”نقش بر سنگ“ :سینئر صحافی سہیل انجم کا ایک اور کارنامہ – شعیب اسلم
سہیل انجم اردو صحافتی دنیا کا وہ نام ہے جو محتاج تعارف نہیں۔ آپ کا شمار اردو کے معتبر ترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ آپ ریڈیو وائس آف امریکہ واشنگٹن (اردو سروس) سے وابستہ ہیں۔ اس سے قبل آپ نئی دہلی کے روزنامہ قومی آواز کے شعبہ ادارت سے وابستہ رہے ہیں۔ اس وقت ہند و بیرون ہند کے مختلف اخبارات ورسائل میں آپ کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ آپ دہلی میں مختلف اردو تنظیموں کے رکن بھی ہیں۔ راقم الحروف جب جامعہ سلفیہ بنارس میں فضیلت اول کا طالب علم تھا تو وہاں کے نصاب میں ایک سبجیکٹ صحافت بھی داخل تھا اور غالب گمان ہے کہ اب بھی ہوگا۔ مجھے یہ سبجیکٹ فضیل الشیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ سے پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ جب ہم صحافی کے اخلاق وکردار اور اچھے اوصاف کے بارے میں پڑھ رہے تھے تو میرا ذہن فوراً محترم سہیل انجم کی طرف گیا۔ کیونکہ راقم آپ کو بہت قریب سے جانتا ہے اور ایک صحافی کو جن عمدہ اوصاف سے متصف ہونا چاہیے وہ سب میں نے آپ کے اندر محسوس کیا۔ جب بھی آپ دہلی سے اپنے گاو ¿ں آتے تھے تو راقم کا مشاہدہ ہے کہ آپ سب سے بہت محبت اور بڑی اپنائیت سے مل کر ان کے احوال و کوائف جاننے کی کوشش کرتے جو کہ ایک صحافی کی پہچان بھی ہے۔ یعنی جرنلسٹ ہونے کے ساتھ آپ ملنسار، خوش اطوار، خوش گفتار اور شگفتہ مزاج بھی ہیں۔
صحافت کے موضوع پر آپ کی کئی تصنیفات شائع ہو کر مقبول عام ہو چکی ہیں۔ ان کتابوں نے علمی دنیا میں نمایاں مقام حاصل کیا ہے۔ کچھ کتابوں کے مطالعے کا شرف راقم کو بھی حاصل ہے۔ ابھی چند روز قبل آپ نے مجھے اپنی ایک تازہ تصنیف ” نقش بر سنگ“ کی پی ڈی ایف فائل بذریعہ وہاٹس ایپ بھیجی ہے جو کہ موجودین ومرحومین کے شخصی خاکوں کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب سے پہلے آپ نے ”نقش بر آب“ کے نام سے ایک بہترین کتاب جو کہ مرحومین کے شخصی خاکوں پر مشتمل ہے قلم بند کر چکے ہیں۔ گویا دونوں کتابیں شخصی خاکوں پر لکھی گئی ہیں البتہ آخر الذکر مرحومین پر مشتمل ہے جبکہ اول الذکر موجودین و مرحومین دونوں پر ہے۔(یہ بھی پڑھیں بیرون ہند کی اردو نشریات – سہیل انجم )
نقش بر آب میں آپ نے تمام مرحومین کے ساتھ اپنی پرانی یادیں بھی قلمبند کی ہیں۔ قاری اس کتاب کے مطالعہ کے وقت محسوس کرے گا کہ آپ کا حافظہ بہت زبردست ہے۔ آپ نے اپنے بچپن کی یادوں کو کئی برسوں بعد بھی تحریری شکل میں پیش کر دیا ہے۔ نقش بر آب کے شخصی خاکوں میں جو گاو ¿ں کے افراد پر مشتمل ہیں، قاری کو کئی چیزیں ملیں گی۔ عبرت و نصیحت بھی اور طنز ومزاح بھی۔ جیسا کہ منظور عثمانی صاحب ” نقش بر آب“ کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں کہ” اگر سہیل انجم طنزو مزاح کی طرف رخ کریں تو اس میدان میں بھی جھنڈے لہرائے بغیر نہیں رکیں گے“۔
زیر نظر کتاب میں جن شخصیات کا خاکہ آپ نے قلم بند کیا ہے ان میں سے بعض حضرات کو راقم بھی جانتا ہے۔ آپ نے باحیات حضرات کو بہت خوبصورتی کے ساتھ خراج تحسین اور جو وفات پا گئے ہیں ان کو بھی بہت شاندار انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جن حضرات کے خاکے پر آپ نے خراج تحسین کے زیر عنوان لکھے ہیں ان میں انھوں نے تملق وچاپلوسی سے اپنے دامن کو بچائے رکھا ہے۔ جیسا کہ شکیل رشید صاحب بھی نقش بر سنگ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں کہ ”سہیل انجم نے ان کی تحسین تو کی ہے لیکن تحسین کو کہیں بھی چاپلوسی میں بدلنے نہیں دیا“۔
نقش بر سنگ بہترین خاکوں پر مشتمل ہے۔ جن موجودین حضرات پر خاکے لکھے گئے ہیں ان کے لئے شرف کی بات ہے کہ ان کی زندگی ہی میں لوگوں کو ان کی خوبیوں کے بارے میں سہیل انجم صاحب نے اپنی اس کتاب کے ذریعہ روشناس کرا دیا ہے۔ اسی طرح مرحومین کے متعلق جو خاکے لکھے گئے ہیں ان کو اور ان کی خدمات کو بہت بہترین انداز میں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
آپ نے جن باحیات افراد کے خاکے لکھے ہیں ان میں الشیخ دکتور عبد الباری بن فتح اللہ مدنی، شیخ صلاح الدین مقبول احمد، مولانا عزیز عمر سلفی، م۔ افضل، مولانا عبد الاحد مدنی اور پروفیسر شہپر رسول جبکہ مرحومین میں مولانا عبد الوہاب خلجی، مولانا عبد اللہ مدنی، مولانا صادق بستوی، مولانا عطاءاللہ خاں، مولانا عمید الزماں کیرانوی، حفیظ نعمانی اور پروفیسر اشتیاق دانش قابل ذکر ہیں۔ ان خاکوں کی ایک خاص بات یہ ہے کہ تمام ممدوحین سے سہیل انجم صاحب کے مراسم یا دوستانہ تعلقات ہیں۔ اسی طرح مرحومین بھی ان کے شناساو ¿ں کے حلقے میں شامل رہے ہیں۔ انھوں نے الدکتور شیخ عبد الباری حفظہ اللہ کے حوالے سے ان کے گاو ¿ں دریا باد اور ان کے تعلیمی ادارے جامعہ اسلامیہ سے ہمارے گاو ¿ں لوہرن بازار (کرنجوت) اور وہاں کے افراد کے باہمی رشتوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انھوں نے شیخ صلاح الدین مقبول حفظہ اللہ کے بارے میں لکھا ہے کہ شیخ صاحب ایک ذی علم شخصیت کے مالک ہیں بلکہ ان کی اصل شناخت ان کی علمیت ہی ہے۔ عربی اور اُردو میں ان کی متعدد کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔اس کے باوجود ان کے اندر غرور و تکبر نام کی کوئی شئے نہیں ہے۔ وہ جمعیت و جماعت کی ذی علم اور سرکردہ شخصیات کے بڑے قدردان ہیں۔ اسی طرح مولانا عزیز عمر سلفی کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ ان سے جمعیت و جماعت کے تعلق سے اکثر و بیشتر گفتگو ہوتی ہے۔ ان سے ہونے والی بات چیت سے میں نے اندازہ لگایا کہ جمعیت اہلحدیث کے ماضی بعید پر بھی ان کی نظر ہے اور ماضی قریب پر بھی۔ اس کے علاوہ وہ جمعیت کی علمی و صحافتی تاریخ و خدمات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔ اس مضمون سے جماعت اہلحدیث کی تاریخ پر بھی ہلکی سی روشنی پڑتی ہے۔ انھوں نے نئی دہلی کے اردو ہفت روزہ ”اخبار نو“ کے ایڈیٹر اور سابق ممبر پارلیمنٹ و سابق سفیر جناب م۔ افضل پر بھی تفصیلی مضمون قلمبند کیا ہے جس میں انھوں نے اس پر بھی روشی ڈالی ہے کہ وہ صحافت میں کیسے آئے۔ اس مضمون سے م۔ افضل کے علاوہ ان کے صحافتی سفر کے نشیب و فراز پر بھی قدرے روشنی پڑتی ہے۔
مرحومین میں پہلا مضمون مولانا مولانا عبد اللہ مدنی (جھنڈا نگر نیپال) اور دوسرا مولانا عبد الوہاب خلجی پر ہے۔ یہ مضامین بھی مرحومین سے ان کے ذاتی تعلقات اور دوستانہ مراسم کو اجاگر کرتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ دونوں مضامین بڑی دلسوزی کے ساتھ لکھے گئے ہیں۔ ایک مضمون لکھنو ¿ کے صحافی و ادیب حفیظ نعمانی پر ہے۔ حفیظ نعمانی مولانا محمد منظور نعمانی کے فرزند ہیں۔ اس باب میں ایک مضمون ریڈیو وائس آف امریکہ کے ایک براڈ کاسٹر نزاکت علی خاں پر بھی ہے۔ اس مضمون سے بھی سہیل انجم صاحب کی صحافت کے احوال معلوم ہوتے ہیں۔ دیگر مضامین بھی مرحومین سے ان کے تعلقات کی گواہی دیتے ہیں۔ مجموعی طور پر تمام مضامین قابل مطالعہ ہیں اور خاص طور پر طلبا کو ان کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ انھیں یہ علم ہو سکے کہ دنیا میں کیسی کیسی شخصیات موجود یا کیسی کیسی دنیا سے اٹھ گئی ہیں۔
سہیل انجم صاحب کے بارے میں دہلی یونیورسٹی میں شعبہ ¿ اردو کے سابق صدر پروفیسر ابن کنول نے لکھا ہے کہ ”نقش بر سنگ“ سہیل انجم کے خاکوں کا دوسرا مجموعہ ہے۔ پہلا مجموعہ ”نقش بر آب“ عوام و خواص میں مقبولیت حاصل کر چکا ہے۔ خاکہ نگاری انتہائی نازک صنف ادب ہے۔ خاکہ نگار کے قلم کی ذرا سی لغزش ممدوح کی شخصیت کو تباہ و برباد کرنے کی وجہ بن سکتی ہے۔ ا س لیے خاکہ نگار کو نہ صرف خود محتاط رہنا پڑتا ہے بلکہ اپنے قلم پر بھی مضبوط گرفت رکھنی پڑتی ہے۔ ”نقش بر سنگ“ میں ان کے کئی اسلوب نظر آتے ہیں۔ خراج تحسین کا انداز جدا ہے اور خراج عقیدت کے خاکوں کا طرز مختلف ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب قلمکار کو زبان اور اس کے اظہار پر قدرت حاصل ہو۔ سہیل انجم نے ان خاکوں میں ان شخصیات کو حیات جاوید بخش دی ہے۔ وہ نہ صرف ایک ممتاز صحافی ہیں بلکہ ایک ادیب بھی ہیں۔
بہرحال یہ سہیل انجم صاحب کا بڑاپن ہے کہ وہ مجھ جیسے قلیل الادب طالب علم کو بھی اپنی کتابیں اور تحریریں ارسال کرتے رہتے ہیں جو کہ میرے لئے سعادت کی بات ہے۔ جن کو وقتا فوقتاً پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ مدینہ منورہ آنے کے بعد بہت کم اردو کتابوں کا دیدار نصیب ہوا۔ اس لئے میں جب بھی ہندوستان جاتا ہوں تو محترم سہیل انجم اور آپ کے چھوٹے بھائی محترم ڈاکٹر شمس کمال انجم صاحبان – حفظہما اللہ- کی کتابیں ساتھ لے آتا ہوں۔
سہیل انجم صاحب کی تحریریں انتہائی عمدہ اسلوب میں ہوا کرتی ہیں جس سے قاری کو اکتاہٹ محسوس نہیں ہوتی۔ آپ کا مطالعہ بہت وسیع ہے۔ نیز زبان وبیان پر بھر پور قدرت حاصل ہے۔ آپ کی تحریروں میں ادبی چاشنی ہوتی ہے۔ آپ صرف ایک صحافی ہی نہیں بلکہ ایک ادیب بھی ہیں اور شاعر بھی۔ لیکن آپ نے صحافتی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد شعر وشاعری سے اپنے آپ کو علحدہ کر لیا۔ا گرچہ آپ نے طبع آزمائی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہے مگر آپ کے اندر اچھی شاعری سننے اور پڑھنے کا شوق ہے۔ میں نے سنا ہے جب آپ کے بڑے بھائی جناب حماد انجم ایڈوکیٹ مرحوم (جو کہ وکیل ہونے کے ساتھ بہت اچھے شاعر و ادیب بھی تھے جن کے کئی شعری مجموعے منظرعام پر آکر شعر وشاعری سے دلچسپی رکھنے والوں سے داد تحسین حاصل کر چکے ہیں) دہلی تشریف لائے تھے تو آپ نے اپنے گھر پر دہلی کے اچھے شعرا کو مدعو کرکے شعری نشست کا اہتمام کیا تھا۔ (یہ بھی پڑھیں اداریہ نویسی اور میرے اداریے : ایک تجزیاتی مطالعہ – ڈاکٹر خان محمد رضوان )
آپ کی اب تک دو درجن سے زائد کتابیں منظرعام پر آ چکی ہیں اور اردو زبان سے دلچسپی رکھنے والوں سے داد و تحسین حاصل کر چکی ہیں۔ آپ کی دو کتابیں یونیورسٹیز میں شعبہ صحافت کے نصاب میں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح آپ کے مضامین آئے دن ملک اور بیرون ملک کے مختلف اخبارات میں چھپ کر قارئین سے داد و تحسین حاصل کرتے رہتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اس کتا ب کو بھی خاص وعام میں شرف قبولیت بخشے۔
شعیب اسلم
اسلامک یونیورسٹی مدینہ منورہ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

