شکیب تیرا
شکیب ہم کو
جو آۓ بھی تو وہ آۓ کیسے
تری جدائی میں اب تلک ہیں
فضائیں مغموم ، رستے ویراں
ہواؤں کو گر میں دوش دوں تو
کہوں میں کیا اور کہوں بھی کیسے
خداۓ برتر نے انکو سونپا ھے یہ عمل جو
گلوں کو شاخوں سے توڑ دینا
فضاۓ گلشن کو زرد کرنا
*شکیب* بیٹا!
ہے نام *خورشید* میرا لیکن
تجھے بجھایا ہے آندھیوں نے
ذرا بھی جسکی توقع کرنا
ہماری خاطر تھی اک قیامت
کہ تیری ماں کی تمام *نزہت*
شکیبی غم میں سمٹ گئ ہے
مگر یہ رب کریم کا ہے
وہ فیصلہ جو
قبول کرنا ہے سب کا ایماں
خداۓ برتر!
بہت کٹھن ہے یہ وقت ہم پر
ہمارا محکم یہی ہے ایماں
تری امانت تھی تونے لے لی
اب اس امانت کے بدلے ہم کو
عطاۓ صبرِ جمیل کر دے
آمین۔
———————
شاھد انور ۔ نئی دہلی

