکھا ۔ ان کے والد مولانا عبدالحق دارالعلوم دیوبند کے اہم ذمے داروں میں تھے ۔حکیم الاسلام قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبندکے دست راست تسلیم کیے جاتے تھے ۔ فارسی سے فاضل ہونے کے بعد انگریزی تعلیم حاصل کی تھی۔ اعلی تعلیم کے لیے جامعہ ملیہ اسلامیہ کا رخ کیا ۔ پروفیسر مسعود حسین خاں کی نگرانی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی تھی۔ان کے لسانیاتی شعور کو یہیں سے جلا ملی ۔واضح رہے کہ مسعود ہاشمی نے ترقی اردو بیورو (موجودہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان )میں لغت کی تیاری کے ایک اہم منصوبے کے تحت جس کی سربراہی پروفیسر مسعود حسین خاں کررہے تھے ریسرچ افسر کے طور پر بھی کام کیا ۔انھیں تجربوں نے مسعود ہاشمی کو زبان و لغت کے دیگر کاموں کی طرف بھی راغب کیا ۔ڈاکٹر ابو الفیض سحر نے ’’اردو لغت نویسی کا تنقیدی جائزہ‘‘کے تعارف میں یہ اطلاع دی ہے کہ مسعود ہاشمی نے ’ ہندی اردو شبد کوش‘اور’ اردو ہندی عملی لغت‘ بھی مدون کیے ہیں ۔اس کام کی اہمیت کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ سنٹرل ہندی ڈائریکٹوریٹ نے اسے شائع کیا ہے جو مرکزی حکومت کا ایک اہم ادارہ ہے ۔ لغت کے حوالے سے کام کرنے والوں کے لیے ان کی دوکتابیں ’’اردو لغت نویسی کا تنقیدی جائزہ‘‘ (قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان ،2000) ’اردو لغت نویسی کا پس منظر‘(1997) اہمیت کی حامل ہیں۔دونوں کتابوں کا تعلق ان کے ڈاکٹریٹ کے مقالے سے ہے ۔مقالے کے مباحث اور کتاب کی صورت کے پیش نظر انھوں نے اسے دو حصوں میں تقسیم کردیاتھا ۔پروفیسر نثار احمد فاروقی نے لغت نویسی کے حوالے سے مسعود ہاشمی کے کاموں کی نہ صرف تعریف کی ہے بلکہ ان کا خیال تھا ’ لغت نویسی کے مباحث و مسائل پر ان کی نظر باریک بیں ہی نہیں ہے بلکہ انھوں نے زبان کے لفظی و معنوی اور استعمالی پہلوؤں کو عام فہم اور دل نشیں انداز میں واضح کیا ہے ‘۔ مسعود ہاشمی نے اپنے ان کاموں کا کبھی شہرہ نہیں کیا لیکن ادبی حلقو ںمیں ان کاموں کی قدر و قیمت سے کبھی انکار بھی نہیں کیا گیا ۔ (یہ بھی پڑھیں نیر مسعود کی دانش و بینش (مکاتیب کے حوالے سے) – ڈاکٹر عمیر منظر )
مسعود ہاشمی غازی پور کے رہنے والے تھے۔ایک ز مانہ سے دلی میں رہ رہے تھے ۔دلی والوں سے رشتے داری بھی ہوگئی تھی ۔ایک دوبار اوکھلا وہار میں ان کے گھر جانے کا اتفاق ہوا مگر ادھر عرصہ سے ان سے بات نہ ہوسکی ۔محترم شمیم عثمانی صاحب (اناؤنسر آل انڈیا ریڈیو)سے لکھنؤ میں رہتے ہوئے آل انڈیا ریڈیو کی بہت سی یادوںکا آموختہ ہوتا رہتاہے ۔ وبا کے دوران بات چیت ہوتی رہی اور ان کی وجہ سے ریڈیو پر یہیں سے حاضری بھی ۔وقتاً فوقتاً پرانے جاننے والوں کی خیریت او راحوال انھیں کے توسط سے ملتے تھے ۔ان لوگوں میں مسعود ہاشمی کا بھی ذکر آیا ہوگا مگر اتنے شریف لوگوں کے بارے میں دیر تک کون گفتگو کرتا ہے جو ہم لوگ کرتے ۔اچانک 29 /اپریل 2021 کو ان کی سناؤنی آتی ہے اور پھر بس یادیں ہی یادیں رہ جاتی ہیں ۔ اس وبا نے ایک نہایت عمدہ انسان جو اپنے اعلی شریفانہ اطوار کے سبب دیر تک اپنے احباب کی خاص محفلوں میں یاد رکھا جائے گا ،ہم سے چھین لیا ۔
شعبۂ اردو
مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ۔لکھنؤ کیمپس
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

