پروفیسر شکیل الرحمن کی حیثیت خود بھی ایک جمالیاتی لجنڈ کی ہے۔ انھوں نے اردو ادب کے جس موضوع کو بھی چھیڑا اس کے طرزِاظہار، اسلوب اور اس کے جمالیاتی نقوش کی تلاش و جستجو کی۔ شکیل صاحب نے فکشن نگاروں میں سے عجیب بات ہے کہ پریم چند، منٹو اور احمدندیم قاسمی پر ہی تصنیفات چھوڑی ہیں۔ دوسرے اہم فکشن نگاروں میں سہیل عظیم آبادی، کرشن چندر، عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر وغیرہ پر ان کی توجہ اتنی نہیں ہوئی۔ انھوں نے پریم چند، منٹو اور قاسمی کو لجنڈ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے:
’’یہ تینوں فنکار جب اپنے کرداروں، کہانیوں کے واقعات اور حادثات میں گم ہوجاتے ہیں تو ایک باشعور قاری کو حقیقت کی نئی جمالیاتی صورت سے انبساط حاصل ہونے لگتا ہے۔‘‘ (احمد ندیم قاسمی، ایک لجنڈ، ص 9)
ان تینوں فنکاروں میں کچھ باتیں اگر قدر مشترک کے طور پر ہیں تو ان میں افتراق کے خطوط بھی ہیں۔ تینوں کے یہاں کہانی پن ہے۔ اختلاف کے خطوط کو واضح کرنے کے لیے شکیل صاحب نے جبلت (Instinct) کا سہارا لیا ہے۔ مثال کے طور پر انھوں نے وضاحت کی ہے کہ:
’’منٹو کی کہانی ’بو‘ میں جنسی جبلت جتنی آزاد ہے، پریم چند کی کہانی ’بازیافت‘ کی عورت کی جنسی جبلت اتنی آزاد نہیں ہے، اگرچہ شعور کے بہاؤ میں یہ جبلت بے چین اور بے قرار ہے۔ ’بو‘ اور ’پہاڑوں کی برف‘ (احمد ندیم قاسمی) کا مطالعہ کیا جائے تو اس جبلت کے اظہار کے فرق کا اندازہ ہوجائے گا۔‘‘
(احمد ندیم قاسمی، ایک لجنڈ، ص 11)
ظاہر ہے کہ انسانی مزاج اور شعور و ادراک کا دار و مدار بہت حد تک جبلت پر ہوتا ہے۔ ایک کی جبلت دوسرے کی جبلت سے قطعی مختلف ہوتی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ کہیں کہیں اور کبھی کبھی مماثلت کی صورت بھی نظر آجائے۔ جبلی محرک خارجی دنیا سے نہیں آتا بلکہ جاندار کے اپنے اندر سے پیدا ہوتا ہے۔ شّگمنڈ فرائڈ نے لکھا ہے کہ ان کی تحریک کے سرچشمے جاندار کے اندر ہوتے ہیں، وہی ان کا مبدا ہے اور یہ ایک مسلسل قوت کی حیثیت سے اپنا اظہار کرتی ہے۔‘‘ (ص 67)
فرائڈ نے اپنے مضمون Instincts and their vicissitudes میں جبلتوں کی تشریح و توضیح کے لیے مختلف اصطلاحیں وضع کرکے ان کی تعبیرات پیش کی ہیں جیسے: جبلت کا دباؤ (Pressue of instinct)، جبلت کا معروض (Object of instinct)، جبلت کے سرچشمے (Source of instinct) وغیرہ۔
کہنے کا مطلب یہ ہے کہ شکیل الرحمن صاحب نے اوپر کے اقتباس میں منٹو کی کہانی ’بو‘ پریم چند کی کہانی ’بازیافت‘، قاسمی کی کہانی ’پہاڑوں کی برف‘ پر گفتگو کرتے ہوئے جن جنسی جبلتوں کی بات کہی ہے اس سے اندازہ یہی ہوتا ہے کہ ان کی نظر میں فرائڈ کا نظریہ جبلت بھی رہا ہے۔ شکیل صاحب نے ہوا میں یا اندازے سے کوئی بات نہیں کی ہے۔ بے شک انھوں نے فنکار کی تخلیقی طرزِ بافت تک رسائی حاصل کرنے کے بعد ہی یہی بات یہ ہوگی۔ شکیل صاحب نے یہ بھی لکھا ہے کہ قدروں کی طرح جبلتیں بھی تبدیل نہیں ہوتیں۔ البتہ بدلتے ہوئے وقت کے ساتھ، معاشرتی اور تمدنی قدروں کے ساتھ ان کے اظہار میں فرق آجاتا ہے۔ (ص 11)
ہم سب جانتے ہیں کہ پروفیسر شکیل الرحمن نے فن پارو ںکے نظام جمال کی جستجو میں ایک عمر گزاری ہے۔ کچھ لوگو ںکو ان سے یہ شکایت بھی رہتی ہے کہ وہ خواہ مخواہ ہر فن پارے میں جمالیات کی بات کرتے ہیں۔ شروع میں مجھے بھی ایسا ہی لگتا تھا لیکن جب قدرے توقف اور غور و فکر کیا تو سمجھ میں آیا کہ کوئی فن پارہ خواہ شعری ہو کہ نثری، جمالیاتی عناصر و عوامل سے قطعی عاری نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ شکیل صاحب فوراً اُن جمالیاتی عناصر تک رسائی حاصل کرلیتے ہیں جب کہ ہمیں کافی مشقت کرنا پڑتی ہے اور کبھی کبھی مایوسی بھی ہوتی ہے۔ میں اپنے موقف کی تائید میں ان کا ایک اقتباس پیش کرنا چاہتا ہوں، ملاحظہ کیجیے: (یہ بھی پڑھیں مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات: شکیل الرحمن – پروفیسر کوثر مظہری )
’’محض سماجی حقیقت نگاری اور فلسفیانہ نکات پر اظہارِ خیال کرتے رہنے سے بڑے شاعروں اور فنکاروں کے نظام جمال کی پہچان ممکن نہ ہوگی۔ میر اور غالب کی خوب صورت غزلو ںاور محمد اقبال کی نظموں مثلاً ’ساقی نامہ‘، ’مسجد قرطبہ‘ وغیرہ سے جمالیاتی انبساط حاصل نہ کرسکیں گے۔ تخلیقی عمل میں علامتیت ہی کی کوئی نہ کوئی صورت ابھرتی ہے اور یہی صورت مرکز نگاہ بنتی ہے۔ علامت کی رمزیت ہی جمالیاتی انبساط عطا کرتی ہے۔‘‘
(احمد ندیم قاسمی ایک لجنڈ، ص 11-12)
نارتھروپ فرائی بھی علامتیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
"The literal and the descriptive phases of symbolism are, of course, present in every work of literature. (Anatomy of Criticism, by: Northrop Frye, 1973, p 79)
اب یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ علامتیت ہر ادبی فن پارے میں موجود ہوتی ہے جس کی رمزیت بقول شکیل الرحمن جمالیاتی انبساط کا حامل ہوتی ہے۔
احمد ندیم قاسمی ایک ایسے فکشن نگار ہیں جن کی کہانیوں میں محض رومانیت یا محض نام نہاد حقیقت نگاری نہیں بلکہ ایک پرخلوص جذبۂ انسانیت ملتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ مارکزم کے گہرے مطالعے کے سبب ان کے تخلیقی وژن میں ’ہیومنزم‘ کے عناصر گہرے طور پر اُتر آئے۔ کئی کہانیوں کے حوالے سے شکیل صاحب نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ ان کی اکثر کہانیوں میں انسان دوستی کا جذبہ کرداروں کے عوامل اور نفسیاتی عوامل میں جذب ہوکر رہ گیا ہے۔ جہاں تک میں سمجھ پایا ہوں اس کی بنیاد پر یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ قاسمی اس لیے بھی کامیاب فنکار ہیں کہ وہ کرداروں کی سائیکی کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ سائیکی ایک ایسی پراسرار وادی ہے کہ ہر فنکار اس کی سیر کرنے کا ارادہ بھی نہیں کرتااور اگر تخلیقی وژن کمزور ہے تو اس وادی میں بھٹکنے کے سارے اسباب موجود ہوتے ہیں۔ چونکہ قاسمی کا تخلیقی وژن پختہ اور وسیع ہے اس لیے وہ اس وادی کی سیر بڑے ہی طمطراق سے کرتے ہیں۔ شکیل صاحب نے لکھا ہے کہ:
’’قاسمی نے اکثر موضوع کو ایک ٹھوس حسی تجربہ، ایک ٹھوس نیا واقعہ ایک جمالیاتی فینومینن (Aesthetic phenomenon) بنا دیا ہے… جمالیاتی فینومینن کا خلق ہوجانا ایک معجزہ ہی ہوتا ہے۔‘‘ (ص 13)
آگے چل کر انھوں نے پریم چند کی کہانیوں ’کفن‘، ’دو بہنیں‘، ’بازیافت‘، ’مس پدما‘ اور منٹو کی کہانیوں ’ٹوبہ ٹیک سنگھ‘، ’بو‘، ’کھول دو‘، ’شاہ دولے کا چوہا‘ سرمہ کے حوالے سے لکھاہے کہ ان میں واقعات اور کرداروں سے ’فینومینن‘ خلق ہوگیا ہے۔
دراصل یہ ’فینومینن‘ معجزہ ہی ہے یعنی کوئی ایسا کارنامہ جو آسانی سے وجود پذیر نہیں ہوتا۔ یہاں میں اس کی تشریح کے لیے ایک انگریزی ڈکشنری سے دو جملے لکھتا ہوں جو اس طرح ہیں:
Phenomenon : 1. a fact or event in nature (or society) as it appears or is experienced by the senses, esp. one that is unusual.
- a very unusual person, thing event, etc: a child who can play the piano at the age of 2 would be called a phenomenon. (Longman Dictionary of Contemporary)
شکیل الرحمن نے ہیومنزم کی تشکیل و تلاش کو بھی قاسمی کے افسانوں میں ایک طرح کے ’فینومینن‘ سے موسوم کیا ہے۔ قاسمی کے افسانوں میں انسان اور انسانیت کی کہانی نظر آتی ہے۔ انھوں نے قاسمی کے افسانوںمیں انسانی درد کے نقوش ابھارے ہیں ان کی یہ خوبی ہے کہ وہ درد اور انسانی Pathos کو بھی جمالیات کے دائرے میں لے آتے ہیں۔ جس طرح وہ ہیومنزم کے جوہر کی تلاش کرتے ہیں۔ اسی طرح قاسمی کی کہانیوں میں Pathos کے جمالیاتی تجربہ بنائے جانے کی جستجو بھی کرلیتے ہیں۔ جمالیات کے ڈانڈے ہمارے احساسات و جذبات کے تمام ممکنہ جہات سے ملتے ہیں۔ جمالیات کا تعلق شاید ہم صرف ظاہری حسن و زیبائش تصور کرلیتے ہیں۔ ایسے میں تو تردد ہوگا ہی کہ ہم pathos یا ہیومنزم یا دوسرے جذبے کو جمالیات سے ہم آہنگ کرسکیں۔
ہم جس انسانی درد اور ہیومنزم کی بات کررہے یں، اس کی توثیق کے لیے قاسمی صاحب کے ایک مضمون ’میرا نظریہ فن‘ سے یہ اقتباس ملاحظہ کرلیجیے:
’’میں انسان اور اس کی زندگی کو فن کا نیادی موضوع قرار دیتا ہوں۔ اگر انسان موجود ہے اور اس کُرے پر زندگی موجود ہے تو پھر سب کچھ موجود ہے۔ انسان اور خدا، ذات اور کائنات، حقیقت اور مابعدالطبیعیات کے رشتوں اور مسئلوں پر بھی انسان اور زندگی ہی کی موجودگی ہی میں غور ہوسکتا ہے۔ سو میری نظر میں انسان اہم ہے اور فن اسی صورت میں اہم ہے جب وہ انسان کو حسن و توازن حاصل کرنے میں مدد دے… مجھے کسی مغربی شاعر کا ایک فقرہ یاد آرہا ہے وہ بھی سن لیجیے، سب چیزوں، خیالوں اور کاموں کی کسوٹی انسان ہے اور انسان کی کسوٹی ادب و فن۔‘‘
(بحوالہ عالمی اردو ادب، احمد ندیم قاسمی نمبر، مرتب: نند کشور وکرم، 1996، ص 62)
اقتباس بالا کی روشنی میں یہ بات تسلیم کرسکتے ہیں کہ شکیل الرحمن نے قاسمی کی کہانیوں میں ہیومنزم کی بات کی ہے یا یہ لکھا ہے کہ انسان کے لیے انسان سے زیادہ دلکش اور خوبصورت فینومینن کوئی دوسری شے نہیں، تو اس میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں۔ ہیومنزم، پیتھوس اور ٹریجڈی سے جذبات انسانی کی ایسی جہتیں وابستہ ہیں جن کی حیثیت آفاقی ہے۔ لہٰذا ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ قاسمی نے اس آفاقی موضوع (جذبات انسانی) کو چھوا ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ ان میں اتر کر محسوس کیا ہے۔
احمد ندیم قاسمی نے کم و بیش پانچ سو کہانیاں تخلیق کیں۔ شکیل صاحب نے اپنی کتاب ’احمد ندیم قاسمی: ایک لجنڈ‘ میں چھ سات کہانیوں کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ انھوں نے ان کہانیوں کے انتخاب میں کسی طرح کا اہتمام نہیں کیا ہوگا اور نہ باضابطہ کوئی پروجیکٹ بنایا ہوگا ورنہ اس کتاب کی اہمیت مزید بڑھ سکتی تھی حالانکہ ’قاسمی فہمی‘ کی کلیدی تحریروں میں اس کا شمار بھی یقینا ہوگا، اس لیے اس کا زاویہ مطالعہ ہی جداگانہ ہے۔ شکیل صاحب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ خود کو نظریہ ساز ناقد کی طرح پیش نہیں کرتے بلکہ تخلیقی فن پارے کی چھان پھٹک میں وہ خود کو بھی تخلیقی دھارے میں شامل رکھتے ہیں۔ جو کہانیاں اس کتاب میں زیربحث آئی ہیں ان کے نام اس طرح ہیں: کنگلے، جب بادل امنڈے، عالاں، پہاڑوں کی برف، کوہ پیما، پیپل والا تالاب، چبھن، بین، ان کہانیوں کے مختلف موضوعات اور ان میں پیش کیے گئے تجربات پر شکیل صاحب نے کھل کر خامہ فرسائی کی ہے۔ ’کنگلے‘ میں پیتھوس (Pathos) کی عجیب لہروں، ٹریجڈی اور استحصال کو سامنے رکھ کر شکیل صاحب نے تجزیہ کیا ہے۔ ان کے مطابق اس کہانی میں بے چین کردینے والا آہنگ ملتا ہے۔ چھوٹے سے معاشرے کا کرب فنکار کا کرب بن جاتا ہے۔ پوری کہانی میں اس کی ہیومنزم جذب ہے۔‘‘ (ص 16) (یہ بھی پڑھیں شکیل الرحمن سے ادبی مکالمہ – حقانی القاسمی )
اسی طرح ’جب بادل امڈے‘ میں جس طبقاتی کشمکش اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ٹریجڈی کا ذکر انھوں نے کیا ہے وہ دلچسپ ہے۔ اس میں کسانوں کی غربت اور جاگیرداروں کے ذریعہ کیے جانے والے جبر کا قصہ بھی ہے اور ساتھ ہی کشمکش اور تصادم کے عناصر بھی موجود ہیں۔ بلکہ ڈرامائی عناصر بھی بہت ہیں۔ یہاں گنجائش نہیں کہ کہانی کے اقتباسات پیش کیے جائیں جو شکیل صاحب نے پیش کیے ہیں۔ انھوں نے جو نتیجہ اخذ کیا ہے، وہ بہت اہم ہے:
’’اختتام ایسا ہے کہ ایک جان لیوا ٹریجڈی کی تصویر سامنے آجاتی ہے، لیکن ساتھ ہی جمالیاتی انبساط (Aesthetic Pleasure) حاصل ہونے لگتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی ’ہیومنزم‘ کو عزیز تر بنائے ٹریجڈی کے ایک بڑے فنکار اافسانہ نگار ہیں کہ جن کی نظر المیہ کے ساتھ المیہ کے جمال (Aesthetic of Tragedy) پر ہمیشہ رہتی ہے۔ اردو فکشن کو ان کی سب سے بڑی دین یہی ہے۔‘‘ (ص 28)
’عالان‘ ایک رومانی کہانی ہے۔ اس کے اقتباسات کی روشنی میں شکیل صاحب نے بہت سی اہم باتیں کی ہیں۔ اس میں بھی انھوں نے ایک شوخ اور چلبلی لڑکی کے Pathosکا ذکر کیا ہے۔ ان کے مطابق عالاں کا کردار خود ایک پرآہنگ اظہار (Rhythmic Expression) ہے۔ شکیل صاحب نے اس لڑکی کے بارے میں بہت صحیح لکھا ہے۔ اس کے کردار کو قاسمی صاحب نے بڑی محنت سے ابھارا ہے۔ وہ جس گھر میں کام کرتی ہے اس گھر میں عارف میاں بھی ہیں جو اس کہانی کے راوی بھی ہیں۔ اندر اندر دونوں ایک دوسرے کے لیے نرم گوشہ رکھنے لگتے ہیں۔ بلکہ ’عالاں‘ کے اندر عارف میاں کے لیے جذبہ محبت زیادہ ہے۔ کہانی کے آخری حصے سے یہ اقتباس دیکھیے اور اس کردار کی تہہ داری پر غور کیجیے:
’’…اور ہاں صبح آپ کا بکسا اٹھا کر بسوں کے اڈّے پر مجھے ہی تو آپ کو پہنچانا ہے، بی بی جی نے کہا تھا۔ میں نے کہا ’’تم کیا کچھ کرلیتی ہو عالاں! چکی تم پیس لیتی ہو، مرچیں تم کوٹ لیتی ہو، کنویں سے دو دو تین تین گھڑے تم پانی بھرلاتی ہو، پورے گھر کا کام تم سنبھال لیتی ہو، کرتے تم کاڑھ لیتی ہو، بوجھ تم اٹھا لیتی ہو، تم کس مٹی کی بنی ہو عالاں؟‘‘
میں تو اور بھی بہت کچھ کرسکتی ہوں عارف میاں! اس کی آواز میں جھنکار تھی۔
مجھ سے پوچھیے نا میں اور کیا کچھ کرسکتی ہوں۔ پہلی جماعت کے بچے کی طرح میں نے اس سے پوچھا۔
اور کیا کرسکتی ہو؟
’’میں پیار بھی کرسکتی ہوں عارف میاں۔‘‘
شکیل صاحب نے اس اقتباس کے بین السطو رمیں جو کچھ تلاش کرنے کی کوشش کی ہے، وہ بھی دلچسپ اور بامعنی ہے:
’’پوری کہانی کے پیش نظر یہ کہنا مناسب ہوگا کہ اس آخری جملے میں رومانیت کا لذیذ ترین رس ہے، سیکس کی بے چین کرنے والی لہر ہے، Pathos میں ابھرتا او رپیتھوس میں ڈوبتا جمالیاتی انکشاف ہے۔ اس ایک جملے سے مجھے محسوس ہوا جیسے عشق اور اس کی پراسرار کیفیت، جو احساس اور جذبے میں پوشیدہ تھی، اچانک آواز میں تبدیل ہوگئی…
یہ باطنی احساس کی پیاری سی کتھا کا خوبصورت اختتامیہ ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے قصہ سناتے سناتے آخر میں ایک فینومینن (Phenomenon) خلق کردیا ہے۔‘‘ (ص 35)
جس ’فینومینن‘ کی بات شکیل صاحب کرتے ہیں، اس کے لیے بہت سے فنکار جذباتیت میں بہہ جاتے ہیں اور کبھی کبھی فحش نگاری اور جسم و حُسن کی تصویر کشی میں خود پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ ایک بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ منٹو جیسا فنکار بھی کہیں کہیں تلذذ کا شکار ہوگیا ہے۔ میری اس بات پر منٹو کے پرستاروں کو چیں بہ جبیں ہونے کا پورا حق ہے۔ لیکن اگر ہرایرا غیرا منٹو کی قرأت کرتا پھرتا ہے تو وہ اس لیے نہیں کہ وہ اس کے ادب پارے کو آرٹ کا بہت بڑا نمونہ تصور کرتا ہے، بلکہ اُسے لذت حاصل ہوتی ہے اور اگر ہم آپ لطف اندوز ہوتے ہیں تو اس میں بھی کہیں نہ کہیں دانشورانہ لطف اندوزی چغلی کھاتی نظر آتی ہے۔ یہ کوئی عیب کی بات بھی نہیں کہ جمالیاتی حس میں اس ’لطف اندوزی‘ کا بھی کچھ نہ کچھ حصہ تو ہوتاہی ہے۔ جہاں تک احمد ندیم قاسمی کی بات ہے، تو ان کے حوالے سے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ان کے اندر ’لذت پارے‘ کی پیش کش کا ہنر آتا ہے اور ان کا مادۂ ضبط بالیدہ اور توانا ہے۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری نے ان کے حوالے سے اچھی بات لکھی ہے کہ:
’’قاسمی کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ رومانی لہجہ اختیار کرتے وقت بھی اپنی حدود سے متجاوز نہیں ہوتے۔ وہ اپنی شرافت، اپنا وقار، تخیل کی لطافت ، رفعت اور فن کے تقدس کو کبھی داؤ پر نہیں لگاتے اور جذبات کے سیل میں نہیں بہتے۔ حسن کی تعریف، عورتوں کا ذکر، ان کے اعضاء کا ذکر، لڑکے لڑکیوں کے مابین رشتوں کا ذکر، وہ کبھی بھی اس طرح نہیں کرتے کہ پڑھ کر قاری رومانیت کے بجائے جنسیت میں ڈوب جائے اور لذتیت کہانی کے مرکزی خیال پر حاوی ہوجائے۔‘‘ (احمد ندیم قاسمی کے نمائندہ افسانہ، مرتب:اسلم جمشیدپوری، 2007، ص 228)
بات جب حسن و جمال کی ہو یا پھر وصل کی، شکیل صاحب کا بُرش قلم خوبصورتی سے رواں ہوجاتا ہے۔ کبھی کبھی جب وہ اظہارِ خیال کرتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ ایک تنقیدی افسانہ خلق ہوتا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ادب پارے کی تفہیم کے لیے نظریہ سازی نہیں کرتے یا پھر یہ کہہ سکتے ہیں وہ Jargonised تنقید نہیں کرتے۔ جب وہ ’پہاڑوں کی برف‘ کی بھکارن کا تجزیہ کرتے ہیں تو پاکیزگی اور سیکس اپیل کا ایک حسین امتزاج ابھر کر سامنے آتا ہے۔ احمد ندیم قاسمی نے بھی اختتام تک آتے آتے کہانی کو بقول شکیل الرحمن Over Charged Feeling سے بھر دیا ہے۔ یہ کہانی پڑھتے ہوئے شکیل صاحب نے منٹو کی کہانی ’بو‘ کا اور اس کی ’گھاٹن‘ کا ذکر بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق منٹو کی گھاٹن عورت کے رَس بھرے بدن کی بو کو قاسمی نے ’بھکارن‘ میں انتہائی فنکارانہ انداز میں چھپانے کی کوشش کی ہے۔ قاسمی اور ان کی اس کہانی کے بارے میں انھوں نے لکھا ہے:
’’کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے جمالیاتی انبساط حاصل ہوتا رہتا ہے۔ عورت کا حسن یا اس کے جمال کا کوئی پہلو حسیات کو چھولیتا ہے تو کچھ ہوجاتا ہے۔ قاسمی کی یہ کہانی It happens within کی ایک ممتاز کہانی ہے۔ احمد ندیم قاسمی ایک گہرے رومانی ذہن کے مالک ہیں۔ حسن کے تقدس اور اس کی پاکیزگی کو قیمتی تصور کرتے ہیں۔‘‘ (ص 42)
شکیل صاحب نے رومانیت کی مختلف جہتوں کو سمجھانے کے لیے مختلف کہانیوں سے کم و بیش بیس اقتباسات پیش کیے ہیں، ساتھ ہی ان میں استعمال ہونے والے مترادفات و متضاد الفاظ و تراکیب کی ایک فہرست بھی سامنے رکھ دی ہے۔ ان میں معنی خیز استعاروں اور جمال کی پر تو کی بات کی گئی ہے۔ آگے چل کر انھوں نے اسراریت کو رومانیت سے جوڑا ہے۔ انھوں نے ’کوہِ پیما‘ افسانے سے یہ کام لیا ہے۔ اس کہانی میں توہم پرستی کو بھی ٹھیس پہنچتی ہے۔ اسی طرح کی پراسراریت کے لیے ’گڑیا‘ اور ’ماسی گل‘ جیسی کہانیاں بھی لکھی گئی ہیں۔ ’پیپل والا تالاب‘ بھی ہمارے معاشرے کے پراسرار اور دوہرے کردار کو پیش کرنے والی کہانی ہے، جس کا تجزیہ شکیل صاحب نے بڑی خوبصورتی سے کیا ہے۔ مذہبی عقائد اور مذہب کے نام پر جو استحصال ہوتا رہا ہے اس کو قاسمی نے ’چبھن‘ میں دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے۔ تجزیہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’احمد ندیم قاسمی نے موضوع کو جس طرح چھو چھو کر دیکھا ہے وہ ایک بڑا تخلیقی فنکار ہی کرسکتا ہے۔ اللہ والے شمشاد علی اور مذہب کے نام پر استحصال کرنے والے امجد علی کے متضاد کردار اپنی معصومیت اور اپنی خباثتوں کے ساتھ آمنے سامنے ہیں۔ فنکار احمد ندیم قاسمی کا کارنامہ یہ ہے کہ موضوع کے اندر کی چبھن قاری کی چبھن بن جاتی ہے۔‘‘ (ص 64)
اسی طرح شکیل صاحب نے ’بین‘ کہانی کا ذکر بہت ہی جذباتی ہوکر کیا ہے اور یہاں تک لکھا دیا ہے کہ مجھے معلوم نہیں دنیا کی کسی بھی زبان میں ایسی دردناک اور دردانگیز یا اس سے زیادہ دردناک کہانی لکھی بھی گئی ہے یا نہیں۔ اردو زبان میں تو اب تک لکھی نہیں گئی ہے۔‘‘ (ص 65)
میرے خیال میں ہر قاری کے نزدیک دردناکی اور دردانگیزی کا بھی اپنا معیار ہوتا ہے۔ ممکن ہے کہ جس کہانی پر ہم زار و قطار رو پڑیں، ایک دوسرے قاری پر اس کا کچھ بھی اثر نہ ہو یا پھر عین ممکن ہے کہ اس کے برعکس بھی ردعمل سامنے آئے کہ دوسرا تو رو رہا ہے اور ہم پر کچھ اثر ہی نہ ہو۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ عوامل آفاقی نوعیت کے ہوتے ہیں جو کم و بیش یکساں اپیل کی قدرت رکھتے ہیں، شاید شکیل صاحب نے اس کہانی ’بین‘ میں ایسے ہی عوامل کی تلاش کی ہے۔
قاسمی صاحب نے اپنی کہانیوں میں Myth & Tradition کو بہت سمویا ہے۔ شکیل صاحب نے بھی اس بات کی طرف جا بہ جا اشارہ کیا ہے۔ ہماری زندگی اور بالخصوص ہندوستان پاکستان کے لوگوں میں یہ عوامل پوری طرح جاگزیں ہیں۔ پربھا کر پاٹل نے تجزیہ کرکے لکھا ہے کہ:
"Mythology has a profound influence on our present lives. It has permeated into India traditions and day-to-day activities by way of religion, philosophy, sociology, laws, science, arts, geography and history to name a few avenue.” (Myth and traditions in India, by: Prabhakar Patil, BPI (India), p6, pvt. ltd 2004)
اس اقتباس کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اساطیری نقوش کہیں نہ کہیں ہندوستانی روایات اور روزمرہ میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔ ان نقوش کی جہتیں مختلف ہوسکتی ہیں، جیسے مذہب، فلسفہ، سماجیات، قانون، سائنس، فنون لطیفہ، جغرافیہ اور تاریخ وغیرہ۔ اس طرح اگر دیکھا جائے تو شکیل صاحب نے قاسمی صاحب کے افسانوں کے مرکزی اوصاف کی توجیہ کے لیے بڑے اہم عوامل کا ذکر کیا ہے۔ جیسے ’فینومینن (Phenomenon)، علامتیت (Symbolism)، پیتھوس (Pathos)، ہیومنزم (Humanism) وغیرہ۔
پروفیسر شکیل الرحمن نے اخیر کے چند صفحات میں احمد ندیم قاسمی کے افسانوں کے کردار پر گفتگو کی ہے۔ ناول کے حوالے سے تو دو طرح کے سادہ (Flat) اور مکمل (Round) کرداروں کا ذکر ہوتا رہا ہے۔ افسانوں کے کردار پر اس کا اطلاق نہیں ہوتا۔ کردار میں یکسانیت سے قاری بور ہوتا ہے۔ زندگی کے کردار ہوبہو افسانوں میں نظر نہیں آتے بلکہ آنے بھی نہیں چاہئیں۔ کرداروں کے اندرون میں اترنے کے لے فنکار کا اپنا وژن ہونا چاہیے۔ شکیل صاحب نے قاسمی کے افسانوی کرداروں پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’قاسمی کے افسانوی کردار اپنے شعور کی روشنیوں، اپنے لاشعور کی پراسرار کیفیتوں اور اپنے جبلی اور حسیاتی اشاروں کو بھی لیے ہوتے ہیں…‘‘ (ص 72)
’’ان کے کردار اپنی شخصیتوں کی پیچیدگی اور تہہ داری لیے ہوئے کہانیوں میں داخل ہوجاتے ہیں تو قصہ پن یا قصہ نگاری کا جلوہ سامنے آجاتا ہے۔‘‘ (ص 80)
’’قاسمی نے ایسے کرداروں کی کہانیاںلکھی ہیں جو اپنی نفسیاتی کیفیتوں میں اس طرح گم ہیں کہ انھیں پانا اور ان کے ذہن اور عمل کا تجزیہ کرنا مشکل ہے۔‘‘ (ص 80)
پروفیسر شکیل الرحمن کی یہ خوبی ہے کہ وہ فن پارے کے تجزیے میں محنت کرتے ہیں اور جس حوالے سے گفتگو کرتے ہیںاس کے ذیل میں مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔ آپ ان کی کتاب ’مرزا غالب اور ہند مغل جمالیات‘ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ غالب کی شاعری میں جس قدر تحیر ہے اس سے کم تحیر شکیل صاحب کی تخلیقی نثر میں نہیں۔ اسی طرح پریم چند پر ان کی کتابیں پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ کردار، فن یا اسلوب کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وہ چھانٹ چھانٹ کر مثالیں بھی پیش کرتے جاتے ہیں۔ انھوں نے ’آسیب‘ کے سید امجد حسین، ’ماسی گل بانو‘ کی ماسی گل بانو، ’گڑیا‘ کی بانو ’ماتم‘ کی بی بی ’کنگلے‘ کی حیات اور پھلّہ، ’بے گناہ‘ کے رحمن خان، ’بین‘ کی رانو کی ماں، ’چبھن‘ کے شمشاد علی، ’اخبارنویس‘ کے عباس، ’عاجز بندہ‘ کے میاں حنیف، ’عالاں‘ کی عالاں، ’پرمیشر سنگھ‘ کے بابا نور، ’رئیس خانہ‘ کے فضلو اور مریاں، ’جب بادل امڈے‘ کے مہاجر اور شیرا، ’پہاڑوں کی برف‘ کی بھکارن، ’بھوت‘ کے ولی محمد جیسے کرداروں پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ لکھا ہے کہ دھرتی کی خوشبو لیے یہ کردار اپنی طبقاتی زندگی کی نمائندگی کرتے ہوئے نفسیاتی آئینوں اور کیفیتوں سے بھی متاثر کرتے ہیں۔ ان کے جذبات مختلف رنگوں میں سامنے آئے ہیں۔ (ص 73)
کتاب کے آخری جملہ کو پڑھیے اور شکیل الرحمن کی کہانی فہمی کی داد دیجیے کہ انھوں نے کس طرح قاسمی کو Explore کرنے کی کوشش کی ہے:
’’احمد ندیم قاسمی کے پاس وہ’نگہ‘ موجود ہے جو دنیا کے نمایاں اور پنہاں اسرار میں اتر جائے۔‘‘ (ص 96)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

