اﷲ رب العزت کی بے شمار نعمتوں، عنایتوں اور لاتعداد اکرام وانعامات کا اگر ہم گنہگار بندے اٹھتے بیٹھتے، سوتے جاگتے بھی شکر ادا کریں اور دن رات سجدے میں پڑے رہیں تو بھی ہم مالک کل کا شکر کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ دنیا دراصل ہمارے لیے دائر ہ ٔعمل اور درسگاہ ہے۔ اﷲ کریم نے ہمیں جو زندگی عطا کی ہے وہ پھول کی مانند ہے جس کے چاروں جانب کانٹے ہی کانٹے ہیں۔ ان کانٹوں سے ہمیں نباہ کرنا ہے اور ان کے درمیان رہ کر اپنا دامن بچا کر پُرپیچ زندگی کی راہیں عبور کرنی ہیں۔ جس دل میں برداشت کرنے کی قوت ہوتی ہے اور ہر حال میں اﷲ کا شکر ادا کرتا ہے وہ کبھی شکست نہیں کھاتا اور برداشت کرنے کی طاقت اور سجدۂ شکر بجالانے کی توفیق بھی اﷲ ہی عطا کرتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں آہ شکیب – شاہد انور)میں یہ سب کیوں لکھ رہی ہوں کس لیے یہ تمہید باندھ رہی ہوں، کس کے بارے میں لکھنے کے لیے خود کو آمادہ کررہی ہوں، اس پیاری اور معصوم ہستی کو نہ میں نے کبھی دیکھا نہ اس کے بارے میں کبھی کچھ جاننے کی کوشش کی اور نہ ہی اس سے کبھی ملی، ہاں اسے جانا پہچانا اور محسوس کیا ہے۔ اس کے والد معروف شاعر خورشید اکرم کی ٹیلی فونک گفتگو میں (جن کا تخلص سوزؔ ہے اور جن کا شعری مجموعہ برسوں پہلے ’’سوزِ دل‘‘ کے عنوان سے شائع ہوچکا ہے) برادرم خورشید اکرم سوز کا تعلق اصلاً بہار سے ہے۔ ایوت محل مہاراشٹر میں کول انڈیا کی ایک Coal Mine کمپنی میں ملازم ہیں اور ان کے بیٹے شکیب اکرم کے بارے میں ان کی ٹیلی فونک گفتگو ہی اسے جاننے کا ذریعہ بنی۔ شکیب جو والدین کی بے پناہ دعاؤں اور ریاضتوں کا ثمرہ ہے اﷲ تعالیٰ نے شادی کے سات برس بعد والدہ سیدہ نزہت جہاں قیصر کی گود ننھے بیٹے کے وجود سے آباد کی تو گویا ماں باپ کی زندگی میں شادیانے بج اٹھے۔ زندگی میں بہار آگئی۔ ان کا گلشن ِ حیات جو اس کے آنے سے قبل بے آب وگیاہ صحرا کی مانند تھا انھیں دلکش اور حسین لگنے لگا۔ انھیں جینے کا جواز مل گیا لیکن ان مسرتوں کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی کہ مارچ 2021ء اچانک موبائل پر برادرم خورشید اکرم کا پیغام جھلملایا۔ جلدی سے کھول کر دیکھا، اس وقت میں دبئی بیٹی کے پاس جانے کے لیے پابہ رکاب تھی۔ پیغام یوں تھا ’’میرا فرزند شکیب اکرم مدراس میں ایک سڑک حادثے میں زخمی ہوگیا ہے، سر میں شدید اندرونی چوٹ آئی ہے، حالت تشویشناک اور وینٹی لیٹر سپورٹ پر ہے۔ دعا کیجیے اﷲ پاک اسے بے ہوشی کی حالت سے ہوش میں لادیں۔‘‘ یہ اندوہناک پیغام پڑھتے ہی 22سالہ شکیب کی خیالی شبیہ نظروں میں ابھری ساتھ ہی والدین کے سوگوار چہرے بھی سامنے آگئے۔ ذہن پر فکر مندی کا غلبہ ہوا، دل سے دعا نکلی، اﷲ شکیب اکرم کو جلد صحت مندی عطا کرے۔ دماغ نے سوچا ہائے ماں باپ کا کیا حال ہوگا، جن کے جگر کا ٹکڑا اس حالت میں ہے۔ 28مارچ کو دبئی قیام کے دوران پھر برادرم مکرم خورشید کا پیغام موصول ہوا ’’آج رات 11.55 بجے بابو کو اﷲ رب العزت نے اپنے پاس بلا لیا۔‘‘ پڑھتے ہی دل و دماغ کی عجیب کیفیت ہوگئی۔ یہ ایسی دل ہلادینے والی خبر تھی جسے سن کر دشمن کا کلیجہ بھی منہ کو آجائے۔ لیکن اہل بصیرت کے لیے ہر بات میں عبرت اور ہرنگاہ میں وسعت ہے۔ یہ دنیا کا کارخانۂ حیات سوز و ساز کی ہی بدولت دلکش اور حسین لگتا ہے۔ وہ عشق چاہے اﷲ سے ہو، نبی پاکؐ سے ہو یا پھر اولاد سے ہو۔ صبر کرنا، غم برداشت کرنا عاشق کی خصصویت ہوتی ہے۔ اس برداشت سے دل میں سوز پیدا ہوتا ہے، عشق کا جذبہ انسان کے اندر سوز وگداز کی صف پیدا کردیتا ہے، انسان کا دل آرزوؤں اور خواہشوں کا منبع ہے، وہ آرزوؤں کی تکمیل کے لیے جدوجہد کرتا ہے، کامیابی کی منزلیں طے کرتا ہے، اولاد کے لیے پلان بناتا ہے جس سے اس کے حوصلوں کو مہمیز ملتی ہے۔ میرے بھائی خورشید اکرم کو شاید برسوں قبل آگاہی ہوگئی تھی جبھی شاید انھوں نے شعری مجموعے کو ’’سوزِ دل‘‘ کا عنوان دیا۔ کیا انھیں معلوم تھاکہ انھیں اولاد جیسی نعمت ملنے کی خوشی کے بعد ایسا سوز ملے گا جس میں وہ تاحیات مبتلا رہیں گے، لیکن جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا برداشت کی قوت اﷲ کی جانب سے ودیعت ہوتی ہے مگر شرط ہے اﷲ کی رضا میں راضی رہنا، شکوہ نہ کرکے ہر حال میں اﷲ کا شکر بجالانا پھر اﷲ کریم بندے کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازتا ہے جس کا بندہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ اﷲکی ہر بات میں مصلحت پوشیدہ ہے جسے صرف اس کی پاک ذات ہی جانتی ہے۔ اﷲ نے والد خورشید اکرم کو ایسا حوصلہ اور صبر عطا کیا کہ اس نے خود اپنے اکلوتے بیٹے کی میت کو غسل دیا۔ اس کی نماز جنازہ بھی پڑھائی اور چند دن سوگوار رہ کر اپنی ڈیوٹی پر بھی جانے لگے۔ (اگرچہ یہ سوگواری ان کی زندگی کا حصہ بن چکی ہے) دفتر کے ساتھی انھیں دیکھ کر حیران رہ گئے۔ ان کا کہنا ہے انھیں اپنے خالق سے کوئی شکوہ ہے اور نہ ہی کوئی شکایت۔ وہ کہتے ہیں اﷲ کے پیارے محبوب رسول اﷲﷺ بھی جب اپنے پیارے لخت جگر اپنے بیٹے ابراہیم کے انتقال پر ملول وغمگین ہوئے تھے تو اﷲ نے ہی انھیں صبر دیا تھا۔ مجھے بھی اﷲ نے سنبھالے رکھا۔ انھوں نے مزید بتایا حادثے سے پانچ دل قبل اپنی والدہ سے شکیب اکرم نے کہا ’’1۔امی! گھر خالی ہو یا کوئی اس میں موجود ہو جب بھی آپ داخل ہوں تو سلام کرنا نہ بھولیں۔2۔ بتایا جاتا ہے کہ باپ کی نماز جنازہ بیٹا پڑھائے یا بیٹے کا جنازہ باپ پڑھائے تو یہ بڑی نیکی والی بات ہے۔ 3۔ امی! جس گھر میں ابھی میں ہوں اگر کسی وجہ سے میں نہ رہوں تو اس میں جو کچھ سامان ہے اس کو صدقہ و خیرات کردینا۔‘‘ ( یہ بھی پڑھیں دعائے مغفرت برائے لخت جگر محمد شکیب اکرم – محمد خورشید اکرم سوز )
10اپریل کو انھوں نے واٹس ایپ پر بتایا ’’بابو کے ایک ساتھی اور اس کی بڑی خالہ نے بابو کو خواب میں دیکھا دونوں کے خواب میں کامن بات یہ دونوں نے بابو کو بہت خوش و خرم اور ہنستے مسکراتے دیکھا۔ اپنے دوست کو اس نے ہنستے ہوئے کہا کہ تم لوگ میری فکر مت کرو میں جہاں ہوں بہت خوش ہوں۔‘‘
14مئی کو انھوں نے تحریر کیا ’’فرزند ارجمند محمد شکیب اکرم کی نذر‘‘
عید کے دن اداس بیٹھا ہوں
آج میں غم شناس بیٹھا ہوں
ہر طرف رنج وغم کا عالم ہے
اس لیے محو یاس بیٹھا ہوں
نہ مسرت، نہ شادمانی ہے
عید کا دن ہے روح پیاسی ہے
سہمی سہمی سی زندگی ہے اب
ہر طرف چھائی اک اداسی ہے
والدین کے پاس شکیب اکرم کی نہ ختم ہونے والی یادیں اور باتیں ہیں۔ وہ دونوں اسے تا زندگی یاد کریں گے۔ دعا ہے اﷲ تعالیٰ شکیب اکرم مرحوم کے درجات بلند کرے اور والدین کو صبر و سکون کی دولت سے نوازے۔ آمین!
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

